فیروز ناطق خسرو

سکواڈرن لیڈر (ریٹائرڈ) فیروز ناطق خسرو​ بہت مشہور شاعر ہیں اور 8 سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں جبکہ ابھی ان کی کئی کتابیں زیرِ طباعت بھی ہیں. ان کے والد ابوالحسنین ناطق بدایونی خود بھی(صاحبِ دیوان) شاعر تھے اور والدہ صاحبہ مسلمہ خاتون نہاں تخلّص کرتی تھیں جو خود بھی ذاکرہ اور شاعرہ تھیں۔ ایسے اعلی پائے کے علمی خانوادے میں آنکھ کھو لنے والے بچے کو بھی خدا نے خدا داد صلاحیتوں سے مالامال کر کے بھیجا تھا جس نے آگے چل کر پاکستان کے ادبی سماج میں اپنا مقام بہت محنت اور جانفشانی سے بنایا فیروز صاحب کہتے ہیں
ایک صدا میرے کانوں میں آتی رہی
ایک بلا نام لے کر بلاتی رہی
مڑ کے دیکھا نہ میں نے کبھی راہ میں
جو سفر طے کیا بے خطر کر لیا
(مقامِ پیدائش:۔ بدایوں یو پی (انڈیا
حال مقیم:۔ کراچی، پاکستان
فیروز ناطق خسرو صاحب نے شاعری کی ابتداء زمانہ طالب علمی میں کی آپ ساتویں جماعت کے طالب علم تھے جب پہلا شعر کہا۔ شاعری میں آپکا کوئی استاد نہیں ہے۔
پیشہ ورانہ زندگی کا احوال یہ ہے
فیروزصاحب نے1973ء تا 1980ء پاکستان ایر فورس میں بطور ایجوکیشن انسٹرکٹر ملازمت کے فرائض انتہائی تندہی سے انجام دیئے اس کے بعد ایجوکیشن برانچ میں براہِ راست کمیشن حاصل کیا
دورانِ ملازمت پی اے ایف ایئروناٹیکل کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر، رجسٹرار، ائر وار کالج میں رجسٹرار ، کے علاوہ ائرفورس کے مختلف اداروں میں اہم عہدوں پر فائز رہے۔1999 میں اسکواڈرن لیڈر کے عہدے سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی بعد از ریٹائرمنٹ بھی گھر نہیں بیٹھے بلکہ کئ اہم عسکری درس گاہوں میں بطورِ پرنسپل فرائض انجام دیئے، جن میں فضائیہ کالج ملیر کینٹ میں پرنسپل، سرسید یونیورسٹی AIT ( میں ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے پر فائز رہے اس کےعلاوہ مختلف سول اداروں میں ایڈمنسٹریٹر کا منصب بھی سنبھالا ۔
صنفِ سخن : غزل ، حمد، نعت، منقبت و سلام نظم ، مرثیہ
تصانیف
فیروز خسروؔ کی سات (07)کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ جن میں انتخابِ کلامِ ناطقؔ بدایونی (2010)، طلسم مٹی کا‘‘ (غزلیں) 2016 میں، آنکھ کی پُتلی میں زندہ عکس‘‘ (نظمیں)، آئینہ چہرہ ڈھونڈتا ہے‘‘(غزلیں) ستارے توڑ لاتے ہیں (نظمیں) شامل ہیں..فرصت_ یک نفس(قطعات)۔۔ہزار آئینہ(حمد۔ نعت۔منقبت۔سلام)شامل۔ہیں ۔۔ اب کلیات کی تیاری میں مصروف ہیں۔ جس میں فیروز خسرو کا غیر مطبوعہ کلام بھی شامل ہوگا۔
ستمبر 2016 میں پہلی کتاب “طلسم۔مٹی کا” کی ایک شاندار تقریب آرٹس کونسل آف پاکستان (کراچی) میں منعقد ہوئی اس کے علاوہ جند دیگر ادبی تنظیموں کے تحت تقریبات منعقد کی گئیں ۔ ادبی حلقوں نے فیروز خسرو کی تخلیقات کو ادب میں اہم اضافہ قرار دیا ہے۔۔
چیف آف ائر اسٹاف ،پاکستان ائر فورس ، ائر چیف مارشل سہیل امان نے سکو اڈرن لیڈر (ر) فیروز ناطق خسرو کی ادبی خدمات کو سرہاتے ہوئے ایک لاکھ ر وپئے کا چیک ارسال کیا۔جلد ہی آرٹس کونسل آف پاکستان، بزم_ سراج الادب، اور دبستان_ بدایوں، کراچی کی طرف سے اب تک شائع ہونے والی کتب کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
۔ہزار آئینہ تو تادمِ تحریر سلام گزار ادبی فورم کے بینر تلے 14 جولائ 2017ءکو تقریبِ پذیرائ کا مرحلہ بھی طے کر چکی ہے. فیروز ناطق خسرو صاحب ریاست نامہ کے مصنفین میں شامل ہیں اور ان کا کلام ریاست نامہ پر مسلسل شائع ہوتا رہتا ہے. فیروز ناطق خسرو صاحب کی تمام کتب رعایتی قیمت پر ریاست نامہ پر آن لائن دستیاب ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں