روح کا سفر—رابعہ الرَ بّاء (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 2)

آسما نی پردوں پر ، رائل بلیو لہروں میں ، سفید پتو ں کی باتیں ، جب نیلے بیڈ پہ بچھے ریشمی رائل بلیو بستر کے مو تیا پھو لو ں سے ہو تیں تووہ الما ری کے قریب بچھی آسما نی رگ پہ آ بیٹھتی ، اور بلیو کْشن سے ٹیک لگا کر ان کی چھیڑ چھاڑ سْنتی و دیکھتی رہتی۔ یہ سب بظاہر بے جا ن ہیں ، مگر زندہ بھی ہیں ۔۔۔
وہ حیرت سے سوچتی۔۔۔
سنسناتی سردیا ں اپنے عروج پر تھیں ۔ نیلے کمرے کی ہلکی نیلی روشنی میں اپنی الما ری کے قریب رکھی اکلو تی کرسی پر بیٹھے اس نے شال کو اپنے گر د لپیٹا ، جس کا پلو کرسی کے بازو سے نیچے لٹک رہا تھا ، اور ٹانگیں بیڈ کی طرف پھیلا کر کرسی سے ٹیک لگا ئے سامنے دیوار پر لگے فریم اور شیشیوں کونم نم آنکھو ں سے اس مدھم سی روشنی میں دیکھنے لگی
رات تاریکی سے نو رِ حیرت و طلسم میں بدل رہی تھی ۔ تخیل تخلیق کی آغوش میں سما رہا تھا
منزلِ دل سے بند راستے آساں نکلے
سارے مدحا میر ے رات کے مہما ں نکلے
وہ بھی آیا تو فقط فن سے بند تک آیا
جس کے قدمو ں کے نشاں دل پہ فیروزاں نکلے
میں زمیں دعوے و فاؤں کے سہا کرتی تھی
سارے گردوں کی طرح مجھ سے گریزاں نکلے
روح میں بے سروسا ما نی محبت کی ہے
جب بھی نکلے تو ہو س کے سروسا ما ں نکلے
ہم تو با ہو ں کی پنا ہو ں کے تھے خواہا ں اے ربّاء
کیا کر یں با ہو ں کے حلقے سے جو زنداں نکلے
اس نے تا زہ غز ل لکھ کر ڈائری اپنے سرہا نے رکھ دی ، بہت دنو ں بعد کو ئی غز ل ہو ئی تھی اور بہت دنو ں بعد اس کی روح کو قرار آیا تو اس کا بدن ہلکا پھلکا ہو ا۔ جیسے کسی جبلت کے بعد سکو ن قْرب و پر نم ہو اکر تا ہے۔
پا س ہی رکھے میز پر ، موبائل کی دھڑکن نے اسے اپنی طرف متوجہ کر لیا
’’ اْف نیٹ آن رہ گیا،،
’’ اوہ ۔۔۔سات سمند ر پا ر سے سمندوں والے علم و حلم کا پیغام تھا ۔ جس کا اس کی اپنی ز مین پہ کو ئی ثانی بھی نہیں
اس نے میسج کے جواب میں فون ہی کر لیا
’’ ارے یہ با م پر کو ن اتر آیا ؟،،
وہی جو اس وقت کاذب اتر سکتا ہے جنا ب،،
وہی نا ں ، علا متو ں میں با تیں کر نے والی۔۔۔،،
’ جی وہی ہو ں ،،
’’ اخترشما ری کے بعد کچھ نا ملا، کیا آسمان پر۔۔؟،،
’’ ابھی تک تو نہیں ۔۔۔ اور ہم سو ں کوملتا بھی کیا ، جو اختر شما ری کے لئے بھی آسمان کو چوری چوری دیکھتا ہو ۔۔،،
’’ کیسے ہیں رضا صاحب؟ اتنے دن بعد ۔۔۔۔؟ ۔۔۔میں نے کئی میسج چھوڑے ، مگرلا حاصل ۔۔۔ پھر سمجھ گئی ، کسی کشف کے دائرے میں
محو ہو نگے۔۔۔کسی الہام کے منتظر۔۔۔،،
’’صحیح سمجھیں تم ۔۔۔ یہ تین مہینے بڑے تسخیری ، قلبی و آسما نی ہو تے ہیں۔ مکا ن و لا مکا ن کے دائروں سے ما ورا ۔۔۔۔ بس پھر ہم جیسے نکل پڑتے ہیں ۔’ آہ۔۔۔، مگر واپسی پر اس دنیا داری سے تھکنے لگتے ہیں ۔ ۔۔۔ اکتانے لگتے ہیں ،،
’’ یہ بتا ؤ تمہا ری ذہا نت نے کیا دیا تم کو ؟،،
’’ ہے ہی نہیں ، ہو تی تو دیتی،،
’’ ہے۔۔۔ میں جا نتا ہو ں ۔۔،،
’’اذیت۔۔،،
’’آہ ساحرہ۔۔۔مجھے تو اذیت بھی نہیں ملی۔۔ صرف حیرا نی ملی ۔۔۔ وہ بھی سستے داموں ۔۔۔،،
’’ آپ عورت جو نہیں ،اذیت کیسے ملتی؟،،
’’ چوٹ اچھی لگا لیتی ہو، سنو ۔۔ فلسفی ۔۔ہو نا عورت ہو نے سے زیا دہ حساس ہے۔۔ سمجھو تو ۔۔،،
’’اور اگر فلسفی اور عورت جْفت ہو ں تو ۔۔۔۔حساسیت اور اذیت یک جاں یک روح ہو ں تو؟
’’ تم بھی نا ں ۔۔۔ میری طرح بس ایسے ہی ہو ۔۔ خیر میں بیوقوف ہو ں، ذہا نت اسی پر منتج ہو تی ہے،،
’’ میں کچھ بھی نہیں ہو ں ۔۔کچھ بھی نہیں۔۔۔ ،،
’’یہ شائبہ ذات ہے۔۔۔ تم ’ لا ، کی تلا ش میں ہو ۔۔۔ اور۔۔۔ اور ’لا ، ہی سہا را دے سکتا ہے۔۔۔،،
’’آہ رضا صاحب۔۔۔ ہو نا ، نا ہو نا ، کیسی دلفریب سی با ت ہے نا ں ۔۔ مسٹری ہے تو دلفریب مگر اس میں فریب زیا دہ ہے،،
’’ مگر۔۔۔ فریب کے ختم ہو نے کی د عا کے ساتھ مجھے دنیا با قی رہتی نظر نہیں آتی،،
’’ آپ کہہ سکتے ہیں ، فلسفی جو ٹھہرے۔۔۔میں عام انسان ہو ں۔۔عام۔۔ باکل عام۔۔،،
’’ شعور سے نکلی ہو ۔۔شاعری کر تی ہو۔۔۔ پھر بھی عام۔۔۔؟،،
’’ جی پھر بھی عام۔۔۔،،
’’ یہ بتا ؤ ۔۔ کیا ۔۔ ایک سے زیا دہ محبتیں معتبر ہو سکتی ہیں ؟،،
’’ ہو سکتی ہیں،،
’’ دلیل ہے؟،،
’’انسان کے لئے کو ئی دلیل ہے۔۔؟ جو میں محبتوں کے معتبر ہو نے کے لئے لا ؤں؟،،
’’ تم نے کبھی محبت کی؟
’’ جی ۔۔۔ انسان ہو ں ناں۔۔۔ وہی گندے خون سے بنا ۔۔ لتھری مٹی کی پیداوار۔۔،،
’’ تو پھر تنہا کیو ں ہو ۔۔؟،،
’’ محبت تنہا ئی ہی ہے۔۔۔سودے با زی ہو تی تو جدائی نا ہو تی، ہجر نا ہو تا۔۔،،
’’ یہ تو عشق ہو ا۔۔۔ محبت سے اوپر اٹھ گئیں۔۔،،
’’ نہیں ۔۔۔ مرد ہے ۔۔ بڑی عجیب مخلو ق ہے ۔۔جسے خود چاہتا ہے ۔۔اس کے لئے نہریں نکال لیتا ہے۔۔۔کوئی اس کو چاہ لے تو خود کو خدا بنا بیٹھتا ہے۔۔ اور ۔۔اور۔۔،،
’’ اور کیا۔۔۔،،
’’ در بدر کر دیتا ۔۔چاہنے والے کو۔۔۔ کہ ۔۔۔اسے سجدوں سے سرور ملتا رہے۔۔۔اور ۔۔ دوسرا بندگی کرتا رہے۔۔۔،،
’’ پھر ہو ا کیا؟،،
’’ کیا ہو نا تھا۔۔۔ میں مقام حیرت سے ہو تے ہوئے بے ثبا تی اور پھر لا مکا ں سے اوپر چلتی چلی گئی۔۔۔چلتی چلی ۔۔گئی۔۔۔،،
’’ تم نے اسے سزائے مو ت تو نہیں دے دی تھی ، ۔۔ احساس کے پھا نسی گھاٹ پر۔۔۔؟،،
’’ نہیں ۔۔۔ لا شعور نے دے دی ہو تو علم نہیں۔۔۔،،
’’ کتنا بد نصیب ہو گا ۔۔۔۔،تم کو کو ن چھوڑ سکتا ہے۔۔ تم کو۔۔ ،؟،،
’’انّا۔۔۔ خوف۔۔۔،میلا پن،،
’’ میلا پن۔۔؟،،
’’ اس کی بھی کئی اقسام ہیں ۔۔۔ مگر چھوڑئیے۔۔۔ ویسے دنیا کہتی ہے وہ’ خوش نصیب ترین ، ہو گا۔۔۔؟،،
’’میٹھے پانی کا چشمہ اس کی اور بہتا رہا ۔۔ اور ۔۔۔وہ ۔۔بندگی سے شانت ہو گیا۔۔۔وہ پیا سا ہی لو ٹ گیا ۔۔۔، بیک وقت نصیبو ں کی کشتی ڈولی۔۔۔،،
’’ بد نصیب بد نصیبو ں سے ہی ملا کرتے ہیں شاید۔۔۔،،
’’مطلب۔۔؟،،
’’ جس نے اپنے ربّ سے نا دا نی میں اک دعا ما نگ لی ہو۔۔؟،،
’’ وہ کیا ۔۔ْ،،
’’ کہ مجھے جسم و روح کی آز ما ئش میں نا ڈالنا ۔۔۔شاید ۔۔ وہا ں جسم نا ہو ۔۔ شاید وہا ں روح نا ہو۔۔۔،،
’’تم اس کا کیا مطلب لیتی ہو؟،،
’’ روح جسم میں سرایت کئے ہو نا ں۔۔ تو۔۔۔ دل اور جسم کا رستہ آسان ہو جا تاہے۔۔،،
’’ مطلب ۔۔۔ تمہا را خیال ہے روح ، دل اور جسم سے الگ کو شے نہیں ہے؟،،
رضا صاحب نے معصوم سی دھیمی مسکراہٹ میں ، اشتیاق سے پو چھا
’’ جی دل اور جسم کا تعلق ہو سکتا ہے۔۔۔ روح اس سے با لا ہے۔۔ الگ ہے۔۔ اس کو فنا نہیں ۔۔۔ تعلق دل کا ہو تو جسم آسانی سے ساتھی بن جا تا ہے۔ مگر روح نہیں بنتی۔ تعلق روح کا ہو تو دل اور جسم بندگی میں آ جا تے ہیں۔ جسم اور دل کا سنجو ک اگر گہرا ہو تو بھی بعض اوقات روح پیا سی رہ جا تی ہے۔ میرے لئے روح کا شانت ہو نا ضروری ہے۔۔ ،،
روح سے ہی کا ئنا ت کا نظام جو ہو ا۔۔۔ محبت اپنی ذات میں خود روحا نی چیز ہے۔۔۔ اگر سمجھا جائے تو۔۔۔،،
’’ اپنا اور اللہ کا اک راز کھو ل دوں؟،،
’’ تم پہ ہے ۔۔۔،،
’’ کعبہ کا طواف کر تی ہو ں برسوں سے۔۔ بچپن سے۔۔۔ کسی کے لئے روتی ہو ں تو بھیگ کر طواف کر تی ہوں بر س پڑتا ہے آسمان۔۔ کسی کو یاد کرتی ہو ں تو ۔۔۔ برس پڑ تا ہے آسما ن ۔۔۔ ہر با ر کوئی کہتا ہے ۔۔۔ اب مدینے کا سفر ہے۔۔۔ اور۔۔ پھر۔۔۔،،
’’ خواہش میں بہت طا قت ہے، بلکہ روح ہے۔۔۔ روح ۔۔۔ اس کے اختیا ر میں تھا ۔۔ چاہتا تو منٹ نا لگاتا ۔۔ سارے بْت توڑ دیتا۔۔۔ سارے کے سارے۔۔۔ مگر اس نے اپنے گھر کے صنم خانے کو ۔۔ بتو ں سے پا ک نا کیا۔۔ خود نا کیا۔۔۔ خود اکیلا ہے ۔۔یہا ں غرور کی چادر والا۔۔۔ ،،
’’ مطلب۔۔۔؟،،
’’ وہ مدینے کی زمین ۔۔۔ صنم خانے کو پاک کرنے والا ہے۔۔ نا ں۔۔ اکیلا نہیں ۔۔ہے ۔۔۔ یار غار کے ساتھ رہتا ہے وہا ں۔۔۔ دعا والے دلیر کے ساتھ ہے وہاں ۔۔۔ وہا ں ۔۔۔ وہا ں کے رستے آسان ہیں۔۔۔ جس روز ۔۔۔وہا ں کا سفر ہو گیا۔۔۔ سمجھو ۔۔ بندگی ہو گئی۔۔۔ طشت کے طشت ملیں گے۔۔۔ اس کے دربار کی شان والے۔۔انتظار ۔۔۔ ہے ابھی۔۔۔ تھوڑا انتظار۔۔،،
’’ میں اس قابل کہا ں؟،،
’’ تم کس قابل ہو۔۔۔ یہ فیصلہ اگر تم نے کر نا ہو تا تو خدا کہا ں جا تا؟۔۔ ،،
’’ خدا کہا ں جا تا۔۔۔ واہ۔۔۔،،
’’ تمہا رے رنگو ں میں روح با قی ہے یا نہیں۔۔۔؟،،
’’ ابھی ہے۔۔ابھی رنگ با تیں کرتے ہیں ۔۔۔ ابھی ان سے خوشبو آتی ہے۔۔ ابھی کمرے میں مہک آتی ہے۔۔۔ ابھی بھی کو ئی چھو ٹی تاروں سے کڑھی شال شانو ں پہ دے کر، آسما ن پہ آئے بادلو ں کو التجا سے دیکھتا ہے۔۔۔ابھی ۔۔ بھی۔۔۔،،
’’ امید سے بڑی کا ئنا ت کو ئی نہیں۔۔ اور گما ن سے بڑا انعام کو ئی نہیں ۔ ۔۔،،
’’ مگر ’لا ، سے شروع ہو نے والا ہا ر جا تا ہے۔۔،،
’’ تمہا را ’لا ، کہا ں سے شروع ہو تا ہے؟،،
’’ انا الحق تو ایک صدی بعد حق ہو گیا تھا۔۔۔ مگر۔۔۔۔ صدیاں بیت گئیں ۔۔ بیٹی کی پیدائش کے ’لا ، کا حق کہا ں ہے؟،،
’’ اول تو یہ کہ۔۔۔ ’ہا ں، میں بھی ’ لا ، ہی ہے۔۔ ، آغاز کا ’لا ، و ’ ہا ں، انجام ایک ہی رکھتا ہے۔۔ دوم صدیوں پہلے ’لا، اور ’ مرد، ایک ہی تھا ۔ آج بھی یہ مو جو د ہے۔۔۔ ،،
’’ کیسے؟۔۔۔ کہا ں۔۔؟،،
’’ حویلی میں چاند پیدا ہو نے پہ نا چ ہو تا ہے۔۔۔ اور شاہی محلے میں چاندی کی آمد پہ نا چا جاتا ہے۔۔۔۔ فرق۔۔ سمجھو۔۔ حویلی کی وراثت کا ۔۔ اور شاہی محلے کی واثت کا۔۔۔ بس ۔۔۔تفریق کچھ اور ہے۔۔۔،،
’’ فلسفی ہیں ناں۔۔ گہرے پا نیو ں میں پھنک دیا ہے مجھے۔۔۔،،
’’ عالم بھی تو ہو ں، نکا ل بھی دونگا۔۔۔،،
’’ دنیا کا عالم تمہارے سامنے ہے۔۔۔ تمہا را دل نہیں کرتا کہ ۔۔قسمت کا ستا رہ آسما ن پہ چمکے۔۔ محبو ب قدمو ں میں ہو۔۔۔ دولت خادمہ ہو ۔۔۔ کبھی کوئی وظیفہ کیو ں نہیں پو چھتیں ؟،،
’’آپ ہی تو کہتے ہیں ، دعا کی قبو لیت کی طرح تعلقات کی درخشندگی کا بھی ایک مخصوص وقت ہو تا ہے۔۔ اور پھر۔۔۔ جو دل میں ہو اسے قدمو ں میں لا کر کیا کروں گی۔۔ دل سے بھی جائے گا،،
’’ واللہ۔۔۔، کو ئی یو ں نہیں سوچتا۔۔۔اچھا میری عبا دت کا وقت ہو رہا ہے ، چلتا ہوں۔۔۔،،
’’ میں آپ کے رواں دائروں کی گردش میں کو ئی کنکر پھینک کر انہیں منتشر کر کے۔۔، نئے رستے نہیں دینا چاہتی ہو ں۔۔۔ بلکہ چاہتی ہو ں جب ان دائروں کی پرواز معراج ہو تو میں بھی شامل دعا رہو ں۔۔۔،،
’’ تم ایسی باتیں کیو ں کر تی ہو؟،،
’’ بیس سال کی عمر میں نظر آنے والا وقت، چالیس برس میں تلا ش بن جا تا ہے۔۔۔ ساٹھ میں وہی وقت چپ سے دھیرے دھیرے چْھپنے لگتا ہے ۔۔۔۔ میرے زما ن و مکا ن کے سفر سے آپ ہی تو آشنا ہیں ،،
’’ تو سنو ۔۔۔ جب کسی کودیکھ کر گو د میں ما متا مسکرائے۔۔۔ سمجھ جا نا کملی والے کے صحن رحمت میں چلی جا ؤ گی۔۔فی امن اللہ۔۔۔،،
اسے رضا صاحب کی یہ با ت سمجھ نہیں آئی۔ مگر یو ں محسوس ہو ا جیسے بہا ر کی نرم و مہکتی ہو ائیں اس کے گر د گردش کر رہی ہیں ۔ وہ سوچوں کے سمندر میں واپس چلی گئی روح کی خوراک مل چکی تھی نیند نے پر پھیلا لئے۔
صبح آنکھ کھلی تو وہ کملی والے کے صحن چمن سے ہو آئی تھی ۔ اپنے وجود پہ نا زاں مسکراہٹوں کے پھو ل اندر با ہر کھل اٹھے تھے۔ سورج اپنی پو ری شان سے جلو ہ گر ہو چکا تھا ۔ جسم پہ شبنمی ہو اؤں کا رقص جا ری تھا۔ کہ فون قوس و قزاح کے رنگو ں سے مسکرا اٹھا ۔۔۔
اس نے دیکھا تو مسکرا دی’’uff one day boy،،
’’ جی تو آپ سے مل سکتا ہو ں؟ کیا سوچا۔۔۔ آپ نے۔۔۔ بہت دور سے آیا ہوں ، آپ کے شہر؟،،
’’ پا گل کہیں کا۔۔۔ ۔۔،،اس نے دل میں سوچا۔۔
’’ ممکن نہیں میرے لئے۔۔۔ سوری۔۔،،
’’ تے فیر میں نا سمجھاں۔۔،،
’’ جی ۔۔ صیح سمجھے۔۔،،
وہ اچانک اپنی ہی سوچ سے کا نپ گئی’’ لا کن کی کنجی ہے،،
اور فو ن بند کر دیا۔ ای میل چیک کر نے لگی۔ بینک سے آئی ای میل بتا رہی تھی۔کہ آج جا نا بہت ضروری ہے۔ اس نے الماری سے کپڑے نکالے اور بیڈ پہ رکھ کر واش روم چلی گئی۔ تیا ر ہو ئی تو خیا ل آیا کہ دور سے آئے کو بھی دس منٹ دیئے جا سکتے ہیں ۔ اس نے اسے فون کر کے بینک کے سامنے والے پارک میں بلا لیا ۔
بینک کا کا م کر کے جب وہ سامنے پا رک کی طرف گئی تو وہ سامنے والے گیٹ سے آرہا تھا ،دونو ں پا رک سے عین وسط میں ملے تو ایک دوسرے کو حیرانی میں دیکھتے رہ گئے۔ تصویروں کی دنیا سے قدرت کا حسن کتنا ماند پڑ جاتا ہے نا ۔۔۔
اسے دیکھ کر وہ ایک لمحے تو ساکت ہو گئی۔۔۔
اْدھر بھی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔
اِس کی خواہش کے ،جسم کے روح کے رنگ قدرت کے رنگو ں میں مل رہے تھے۔
اس نے خود سے مکالمہ کیا
’’ نہیں ۔۔۔ نہیں۔۔۔ یہ ۔۔۔ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔،،
مگر روح ، جسم اور دل تو یہی کہہ رہے تھے
’’ کیا ہو ا؟،،
اْس کی آواز سے زندگی میں پہلی با ر جسم میں لی گئی انگڑائی میں جیسے آگ لگ گئی ہو۔۔۔
اس کا دل چاہا۔۔۔’’باکل اسی جیسا بچہ اس کی گود میں اٹکھیلیاں کر رہا ہو۔۔۔۔۔،،
وہ اپنی خواہش سے خود آنکھیں چرانے لگی۔
ہلکے پھلکے سے بادل جو اچانک آئے تھے اچانک برسنے لگے ۔ دونو ں بے اختیار سامنے پیڑ کے نیچے آگئے۔ اس نے دیکھا بارش کی بو چھاڑ ، اس کی طرف ہے تو وہ اس کے دائیں جانب جا کھڑا ہو ا ،۔۔۔اس کی روح ، جسم اور دل بندگی کے سکو ن میں سر بسجود تھے
اسے رضا صاحب کی بات یا د آگئی
’’ جب کسی کو دیکھ کر ، گو د میں ما متا مسکرائے ۔۔۔۔ سمجھ جا نا کملی والے کے صحن رحمت میں آ گئی ہو ۔۔۔ ،،
بارش تیز ہو تی جا رہی تھی ۔

17 تبصرے “روح کا سفر—رابعہ الرَ بّاء (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 2)

  1. افسانہ روح کا سفر کئی موضوعات کو چھو رہا ہے جو ایک حساس فن کار کی فکری اضطراب کو ظاہر کررہا ہے۔پورا افسانہ پر کر یہ بات سمجھ میں آئی کہ اس میں شاعرانہ لہجہ جگہ جگہ ابھر رہا ہے جو کہانی میں افسانویت کے لئے رکاوٹ بن رہا ہے اور کئی جگہوں پر جملوں کی ساخت بھی منتشر ہوئی ہے۔بہرحال مجموعی طور پر ایک اچھی کاوش ہے۔مبارک باد

  2. سنسناتی سردیاں ؟ / ٹھٹھراتی یا رگوں میں خوں منجمد کرتی وغیرہ لکھنا درست ہے- نم نم آنکھوں سے؟ / نم آنکھوں سے کافی ہے- وقتِ کاذب درست اصطلاح نہیں ، صبحِ کاذب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جب ابھی پوری طرح صبح نہ ہوئی ہو- افسانے میں شاعری لکھی جا سکتی ہے لیکن جب شاعری لکھی جائے تو اس پر شاعری کے قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے ، زیرِ نظر افسانے میں افسانہ نگار کی جو ذاتی غزل درج ہے اُس کے متعدد مصرعے بے وزن اور خارج از بحر ہیں ، اگر نظم کی بات ہوتی تو اس میں گنجائش تھی کہ آج کل ہر طرح کی نثری و آزاد نظمیں لکھی جا رہی ہیں لیکن غزل میں بالخصوص اوزان اور بحر کی پابندی زیادہ ھے- ایک جملہ ملاحظہ ہو ” جیسے کسی جبلت کے بعد سکونِ قرب و پر نم ہوا کرتا ہے” ، یہ لفاظی ہے اور ایسی لفاظی کی افسانے میں بھر مار ہے جو شستہ و رواں نثر کی راہ میں رکاوٹ کی طرح حائل ہے- اس موقع پر ایک اور اہم بات عرض کروں کہ آج کل ڈراموں میں خاص طور پر اور اب افسانوں میں بھی دینیات ، روحانیات اور رومانیات کو بلینڈ کرکے پیش کرنا عام ہے، یہ افسانہ بھی اس کی ایک مثال ہے، اگرچہ خیال اور تخلیقیت پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی لیکن اس کے ادبی انحطاط کونظر انداز بھی نہیں کیا جا سکتا کہ روشن خیالی اور خرد افروزی ادبیت کا لازمہ ہیں ، اسی افسانے کے حوالےسے ایک اور بات کا اظہار کرتا چلوں کہ آج کل ہر تیسرے فرد کو مکاشفہ ، زیارتِ رویا کا دعوی ہو چلا ہے، سوچتا ہوں اس بابت ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ یہ سب کہیں سراب نہ ہو، ویسے تو زندگی کے تمام معاملات کو ہی لیکن اس نہج کے روحانی تجربات و خیالات کو ٹھوس نفسیاتی، سائنسی بنیادوں پر پرکھنے اور بیان کرنے کی ضرورت ہے، مجھے ساغر صدیقی کا ایک شعر یاد آ گیا ! وہ بلائیں تو کیا تماشہ ہو ، ھم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو ! ہو نہ ہو یہ سب تماشہ کا تماشہ ہو- میں یہ سمجھتا ہوں کہ دورِ جدید میں روحانیات کو بھی سائنسی بنیادوں پر ازسرِ نَو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے- افسانے میں کہیں منصور بن حلاج کے نعرہء مستانہ کی گونج بھی سنائی دی لیکن تاریخ کا درست مطالعہ بتاتا ہے کہ ان کی فکر ترقی پسندانہ تھی ، انہوں نے پسے ہوئے انسانی طبقوں کے حقوق کی بات کی جبکہ یار لوگوں نے اُن کی فکر کو کیا سے کیا بنا دیا ( تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجے اسلم سراج الدین کا مضمون ” دشتِ سُوس از جمیلہ ہاشمی اور منصور ابنِ حلاج” جو ان کی کتاب ” تنقید اور تاریخیت” میں شامل ہے، یہ مضمون قاسمی صاحب نے فنون میں بھی شائع کیا تھا)- جسم ، دل اور روح کے حوالے سے روایتی مضامین و مکالمہ پڑھنے کو ملا اور افسانہ نگار نے ذاتی مگر خام تجربہ و خیال کو افسانے کی بنیاد بنا کر پیش فرمایا مگر افسانہ تخلیقی حظ سے کم سطح پر ہے –

  3. رابعہ الرباء صاحبہ کا یہ افسانہ”روح کا سفر” کی قرات کے بعد وزیر آغا کا یہ مصرعہ یاد آیا:

    روح کی اوٹ میں پرچھائیں کیوں بھرتی رہیں”
    اور پورے افسانے میں روح کی یہی پرچھائیں محسوس ہوئیں۔کہانی کا مکالمہ محسوس و معقول(Empirical and Rational)کے استقرائی مناظرے پر تشکیل پزیر ہوا ہے جو قلبی واردات کے الہیاتی مذاکرے اور وجودی احساس کے تعقلاتی فلسفے و متصوفانہ افکار پر ارتکاز کررہا ہے ۔افسانہ پہلے شاعرانہ فکر سے شروع ہوتا ہے اور پھر کہانی کے روپ میں الا’جسم وروح’عبدیت’عشق حقیقی و مجازی’اناالحق’صنفی امتیاز وغیرہ مسائل و موضوعات کو استفہامیہ لب ولہجے میں موضوع گفتگو بناتا ہے۔متن میں تخلیقی پن موجود ہے جو کرداروں کے مابین مکالماتی فضا کو قائم رکھنے میں دلچسپ لگ رہا ہے۔افسانے کے موضوعات پر عمدہ گفتگو ہوسکتی ہے لیکن ایک تو بیشترجملوں کی ساخت اغلاط سے پر ہے اور سب سے بڑی رکاوٹ پلاٹ میں افسانوی ہئیت کا منتشر ہونا ہے۔یہ ایک قسم کا متکلمانہ مناظر ہ لگ رہا ہے جو دوکرداروں کے درمیان سوال وجواب کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔پلاٹ فکشن بیانیہ سے خالی ہے صرف خیالات کو تخلیقی مکالمے میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مکالمہ اگرچہ پلاٹ کا اہم جز بھی ہوتا ہے لیکن صرف مکالمہ ہی پلاٹ نہیں ہوتا ہے۔۔۔بہرحال افسانے میں جو روحانی کیفیات کا احساس اور استفہامیہ جملے موجود ہیں یہ تخلیقی صلاحیت کی عمدہ مثال ہے۔۔(ردوقبول تسلیم ) نیک خواہشات ۔۔۔۔۔۔۔ ے

  4. یہ افسانہ موضوعاتی طور پر روح کا سفر ہی معلوم ہوتا ہے۔انسان جب شعوری طور پر پختہ ہوجاتا ہے تو وہ داخلی مشاہدے میں کھو جاتا ہے بقول علامہ اقبال اپنے من میں ڈوب کر پا جا سرور زندگی۔افسانے میں فلسفیانہ انداز سے داخلی احساسات کی عکاسی کی گئی ہے۔۔۔افسانے میں مکالماتی اندازاپنایا گیا ہے جو کہ بہرحال پلاٹ کی گہرائی کے لئے نقصان دہ ہی ثابت ہورہا ہے۔
    مبارک باد

  5. اس افسانے میں کئی مسائل اٹھائے گئے ہیں ۔۔جوزیادہ ترتصوف اور فلسفہ کے دائرے میں آتے ہیں۔افسانہ نگار نے حساس انداز سے مکالموں کو لکھا ہے ۔اب کہانی پن کی بات کریں تو اس تعلق سے پلاٹ نظر ثانی کا تقاضا کررہا ہے۔۔۔ہ

  6. مکالموں میں بیان ہوئی روح کے سفر کی داستاں- بہت خوب، شرکت پر مبارکباد

  7. رابعہ الربا سے کبھی بصری رابطہ نہیں ہوا تھا آج اس افسانے کے طفیل ہو گیا۔ اسے محسوس کیا جا سکتا ہے اس افسانے میں۔ بنیادی خیال اہمیت رکھتا ہے بنت و ہجے درست کیے جا سکتے ہیں۔ مگر افسانے کا بہاؤ اس خامی کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ اس میں شاعری کے امتزاج کی بحث فضول ہے ۔ یہ اس عہد کا افسانہ ہے اور یہ عہد ابلاغ کو ہی سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ پھر یہ بھی کہ اس میں حقیقی قلبی واردات ۔۔۔قلب میں محسوس ہوتی ہے۔ جس پر بیتی ہو وہ تو محسوس کرتا ہی ہے مگر جس پر نہ بیتی ہو ۔۔۔۔پڑھ کر وہ بھی شرابور ہو جائے ۔۔۔۔ اسے کیا کہیں گے سوائے اس کے کہ واقعی جاندار افسانہ ہے۔

  8. Kabhi kabhi ye shabanami ehsas jab afsana ban jay To accha lagta hai.
    Aur dill se mubarakbad kahne ko chahta hai.

  9. bohat umdah afsana hai, manzar kashi, mukalmey, rawani…..la jawab hen ..Allah karey zor e qalam or ziada

  10. افسانہ پسند آیا, بالخصوص اس کی زبان یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں لسانی نقطہ نظر سے نظر ثانی کی ضرورت ہے. متصوفانہ اصطلاحات اور مکالمےقاری کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں. روح کے سفر کی جمالیات اس کی زبان قرار پاتی ہے. رابعہ کے یہاں چیزوں کو دیکھنے اور اسے اپنے تجربےکی روشنی میں پیش کرنے کا انداز منفرد ہے. اس طرح متصوفانہ مصطلحات کااستعمال بذات خود ایک خوش آئند بات ہے اس پر افسانویت مستزاد ہے. مجھے بہرصورت ماورائی اور الہامی کیفیتوں کی زبان اور انداز پسند ہے, خواہ روح کا سفر ہو یا علامہ ضیا حسین ضیا کےناول مابین یا دروازہ گل.

  11. رابعۃ الربا تک کو برقی سماجی رابطے کی سائٹ سے رسائی حاصل ہوئی، ان کے افسانے مشاہداتی نوعیت کے ہوتے ہیں…. جس میں مشاہدہ اور مکالمہ ساتھ ساتھ چلتا ہے…. لفظوں کے برتنے اور کرداروں کو فٹ کرنے میں انھیں فنکارانہ حیثیت حاصل ہے……….

  12. روح کا سفر کرانے کے لئے رابعہ الرباء کو بہت مبارک باد

  13. کسی بھی تحریر کی پہلی خوبی یہ ہونی چاہیے کہ قاری پڑھنا شروع کرے تو آخر کر کے ہی دم لے۔ مجھے یہ خوبی نظر نہیں آئی عجیب الجھن سا محسوس ہوا۔

  14. احساس کی لَو پر بُنا گیا ایک خوبصورت خیال جسے تخلیقی زاویوں کی گھبیرتا سے گزارنا خود کو تختہٓ مشق بنانے کے مترادف ہے، یہاں کہانی کار نے کہانی کو روح عطاکرنے سے پہلے روح کے سفر کا کشٹ سہا اور تب ایک بھر پور اظہاریے کے ساتھ کہا بھی؛ روح کے سفر کو معنویت کے دائرہ میں کھینچ کر لے آنا خاصے کی بات ہے جو خاص کا اعزاز ہی ہوسکتا ہے ۔ ۔ ۔
    خیال اور ندرتِ خیال کی کامیاب اور کم یاب کوشش پر رابعہ کو مبارک باد !!!

  15. رابعہ کے افسانوں میں عموماً مرکزی کردار بڑا ‘ بن داس’ ہوتا ہے۔ ایسے کردار پر رابعہ عمدہ انداز میں گرفت رکھتی ہے۔ مجھے یہ بنداس کردار بڑے انٹیلیکچوئیل مگر اپنے آپ میں مست سے لگتے ہیں ، کچھ کچھ بے نیاز سے۔
    مگر یہاں خیال کی رو نے بھٹکائے رکھا۔
    تصوف اور روحانیت کے حوالے سے اشفاق احمد کو اتنا پڑھا مگر مجھے ایک بات سمجھ نہیں آسکی کہ داخلیت کا تجربہ اتنا منتشرانداز کیوں لیے ہوتا ہے۔ خیال کی رو کو بہکنے سے بچانا ہی ایک اچھے تخلیق کار کا کام ہے پھر اچھے تخلیق کار ہی کیوں بہک سے جاتے ہیں۔ کوئی سرا ہاتھ ہی نہیں آپاتا۔
    انتشار پر گرفت کی کمی رہی
    مگر پھر بھی دلچسپ مکالمے تھے۔
    اور انداز بڑا محبوبانہ ۔۔۔
    لطف آیا پڑھ کر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں