تیرے سنگ پیا—-حمیرا تبسم (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 6)

پوری وادی پہاڑوں سے اٹی ہوئی تھی۔جبکہ ان پہاڑیوں پہ بل کھاتی سڑکیں بھی موجود تھیں ارد گرد پتھروں سے بھرے میدان تھے جن پہ گھاس اگی ہوئی تھی ۔پہاڑیوں پہ بنے لکڑی کے چھوٹے چھوٹے گھر بھی تھے جو کہ دور سے دکھائی دینے کی وجہ سے چھوٹے سے ڈربے نما لگتے۔جب کہ بڑے اور کھلے گھر دور سے ہی دکھائی دے جاتے۔جنگلی پھولوں اور گھاس سے اٹی یہ پہاڑیاں دلفریب منظر کی عکاسی تھیں۔
ہر سو دھند چھائی ہوئی تھی آنکھیں تک چندھیا جاتیں،اور سردی اتنی کہ دانت سے دانت بجتے۔سورج کی کرنیں معدوم تھیں۔اس وادی میں بسنے والے لوگوں کے گھروں میں الاؤ جلتا ہی رہتا اور سردی سے ٹٹھرتے لوگ اسکے گرد بیٹھ کر جسم کو حرارت پہنچانے کے ساتھ ساتھ قہوہ پیتے اور پرانے قصے سنائے جاتے، یہ وادی کاغان کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔جہاں پہ بلند درختوں کے جھنڈ عجب بہار دکھا رہے ہیں اور سرسبز جھاڑیاں جنگلی پھولوں سے سجی ہوئی ہیں۔
وہ لانگ کوٹ میں ملبوس اور سر پہ اون سے بنی ٹوپی پہنے چھوٹی سی پہاڑی پہ بیٹھی تھی جیسے ہی ٹھنڈی ہوا چلی لمبے اور موٹے کوٹ کو چیرتے ہوئے اسکے جسم میں گھستی محسوس ہوئی،اس نے جھرجھری لیکر ساتھ لائی شال کو اپنے گرد اچھی طرح اوڑھا اور گود میں بیٹھی چھوٹی سی نرم سفید روئی کے گالوں جیسی بھیڑ پہ ہاتھ پھیرا ۔
تم اسکا خیال تو رکھو گی ناں ؟ کسی کا پوچھا گیا سوال اسکی یاداشت کے پردے پہ ابھرا ،
اپنی جان سے بھی زیادہ ! اور ساتھ ہی چھوٹی سی بھیڑ کو بانہوں میں اٹھا لیا ،
میں جلد آؤں گا ! پریشان مت ہونا ۔ وہ بیگ پیک کرتا اسکے ذرا قریب آیا
کب آؤگے ؟ وہ بھیگی آواز سے بولی تو چند آنسو قطروں کی صورت اسکے گالوں پہ ٹک گئے
دسمبر میں ! وہ اسکے گال پر سے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں سے چنتے ہوئے بولا۔
یعنی ایک سال بعد ؟ اتنا عرصہ رہ پاؤ گے مجھے دیکھے بنا ؟ وہ شکوہ کناں نگاہیں اسکے مردانہ وجاہت سے بھرپور چہرے پہ ڈالتے ہوئے بولی،
مجبوری ہے جاناں ! آخر وہاں اتنی اچھی جاب کی آفر ملی ہے سیٹل ہوتے ہی تمہیں اپنے سنگ لے جاؤں گا !
اسکے لہجے میں اتنی محبت گھلی تھی کہ چشمان نے ہار مان لی اور وہ جو اسکی محبت تھا اسکا اپنا تھا جرمنی چلا گیا بس اسکی آنکھ میں خواب دے گیا !
لاڈو گھر چلی جاؤ ورنہ بیمار پڑ جاؤ گی ۔ گلزار چچا کی آواز اسے یادوں سے واپس کھینچ لائی ۔ورنہ اسکا بس چلتا تو یادوں میں ہی جیتی،
میں بیمار نہیں ہوتی چچا اور اس دھند اور سردی بھرے موسم سے تو ویسے بھی مجھے عشق ہے، وہ خود کو سنبھالتے ہوئے خوش مزاج لہجے میں بولی تو چچا گلزار اسے دیکھ کہ مسکرائے اور بکریوں کے ریوڑ کی جانب دوڑے جہاں پہ ایک بکری اپنے بڑے سینگوں سے بھیڑ کو مار رہی تھی باقی بھیڑیں بھی سہمی ہوئی تھیں جبکہ کچھ بکریاں گھاس چرنے میں مصروف تھیں،
یہ منظر دیکھ کر چشمان کے چہرے پہ مسکان بکھر گئی ۔وہ بھی چھوٹی تھی تو بکریاں چرایا کرتی تھی لیکن جیسے تعلیم کی وجہ سے اسنے بکریاں چرانا ترک کردیا تھا۔ماں اسکے بچپن میں ہی وفات پا چکی تھیں بس دادی جان اور ابا جان ہی اسکی کل کائنات تھے ، وہ اکلوتی تھی اس لئے اچھے اور مہنگے سکول میں پڑھتی تھی۔ابا جان نے دوسری شادی فقظ اس لئے نہیں کی کہ سوتیلی ماں ناجانے اس سے کیا سلوک کرتی،ویسے بھی چشمان کی نیلی آنکھیں اور گلابی گال اپنی ماں جیسے تھے اس لئے اپنے ابا کو وہ بہت پیاری تھی۔
ابا جان کا لکڑیوں کا ٹال تھا ۔اس لئے بہت کام چلتا۔پیسے کی بھی کمی ناں تھی۔جب اس نے ایف اے اچھے نمبروں سے پاس کی تو ابا جان نے اچھا سا لیپ ٹاپ اسے گفٹ کیا ،وہ اتنی خوش ہوئی کہ ساتھ والے گھر یعنی ماموں کے گھر کی جانب دوڑ پڑی،
عبداللہ دیکھو ابا جان نے مجھے بھی لیپ ٹاپ لے دیا ! تم ہاتھ تک نہیں لگانے دیتے تھے ناں اپنے لیپ ٹاپ کو ؟
وہ ٖفخر سے اٹھلاتے ہوئے ماموں کے صحن میں کھڑی گلا پھاڑ پھاڑ کہ ماموں کے اکلوتے بیٹے جو اسی کا ہم عمر تھا اور دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منائی جاتی تھی کو پکار رہی تھی
کیا مصیبت ہے یار ! میری ساری نیند خراب کردی وہ آنکھیں ملتا اسکے قریب آیا اور اسکے ہاتھ میں موجود لیپ ٹاپ دیکھ کر پوری آنکھیں کھولے غور سے دیکھے گیا
میری بیٹی کیسی ہےَ ؟ ناز ممانی نے پیار سے اسے گلے لگایا اور پاس کھڑے اپنے لاڈلے بیٹے کو ڈانٹا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو میری بیٹی کو ؟ مبارک باد نہیں دو گے اسے ! بھئی صاحب بتا رہے تھے کہ اس نے تم سے زیادہ نمبر لئے ہیں اس لئے لیپ ٹاپ لے کے دیا ہے ! اور تم ہمیشہ میری بیٹی سے پیچھے ہی رہنا ،
تب ہی عبداللہ کے چہرے کے تاثرات یکدم بدلے اور وہ شرارت سے منہ چڑاتی چشمان کی طرف لپکا ! لیکن اگلے ہی پل وہ اپنے گھر کی جانب جانے والے راستے پہ دوڑ رہی تھی اور وہ اسکے پیچھے پیچھے، انکا کچھ نہیں ہو سکتا ناز ممانی انکو بھاگتا دیکھ کہ کاموں میں لگ گئی ۔
رکو زرا ابھی بتاتا ہوں ایک تو تم میری سالگرہ والا کیک بھی شیئر کرتی ہو اوپر سے میری امی ابا کو بھی اپنا بنا لیا اور اب منہ چڑاتی ہو ؟
وہ پھولی سانسوں کے ساتھ دوڑتے دوڑتے تھک گیا تو درخت کے ساتھ ٹیک لگائے اسکی طرف دیکھ کہ حلق کے بل چلایا
تو میں نے کہا تھا کہ اسی دن دنیا میں نازل ہوجاؤ جس دن میں نے ہونا ہو یا پھر پڑھائی سے زیادہ بھیڑوں کو ٹائم دو ؟
وہ رکتے ہوئے پیچھے مڑ ی اور جب بولی تو آنکھوں میں شرارت کے رنگ واضح تھے، ماحول میں پھیلی ہلکی خنکی اور جنگلی پھولوں کی خوشبو کافی خوابناک تاثر پیدا کر رہی تھی اکتوبر کا مہینہ تھا اس لئے ٹھنڈ پھیلنا شروع ہو چکی تھی۔وہ اسکی بات سن کہ مسکرایا غور سے اسے دیکھا اور گمبھیر آواز میں بولا
ہماری پیدائش کا د ن اور سال ایک،کلاس بھی ایک،تو کیا خیال ہے اگر زندگی کا راستہ بھی ایک ہی رکھا جائے اسی دسمبر میں ؟ سالگرہ کے موقع پہ ایک دوسرے کے نام ہوجائیں ؟
اسکا دل ایک پل کے لئے دھڑکا ،محبت کا اتنا واضح اظہار سن کے اسکے چہرے پہ شرم کی لالی پھیل گئی ایسا لگا جیسے یہاں پہ موجود سب پھولوں کے رنگ اسکے چہرے پہ بکھر گئے ہوں
وہ سانسیں روکے ،پلکیں جھکائے،دھڑکتے دل کے ساتھ وہیں کھڑی رہی جہاں کھڑی تھی،اس پل وہ عبداللہ کو اس پری کی مانند محسوس ہوئی جو کہ سیف الملوک جھیل پہ آنے کے لئے مشہور تھیں،وہ آہستہ قدم اٹھاتا،اسکو جی بھر کے دیکھتا اسکے قریب آکے رکا اور بولا
دل ہار گئی ناں ؟ میرا سب کچھ جیتنے والی ؟
چشمان کا سر اثبات میں ہلا تو عبداللہ نے اسے خوشی سے ہاتھوں سے پکڑتے ہوئے گھما ہی ڈالا،
ارے چھوڑو مجھے ؟ بچے نہیں ہیں ہم ! وہ شرماتے ہوئے اسکے ہاتھوں میں پکڑے اپنے ہاتھ چھڑاتے ہوئے بولی ۔
وہی تو بچے نہیں ہیں ہم ۔اب بتاؤ اماں ابا کو کب لیکر آؤں ؟ دسمبر میں ٹھیک رہے گا ناں ؟
وہ شرارت سے مسکراتے ہوئے ہونٹ کا نچلا کونا دانت تلے دباتے ہوئے بولا تو وہ شرما گئی،اور گھر کی جانب دوڑ لگا دی جو سامنے ہی تھا۔
اس دسمبر میں دونوں گھروں میں دو دو خوشیاں منائی گئیں انکی سالگرہ اور منگنی ! سب ہی خوش تھے،ابا جان،دادی جان،ماموں ممانی اور وہ دونوں بھی ! یہ دسمبر انکے لئے محبت اپنی گود میں لیکر اترا تھاْ ۔جنگلی پھولوں کے زیور پہنے اور سادہ سا پیلے رنگ کا فراک پہنے چشمان بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور سفید کاٹن کی شلوار قمیض کے اوپر بلیک واسکٹ پہنے عبداللہ کسی شہزادے سے کم نہیں لگ رہا تھا ،
جیسے ہی انہوں نے ایک دوسرے کو انگوٹھی پہنائی فضا مبارک باد اور دعاؤں کے لفظوں سے گونج اٹھی،
وہ اپنا دل تھامے محبت سے اسے ہی دیکھی جا رہی تھی جو ناجانے کب سے اسکے دل میں موجود تھا لیکن وہ جانتی ناں تھی،کاش میں ہمیشہ تمہارے ہی سنگ رہوں،اسکے دل سے دعا نکلی،
ارے دونوں ادھر آؤ اب کیک بھی کاٹو ،
دادی جان انکو بلا رہی تھیں ،تو انکو جانا پڑا ،کیک پہ اس بار دو الفاظ کندہ تھے،ہیپی برتھ ڈے اینڈ ہیپی انگیجمنٹ چشمان اور عبداللہ، دونوں کے دل کیک ایک ساتھ کاٹتے ہوئے پہلی بار ساتھ دھڑکے،
کچھ دنوں بعد ہی وہ جرمنی چلا گیا واپسی کا وعدہ کر کے،اور چشمان نے اس سے بھیڑ کا وہ بچہ مانگ لیا جسکو وہ بہت پیار کرتا تھا ،بالآخر وہ اسکے حوالے کرتا ہوا چلا گیا،
***
جیسے ہی ہلکی بارش ہونا شروع ہوئی وہ پہاڑی سے اٹھ کھڑی ہوئی اب کم ہوتی دھند کے ساتھ بارش کی چادر سی تن گئی تھی ،ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ جنت میں کھڑی ہو،بکریاں کلانچیں بھرتی گھاس کو چھوڑے بھاگتی پھر رہیں تھیں جبکہ چرواہے انکے پیچھے پیچھے تھے۔دیو قامت درخت ہوا کی دوش پہ سر ہلاتے بارش کا استقبال کر رہے تھے،وہ سردی اور بارش میں ٹٹھرتی ہوئی اور گود میں چھوٹی سی سہمی ہوئی بھیڑ کو سنبھالے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی خوبصورت لکڑی سے بنا اپنے گھر کا گیٹ پار گئی۔
ارے چشمان بیٹی آگئی تم ؟ سردی بڑھ رہی ہے اور تم پتا نہیں کیوں باہر نکل جاتی ہو اوپر سے بھیگ کے آگئی،
اسکو آتا دیکھ کہ دادی جان لکڑیاں نیچے برآمدے کے فرش پہ رکھے اسکے کو فکرمندی سے دیکھتے ہوئے بولیں اور اسکی گود سے بھیڑ کا بچہ لیکر چھوٹے سے لکڑی سے بنے گھر میں داخل کردیا ساتھ میں ایک پلیٹ میں رکھے پھلوں اور سبزی کے پتے بھی اسے ڈال دیے،
دادی جان آپ بھی ناں بس میری ایسے فکر کرتی ہیں جیسے میں گم ہوجاؤں گی یا پھر بارش میں بیمار ! گیلی شال اور ٹوپی اتار کہ اس نے سامنے رکھے تخت پہ پھینکی اور دادی جان کے گال پہ پیار کیا ،
اچھا اچھا اب زیادہ مسکا مت لگاؤ ،لکڑیاں لیکر کچن میں آؤ میں تمہارے لئے سبزیوں کا سوپ بنا دیتی ہوں سردی لگ رہی ہوگی،
دادی اسے خود سے دور کرتے ہوئے لکڑیاں اٹھائے کچن میں چلی گئی،تو وہ بھی پیچھے پیچھے ہولی
بارش ابھی تک ہو رہی تھی ،اور آج پھر وہ اسے شدت سے یاد آرہا تھا،دل چاہ رہا تھا بات کرنے کو لیکن وہ خفا تھی اس سے ۔
آنکھ سے آنسو نکلا لیکن جلد ہی اسنے ہتھیلی سے پونچھ لیا اسی ہتھیلی سے جس کی شہادت کی انگلی اسکے نام کی انگوٹھی سے دمک رہی تھی ! دل تو چاہا کہ اتار پھینکے لیکن دادی جان کو کیا جواب دے گی اس لئے صرف سوچ ہی سکی !
کچن کافی کھلا تھا دادی جان انگیٹھی میں لکڑیوں کا الاؤ جلائے سوپ بنانے میں مصروف تھیں چشمان کو اپنی بوڑھی دادی پہ پیار سا آیا جو اس عمر میں بھی چاق و چوبند تھیں اور اپنا ہر کام خود کرتی تھیں انکا چہرہ جھریوں بھرا تھا لیکن جلد چمکتی ہوئی اور شفاف تھیں وہ جوتا سائیڈ پہ اتار کہ رکھتے ہوئے نیچے بچھائی دری پہ جا بیٹھی،کچن کے گرم اور حرارت سے بھرپور ماحول میں اسکو جسم میں توانائی سی اترتی محسوس ہوئی وہ ہاتھ مسلتے ہوئے انگیٹھی کے مزید قریب ہو گئی اور ہاتھ سینکنے لگی
عبداللہ کیسا ہے ! دادی جان نے سوپ کا پیالہ اسکے ہاتھ میں دیتے ہوئے سوال کیا ساتھ ہی مزید لکڑیاں انگیٹھی میں ڈالیں۔
دادی کے غیر متوقع سوال پہ وہ تھوڑی جزبز ہوئی اور اپنے چہرے کے تاثرات چھپاتے ہوئے نارمل لہجے میں بولی،وہ ٹھیک ہے اور آپ کا پوچھ رہا تھا سلام دے رہا تھا،اس نے جھوٹ بولا اور سوپ سے بھرا چمچ منہ تک لے گئی جبکہ سچ یہ تھا کہ کافی دنوں سے وہ عبداللہ سے خفا تھی بات تک نہیں کرتی تھی عجیب سا خوف اور وہم سا تھا جو اسکو گھیرے رکھتا ،جبکہ عبداللہ نے کافی ایس ایم ایس بھی کئے کہ مسئلہ کیا ہے کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ وہ جواب دیے بنا ہی لمبی گہری سانس لئے ایس ایم ایس ڈیلیٹ کر دیتی
بہت پیارا بچہ ہے ،بس جلدی سے آئے تو میں تمہارے ہاتھ پیلے کردوں، دادی نے دوبارہ سے گفتگو کا نقطہ جوڑتے ہوئے اسے پیار سے دیکھا جو انکی لاڈلی پوتی تھی
میں آپکو اور ابا جان کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گی ،مجھے آپ کے پاس ہی رہنا ہے وہ ایکدم اداس ہوئی اور دل کو کچھ ہوا،
لو اب یہ کیا بات ہوئی لگتا ہے میری بیٹی کا دماغ چل گیا ہے بھلا بیٹی بھی ساری زندگی ساتھ رہتی ہے ؟ جھلی نا ہو تو
دادی جان مسکرائیں اور سوپ کا پیالہ لبوں سے لگا لیا وہ چمچ استعمال ہی نہیں کرتی تھیں،
میں کچھ نہیں جانتی بس آپ کو چھوڑ کہ مجھے عبداللہ کے ساتھ نہیں رہنا ،مجھے آپکی یاد آئے گی ابا کی یاد آئے گی آپ مجھے خود سے دور مت کریں چشمان سوپ کا پیالہ دری پہ رکھے رونے لگ گئی دادی جان اپنی جگہ سے اٹھ کہ اسکے پاس آبیٹھی اور سینے سے لگاتے ہوئے حیران ہوئیں ،لگتا ہے میری بیٹی کو نظر لگی ہے ورنہ آج سے پہلے اتنی اداس تو نا تھی،اسے روتو دیکھ کہ سب سے پہلے دادی کی سوچ میں یہی بات آئی وہ درود پاک پڑھتے ہوئے اس پہ پھونکنے لگیں ،چپ ہو جاؤ چندا،کچھ نہیں ہوگا تم میرے پاس ہی رہو گی بس تم چپ ہو جاؤ ورنہ خاور تمہیں اسطرح روتا دیکھ لے گا تو پریشان ہو جائے گا کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارا ابا جان پریشان ہو ،انہوں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھاما تو بے اختیار آنسو صاف کرتے نفی میں سر ہلاتے اٹھ کہ کچن سے باہر نکل گئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی،جبکہ دادی جان کچھ نا سمجھتے ہوئے پریشانی سے اسے جاتے دیکھے گئی،
وہ آنسو صاف کرتی ٹوٹے قدم لئے اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ پہ بیٹھتے ہی پھر سے اداسی میں گھل گئی،وہ عجیب الجھن کا شکار تھی ساتھ میں عبداللہ پہ جو اعتماد تھا وہ بھی ڈگمگا رہا تھا ،اسے کھونے کا ڈر رات دن چین نا لینے دیتا ،شروع شروع ،میں وہ اس سے ہر دن اسکائپ پہ بات کرتا یا پھر فون کرتا،پھر آفس کے کام میں مصروف ہو گیا تو چشمان نے بھی اسے تنگ کرنا مناسب نا سمجھا اور نا ہی ہر وقت فون کرتی،دن رات اسکی یاد میں انگلیوں پہ گنتے گزرنے لگے کہ وہ کب آئے گا اور ساتھ ہی اس انگوٹھی کو پیار سے دیکھتی جو اسکے نام ہونے کی نشانی تھی،محبت نے اسے سرتاپا بدل دیا تھا،کبھی دادی اماں سے کھانے بنانا سیکھتی تو کبھی کڑھائی سلائی،کیونکہ منگنی کے بعد اسنے پڑھائی چھوڑ دی تھیاور مکمل طور پہ گھر داری سیکھ رہی تھی،ممانی اور ماموں صدقے واری جاتے ،
اسے آج بھی یاد تھا جب آخری بار عبداللہ نے اسے اسکائپ پہ کال کی تھی وہ اسکی پسند کا گلابی فراک پہنے مسکراتا چہرہ لئے اس سے بات کر رہی تھی تو اچانک ہی ایک لڑکی جو یورپین تھی اور آدھے کپڑے پہنے ہوئے تھی اچانک سے اس سے بات کرتے عبداللہ کے پیچھے آ کے کھڑی ہوگئی اور اسکے گلے میں بانہیں ڈال لیں عبداللہ گھبر اگیا جبکہ وہ پریشان بیٹھی چشمان کو دیکھ کہ ہاتھ ہلاتے ہوئے انگلش بولی ہائے ہاؤ آر یو بے بی ؟
عبداللہ کے چہرے کا رنگ فق ہوا اس سے پہلے کہ وہ چشمان کو کچھ صفائی دیتا چشمان نے خود ہی لیپ ٹاپ بند کر دیا،تب ہی سے محبت کے رنگ پہ شک کا گہرا رنگ نمودار ہونا شروع ہو گیا،اس نے تو یہ تک سوچ ڈالا کہ عبداللہ گوریوں کے چکر میں جرمنی گیا ہے اور مجھ سے صرف فلرٹ کیا ہے،اور لڑکیوں کے تو دل ویسے بھی نازک ہوتے ہیں زرا سی چوٹ لگے تو موتیوں کی مانند بکھر جاتی ہیں وہ بھی بکھر گئی تھی ۔بدگمانی محبت کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے لیکن یہ کیسی بدگمانی تھی جو اسے ہی چاٹ رہی تھی اور وہ مزے سے دور بیٹھا انجان تھا۔
جبکہ اسکے دل میں امڈنے والے خدشات دریائے کنہار کی گہرائی اور اسکے چلتے پانی کے شور سے بھی زیادہ تھے،اونچے لمبے ڈراتے سائے کی مانند درختوں سے بھی زیادہ لمبے،جنگلی پھولوں کے ساتھ لگے کانٹوں سے بھی زیادہ تیز اور نوکیلے، دکھ اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا ۔وہ ڈر رہی تھی بھاگ رہی تھی لیکن بچ نہیں پا رہی تھی ۔کمرے میں کھلی کھڑکی سے تیز ہوا کا جھونکا اسکے چہرے سے ٹکرایاتو اسکے کھوئے ہوئے حواس لوٹے وہ اٹھی اور کھڑکی بند کردی۔جبکہ بارش رک چکی تھی۔
وضو کیا اور جائے نماز بچھا کہ سجدے میں گر گئی،
آنکھوں سے بہنے والے آنسو جاء نماز بھگو رہے تھے وہ سراپا دعا بنی خدا سے دل کا سکون مانگنے لگی ۔
***
دسمبر شروع ہوتے ہی برف باری کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا ہر چیز برف میں نہائی ہوئی لگ رہی تھی،وہ بیلچہ اٹھائے گھر کے آگے سے برف ہٹا کہ راستہ صاف کر رہی تھی ،تاحد نگاہ برف ہی برف دکھائی دے رہی تھی راست بند تھے،اس لئے سکول بھی بند تھے بچے سامنے میدانوں میں کھیل رہے تھے جبکہ مائیں بلا بلا کہ تھک گئیں تھیں ۔کاش یہاں پہ بھی کوئی ایسی مشین ہوتی جس سے برف منٹوں میں صاف کر لی جاتی لیکن یہ ایسا کہاں ممکن،چشمان نے دکھ سے پھیلی برف کو دیکھ کہ تاسف سے سوچا اور ایک بار پھر سے بیلچہ اٹھائے شروع ہوگئی۔اس نے کافی دنوں سے دن گننا بھی چھوڑ دیے تھے،دسمبر سے کافی یادیں جڑی ہوتیں تھیں اور یہ دسمبر تو ویسے بھی خاص تھا ،لیکن وہ خاموشی کی چادر تانے بس جی ہی رہی تھی موبائل بھی آف کر رکھا تھا ،کئی بار دل چاہا کہ عبداللہ سے رابطہ کرے،پوچھے کب آؤ گے دسمبر تو آگیا لیکن جلد ہی دل پہ قفل لگا لیا،وہ مصروف ہوگا گوری میم کے ساتھ! میں اسکے دل میں تو کیا شاید اب یادوں میں بھی موجود نا ہوں، وہ برف کو ایک طرف جمع کرتی سوچوں میں الجھی گھر میں داخل ہوئی تو دادی جان اور ابا جان اسکی سالگرہ کے متعلق بات کر رہے تھے جو کہ آنے والے دن کو تھی،یعنی کل ،،
چشمان نے ایک نظر انکو دیکھا اوربیلچہ دیوار کے ساتھ رکھتے ہوئے نہائت دکھ سے بولی،
ابا جان مجھے نہیں کرنی اس بار سالگرہ ،اب بڑی ہو گئی ہوں ، خوامخواہ فضول خرچی ہوگی،جبکہ ایسا بولتے ہوئے اسکا دل دکھ رہا تھا ،عبداللہ کی یا د ستا رہی تھی لین پھر بھی بول گئی
خاور حیات نے اپنی گڑیا جیسی بیٹی کو دکھ سے دیکھا جو کہ کافی اداس لگ رہی تھی نا جانے کونسا دکھ دل میں آن بسایا تھا،
یہ سالگرہ ہوگی اور ضرور ہوگی،بلکہ دھوم دھام سے ہوگی اور میری بیٹی کے لئے یادگار ہوگی،اور فضول خرچی کا تم نام مت لینا ورنہ خفا ہو جاؤں گا ،بیٹی کو خوشیاں دیتے وقت باپ کا سینہ خوشی سے چوڑا ہو جاتا ہے مجھ سے یہ حق مت چھینو،اب تم ہی تو ہو جسکو دیکھ کے میں جیتا ہوں،وہ محبت سے بولتے ہوئے اسکے قریب آئے اور اسے سینے سے لگا لیا ،
باپ کے سینے سے لگتے ہی وہ تمام دکھ بھول گئی،اور مسکراتے ہوئے بولی
ابا جان آپ کا مکمل حق ہے مجھ پہ ،لیکن کیک میری پسند کا ہوگا اور وہ بھی چاکلیٹ والا۔
اور سوٹ ہماری طرف سے،
ممانی کی آواز پہ اس نے ابا جان سے چھوٹتے ہی دروازے کی جانب دیکھا تو وہ ہاتھوں میں شاپنگ بیگ پکڑے مسکراتے ہوئے بحبت پاش نظروں سے دیکھتی اسکے پاس ہی آرہی تھی جبکہ ماموں جان بھی ساتھ تھے،
کیسی ہے میری بہو ؟ ممانی جان نے اسے پیار سے گلے لگاتے ہی پوچھا تو ان کے بہو کہنے پہ شرما گئی اور صرف مسکرا ہی سکی جبکہ دل میں انجانا سا درد جاگا،
اگر ممانی کو معلوم ہو جائے کہ انکا بیٹا کیا گل کھلا رہا ہے دکھ سے نڈھال ہی ہو جائیں لیکن میں انہیں خود سے کچھ نہیں بتاؤنگی جب تک سچ خود نہیں سامنے آجاتا،وہ یہ سب سوچتے ہوئے ماموں کو سلام کرتی اور وہ سوٹ اٹھائے اپنے کمرے میں آگئی،شاپر سے نکال کہ دیکھا تو بس دیکھتی ہی رہ گئی،فیروزی رنگ کا کامدار فراک نہائت ہی خوبصورت تھا ،ساتھ میں چوڑیاں اور جیولری بھی تھی،کاش وہ ایسا نا ہوتا،اتنی دور نا جاتا تو آج ہم ہمیشہ کی طرح اکٹھے سالگرہ مناتے،اسکی بھی تو سالگرہ ہے کل،
چشمان کے چہرے پہ کئی اسکی یادوں کے ساتھ ساتھ فکرمندی کے بھی سائے لہرائے لیکن بہت جلد ہی اس نے خود کو نارمل کیا اور سب کچھ الماری میں رکھتے ہوئے ماموں ممانی کے لئے چائے بنا نے کچن میں آگئی جہاں پہلے ہی دادی جان بیٹھی گڑ والی چائے بنا رہی تھی باقی سب دریوں پہ بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھی،وہ بھی وہاں بیٹھتے ہوئے ان سب کی خوشیوں کی دعا مانگنے لگی،جنکے دل میں صرف محبت بستی تھی،جو رشتوں کا پاس رکھنا جانتے تھے، جو اسکے اپنے تھے،ناجانے عبداللہ کس پہ چلا گیا،اس کی سوچ بھٹک کہ ایک بار پھر سے اسکی جانب گھومی ،نا آئے مجھے کیا! وہ خود کو سمجھانے لگی جبکہ دل تھا کہ اسے دیکھنے کو بضد،اور وہ تھی کہ خٖفا ، شک اور بدگمانی کی فضا میں سانس لیتی پیاری سی لڑکی،
***
مکمل گھر روشنیوں میں نہایا ہوا تھا ،سب بہت خوش تھے،ہمیشہ کی طرح آج بھی ماموں ممانی ابا جان اور دادی جان اسے گھیرے ہوئے تھے،باقی رشتہ دار بہت دور رہتے تھے انکو انوائٹ کرنا مشکل تھا بس سادگی سے ہی سالگرہ منائی جاتی تھی ،لیکن آج اتنا ضرور ہوا تھا کہ گھر کو سجایا گیا تھا ،کئی قسم کے کھانے تک ممانی جان نے بنا ڈالے،
وہ نک سک سے تیار پھولوں کا تاج پہنے آیئنے کے سامنے کھڑی تھی،وہ خود کو ادھورا محسوس کر رہی تھی،اس بار وہ اکیلی تھی،کیک پہ صرف اسکا نام لکھا جانے والا تھا کیوں کہ وہ دور تھا، تم نہیں آئے ناں ؟ اسکے دل سے شکوہ نکلا اور آنکھوں میں نمی چمکی،لیکن وہ زبردستی مسکراتی ہوئی ہال کمرے میں گئی جہاں سب کیک سجائے اسی کا انتظار کر رہے تھے،جیو ہزاروں سال، ابا جان نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا جبکہ ماموں جان نے اسے گلے سے لگایا،بھئی اب کیک بھی کاٹو۔وہ دادی جان کے گلے سے لگی دعائیں لی رہی تھی کہ ممانی جان نے اسے پکارا اور ساتھ ہی چھری بھی تھما دی،
کیک پہ لکھا نام دیکھ کہ وہ چونکی،جہاں پہ ہیپی برتھ ڈے چشمان اینڈ عبداللہ لکھا چمک رہا تھا ،اسکا دل اک پل کیلئے دھڑکا،عبداللہ کے مخصوص پرفیوم کی خوشبو اسے آس پاس محسوس ہوئی تو اس نے سر گھما کے چاروں جانب نظر گھمائی،مایوس ہو کہ کیک پہ چھری رکھی ہی تھی کہ کوئی چلتا ہوا سکے قریب آکھڑا ہوا اور اسکے ہاتھ میں تھامی کیک کاٹتی چھری پہ اپنا ہاتھ رکھ دیا،ہیپی برتھ ڈے ٹو یو چشمان،
چشمان نے رکتی سانسوں اور یقین نا کرتی نگاہوں سے سامنے کھڑے عبداللہ کو دیکھا ،جو پہلے سے کافی وجہیہ ہو گیا تھا جبکہ سب بلند وبانگ قہقہوں سے اسے اندازہ ہوا کہ عبداللہ کی آمد سے سب واقف تھے سوائے میرے،صرف مجھے ہی بے خبر رکھا گیا، وہ بت بنی اسے دیکھے گئی جبکہ اس نے کیک کا ٹکڑا اٹھا کہ اس کو کھلانا چاہا اس نے نم ہوتی آنکھوں سے اسکے ہاتھ سے کیک کھایا ،
ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں وعدہ وفا نا کروں ،اس دسمبر میں نا آؤں ؟
وہ مسکراتے ہوئے اس ہونق بنی لڑکی کو جواب دیتے ہوئے کیک دادی جان کو کھلانے لگا ،
بیٹی ہم نے عبداللہ کے کہنے پہ ہی تمہیں اسکے آنے کا نہیں بتایا یہ تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا، ماموں جان نے پریشان کھڑی چشمان کو وضاحت دی،
وہ بس مسکرا کہ رہ گئی،لیکن خوش تھی کہ وہ آگیا تھا،سب کے چہروں پہ مسکان سجی تھی وہ بھی بہت خوش تھا،کھانا کھا کہ وہ چائے کا مگ لئے اپنے کمرے میں آ کھڑی ہوئی اور کھڑکی سے باہر آسمان دیکھنے لگی جہاں پہ ابھی تک بادلوں نے ڈیرہ جمایا ہوا تھا،
کیسی ہو ؟ تم خفا تھی مجھ سے ؟ وہ بھی چائے کا مگ اٹھائے اسکے پیچھے چلا آیا اور برابر کھڑا ہوگیا نگاہیں اس پری وش کے چہرے پہ ٹکا دیں، جو خفگی بھرا چہرا لئے چائے کے گھونٹ بر رہی تھی،
زندہ ہوں ! خفا نہیں ہوں،بلکہ دکھی ہوں،تم سب گھر والوں کے ساتھ ساتھ میرے دل سے بھی کھیل رہے ہو، اسکا لہجہ ٹوٹا ہوا تھا ،وہ مشکل سے ضبظ کیے کھڑی تھی،جبکہ گلے میں آنسوؤں کا گولہ سا اٹکہ ہوا تھا،
چشمان کی بات سن کہ وہ ساکت رہ گیا،اسکی آنکھوں میں جلتی محبت کی روشنی مانند پڑنے لگی،جبکہ ہونٹ خشک ہوگئے،وہ بے یقین نظروں سے اسے دیکھی گیا اور جب بولا تو لہجے میں دکھ ہی دکھ تھا،
مجھے نہیں معلوم تھا چشمان کہ تمہاری محبت اتنی اندھی ہوگی،بھروسہ اتنا کچا ہو گا کہ تم مجھے شک کے کٹہرے میں کھڑا کر دوگی۔وہ مارٹی تھی،میری آفس کولیگ،آزاد زہنیت کی مالک ،وہ تو سبکے ساتھ ہی بے تکلفی رکھتی ہے ،تم نے اتنی سی بات پہ میری سالوں کی محبت بھلا دی،مجھ پہ اعتماد نہیں کیا،
وہ بولتا گیا اور اسکے الفاظ سن کہ چشمان شرمندہ ہوتی گئی،خود کو کسی گہرے کنوئیں میں گرتا پایا،
اگر تمہیں واقعی مجھ پہ اعتبار نہیں تو توڑ دو یہ رشتہ،
پلیز ایسا دوبارہ مت کہنا اسکی آخری بات سن کے چشمان کے جسم سے جیسے روح نکلنے لگی اسنے تڑپ کے روتے ہوئے اپنا ہاتھ عبداللہ کے ہونٹوں پہ رکھا
کیا مجھے معافی نہیں مل سکتی ؟ وہ روتے ہوئے بولی،
اسے راتا دیکھ کہ عبداللہ کے دل کو کچھ ہوا ،وہ نادان تھی لیکن تھی تو اسکی محبت ناں
معافی مل سکتی ہے لیکن ایک شرط پہ، وہ پچھلی تمام باتیں بھلائے مسکراتے ہوئے بولا تو چشمان کے چہرے پہ خوشی کے رنگ بکھر گئے،
کیسی شرط ؟ وہ بے اختیار بولی
یہی کہ چند دنوں تک ہماری شادی ہے سب نے ڈیٹ فکس کردی ہے اور تمہیں شادی پہ میری مرضی کا ڈریس پہننا ہو گا،
اسکی بات سن کہ چشمان کے چہرے پہ حیاء کی لالی بکھر گئی،اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اور تمام وہم،خدشات، محبت کے یقین میں تبدیل ہوتے گئے
وہ لرزتے ہونٹوں سے بمشکل ہاں بول پائی ،
دادی جان اور ابا جان سے دور نہیں رہ سکتی ناں ؟ چلو میں ایسا کرتا ہوں ادھر ہی اپنا کاروبار شروع کرتا ہوں تاکہ تم خوش رہو ،اور میں تمہیں خوش دیکھ کر خوشَ َ
وہ اسے حیران کیے جا رہا تھا ،شوخ نگاہوں سے اسے دیکھتا بہت ہی پیارا لگ رہا تھا
تمہیں یہ سب ،،
دادی نے بتایا، وہ اسکی مکمل بات سنے بنا سمجھتے ہوئے جواب دے کہ ہنسنے لگا تو خوب شرمندہ ہوئی،اور دل میں سوچا یہ دادی بھی نا! کیا ضرورت تھی میری باتیں عبداللہ کو بتانے کی،
کیا سوچ رہی ہو ٹھنڈی ہوتی چائے کا گھونٹ بھرتے ہی وہ اسے والہانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
وہ کچھ نہیں،چائے گرم کردوں،وہ اسکی شوخ نگاہوں سے فرار پانا چاہتی تھی اس لئے بولی،
واہ ابھی سے خدمتیں شروع ؟ وہ مزید شوخ ہوا
اور چائے کا مگ ایک ہی سانس ختم کردیا، بس تم سامنے کھڑی رہو اور یہ وقت تھم جائے،میرے سنگ خوش تو رہو گی نا ،وہ اپنا ہاتھ اسے سامنے پھیلاتے ہوئے بولا
جی رہوں گی،اسنے شرماتے ہوئے اپنا ہاتھ اسکے اسکے ہاتھ پہ رکھ دیا
محبت دونوں جانب مہکنے لگی،پرخلوص محبت،اور وہ اسکے سنگ پریقین محبت کا سفر ہمیشہ کے لئے کرنے کو تیار ہو گئی دل سے سارے وہم مٹائے وہ اسے دیکھے گئی جو اسکا ہمسفر تھا، یہ دسمبر اس کیلئے خاص تھا، اور محبت لئے ہوئے تھا،
***

41 تبصرے “تیرے سنگ پیا—-حمیرا تبسم (افسانوی مقابلہ، افسانہ نمبر 6)

  1. افسانہ نگاری میں نیۓ موضوعات پر نا ہونے کے برابر لکھا جا رہا ہے . . حمیرا تبسم صاحبہ اچھا لکھتی ہیں ، اگر نیۓ موضوعات پر لکھیں تو کیا ہی کہنیں . . .
    حمیرا تبسم صاحبہ کی اس تحریر کو میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتا ہوں ، کرب اور المیہ کے اس دور میں فسوں کاری مزید ذہنی انتشار کا باعث ہے ، حمیرا تبسم صاحبہ کی اس تحریر میں خاص بات یہ ہی ہے کہ پہلے سے کرب میں مبتلاء معاشرے میں کہانی کا خوشگوار اختتام قارئین کے لئے ذہنی سکون کا باعث ہے ، حمیرا تبسم صاحبہ کے لئے نیک خواہشات –

  2. بہت خوبصورت افسانہ ۔ محبت آمیز فضا میں حقیقی جذبات کے تانے بانے سے بٌنا ہوا۔ حمیرا تبسم صاحبہ نے اپنے اپنے سحر انگیز قلم سے جذبات ومحسوسات اور نفسیات کے وہ دائمی رنگ بھر دیے ہیں جن سے یہ افسانہ زندہ وجاوید کیفیات کا روشن آئینہ بن گیا ہے ۔ ہزار داد وتحسین وآفرین ۔ م

  3. حمیرا کا افسانہ بہت پسند آیا،اسلوب بھی خوب ،ایسی اچھی تحریر پر مبارک،اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

  4. بٹیا ! افسانہ طوالت کے باعث پڑھنے کا کافی وقت مانگتا ھے۔ جونہی قرات کرتا ھوں۔ اپنی حقیر رائے سے مطلع کروں گا۔ و باللہ التوفیق

  5. افسانہ کی شروعات ہی حیرت انگیز منظر نگاری سے ہوئ ہے مکالمات بھی عمدہ ہیں اس افسانے میں رشتوں کی محبت پیش کی گئ ہے جسے پڑھ کہ خوشگوار احساس ہو رہا ہے ویلڈن حمیرا تبسم ایسے ہی عمدہ لکھتی رہیں

  6. مجھے حمیرا کا یہ افسانہ پڑھ کہ لگ رہا ہے کہ میں کاغان کی سیر کر کے لوٹی ہوں بہت ہی خوبصورت افسانہ مبارکباد حمیرا تبسم

  7. محبت سے بھرپور رشتوں کی ترجمانی کرتی بہترین تحریر۔

  8. مجھے یہ افسانہ کافی پسند آیا ہے نرم و نازک جزبات میں بسا یہ افسانہ دل میں اتر گیا

  9. خوشیوں میں ڈھلا افسانہ حبس زدہ طبعیت کو مسکراہٹ دے گیا

  10. حمیرا تبسم نے نہائت خوبصورتی و عمدگی سے افسانہ تخلیق کیا ہے اس افسانے نے مجھے بور نہیں ہونے دیا

  11. سب سے پہلے تو میں اس خوبصورت پلیٹ فارم تخلیق کرنےوالوں کو شکریہ کہتا ہوں خاص طور پہ محمد ریاست کا مشکور ہوں جنکی وجہ سے نئے رائٹرز کو بھی اپنا آپ منوانے کا موقع مل رہا ہے اب بات ہو جائے حمیرا تبسم کے افسانے کی تو جناب یہ افسانہ بدگمانی کو دور کرتا ہوا اعتمادکی فضا آباد کرتا ہوا دل پہ اثر کر گیا حمیرا آپ یونہی لکھتی رہیں ایک دن ضرور کامیاب ہونگی

  12. Bubt khoob .. ☺
    Hmein Urdu k faroogh k liee kam krna chahie .. buht pchy ch0r ayein hein ab likhny parhny k0 .. Icka faroogh buht zruri hai wrna ab apni Qoomi zuban ee bhool jayein gyy .. ☺

  13. Bubt khoob ..
    Hmein Urdu k faroogh k liee kam krna chahie .. buht pchy ch0r ayein hein ab likhny parhny k0 .. Icka faroogh buht zruri hai wrna ab apni Qoomi zuban ee bhool jayein gyy ..

    1. یہ ہپی اینڈنگ والے افسانے مجھے بہت پسند ہیں ۔ ویسے بھی محبت میری کمزوری ہے ۔۔۔ محبت ہمیشہ جیتنی چاہئے ۔ ہاری ہوئی محبت بہت دکھ دیتی ہے ۔
      پیاری کہانی لکھی ہے۔ اردگرد کا ماحول اپنا سا لگا ۔ آبڑکھابڑ راستے ، برف سے بند پڑی پگڑنڈیاں ۔ باہرسرد ہواوں کے جھونکے ۔ اندر چولہے کی گرمی ۔ گرم گرم قہوہ ۔ پیالیوں سے اٹھتا بھاب ۔۔۔ کیا کیا نہیں ہے اس کہانی میں ۔۔۔۔ اور کہانی کا لب و لہجہ اتنا پیارا جیسے کوئی فلم چل رہی ہے سامنے ۔۔۔۔ آپ اس پر فلم کیوں نہیں بناتی ۔۔۔
      بہت داااد اور بہت بہت مبارکباد

  14. ابتدائی منظر نگاری تو لاجواب ہے۔قرات کے دوران جمالیاتی احساس خوشگواریت سے محظوظ ہوا جیسے کشمیر کے قدرتی مناظر کاسین چل رہا تھا۔۔۔اسلوب بھی اچھا ہے ۔کہانی رومانوی ہے بھلا اسے کون ناپسند کرے گا۔اوپر سے سیڈ سین کے بعد خوشی کی آمد۔۔۔بہت خوب۔۔۔مبارک ر

  15. افسانے کی منظر کشی کمال کی ھے۔۔پلاٹ اور بنت
    بھی بہترین ۔۔۔ابتدا سے لے آخر تک دلچسپی برقرار
    رہی ھے۔۔گہانی پر گرفت مضبوط رہی ھے۔۔مکالمے جاندار ہیں۔۔ایسا بالکل نہیں محسوس ھوا کہ کہانی کو غیر ضروری کھینچا جا رہا ھے۔۔افسانہ جس زمین سے تعلق رکھتا ھے وہاں کے رہن سہن اور طرز معاشرت کی بھر پور عکاسی کی گئی ھے۔۔۔

  16. غیر ضروری طوالت کا حامل بیانیہ بے شمار املا کی غلطیوں کا حامل ہے ! پہلا جملہ ” پوری وادی پہاڑوں سے اٹی ہوئی تھی” ہی غلط ہے ! لفظ اٹی ہوئی یا اٹا ہوا کی سینس یہ نہیں ہوتی ، دلفریب منظر کی عکاسی تھیں/ عکاس تھیں یا عکاسی تھی ، ہر سو دھند چھائی ہوئی تھی آنکھیں تک چندھیا جاتیں/ مبہم جملہ ہے ، دانت سے دانت بجتے؟ / دانت بجتے ، ٹٹھرتے ٹٹھرتی / ٹھٹھرتے ٹھٹھرتی ، گال پر سے آنسو/ گال سے آنسو ، اس کی آنکھ میں خواب دے گیا / اس کی آنکھوں میں خواب سجا گیا ، لیکن جیسے تعلیم کی وجہ سے اس نے بکریاں چرانا ترک کر دیا تھا/ لیکن جیسے کا کیا مطلب ؟ – ، ویسے بھی چشمان کی نیلی آنکھیں اور گلابی گال اپنی ماں جیسے تھے اس لئے اپنے ابا کو وہ بہت پیاری تھی/ ابا کے پیار کے لئے کیا اس کا ایسا ہونا ضروری تھا ! ویسے ہی بیٹی تھی تو پیاری ہی تھی- ناں / نہ ، ایف اے پاس کی / پاس کیا ، گلا پھاڑ پھاڑ کہ / گلا پھاڑ کے یا کر ، آنکھیں کھولے غور سے دیکھے گیا ؟ / دیکھنے لگا ، دیکھتا رہ گیا- دیکھ کہ ،اتار کہ ،چھوڑ کہ ، اٹھ کہ ، بچھا کہ ، بلا بلا کہ، سن کہ / سب جگہ یا تو کر آتا یا کے- حلق کے بل چلایا ؟ ، ٹھنڈ پھیلنا شروع ہو چلی تھی؟ ، محبت سے اسے ہی دیکھے جا رہی تھی / محبت سے اسے دیکھے جا رہی تھی – جانتی ناں تھی / جانتی نہ تھی – دو لفظ کندہ تھے ” ہیپی برتھ ڈے اینڈ ہیپی انگیجمنٹ چشمان اور عبداللہ ” یہ دو لفظ ہیں ؟ ویسے بھی کیک پر لفظ کندہ نہیں ہوتے بلکہ ابھرے ہوتے ہیں – دھند کے ساتھ بارش کی چادر سی تن گئی / مبہم جملہ ہے- درخت ہوا کی دوش پر؟ / ہوا کے دوش پر- بھیڑ کے بچے کو پھل اور پتے دیے/ بھیڑیں ہربی وورس ہیں اس لئے ان کو پھل نہیں ڈالے جاتےنہ وہ کھاتی ہیں سوائے جھاڑیوں کے چھوٹے موٹے پھل پھول کے- جلد چمکتی ہوئی اور شفاش تھیں / تھی – دھوپ سینکی جاتی ہے اور انگیٹھی پر آگ یا ہاتھ تاپے جاتے ہیں- وہ چمچ استعمال ہی نہیں کرتی تھی یعنی دادی / یہ صراحت سے بتانے یا لکھنے کی کیا ضرورت تھی- آنسو صاف کرتی ٹوٹے قدم لئے؟ پریشانی سے اسے جاتے دیکھے گئی/ دیکھتی رہی- اداسی میں گھل گئی ؟ بچے سامنے میدانوں میں کھیل رہے تھے ؟ / پہاڑی علاقہ ہے تو اتنے میدان کہاں سے آئے یا تو یہ ہی ہو کہ سامنے میدان میں کھیل رہے تھے- سب دریوں پہ بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھی / مصروف تھے- نک سک سے تیار پھولوں کا تاج ؟ لگتا ہے لکھاری کو نک سک کا مطلب معلوم نہیں – یہ تحریر کسی صورت افسانہ میں شمار نہیں ، نہ خیال تئیں ، نہ بیان تئیں ، مزید افسوس کہ اس جانب کسی نے توجہ بھی نہیں دلائی !

  17. اگلے افسانے کا انتظار ہے۔
    ایڈمن صاحب برائے مہربانی ایک افسانے کے بعد دو دن کا وقفہ مناسب رہےگا۔۔۔۔اس سے زائد انتظار کروانا مناسب نہیں ۔

  18. شاہد جمیل صاحب یہ پلٹ فارم حوصلہ افزائ کیلیے بنا ہےنہ کہ دل توڑنے کے لیے اور حمیرا کے افسانے میں چھپی خوبصورتی آپکو نظر نہیں آئ صرف املاء کی غلطیاں نظر آیئں جبکہ لکھنے کا بیان کرنے کا منظر کشی کا بلکہ ہر افسانے کا انداز مختلف ہوتا ہے فرض نہیں ہےکہ سب ایک جیسا لکھیں یا آپ جیسا لکھیں آپ نے حوصلہ افزائ ہی نہیں کی جب کہ حمیرا کا افسانہ بہت اچھا ہے تنقید کرنےسے پہلے سوچ لیا کریں دل آزاری مت کیا کریں

    1. اگر سب کے سب آنکھ بند کر کے تعریف شروع کر دیں تو اصلاح کا دروازہ مکمل طور سے بند ہو جائیگا اور لکھنے والا/والی املا کی غلطیوں کی اصلاح کبھی نہیں کر پائیگا/پائیگی۔
      لیکن جہاں تنقید ضروری ہے وہاں ممکن حد تک حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔

  19. بہت خوب حمیرا تبسم آپکا لکھا افسانہ موڈ خوشگوار کر گیا ویلڈن

  20. جنابِ عابد نقوی آپ کی بات بڑی اور قابلِ صد احترام ہے- تنقیدی نشست کا مقصد ستائش نہیں بلکہ افسانہ نگار کو متن کے فن و قبح سے آگاہ کرنا ہے ، انجمن ترقی پسند مصنفین ہو یا حلقہ اربابِ ذوق ہر جگہ فن پاروں پر کھل کر تنقید کرنے کی روایت ہے- میں نے فقط تحریر پڑھی ہے اور آپ میرے تبصرے سے سمجھ سکتے ہیں کہ میں نے یہ کام بساط بھر محنت اور مشقت سے سر انجام دیا ، افسانہ پڑھنے کے بعد دو درجن کے قریب آرا بھی پڑھیں لیکن تنقید کی اصل روح کے غائب کی وجہ سے تبصرے کے آخر میں اس کا عندیہ دیا- یقین کیجے کہ میں نے یہ کام مثبت سمجھ کر کیا ہے ، پھر بھی نادانستہ طور پر اس سے آپ کی یا افسانہ نگار کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں اس کے لئے معذرت طلب ہوں، ایک گزارش ضرور ہے کہ خدارا میری نیت اور خلوص پر شک نہ کیجے-

  21. جناب محترم شاہد جمیل صاحب و دیگر تمام معزز تبصرہ نگار صاحبان میں آپ سب کو ادارے کی پالیسی بتانا چاہتا ہوں، حضور یہ فورم افسانے کی ترقی اور ترویج کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس مقابلے کا مقصد بھی محض انعام بانٹنا یا ویب سائٹ کی تشہیر نہیں ہے۔ اگر ویب سائٹ کی تشہیر ہی کرنا ہوتی تو ہم مقابلہ کروانے کی بجائے اخبارات میں اشتہارات دے دیتے۔ ہمارا مقصد محض افسانے کی ترقی ہے اور نئے لکھنے والوں کی تربیت۔ نئے لکھنے والوں کی تربیت تنقید کے بغیر ممکن ہی نہیں۔ فرض کریں کسی نے افسانہ پیش کیا، سب نے واہ واہ لکھا تو اس افسانہ نگار نے کیا سیکھا ہوگا۔ لیکن اگر کوئی سینئر ادیب اس افسانے پر تنقید کرے گا، زبان و بیان کی غلطیاں درست کرے گا، افسانے اور کہانی میں فرق سمجھائے گا تو وہ تخلیق کار دوبارہ جب کوئی افسانہ تخلیق کرے گا تو پہلے سے بہت بہتر کرے گا اب تنقید کا فائدہ تبصرہ نگار کو تو نہ ہوا لیکن افسانہ نگارکو ہو گیا۔ اس لیے سب سے گزارش ہے کہ اس پلیٹ فارم پر اگر آپ نے آپ نے افسانہ پیش کرنا ہے تو تبصرہ نگاروں کی رائے کا آپ کو احترام کرنا ہو گا۔شاہد جمیل صاحب بہت سینئر افسانہ نگار اور نقاد ہیں۔ وہ انتظامیہ کی خصوصی درخواست پر اس فورم پر آتے ہیں اور لکھنے والوں کی اصلاح کرتے ہیں اور میں ان کا اور باقی سب تبصرہ نگاروں کا ممنون ہوں کہ وہ افسانے کی ترقی اور ترویج کے لیے ریاست نامہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ افسانہ نگاروں سے پھر درخواست ہے کہ تبصرہ نگاروں کی رائے کا احترام کریں اور سیکھنے کی کوشش کریں۔ یہ بھی واضح کر دوں کہ تبصرہ نگار کی رائے افسانوی مقابلے کے نتائج پر اثر انداز نہیں ہو گی، نتائج مرتب کرنے کے لیے جناب محمود ظفر اقبال ہاشمی صاحب، جناب محمد جاوید انور صاحب اور جناب ساجد ہدایت صاحب پر مشتمل ججوں کا ایک پینل کام کر رہا ہے۔ نتائج کا اعلان ان کی رائے کے مطابق ہوگا۔ انتظامیہ کا کوئی بھی رکن میرے سمیت اس پینل کا حصہ نہیں ہے۔ احبا ب گوگل پلے سٹور سے ریاست نامہ کی موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کر کے افسانے، ناول، خبریں ،شاعری اور بچوں کے لیے کہانیاں پڑھ سکتے ہیں۔
    محمد ریاست
    چیف ایگزیکٹو
    ریاست نامہ ویب سائٹ،پبلیکیشنز اینڈ آن لائن شاپ

  22. اگر سب کے سب آنکھ بند کر کے تعریف شروع کر دیں تو اصلاح کا دروازہ مکمل طور سے بند ہو جائیگا اور لکھنے والا/والی املا کی غلطیوں کی اصلاح کبھی نہیں کر پائیگا/پائیگی۔
    لیکن جہاں تنقید ضروری ہے وہاں ممکن حد تک حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔

  23. آجکل کے مشغول انسانوں کے پاس وقت بہت کم ہے اس لیے مختصر اپنی بات رکھنی چاہیے۔ طوالت بور کر دیتا ہے۔ کم سے کم الفاظ کا انتخاب اور اپنی پوری بات ذہن میں اتار دینا ایک لافانی ہنر ہے۔

  24. قلم میں روانی ہے ۔ مگر املا کی غلطیاں ڈسٹرب کرتی رہیں ۔ اس کا بہتر طریقہ یہی ہوتا ہے کہ لکھنے کے بعد اسے خود تنقیدی نظر سے دیکھا جائے اور ظالمانہ ایڈیٹنگ کی جائے۔
    کہانی اور ٹریٹمنٹ پاپولر فکشن والی ہے اس لیے سیریس فکشن والا لطف نہیں آیا۔
    نیک خواہشات

اپنا تبصرہ بھیجیں