شجاعت علی راہی—تعارف

شجاعت علی راہی اصل نام شجاعت علی نقوی 1945 میں کوہاٹ میں پیدا ہوئے.آج کل بحریہ ٹاؤن رالپنڈی میں قیام پزیر ہیں. زندگی بھر تدریس کے شعبے سے منسلک رہے.پاکستان ٹیلی وژن میں بھی شعبہ تعلیم کے پروڈیوسر رہے. ملک کے کئی معروف انگلش میڈیم اسکولوں اور کالجوں کے سربراہ رہے، تعلیم و تدریس کے سلسلے میں پاکستان کے علاوہ بیرون ملک ایڈنبرا، لندن،جرمنی،ڈھاکہ اور جدہ میں بھی دو تین عشروں تک قیام کیا اور دنیا کے کئی ممالک کھنگالے.
شجاعت علی راہی کی 18 کتابیں طبع ہو چکی ہیں جن میں چھ شعری مجموعے اور ایک افسانوں کا مجموعہ شامل ہے. انگریزی زبان میں بھی ایک کتاب کے مصنف ہیں. اردو، انگریزی،ہندکو اور فارسی کے شاعر ہیں. کئی ادبی اور پیشہ ورانہ اعزازات سمیٹ چکے ہیں، ان کی ذات اور فن کے حوالے سے ایم اے اور ایم فل کی سطح کے مقالے لکھے جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے.
شجاعت علی راہی بچوں کے لیے 1980 کی دہائی سے باقاعدگی سے لکھ رہے ہیں.ان کی کہانیاں ریڈیو پاکستان سے بھی نشر ہوتی رہی ہیں اور بچوں کے دو ناول ہفت روزہ اخبار خواتین کراچی اور ماہنامہ جگنو لاہور میں اشاعت پزیر ہو چکے ہیں. بچوں کے لیے مزید تین ناول (کبوتر)، (بولتے برگد) اور (ڈوریمان،جاپان اور پاکستان) کے مسودات بھی تیار ہیں، بچوں کے لیے 150 سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں جن میں سے بیشتر ابھی شائع نہیں ہوئی ہیں. پاکستان اور بھارت کے جریدوں میں ان کا کلام شائع ہوتا رہتا ہے اور پنجاب ٹیکسٹ بک کی کتابوں میں بھی ان کی نظمیں شامل ہیں.
شجاعت علی راہی کی مطبوعہ کتابیں
1) تتلیوں کا میلہ (ناول)
2) باغی چیونٹیاں (ناول)
3) ڈائنا سور کیوں غائب ہوگئے. (ناولٹ)
4) بلی کی آپ بیتی (ناولٹ)
5) مشاعرے (جانوروں،پرندوں اور حشرات الارض کے مشاعرے)
6) ہم نے زردہ کھایا (کہانیاں)
7) مطلب بے مطلب (نان سینس رائمز)
8) نرم شگوفے (نظمیں)
9) الف سے امی (نظمیں)
10) ذرا سوچو تو (قطعات)
شجاعت علی راہی ریاست نامہ کے مصنفین کی فہرست میں شامل ہیں اوران کا بچوں کے لیے لکھا گیا ناولٹ بلی کی آپ بیتی ریاست نامہ پر 14 جنوری 2018 سے قسط وار شائع ہو رہا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں