بے جنسیت—رحمٰن عباس

مئی کامہینہ تھا ۔ سورج اپنی گرمی ممبئی پر برسا رہا تھا۔زمین کے اندرون سے گویا ایک دھواں سا اٹھ رہا تھا اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ کولتار کی سڑک پگھل جائے گی ۔ شاہد اقبال نے سوچا کیا یہ شہر کسی آتش فشاں پر آباد ہے جس کے سبب زمین کی اندرونی تپش سے شہر کی سڑکیں گرم ہوجاتی ہیں۔ رومال سے پسینہ صاف کر کے وہ کالج انتظامیہ کے آفیس میں داخل ہوا۔
دستاویز ایک فائل میں رکھتے ہوئے کلرک نے اس سے کہا :’ کالج دس جون سے کھلے گا۔‘
دس جون کی صبح وہ کالج تاخیر سے پہنچا ۔ پرنسپل کمرے میں بچوں سے مخاطب تھی۔ سب اپنا تعارف بیان کر چکے تھے۔ کلاس روم کے دروازے پر کھڑے ہو کر جب اس نے پرنسپل کی طرف دیکھا تو اسے لگا گویا اس کے جوتے گرم کولتار سے چپک گئے ہیں۔ پرنسپل نے اسے کمرے میں آنے کا اشارہ کیا۔
پارسی پرنسپل تعلیمی موضوع پر بات چیت کرتی رہی۔
 ♥
ابتدائی دو مہینوں میں کالج کے بیشتر طلبہ سے اس کی دوستی ہوگئی۔کالج کی ثقافتی کمیٹی کے لیے اسے نامزد کیا گیا۔ معلمین بھی اسے پسند کرنے لگے۔ سب کچھ ایسا ہی ہوا جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے اور جس کا بیان اس کہانی کا مقصد نہیں ہے۔ جتنی کہانی اب تک بیان کی گئی ہے وہ بھی صرف اس لیے کہ ایک پس منظر قائم کیا جائے۔ اصل کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
کلاس میں ایک لڑکی تھی۔ وہ ایک ایسے زاویے پر بیٹھا کرتی تھی جہاں سے شاہد اقبال اس کے چہرے کو دیکھ نہیں پاتا تھا۔ کلاس میں اس نے شاہد سے کبھی بات نہیں کی اور نہ کسی ایسی سرگرمی میں حصہ لیا تھا جس میں شاہد کی شمولیت ہوتی یا ان کی بات چیت ہوتی۔ یہ بات شاہد کو عجیب سی لگتی تھی۔ شاہد نے اس بات کا ذکر اپنی گرل فرینڈسے بھی کیا تھا اور کہا تھا:
’ آخر وہ مجھ سے اتنا کتراتی کیوں ہے۔‘
’یہ صرف تمہاری خام خیالی ہے۔ ممکن ہے اسے تم میں کوئی دلچسپی نہ ہو۔‘ اس کی دوست نے کہا۔
’لیکن میرے علاوہ تو وہ سبھی سے گھل مل کر رہتی ہے، ہنستی بولتی ہے۔‘ شاہد نے کہا۔
’اس کی مرضی، لیکن تم یہ مت سمجھو کہ وہ تمہیں اپنا حریف تصور کرتی ہے۔ ‘ دوست نے سمجھایا۔
جب اس کی دوست کو یہ موضوع بوریت بھرا لگا تو اس نے کہا :
’ just forget yaar ‘ ۔
 ♥
ایک ہوٹل میں گرل فرینڈ کے ساتھ سوتے ہوئے بھی اس کے دل کے تار تسنیم دیشمکھ کے خیال سے مرتعش تھے۔ جو کالج میں اسے نظرانداز کرتی تھی۔ ایسے زاویے پر بیٹھا کرتی تھی جہاں سے اس کا چہرہ شاہد کو دکھائی نہ دے۔ جہاں وہ ہوتا اس طرف کبھی نہیں جاتی تھی۔ اس بار جانے کیوں تسنیم دیر تک اس کے ذہن پر حاوی رہی۔ دھیرے دھیرے وہ اس کے ذہن کی اسکرین پر ایک ناقابل برداشت بھنور بن گئی۔ وہ یہ سوچنے لگا کیا تسنیم اسے ناپسند کرتی ہے۔ کیا تسنیم اس سے نفرت کرتی ہے۔ اس نے سوچا کہ اس کے دل میں اتنی قوت کیوں نہیں ہے کہ وہ یہ برداشت کرے کہ کوئی اس سے نفرت کر سکتا ہے۔ اسے غصہ آیا۔ وہ سوچتا رہا کیوں کسی کا رد کرنا ہمیں الجھن میں مبتلا کرتا ہے ۔اس کا بس چلتا تو وہ تسنیم کو اٹھا کر بحرعرب میں پھینک دیتا۔ زمین دوز کر دیتا۔ کیا یہ نفرت تھی؟ کیوں تھی؟
اس صورت حال سے اس کا سامنا تھا۔ وہ وحشی سا ہوجاتا۔ جب خیالات روشنی کی رفتار سے اس کے ذہن میں سفر کرتے تو وہ انتشار، الجھن اور وجود کی ناقابل ترحم حالت میں گرفتار ہو جاتا ۔ اس کے جذبات بے ترتیب ہو جاتے اور دوست کے ساتھ وہ یکسوئی سے جماع بھی نہیں کر پاتا۔
 ♥
چوتھے مہینے کالج کی پکنک طے پائی۔ شاہد انچارج تھا۔ اس کا گمان تھا کہ اس بار تسنیم سے بات کرنے کا اس کے پاس ٹھوس جواز ہے۔ پکنک فیس جمع کرتے ہوئے جب اس نے تسنیم کا رول نمبر لیا تو بہت دور سے آواز آئی:
’No‘
یہ’ نہیں‘ طوفان کی طرح آیا اور اسے حیرانی میں مبتلا کر گیا۔ اس کے چہرے کا رنگ اڑگیا تھا ۔اس کے اندر تسنیم کے لیے شدید نفرت پیدا ہوئی۔ لیکن اس سے کچھ کہتے نہ بنا۔ وہ مبہوت اس کی طرف دیکھتا رہا۔ وہ کچھ پڑھ رہی تھی۔
 ♥
اس دن کی شام اس نے اپنی دوست کے ساتھ کرائے کے ایک کمرے میں تین گھنٹے گزارے لیکن ایک عدم اتفاقی کی کیفیت سے وہ آزاد نہ ہوسکا۔
 ♥
پکنک کے لیے روانگی میں ابھی دس منٹ باقی تھے جب حیرانی نے اسے آن گھیرا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے تسنیم تھی۔ اس کے ہاتھ میں بیگ تھا۔
’جناب!میں جس سبب پکنک نہیں آرہی تھی اب اسی سبب آرہی ہوں۔‘ اس مبہم جملے میں موجود معنی کو سمجھنے سے وہ قاصر تھا اور حیران تھا۔ اس نے کچھ نہ کہا۔ چند ساعتوں بعد جب اس نے کچھ کہنا چاہا تب تک وہ بس میں سوار ہو چکی تھی۔ دوسرے دوست سامنے کھڑے تھے۔
اسی دوران اس کی گرل فرینڈ آئی ۔وہ باتیں کرنے لگے۔
 ♥
بس میں شور مچاتے، گاتے، ہنگامہ کرتے وہ سب شہر سے چار گھنٹے کی مسافت پر واقع ایک پہاڑی مقام کی طرف جا رہے تھے۔ ہاں، اس شور میں جو چند اک گم صم بیٹھے تھے ان میں شاہد بھی تھا جبکہ یہ اس کے مزاج کے خلاف تھا۔ تسنیم آخری سیٹ پر سہلیوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ شاہد کی خاموشی نے اس کے ذہن میں برسوں پرانا ایک منظر اجاگر کیا تھا جس میں موسلادھار بارش میں وہ سمندر کے کنارے اس کی پہلی گرل فرینڈ حنا کے ساتھ ریت پر بیٹھا بھیگ رہا تھا۔ سمندر کا ڈولتا ہوا بدن پارے کی سی رنگت اختیار کر چکاتھا۔ اطراف پھیلی تاریکی جسم میں احساس ثبات جگا رہی تھی، ایک تمنا تھی کہ اس ناقابلِ بیان کیفیت کو دوام مل جائے۔ اسی کیفیت میں جب اس نے حنا کے پستان پر اپنے ہونٹ رکھے تھے تب بدن کی لافانی لذت کا ذائقہ اس کے دل کی بھول بھلیاں میں پھیل گیا تھا۔
آج ہر موجود شے سے بے گانگی کے باوجود ، دل کے اندر پوشیدہ خواہش اسی تاریک بھول بھولیاں سے نکل کر اس کی آنکھ میں ایک نیا چہرہ پیش کر رہی تھیں۔’ نفرت ہمارے لیے قابل برداشت کیوں نہیں ہے۔‘ ابھی اس نے سوچناشروع ہی کیا تھا کہ بس منز ل پر پہنچ گئی ۔
 ♥
ایک بنگلے میں لڑکیاں چلی گئیں اور دوسرے میں لڑکے۔ ناشتے کے بعد شاہد لیٹ گیا۔ نیند اس کی آنکھوں میں نہیں تھی۔ اس کا جی پڑھنے کے لیے مچلنے لگا تو اس نے اپنے بیگ سے Roald Dahl کی کہانیوں کا مجموعہ نکال کر مشہور کہانی’ لڑکا : جو جانوروں سے بات کرتاہے‘، پڑھنے لگا لیکن اس طلسمی کہانی کا حصار بھی اسے مقید نہ کر سکا ۔ وہ جس موضوع پر سوچنا چاہتا تھا وہ اس کے من میں تو تھا لیکن واضح طور پر ابھر نہ پاتاتھا۔۔۔ابھی وہ مزید غور کرتا کہ پرنسپل کی طرف سے حکم صادر ہوا:’تیار ہو جائیں، سب آبشار دیکھنے جا رہے ہیں۔‘بس آبشار سے قریب ایک پہاڑ ی کی گود میں رک گئی۔ کیمرے آبشار کو منجمد منظر میں بدلنے لگ گئے۔ ہر سمت کہرا بکھرا تھا۔ تسنیم ایک چٹان سے کھائی کو دیکھ رہی تھی۔ وہاں بے شمار درخت تھے جو کہرا میں بھیگے دلکش لگ رہے تھے۔ شاہد کے قدم تسنیم کی طرف بڑھے۔ اس کے قریب پہنچ کر اس نے کہا:’بات کر سکتا ہوں؟‘ تسنیم نے کھالی نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔کوئی جواب نہیں دیا۔
’کیا دیکھ رہی ہیں آپ؟‘
’جنگل اور اندھیرا۔‘
’لیکن ابھی اندھیرا پوری طرح سے پھیلا کہا ں ہے؟‘
اس نے کچھ نہیں کہا۔
’خیر!آبشار کیسا لگا ؟‘ شاہد نے بات بڑھائی۔
’بامعنی مگر رائیگاں۔۔۔‘
’یہ کیسے ممکن ہے؟‘
ْ ’جو پانی۔۔۔ہمیں گرتے ہوئے نظر آتاہے وہ اسی لمحے وہاں نہیں ہوتا ہے۔ ‘
شاہد اس جملے پر کچھ کہتا کہ ایک استاد کی آواز آئی۔ سلسلہ ٹوٹ گیا۔ تسنیم استاد کی آواز پر مڑگئی اور شاہد چند لمحے آبشار کو دیکھتا رہا۔ اس نے سوچا آخر آبشار کب تک بہتا رہے گا۔کیوں؟
 ♥
رات کا کھانا سب کو مل کر بنا نا تھا۔لڑکے گوشت کاٹ رہے تھے، لڑکیاں سبزیاں کاٹ رہی تھیں۔ شرارتیں ہو رہی تھیں۔ جگنوؤں کی اس دنیا میں شاہد یہ سوچ رہاتھا کہ اگر اس کی گفتگو تسنیم کے ساتھ جاری رہتی تھی وہ مزید کیا کیا پوچھتا۔ دوسری طرف تسنیم سہلیوں کے ساتھ بیٹھ کر سبزیاں کاٹتے ہوئے کسی خیال میں محو تھی۔
کھانے کے بعد پرنسپل نے محفل کا اعلان کیا۔ لڑکوں نے لڑکیوں کی نقل اتاری، لطیفے اسٹیج کیے، ممیکری کی گئی۔
رات ساڑھے بارہ بجے پروگرام ختم ہوا۔ سب آرام کرنے چلے گئے۔تسنیم پہلے ہی غائب ہو گئی تھی۔ شاہد اسے دیکھ نہیں سکا۔ وہ کمرے میں گیا اور گیلری میں کرسی پر بیٹھ گیا۔ سامنے کے بنگلے سے لڑکیوں کی زور زور سے باتیں کرنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ شاہد کے اندر ایک دوسری طرح کا شور تھا جو کم نہیں ہو رہا تھا۔ اس نے خود سے کہا کہ تسنیم اس سے نفرت نہیں کرتی ہے۔ ممکن ہے وہ قنوطی ہے۔ She is a strange person. ۔ کاش وہ گفتگو جاری رہتی۔جاننے اور نہ جاننے کی چاہ میں رات کافی بیت گئی۔ البتہ اس بار اس کے ذہن میں خیالات انتشار اور ہیجان کی صورت نہیں بلکہ ایک شیریں لہر کی طرح بہہ رہے تھے۔ یہ ایک طرح کی موسیقی تھی جس میں وہ اطراف کے حشرات کو بھی محسوس کر سکتا تھا۔
9 ♥
دوسری صبح دس بجے سب ٹہلنے کے لیے نکلے۔
لڑکیاں راستے کے اردگرد پھولوں اور تتلیوں کو دیکھ کرلپکتی تھیں ا ور لڑکے انھیں دیکھ کر تشنہ ہوئے جاتے تھے۔ تسنیم آہستہ آہستہ چل رہی تھی۔ شاہد آگے کی طرف ایک ٹیچر کے ساتھ بات کر رہا تھا۔ جب سے نے دیکھا کہ تسنیم سب سے پیچھے رہ گئی ہے تو اس کی اپنی رفتار از خود کم ہوگئی۔ اب وہ ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
’اچھا موسم ہے، ہے نا۔‘ شاہد نے کہا۔
’یہاں عام طور پر ایسا ہی موسم رہتا ہے۔‘
شاہد کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ گفتگو آگے کس طرح بڑھائے۔
’میں ہمیشہ آپ سے باتیں کرنا چاہتا تھامگر۔۔‘
’مگر What ۔۔‘
’مجھے ایسا لگتا تھا آپ مجھے نظر انداز کر رہی ہیں۔‘
’ہاں، میں نے ایسا کیا ہے۔‘
وہ چپ چاپ چلتے رہے۔
 ♥
دوپہر تین بجے واپسی کی تیاریاں شروع ہوئیں۔
جب بس شہر میں داخل ہوئی تو پرنسپل نے اجازت دی کہ جو جہاں چاہے بس سے اتر سکتا ہے۔ رفتہ رفتہ بس آدھی ہوگئی۔ پھر ایک مقام پر تسنیم بھی اپنی دو سہلیوں کے ساتھ بس سے اتر گئی۔ شاہد نے اسے بھی درختوں اور لوگوں کی طرح پیچھے کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔ شاہد سوچ رہا تھا وہ مجھ سے مزید باتیں کر سکتی ہے۔ Is she a strange girl لیکن جب میں اس سے باتیں کروں گا تبھی تو مجھے علم ہوگا کہ وہ کیسی ہے۔کیوں ہے؟
 ♥
دوسرے دن چھٹی تھی۔ شاہد نے یہ دن اپنی دوست کے ساتھ کسی ہوٹل میں گذارا، لیکن اس بار اس کی دلچسپی مجامعت میں کم تھی۔ اس کے ذہن میں ایک عکسِ لاتفسیر خیمہ زن تھا اور وہ معنی کی کھوج میں تھا۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی بھول گیا کہ اسے ایک جلسے میں جانا تھا جو ممبئی فسادات پر قائم کمیشن کی سفارشات کے نفاذ کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ وہ بہت کچھ بھول گیا تھا۔ اگر اسی کوئی بات یاد تھی تو وہ یہ تھی کہ گفتگو کا وہ کون سا سرا تھا جہاں تسنیم سے بات رک گئی تھی۔
 ♥
دو دن تسنیم کالج نہیں آئی۔ وہ کافی پریشان رہا۔ لیکن تیسرے دن علی الصبح تسنیم کو پہلی صف میں بیٹھا دیکھ کر اسے راحت سی محسوس ہوئی۔
وہ اس کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اس کا گمان تھا کہ تسنیم مڑکر دیکھے گی ۔ وہ خیریت دریافت کرے گا۔وہ شکریہ ادا کرے گی۔ وہ چائے کے لیے مدعو کرے گا۔ وہ انکار کرے گی۔ وہ ضد کرے گا ۔پھر وہ مان جائے گی۔ چائے کے دوران وہ ادب پر اس سے باتیں کرے گا ۔اس کے پسندیدہ ناول نگار کی کتاب اسے تحفے میں دے گا۔ پھر وہ سمندر کنارے ملیں گے۔۔۔ وہ سوچتا رہا مگر اس دن ایسا کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔ رسیس میں وہ چائے پینے کے لیے کینٹن بھی نہیں گئی، اپنی میز پر جمی رہی۔ کالج ختم ہوا۔ شاہد نے اسے دیکھنے کے علاوہ اورکیا کیا۔ وہ لائبریری سے کتابیں لے کر گھر جانے کے لیے نکلی۔ شاہد وہیں دوستوں کے ساتھ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے اونچی آواز میں اسے پکارا۔ جب وہ قریب پہنچا تو تسنیم نے کہا:’اتنی اونچی آواز میں پکارا مت کرو۔‘
’کیوں۔۔کیا ہوا؟‘
ْ ’مجھے شور سنائی نہیں دیتا ہے ۔‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
اتنا کہہ کر وہ چلی گئی اور شاہد وہیں مجسمہ بنا رہا۔ اب واقعی خود اسے شور سنائی نہیں دے رہا تھا۔ اردگر د میں جاری بحث، دوستوں کی باتیں اور سڑک پر سے گذرتی ہوئی گاڑیوں کا شور جانے کیسے آف موڈ میں چلا گیا تھا۔
 ♥
اس نے تسنیم سے ملنے کی کوشش نہیں کی۔
البتہ وہ ایسی جگہ بیٹھ جاتا جہاں سے وہ اسے دیکھ سکے ۔ اس کی گردن ، اس کی پیٹھ ، اس کے شانے پر بکھرے بال
script>
 ♥
ایک ہفتے بعد جب وہ کلاس میں بیٹھا کچھ پڑھ رہا تھا تسنیم نے قریب سے گذرتے ہوئے اس کی خیریت دریافت کی اور اس سے کہا کہ رسیس میں وہ اس سے بات کرنا چاہتی ہے۔ یکایک وہ اچھا محسوس کرنے لگااور خیالات کے جو سرے ٹوٹ گئے دوبارہ بحال ہوئے۔رسیس کے لیے ابھی دو لیکچر باقی تھے لیکن یہ عرصہ اس پر عرصہ دہر تھا۔وہ سوچتا رہا کہ تسنیم اس سے کیا پوچھے گی۔ وہ کس طرح جواب دے گا۔ کیا وہ دوستی پر آمادہ ہوگی۔یہ باتیں اس وقت محو ہو گئیں جب کینٹن میں تسنیم نے ٹیبل پر بیٹھتے ہی اس سے پوچھا:’کیا تم بیمار ہو؟‘
’نہیں میں ٹھیک ہوں، بالکل ٹھیک۔۔لیکن تمہیں ایسا کیوں لگا۔۔‘
’کچھ دنوں سے میں نے تمہارے ہاتھ میں کوئی کتاب نہیں دیکھی۔۔۔‘
شاہد نے اس سوال کو ایک نادر موقع تصور کیا اور کہا:’میں ان دنوں تمہیں پڑھ رہا ہوں۔‘
’کیا!!‘ حیرت میں تسنیم کی زبان سے ادا ہوا۔
’میرا جملہ مبہم نہیں ہے۔‘ اتنا کہہ کر اس نے تسنیم کے چہرے پر نظریں گھاڑتے ہوئے جملہ مکمل کیا:’میں تمہیں سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘
’میں کوئی علامتی کہانی تونہیں ہوں۔ بلکہ میں تو خود اپنی علامت بھی نہیں ہوں۔‘
’دیکھو، تمہارے اس طرح کے جملے میرے پلے نہیں پڑتے ، حالانکہ اچھے لگتے ہیں ، لیکن ۔۔لیکن میں اس ابہام کو سمجھنا چاہتا ہوں۔ ‘
’اس زندگی میں ہم بہتر طور پر صرف خود کو سمجھ سکتے ہیں۔ سواگر تم مجھے نہ سمجھ سکو تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور نہ ہی یہ میری خواہش ہے۔‘
’ہوسکتاہے، یہ میری خواہش ہو۔‘ شاہد نے کہا۔
وہ چپ رہی۔
شاہد نے چائے پی،کچھ دیر خاموشی رہی۔
’تم مبہم باتیں کرتی ہو۔‘ خاموشی کو توڑتے ہوئے شاہد نے کہا۔
’ابہام ، ہماری اپنی بازیافت ہے۔‘
’کیسے ممکن ہے کہ مبہم باتوں کے اندھیرے میں ہم خود کو دریافت کریں۔ ‘
’ہمارا اپنے بارے میں جو تصور ہوتا وہ بھی ایک طرح کا ابہام ہوتا ہے۔اور اسی لیے ہر شخص اپنے صحیح ہونے پر اصرار کرتا ہے۔ جبکہ دوسرے انکار کرتے ہیں۔ ‘
’مجھے ہمیشہ ایسا لگتا رہا ہے کہ تم میرا انکار کرتی ہو، کیا یہ سچ ہے؟‘
’نہیں، بلکہ سچ یہ ہے کہ ۔۔۔تم سے میں خود کو Identify کرتی ہوں۔‘
’کیا مطلب؟‘
’میں تم سے امپریس تھی۔‘
اس جملے سے شاہد کے اندر اتنی خوشی بیدار ہوئی جیسے کسی بچے کے اندر لٹو کو رسی سے کس کر پھینکنے کے بعد اس وقت ہوتی ہے جب لٹو خوب گردش کرتاہے۔
’لیکن میں رغبت سے محروم ہوں۔ ‘ تسنیم نے جملہ مکمل کیا۔
گردش کرتا ہوا لٹو اپنے سائے پر گر گیا۔
’تم مجھ سے متاثر تھیں اور تمہیں مجھ سے کوئی رغبت بھی نہیں ہوسکتی۔ یہ ، یہ بھی تو ابہام ہے۔‘
’نہیں، یہ سچ ہے اگر میں چاہوں تب بھی میرے لیے ایسا ممکن نہیں ہے۔ ‘
اتنا کہہ کر وہ کھڑی ہوگئی، کاونٹر پر پہنچ کر بل ادا کیا اور کینٹن سے باہر نکل گئی۔ شاہد وہیں بیٹھا، اردگر د کے شور کو سننے کی صلاحیت کھوتا رہا۔ بہت سے معمے اس کے دل میں تھے اور الفاظ کی کوئی زنجیر ایسی نہ تھی جس میں وہ کسی ایک مفہوم کو جکڑ پاتا۔ ’خیالات الفاظ کے مقابل اتنے تواں کیوں ہوتے ہیں؟‘ اس جملے کو زیرِ لب ادا کرتے ہوئے وہ اٹھا اور کینٹن سے باہر نکل آیا۔
کینٹن کے باہر تسنیم اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ اس کی طرف بڑھا۔ اس کی نظریں تسنیم کے قدموں پر تھیں ا ور اس کا دل اس کے پنجرے میں موجود نہیں تھا۔پیدل چلتے ہوئے و ہ بائیکلہ ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ اس دوران وہ خاموش رہے۔ ٹرین آئی تو تسنیم نے اک نظر اس کو دیکھا اور ٹرین میں سوار ہوگئی۔ شاہد وہیں کھڑا رہا۔ کئی ٹرینیں گذر گئیں۔ وہ وہاں کہاں تھا۔ وہاں تھا۔
 ♥
کالج تین دن بند رہا۔ بال ٹھاکرے کی گرفتاری متوقع تھی۔ہوئی نہیں۔
جب کالج کھلا شاہد اساتذہ کے کمرے میں ایک سمینار کی رپوڑت تیار کر رہا تھا۔ تسنیم کمرے میں داخل ہوئی، اس نے یقیناًشاہد کو دیکھا تھا۔ وہ ایک استاد کے پاس گئی ۔ عین اسی وقت استاد نے شاہد کو پکارا۔ وہ مڑا تواس کی نظریں تسنیم کی نظروں سے ملیں۔ اس نے اپنی پلکوں میں ایک آنچ سی محسوس کی۔ ٹیچر نے اس سے کہا :’تمہارے پاس جو لسٹ ہے، وہ انھیں دے دو۔‘ استاد کے اس جملے نے ساکت جھیل میں پتھر کا کام کیا۔ دونوں کی آنکھوں میں دائرے پھیلے اور ان کے سینوں تک پہنچ کر تھم گئے۔ ’ٹھیک ہے سر۔‘ اس نے کہا۔ تسنیم کو لسٹ تھماتے ہوئے اس نے کہا:’میں نے ان دنوں میں بہت مس کیا ہے۔‘
تسنیم نے کچھ نہیں کہا۔
’تم سے باتیں کرنے کی خواہش تھی۔‘ شاہد نے کہا۔
تسنیم کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری۔
’میں نے بھی کچھ ایسا ہی محسوس کیا ہے۔‘ دبی آواز میں تسنیم نے کہا۔
’اوہ، میں اس جملے پر یقین نہیں کرسکتا‘ عجب سرشاری میں شاہد نے کہا۔

’پہلے بھی کئی لڑکوں کے بارے میں یہ احساس ابھرا تھا۔ تسنیم نے اس کا جملہ گویا کاٹتے ہوئے کہا۔
شاہد کے چہرے پر وارد سرشاری یکایک افسردگی میں بدل گئی۔ اس نے ضبط سے کام لیا اور کہا:’ ہاں، ہوتا ہے۔‘
’مجھے سمندر دیکھنا ہے۔‘ تسنیم نے کہا۔



 ♥
’مجھے سمندر، برف ،بارش اور ندیوں سے لگاؤ ہے۔‘ تسنیم نے ایک لحظہ ٹھہر کر شاہد کو دیکھا اور بات آگے بڑھائی:’سمندر کو دیکھتے ہی مجھے کچھ ہو جاتا ہے۔ لہریں مجھے کھینچتی ہیں۔ میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتی۔‘ شاہد متحیر سا اس کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے مزید کہا:’مٹی کا پانی کے ساتھ کیسا عجیب رشتہ ہے نا۔‘ جملہ اداکرنے کے بعد اس نے اپنی گھڑی اور عینک اتار کر بیگ میں رکھ دی۔ جوتے نکالے اور سمندر کی طرف بڑھنے لگی۔ شاہد اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ گھٹنوں تک پانی میں گئی اور مڑی۔ اس کے چہرے پر خوشی تھی۔ پھر آگے بڑھی۔ اب موجیں اس کی کمر کے گرد تھیں۔شاہد مزید کنارے پر کھڑے رہنے کی حماقت نہیں کر سکتا تھا۔ وہ دوڑ کر اس کے پاس پہنچا:’لہروں کا کوئی بھروسا نہیں۔‘ اس نے کہا۔
تسنیم آگے جانا چاہتی تھی لیکن وہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ اسی وقت ایک قدرے اونچی لہر آئی اور تسنیم لڑکھڑائی۔ شاہد نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے پیچھے کھینچنے لگا۔ وہ دونوں پانی میں گر گئے۔جب بھیگے ہوئے دوبارہ کھڑے ہوئے تو قہقہہ لگا رہے تھے ۔ تسنیم نے کہا:’ کتنا اچھا لگتا ہے نا؟‘
پھر وہ پانی میں بھاگتے ، دوڑتے، ایک دوسرے کو پکڑتے ، گرتے اور ابھرتے ڈوبتے رہے۔
ایک گھنٹے بعد وہ سمندر سے باہر نکلے، سورج ریت کے ذروں پر چمک رہا تھا ۔وہ ساحل پر ایک طرف بیٹھ گئے۔
’معاف کرنا یار۔۔میرا ہاتھ۔ ‘ شاہد نے کہا۔
’کیا؟‘
’غلطی سے ایک بار تمھارے پستان کو لگ گیا تھا۔‘
’مجھے تو احساس نہیں ہوا۔ ‘ تسنیم نے فوراً جواب دیا۔
وہ ٹھہر گئی ۔ اس نے ایک پل کے لیے کچھ سوچا اور پھر کہا:’مجھے کسی بات کا احساس نہیں ہوتاہے۔‘
شاہد اسے تکتا رہ گیا۔ تھوڑی دیر کی چپ کے بعد تسنیم نے کہا:’تم سوچ رہے ہو نا، کیسی لڑکی ہے، تمہارے ساتھ یوں سمندر میں نہاتی رہی۔‘
’مجھے خوشی ہوئی ہے۔ سوچا نہیں تھا ۔‘ شاہد نے کہا۔
’ میں نے کب سوچا تھا۔‘ اتنا کہہ کر تسنیم کھڑی ہوگئی، چلنے لگی۔ شاہد اس کے پیچھے چلتا رہا۔ ریت زیادہ گرم نہیں تھی اور سمندر قیلولہ کر رہا تھا۔
 ♥
آخری پرچے کے بعد وہ کئی بار سمندر کنارے گئے۔ اب وہ زیادہ باتیں کرنے لگے تھے۔
 ♥
شاہد اپنی گرل فرینڈ سے بھی ملتا رہا اور کئی بار انھوں نے مباشرت بھی کی ۔
 ♥
پت جھڑ کا موسم شروع ہوچکا تھا۔ گل مہر کے درخت برہنہ ہو چکے تھے۔ سوکھے پتوں کا انبار سا لگا رہتا۔ دوپہر کو ہوا پتوں کو سمیٹ کر یہاں سے وہاں بھاگا کرتی تھی۔ ایک لطیف سی موسیقی پیدا ہوتی ۔ دل میں ایسی ہی مدھم موسیقی کی آنچ لیے شاہد اس سے ملنے ممبئی یونی ورسٹی کیمپس پہنچا۔ کینٹن میں چائے پینے کے بعد وہ باہر نکلے اور ایک میز پر بیٹھ گئے۔ انھوں نے سیاست، تعلیم، ادب اور دوستوں کے بارے میں بات کی۔ تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد شاہد نے کہا:’تمہیں ایسا نہیں لگتا، میں تمہیں بہت لائک کرتا ہوں۔‘
’میں جانتی ہوں۔‘
’اس حد تک کہ۔۔۔میں تم سے شادی ۔۔‘
’مجھے پتا ہے۔ تم مجھے سے شادی کرنا چاہتے ہو۔‘
’اور تم۔۔‘ شاہد نے دریافت کیا۔
’میں چاہ کر بھی کیا کر سکتی ہوں۔‘
’کیوں!‘
وہ خالی آنکھوں سے خزا ں رسیدہ درختوں کو دیکھتی رہی۔
’کیوں، کیا تمہارے گھر۔۔۔‘ شاہد نے پوچھا۔
’نہیں وہ بات نہیں ہے۔‘
’پھر کیا بات ہے؟‘
’سنو، جب میں کلاس میں ایسی جگہ بیٹھا کرتی تھی جہاں سے تم نظر نہ آؤ ، جب میں نے پکنک میں آنے سے منع کیا تھا، ہم آبشار دیکھ رہے تھے، پکنک کی رات جب تم نے پروگرام کیا تھا، دوسرے دن جب ہم سیر کے لیے نکلے تھے اور جب میں بس سے اتری تھی، تم نے مڑکر دیکھا تھا، جب ہم نے کالج کینٹن میں بات کی تھی۔۔تب سے میں تمہارے ساتھ ایک تعلق سا محسوس کرتی رہی ہوں۔ ایک مبہم سا ربط۔ ‘ اس نے ایک سانس میں کہا۔
وہ دونوں میز پر بیٹھے تھے اور پس منظر میں پت جھڑ کی آواز بہہ رہی تھی۔
تسنیم جہاں رکی تھی وہاں سے دوبارہ شروع ہوئی:’میر ی خواہش کے باوجود ، تم سے محبت ہونے کے باوجود، میں چاہ کر بھی کیا کر سکتی ہوں۔‘
شاہد نے اس کے دونوں ہاتھوں کو تھام کر اس سے پوچھا:’کیا بات ہے؟‘
وہ چپ رہی۔
تسنیم نے زمین پر بکھرے خاکستر پتوں کو دیکھا اور آہستہ سے کہا:’مجھے ضرورت محسوس نہیں ہوتی، میں سوکھی ندی سی ہوں۔‘
شاہد کے ہاتھوں میں اس کے ہاتھ تھے لیکن ان ہاتھوں میں کوئی جنبش نہیں تھی۔
شاہد نے اس کے ہاتھ کا بوسہ لیا ۔ اس نے دیکھا تسنیم کی آنکھیں آبدیدہ تھیں۔
 ♥
پس منظر میں بہنے والی پت جھڑ کی آواز منظر پر حاوی ہو گئی تھی۔
وہ دونوں وہیں بیٹھے تھے۔ آسمان کی بلندی سے دیکھنے پر ممکن ہے وہ محض دو نقطے نظر آتے ہوں۔

***

6 تبصرے “بے جنسیت—رحمٰن عباس

  1. دلچسپ کہانی ہے، عمدہ موضوع کا انتخاب کیا گیا، روٹین کے عاشقی معشوقی کے قصے پڑھ پڑھ کر ہم بھی تھک چکے ہیں۔ اس طرح کی کہانیاں بتاتی ہیں کہ ابھی منفرد لکھنے والے موجود ہیں

  2. رحمان صاحب کا منفرد نفسیات سے کھیلتا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل خوش ہو گیا پڑھ کر

  3. پڑھنے میں تو مزہ آیا لیکن یہ افسانہ کے بجائے ڈرامہ سیریل یا ناول کا ٹکڑا لگ رہا ہے ۔

  4. افسانے کے مرکزی خیال کو اسکے پہلے کہ قاری سمجھ پاتا ، افسانا ابہام میں گردش کرتا ہوا ختم ہو جاتا ہے

  5. بہت خوب ، اپنے مختلف موضوع کی مناسبت سے افسانہ پسند آیا- بے جنسیت (Asexuality) بھی دیگر انسانی مسائل اور معاملات کی طرح بڑا اور اہم ایشو ہے جس کے جینیاتی آسپیکٹ کے علاوہ معاشرتی اور نفسیاتی پہلووءں اور بے جنسیت کی اقسام بارے دنیا میں روز افزوں تحقیقات جاری ہیں –

اپنا تبصرہ بھیجیں