ادھورے نقوش—محمد نواز،کمالیہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

میٹنگ ہال میں شہر بھر کی ہیلتھ ورکرز کی ماہانہ میٹنگ جاری تھی ،ہر ہیلتھ ورکر سے اس کی کارکردگی پر باز پرس ہو رہی تھی ،جن ہیلتھ وکرز کی کارکردگی اچھی تھی انہیں تعریفی الفاظ میں سراہا جا رہا تھا اور جن کی کارکردگی خراب، ان کی سرزنش اورساتھ ہی آئندہ نوکری سے برخاستگی کا نوٹس بھی مل رہا تھا ۔میٹنگ ختم ہونے سے پہلے ایک لیڈی آفیسر کی آواز ابھری ’’ ہم ہیلتھ ورکز کی نوکری بھی عجیب ہے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ایک طرف ہمیں منصوبہ بندی کا شعور اجاگر کرنے کو کہا جاتا ہے جس میں ہم کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی ہیں ،ایک وقت تھا جب زیادہ اولاد کو خوش بختی کی علامت سمجھا جاتا تھا،کوئی عورت ایسی نہ تھی جس نے اس خوش بختی کی تیز دھار تلوارسے سر نہ کٹوایا ہو ،مگر آج ہم ہر عورت میں شعور بیدار کر چکے ہیں کہ وہ زیادہ بچے پیدا کرنے والی مشین نہیں ۔’کم بچے خوشحال گھرانہ ‘ کا نعرہ ہر گھر میں گونجتا دکھائی دیتا ہے ‘‘
لیڈی آفیسر نے مزید کہا ’’ دور جہالیت میں ایک بد و حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا ،میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی بیٹی کو زندہ درگور کر دیا ،وہ چیختی چلاتی رہی مگر مجھے اس پر رحم نہ آیا ،میری بیٹی اتنی معصوم تھی ،جب میں اس کو دفن کرنے کیلئے گڑھا کھود رہا تھا وہ میرے سفید کپڑوں پر لگی مٹی جھاڑ رہی تھی اور گڑھا کھودنے میں میری مدد کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ اللہ کے نبی ﷺ کی آنکھیں بھیگ گئیں ‘‘ دور جہالت کا انسان بیٹی کو پیدا ہونے کے بعد دفن کر دیتا تھا مگر آج اس ترقی یافتہ دور کا انسان بیٹی کو قبل از پیدائش ہی مار رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں لڑکیوں کے پیدائش سے قبل قتل کو روکنا ہے ،کیونکہ ہمارے شہر میں اسقاط حمل کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے اور حکام بالا کو یہ تشویش ہونے لگی ہے کہ اگر اسقاط حمل کا یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو آئندہ دس سالوں میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی تعداد نصف سے بھی کم رہ جائے گی اور جواں سال لڑکوں کی شادیوں کا مسئلہ سر اٹھانے لگے گا ‘‘
سفید لباس میں ملبوس ہیلتھ ورکر نازیہ ،اوپر سے سبز رنگ کا ابائیہ جس کی پشت پر ’ لیڈی ہیلتھ ورکر‘ جلی حروف میں لکھا تھا ،پہنے کندھے پر ابتدائی طبی امداد کا بکس لٹکائے گھر سے نکلی تو اس کے ذہین میں لیڈی آفیسر کی تقریرکچوکے لگا ررہی تھی ،اس نے دور جہالیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا واقعہ پہلے بھی پڑھ اور سن رکھا تھا ،مگر اب اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے دور جہالیت میں زندہ درگور ہونے والی لڑکی وہ خود ہو اور خدا نے اسے دوبارہ جسم و روح کا لبادہ اوڑھ کر جنم کرا دیا ہو
محکمہ کی طرف سے اس سے پہلے انہیں پولیو کے قطرے پلانے ،حاملہ خواتین اور نوزائیدہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے ،چھ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کی آگاہی کے ساتھ منصوبہ بندی اور آبادی کنٹرول کیلئے شعور بیدار کرنے کی ذمہ داریاں ہی سونپی گئی تھیں،جنہیں وہ کما حقہ‘ پورا بھی کر رہی تھی ۔وہ صبح ہی اپنے علاقے میں نکل جاتی اور گھر گھر جا کر شعور اجاگر کرنے کی کوشش کرتی ۔ہیلتھ ورکر بنتے وقت اسے کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،کتنی ہی باتیں تھیں جو اسے سننا پڑی تھیں ،مگر اس نے ہمت نہ ہاری ،میٹرک کرنے کے بعد اس نے ہیلتھ ورکر بننے کا فیصلہ اپنی ماں کے کہنے پر کیا تھا جس نے خود دس بچوں کوجنم دیا تھا ،ماں چاہتی تھی اس کی بیٹی ہیلتھ ورکر بنے اور ان عورتوں کی مدد کرے جو مرد کی زیادہ بچوں کی خواہش میں اپنا آپ تباہ کر لیتی ہیں ،جیسا کہ اس نے خود کو کیا تھا ۔
’’ کنواری نازیہ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اب شہر کی عورتوں کو منصوبہ بندی کرنے کے طریقے بتائے گی ‘‘ ایک دن اس کے بڑے بھائی نے ماں کے سامنے سیخ پا ہوتے ہوئے کہا ’’ شرم اور ڈوب مرنے کا مقام ہے ہم سب کیلئے ماں ۔۔۔۔۔۔۔ لوگ اور برادری والے کیا کہیں گے ؟کنواری لڑکی کو بے حیائی کے کاموں پر لگا دیا ‘‘’’ بچہ پیدا کرنے کے دوران جب عورت مر جاتی ہے تب لوگ اور برادری والے کچھ نہیں کہتے ‘‘ ماں نے جیسے ایک ہی جملہ بول کر سب کو چپ کرا دیا ۔ ماں کی اس بات کا تجربہ نازیہ کو اس وقت ہوا جب وہ ہیلتھ ورکر بن گئی ۔ اس نے کتنی عورتوں کو مردوں کے سامنے بے بس و لاچار دیکھا تھا اور پھر اسی بے بسی و لاچارگی میں دوران زچگی خود کو قربان ہوتے بھی ،مگر جیسے مرد پھر بھی خوش نہ تھے ۔ شادی کے بعد نازیہ کے ہاں جب پہلی اولاد بیٹی ہوئی تو اس کے خاوند کا رویہ بھی دوسرے مردوں سے کچھ مختلف نہ تھا وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑ رہا تھا ،زندگی ایک عمارت ہے ،جس میں رویوں کے زلزلے دراڑیں ڈال دیتے ہیں اور عمارت ہچکولے کھانے لگتی ہے ایک کے بعد دوسری بیٹی کے جنم نے جیسے نازیہ کی زندگی میں کئی دراڑیں ڈال دیں تھیں،نازیہ شوہر اور قسمت کے سامنے بے بس ہو گئی،شوہر کی زبان چل رہی تھی اور قسمت کی تلوار ،وہ اندر سے کٹتی چلی گئی ۔ماں نے تو اسے دوسری عورتوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کیلئے ہیلتھ ورکر بنا یاتھا ،مگر اب وہ خود چاہتی تھی کوئی آئے اور آ کر اس کے غموں کا مداوا کرے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کبھی اس کا شوہر بیٹیوں کے پیدا ہونے کا ذمہ دار اسے قرار دیتا تو وہ سوچا کرتی کہ کاش وہ اپنے ساتھ ساتھ ان عورتوں کی کوکھ میں بیٹا رکھ دے جن کے شوہر عورت کو لڑکی کی پیدائش کا ذمہ دارٹھہراتے ہیں ۔
نازیہ محلے کے کتنے ہی گھروں کو جانتی تھی جہاں آج بھی بیٹی کی پیدائش پر سوگ کیا جاتا ہے ۔ بیٹی کی پیدائش کو منحوس قرار دے کروقت سے پہلے ہی اسقاط حمل کی صورت میں قتل کردیا جاتا ہے ،یہ ایسا قتل ہے جس میں مقتول کا کوئی گناہ نہیں ہوتا ،قاتل کی نفسانی و جسمانی خواہش کے عوض جب قطرہ لوتھڑے اور لوتھڑے سے صنف نازک کا روپ دھارنے لگتا ہے تو یہی روپ قاتل کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے ،وہ اسے اپنی غیرت و حمیت کے خلاف جانتے ہوئے کوکھ سے نکال باہر کرتا ہے ،بعض اوقات تو اس لوتھڑے سے قاتل اتنی نفرت کرتا ہے کہ اسے کچرے کے ڈھیر پر ہی پھینک آتا ہے جہاں اسے کتے بلے نوچتے نظر آتے ہیں ۔ نازیہ معاشرے میں پھیلے اس قبیع فعل کی چشم دید گواہ تھی ،گلی کے کونے پر پڑا پلاسٹک کا تھیلا اور اس تھیلے میں ادھورے نقوش والابچہ کسی کے گناہ کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔
’’ میں کسی کی جان نہیں لے سکتی ۔۔۔۔۔۔‘‘ نازیہ نے محلے کی ایک عورت کو گویا انکار کرتے کہا جب وہ اسقاط کرانے اس کے پاس آئی ’’ جو جان خدا نے تیرے رحم میں ڈالی ہے ،میں اسے اس دنیا میں آنے سے پہلے کیوں نکال باہر کروں ‘‘ ’’ لڑکی ہے ۔۔۔۔۔۔ اور میرے سسرال کو لڑکا چاہئے ‘‘ وہ عورت نازیہ کے پاؤں پڑنے لگی ’’ لڑکی یا لڑکا تو قدرت کے اختیار میں ہے تو کیوں ہلکان ہوتی ہے ؟‘‘ ’’ جانتی ہوں نازیہ بی بی ۔۔۔۔۔۔۔۔ مگراس بات پر یقین کوئی کرے بھی تو ،ہمارے معاشرے میں عورت اگر لڑکا نہ پیدا کر سکے تو اسے بانجھ سمجھا جاتا ہے ،اسے طعنے دئیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی طلاق کی دھمکی بھی ،میری جان تو تین بول میں اٹکی ہے ،اگر وہ بول دیئے گئے تو میں اپنی کوکھ میں پلنے والی اس جان کا کیا کروں گی؟یہ تو میری جان کیلئے عذاب بن جائے گا ‘‘
’’ اسقاط صرف ناجائز اولاد کا ہی نہیں کروایا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ جائز اولاد کو بھی اپنے ہاتھوں مارنے کا دھندہ عروج پر ہے ‘‘ ساتھی ہیلتھ ورکر سے اگلے دن نازیہ نے رات اضطراب میں گزارنے کے بعد اپنی تشویش کا اظہار کیا تو وہ سمجھانے لگی ۔نازیہ نے جب وہ اسباب جاننے کی کوشش کی تو ساتھی ہیلتھ ورکر ایسے بولی جیسے کسی ا سکول کی استانی ہو ’’ جہیز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لڑکیوں کے اسقاط کی ایک وجہ جہیز بھی ہے ،بہت سے لوگ اب بھی یہ سمجھتے ہیں ،وقتِ شادی انہیں بھاری بھرکم جہیز دینا پڑے گا ،لہذا وہ شادی کی شہنائی گونجنے سے پہلے ہی بانس کاٹ دیتے ہیں ‘‘ نازیہ حیرت کا بت بنی تھی اور ہیلتھ ورکر بول رہی تھی ’’ لڑکی کا جائیداد میں حصہ دار بننا بھی کئی خاندانوں کو گوارا نہیں۔۔۔۔۔۔۔ عورت کو اس کے حق سے محروم کرنے والے ذہین صرف زمانہ جہالیت میں ہی نہیں تھے ،آج بھی موجود ہیں ،وہ عورت کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی جستجو میں اس طرح کے ہتھ کنڈے استعمال کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹے کی خواہش بھی بیٹی کا پیدا ہونے سے پہلے گلا گھونٹنے کیلئے کافی ہے ،مرد کو اپنی نسل کی بقا اوروارث کے روپ میں بیٹا اچھا لگتا ہے وہ اپنے گھر میں بیٹی کا وجود برداشت نہیں کرتا اور یہ بھول جاتا ہے ’’ اللہ جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے اور جسے چاہے بیٹیاں ،وہی ذات اس بات پر بھی قادر ہے کہ کسی کو چاہے تو نہ بیٹا دے اور نہ بیٹی ‘‘نازیہ کی آنکھیں جیسے بھر آئیں تھیں اس نے انگلیوں کے پوروں سے آنسو پونچھ ڈالے ۔
’’ پہلے تو کہتی تھی آبادی کم کرنے کیلئے منصوبہ بندی کرو ،اب کہہ رہی ہو آبادی بڑھاؤ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومت کو کیا ہو گیا ہے؟ ‘‘ ایک کم پڑھی لکھی عورت نے نازیہ سے اس وقت کہا جب وہ اسے اسقاط حمل نہ کرنے کا کہہ رہی تھی ۔ ’’ حکومت کو کچھ نہیں ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ہمارے علاقے کے لوگوں کو کچھ ہو گیا ہے ،
بیٹی پیٹ پڑ جائے تو فوراً حمل گرا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ حکومت نے سختی سے لڑکیوں کے اسقاط پر پابندی لگا دی ہے تاکہ لڑکیوں کی گھٹتی ہوئی تعداد کو بڑھایا جا سکے ،
حکومتی نمائندوں کاکہنا ہے ،ہمارے علاقے میں لڑکیوں کا اسقاط سب سے زیادہ ہے ‘‘ نازیہ جانے لگی تو عورت نے اسے روک لیا اور کان کے قریب بڑی راز داری سے کہنے لگی ’’میری نند نے گھر سے بھاگ کر ایک کم ذات سے عدالتی نکاح کر لیا اور باپ بھائیوں کی عزت جگ میں رول دی ،اس بنا پر میرے خاوندکو لڑکی ذات سے نفرت ہے،وہ نہیں چاہتے ان کے گھر کی ایک اور لڑکی بھاگ جائے ‘‘ نازیہ کے پاس عورتوں کے ہر مسائل کا حل تھا ،مگر عورت نے جیسے اسے لاجواب کر دیا تھا وہ بنا کچھ کہے چلی گئی ۔
ایک پاؤں دروازے کے باہر اور دوسرا ابھی اندر رکھا تھا جب نازیہ نے اپنی دونوں بیٹیوں کو آواز دی ،آواز کا سننا تھا کہ دونوں بھاگتی ہوئیں آئیں اور ماں سے لپٹ گئیں ۔نازیہ نے دونوں کو گود میں اٹھا یا تو جیسے اس کی دن بھر کی تھکن دور ہو گئی،خوب جی بھر کر پیار کیا اور ان کے ساتھ کھیل میںیوں گھل مل گئی جیسے ماں نہ ہو سہیلی ہو ،خوب کھل کھلا کر ہنسی ،بیگ سے ٹافیاں اور چاکلیٹ نکال کر دیں جسے وہ مزے لے لے کر کھانے لگیں ۔رات کا کھانا کھا کر نازیہ کمرے میں آئی تو متلی کے ساتھ اس کا سر بھی چکرانے لگا ۔’’ شائد دن بھر کی تھکان ہے ‘‘ اس نے دل میں سوچا اور سونے کیلئے لیٹ گئی ،لاشعور اسے کئی صدیاں پیچھے زمانہ جہالیت میں لے گیا جہاں وہ کم سن بچی ہے،ابھی اس نے توتلی زبان سے باتیں کرنا سیکھا ہے ،اماں ،ابا کے الفاظ ابھی ٹھیک طرح سے ادا نہیں ہوتے ،ابھی اس نے گھٹنے گھٹنے چلنا سیکھا ہے،بھاگنے کی کوشش میں ٹھوکرکھا کر گرپڑتی ہے ،روتی ہے ،چیختی ہے چلاتی ہے ،اگلے ہی لمحے چپ ہو جاتی ہے ۔ ماں نے سفید قمیض اور شلوار پہنا کر اسے چاند بنا دیاہے ،ایسا چاند جو سب کو پیارا لگتا ہے اور ہر کوئی اس سے کھیلنا چاہتا ہے،سفید کپڑوں کی طرف انگلی کے اشارے سے ماں سے پوچھتی ہے’’ ماں میں کتنی پیاری لگ رہی ہوں ؟‘‘ماں ماتھا چوم کر کہتی ہے’’ پیاری۔۔۔۔ بہت پیاری‘‘ باپ انگلی سے لگائے ویرانے میں لے آیا ۔گڑھا کھودا ،گڑھے میں دھکا دے کر مٹی ڈال دی ۔ ایک چیخ کمرے میں گونجتی ہے ،نازیہ کے ساتھ سویا اس کا شوہر لا حولاولا قوۃ پڑتے ہوئے اٹھ جاتا ہے اور تین چار صلواتیں سناتا ہوا پھر سے دراز ہو جاتا ہے ۔پسینے میں شرابور نازیہ کلمہ پڑھتے ہوئے پا س رکھے پانی کا گلاس حلق سے اتار نے لگتی ہے ،پیاس کی شدت اس قدر ہے کہ سمندر حلق میں اتار لینا چاہتی ہے ۔
’’ مبارک ہو ۔۔۔۔۔۔ میں پھر امید سے ہوں ‘‘ نازیہ نے شوہر کو صبح ناشتہ دیتے وقت کہا ’’ اچھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الٹرا ساؤنڈ کروا لینا ‘‘ شوہر کے لہجے میں سرد مہری تھی ،نازیہ اس سر مہری کا مطلب خوب اچھی طرح جانتی تھی ،ہیلتھ سنٹر آتے ہی اس نے خود کا الٹرا ساؤنڈ کروایا ،رپورٹ ہاتھ میں تھامے لیڈی ڈاکٹر کے کمرہ میں داخل ہوئی اور ہکلاتے ہوئے بولی ’’ مجھے ۔۔۔۔۔اسقاط۔۔۔۔ کروانا ہے۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹرصاحبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی نقش ادھورے ہیں ‘‘

2 تبصرے “ادھورے نقوش—محمد نواز،کمالیہ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

  1. اس میں قطعی شک نہیں کہ مذکورہ بالا تحریر میں بیان شدہ معاملہ بلکہ مسئلہ انتہائی گھمبیر ہے اور صدیوں سے عورت جاتی اس کی بنیاد پر روز مرتی اور روز جیتی ہے کہ زندہ رہنا مجبوری ہے اور مرنااس کے بس میں نہیں ہے ! تاہم پیرایہء اظہار اغلب واقعاتی اور دوئم صحافتی یا مضمون کی طرز پر ہونے کی وجہ سے تحریر میں افسانویت کا رنگ بکھرتا نظر نہیں آیا ، افسانہ مقابلہ میں شرکت پر افسانہ نگار کو دلی مبارکباد ، تحسین –

اپنا تبصرہ بھیجیں