آنکھ کی پتلی کا تماشا… فارحہ ارشد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

” مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا۔”
وہ خالی نظروں سے دور کہیں ان دیکھے منظروں میں کھوئی کہہ رہی تھی۔ میں نے کچھ حیرانی اور قدرے دلچسپی سے اسے دیکھا اور بنا ٹوکے اسےکہنے دیا جو نجانے کب سے وہ کہنا چاہ رہی تھی۔
” دل کی زمین بنا کسی کششِ ثقل کے خلا بن گئی جس میں یہ کم عمر محبت معلق ہو گئی ۔ اس کا ذرہ ذرہ دل کے خلا میں تیرنے لگا۔
پو پھٹنے سے ذرا پہلے کی سحر انگیز روشنی جیسی ۔ تاریکی کی چادر اتارکر روشنی اوڑھنے تک کا دورانیہ یا پھر سورج کی معدوم ہوتی بنفشی شعاعوں کو نگلتی شام کی سیاہی جتنا وقت ۔۔۔
مختصر مگر مکمل اور بھرپور۔
ایسی سرشاری کہ جیسے جسم و جاں ہلکے پھلکے ہو کر آسمانوں کو چیرتے اوپر ۔۔۔ اور اوپر اڑتے جا رہے ہوں۔ وہ کیفیت دسویں سے گیارہویں گھنٹے میں ختم ہو چکی تھی۔ اور پھر کبھی محسوس نہ ہو سکی ۔۔۔ اس سے بھی نہیں جس سے محبت ہوئی تھی۔
اب تو میں سوچتی ہوں کہ اگر وہ دس گھنٹے بھی میری زندگی میں نہ آئے ہوتے تو میں کیا کر لیتی۔” اس نے مسکراتے ہوئے مگر اداس لہجے میں مجھ سے تائید چاہی۔ میں محض اس کی صورت دیکھ کر رہ گئی۔
” کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے اس کا بھی قصور نہیں تھا ۔ وہ تو جانتا ہی نہ تھا ان دس گھنٹوں کی محبت کی بابت۔۔۔۔
اور پھر میں خود ہی اس محبت کے ہونے کی مرضی کے خلاف اپنے ہی دل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اور اسے خالی کردیا
بلکہ دل نے خود ہی کہہ دیا ۔۔۔ خالی ہی چھوڑ دو۔
اور میں نے ایسا ہی کیا جیسے قتل کے بعد پانی سے سارے نشان دھودئیے جائیں۔
میرا دل تو کوئی قدیم پتھر تھا جسے کدال سے توڑا گیا ۔
معبد خانے کی گھنٹیوں جیسی آواز آتی تھی جب اس پر کدال کی ضرب پڑتی تھی۔”
اس کا چہرہ پچھلے کچھ منٹس سے اب تک کئی ہزار کیفیتوں کی عکاسی کر چکا تھا۔
“میں اپنے شہر میں آنے والے اندوہناک زلزلے سے بچ نکلنے والی ان انسانوں کی باقیات میں سے تھی جن کا گھر بچا تھا نہ گھر والے۔
وہ سامان سے بھرا ٹرک لے کر وہاں آیا تھا اور واپسی پر مجھے بھر لے گیا۔ اس کے لیے یہ سودا خسارے کا نہ تھا۔ وہ کہتا ‘ مجھے تمہارے حسن نے گُنگ کر دیا تھا۔ ایسا جلا کر راکھ کر دینے والا ماہتابی حُسن۔۔۔ کہ مجھے کچھ یاد نہ رہا۔”
مقامی باشندوں نے نکاح کرکے ٹرک میں سامان کی جگہ لاد دیا۔
نکاح سے لے کر چھ گھنٹے کی مسافت تک وہ میرے دل کا بلا شرکت غیرے مالک بنا رہا۔ ٹرک کے پچھلے حصے میں وہ میرے حسن کے لمس میں بے خود رہا اور میں جو گھر والوں کے بعد تنہائی اور خوف کا شکار تھی دو بولوں کے بعد چادر اور چار دیواری کے احساس کی دنیا میں پاؤں دھرتے ہی اس سے محبت کرنے لگی۔
” اس نے نکاح سے ایک گھنٹہ پہلے مجھ سے بات کی۔ اس کی نگاہوں کی وارفتگی نے مجھ سے میرا مذہب بھی چھڑوایا اور میرا اپنا آپ بھی۔
پہاڑی لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں اعتبار کر لیا تو کر لیا۔
اس کے مدھم اور مدہوش لہجے کی سرگوشیاں اور نگاہوں کی وارفتگی نے مجھے خود سپردگی کے اس مقام تک پہنچادیا جہاں من و تُو کی کوئی دیوار نہ رہی۔ مجھے ایسے میں دیوار ہی نظر نہ آئی پس دیوار کیا نظر آتا۔ مجھے تو آسمانوں کی طرف اڑانے والی سرشاری نے مسحور کر رکھا تھا۔
نکاح سے لے کر چھ گھنٹے کی مسافت تک ۔۔۔ میں نے محبت کو اپنے تن من پر کسی وحی کی طرح اترتے دیکھا۔ میں بھول گئی ماں کے سر تک لپٹی زمین۔۔۔ باپ کی محنت سے بنائے درودیوار کے نیچے پھنسی لاش، بھائی اور بہنوں کے ساکت وجود۔۔۔ سب ہی کچھ بھول گئی ۔۔۔ ”
” محبت کتنا طاقتور جذبہ ہے نا۔۔۔ کتنی شدتوں میں جسم و جاں کو گھسیڑ دیتا ہے بالکل ویسے جیسے جوس نکالنے والی مشین میں پھل کو ۔۔۔۔
وہ تائید چاہ رہی تھی ۔ میں نے سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔ کیونکہ مجھے تو کبھی اس جذبے سے آشنائی نہ رہی تھی۔ سیدھے سیدھے انداز میں زندگی گذارتے معاشی طور پر اپنے سے بہتر شوہر ڈھونڈتے اور جب مل گیا تو حالات کو مزید بہتر بنانے کی سعی میں نو سے پانچ کی ملازمت سے تھکن بھرے وجود پر محبت کہاں سے نازل ہوتی۔۔۔
میں نے تاسف سے سوچا
‘ اور کچھ کے نصیب میں تو دس گھنٹے کی محبت بھی نہیں ہوتی ۔۔۔ ” میں اسے کہنا چاہتی تھی مگرکہہ نہ پائی ۔
شام کے سات بجنے والے تھے۔ آفس ڈرائیور کا فون آرہا تھا۔ دوسرے دن آنے کا وعدہ کر کےمیں نے جلدی سے ریکارڈر سنبھالا اور فائل اور پرس سنبھالتی ، تنگ گلیوں سے تیز تیز گذرتی باہر قدرے چوڑی سڑک پر کھڑی آفس کی گاڑی میں جا بیٹھی۔
” محبت ۔۔۔ دس دن کی محبت ۔۔۔۔ کافی ہے اگر ہو جائے تو ۔۔۔ ” میں نے لاشعوری طور پر اپنا اور اس کا موازنہ کرتے ہوئے طنز سے سوچا۔
باہر نکلتے ہی تیز گاڑیوں کا شور ، بھاگم دوڑ ، نفسا نفسی کا عالم ۔۔۔ نئے گھر کی تعمیر کے لیے اٹھایا قرض، پہلی قسط کی ادائیگی سر پر آن پہنچی تھی ابھی گھر کی تزئین و آرائش کا مسئلہ الگ تھا۔
شادی کو سال بھر ہونے کو تھا ۔ ہم دونوں میاں بیوی نے باہمی رضامندی سے باقادہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے پہلے گھر اور پھر بچوں کا سوچ رکھا تھا۔
زمین کا قرض اتارنا میاں صاحب کے ذمے تھا جب کہ گھر کی تعمیر کے لیے بنک کا قرض مجھے چکانا تھا۔
اف۔ کس قدر تھکا دینے والے شب و روز ہیں۔
میں نے سر سیٹ کی پشت پر رکھا اورآنکھیں موند لیں۔
دوسرے روز میں وہاں پہنچی تو وہ ابھی سو کر اٹھی ہی تھی۔ نیم خوابیدہ آنکھیں اور بھی خوبصورت لگ رہی تھیں۔
” وہ دس گھنٹے کی محبت۔۔۔ ” مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہزار بار کی سنی ہوئی کہانیوں پر کوئی سوال کیا کروں؟۔۔۔
اس کے سنانے کا انداز دلچسپ تھا ورنہ کل ہی یہ انٹرویو ختم ہو چکا ہوتا۔
” پھر کیا ہونا تھا؟۔۔۔
وہ کہتا تھا میں نے آج تک اتنی حسین لڑکی کو چھوا تک نہیں تھا۔ صرف تمہیں چھونے کی خواہش اس قدر زور آور تھی کہ میں بھول گیا ۔۔۔ اپنے بیوی بچے اور مشکل سے ہوتی گذر بسر ۔۔۔
اور پھر اس نے مجھے ٹرک سے اتار کر اس چھوٹے سے کمرے میں منتقل کیا جو اس کے کسی یار دوست کا تھا۔
اس کے پاس دوست کواس کمرےکے لیے دینے کوکچھ نہ تھا سواس نے مجھے پیش کر دیا ۔
اس کے دوست کے ہاتھ لگانے سے پہلے میں نے آخری بار اس کی طرف محبت سے دیکھنا چاہا مگر محبت اپنا وقت پورا کر چکی تھی۔۔۔
محبت ۔۔۔ کئی قدم دور جا کھڑی ہوئی اور میرا جسم نکاح والا اور بنا نکاح والا جھنجھوڑتے رہے۔
خالی دل والے کو کوئی کہیں بھی پھینک دے ۔۔۔۔ وہ اپنے اندر لڑنے کی طاقت ہی نہیں پاتا۔
میرا حال بھی ایسا ہی تھا۔
جب اس کی جنسی کشش کم ہوئی تو وہ مجھے یہاں پھینک گیا
اس نے کیا پھینکنا تھا ۔۔۔ میں نے بھی خود کو پھینک ڈالا۔ ایک گدھ نوچے یا ہزار ۔۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے” اس کا لہجہ بے حسی کی آخری حدود کو چھو رہا تھا۔
” ادھر طلاق کا کاغذ میری ہتھیلی پر رکھا ادھر چند نوٹ دوسرے ہاتھ میں بھینچے وہ یوں گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ حسن والے کا رستہ بازارِ حسن پر ختم ہوگیا اور محبت کا رستہ نارسائی کے کرب پر۔
میں نے دکھ سے اسے دیکھا۔ وہ آنسو پینے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔
وہ ہیرا منڈی میں نئ نئی آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی پراسرار خاموش اداسی بتاتی تھی کہ وہ لائی گئی ہے خود تو وہ کہیں اور رہتی ہے کسی نا معلوم جزیرے پر۔
اس روز اپنے سرخ مہندی سے سجی پوروں والے نازک پاؤں میں جھنجھناتی پازیب پہنتے ہوئے مجھ سے بولی ” تم نے کبھی اپنے پاؤں دیکھے ہیں مقدس پانیوں میں تیرتے گلابیوں میں گھلی شفاف پتیوں جیسے۔
موسیقیت تھرکتی ہے جب یہ اٹھتے اور تھمتے ہیں، ان چھوئے سے ، جن کے لمس سے چاند کھل اٹھے۔
بناوٹ اور خوبصورتی میں بالکل میرے پاؤں جیسے۔ مگر بس ایک ہی فرق ہے کہ میرے پاؤں ایک رقاصہ کے پاؤں ہیں۔ ان کو دیکھ کر احساسات میں وہ پاکیزگی نہیں آتی، وہ نرمیاں وہ مقدس شفاف روشنی نہیں آتی بلکہ ایک چیختا چنگھاڑتا ، نفس کے تاروں کو چھیڑتا ، رنگ و بو کا بھاری پن حواس پر طاری ہوجاتا ہے۔ ۔۔۔
کیسا وجود؟۔۔۔ کیسی ذات۔۔۔۔ ؟۔۔۔
یہ سب آنکھ کی پُتلی سے نہیں دیکھا جاتا ۔ نظر صرف وہی آتا ہے جو آنکھ کی پُتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے۔ جو تمہارے پاؤں کو مقدس خیال سے چھونے کی جسارت کرتا ہے اور میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے۔۔۔
ورنہ دیکھو نا! کوئی فرق ہے دونوں میں؟۔۔۔۔ ”
نے لاشعوری طور پر پاؤں کو سمیٹا۔ میں
عجیبب لڑکی تھی وہ اور اس سے بھی عجیب اس کی باتیں۔
اس کی آخری بات نے مجھے جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔۔۔
فرق؟۔۔۔۔
میں تو دس گھنٹے کی محبت کی سرشاری سے بھی محروم تھی۔
ہاں وہ رقاصہ تھی اور سیکس ورکربھی تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی اپنا کام بھی اور مقام بھی ۔۔۔
مگر میں؟۔۔۔۔
مجھ میں اور اس میں کوئی خاص فرق تھا کیا؟۔۔۔ میں نے دیانت داری سے سوچا
” کچھ خاص فرق نہیں ۔۔۔ میرا بھی نکاح والا ہر رات میرا جسم کسی گدھ کے جیسا نوچتا ہے۔۔۔ اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ ” میں نے خود سے بھی چھپانا چاہا
اور اسے اپنے خسارے کا بھی دکھ تھا۔۔۔۔ مگر مجھے؟۔۔۔۔
سیل کی میسیج بیپ نے مجھے چونکایا۔۔۔
اور جس خسارے کا احساس ہونے چلا تھا اس سے کھینچ باہر کیا۔
” جلدی چلو ڈرائیور ۔۔۔ مجھے شام میں ایک میٹنگ میں جانا ہے۔ گھر ڈراپ کرو مجھے ۔۔۔۔” !!

22 تبصرے “آنکھ کی پتلی کا تماشا… فارحہ ارشد (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

  1. جب افسانے کی شروعات ہی ایسے حیرت انگیز جملے سے ہوں تو قاری کا اس افسانے کی کاٹ سے بچ نکلنا محال ہوتا ہے
    “مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا”
    جگہ جگہ ایسے خوبصورت اور دل میں اتر جانے والے جملے ٹانکے گئے ہیں کہ آدمی حیران ہو کر تھوڑی دیر رک کر سوچنے لگ جاتا ہے۔
    یہ افسانہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ کیسے ایک پرانے موضوع کو بیانیے اور تکنیک سے بالکل الگ اور اچھوتا افسانہ بنایا جاسکتا ہے۔۔۔۔ بلاشبہ یہ ایک شاندار افسانہ ہے جس کے لیے بہت بہت داد

  2. اوہ واو!
    ایک اور بہترین فارحہ برانڈ افسانہ
    لکھاری کے قلم اور اسلوب کی داد دیتا ہوں۔
    کردار نگاری اور جذبات نگاری اور کہانی میں نہایت ہی خوبصورت تخلیقی جملے احساس کی لو کو چھو جاتے ہیں۔
    ایک عورت اپنا تقابل دوسری ایسی عورت سے کرتی ہے جو حالات اور تقدیر کی ماری ہے لیکن پھر بھی اپنی محبت کو یاد رکھے ہوئے۔
    “اور پھر اس نے مجھے ٹرک سے اتار کر اس چھوٹے سے کمرے میں منتقل کیا جو اس کے کسی یار دوست کا تھا۔
    اس کے پاس دوست کواس کمرےکے لیے دینے کوکچھ نہ تھا سواس نے مجھے پیش کر دیا ۔”
    ظلم کی انتہا کا اس سے اچھا بیان کیا ہو سکتا ہے۔
    ٖفارحہ کے قلم کو میرا سلام۔۔۔

  3. افسانہ پڑھا ، تبصرے بھی پڑھے مگر! مجھے تحریر پڑھتے ہوئے کسی موقع پر فارحائی ، افسانوی رنگ نظر نہیں آیا ، پامالیِ محبت کی تحریر پڑھی ، سُنی ، بیتی ، بیتائی ، گزری ، گزرائی محسوس ہوئی – چند جملوں یا الفاظ کے ہیر پھیر کی سعی کے باوجود بیانیہ کہانی کے دائرے سے نکل کر افسانے کے مدار میں داخل ہوتا دکھائی نہیں دیا ، ایسامحسوس ہوا جیسےافسانہ مقابلہ میں شرکت کی غرض سے یا تو فارحہ نے کسی پارینہ خیال و احسا س کو عجلت میں قلمبند فرمایا یا کسی پرانی کہانی کے بل بُوتے پر گویا کام چلایا ھو ، خیر ، سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ، ہزارہا شجرِ سایہ دار راہ میں ہے –

  4. آنکھ کی پتلی کا تماشا
    تبصرہ : محمد ہاشم خان
    فارحہ ارشد کچھ نیا نہیں لکھتی ہیں ،وہی گھسی پٹی زندگی، وہی قفس و زندانِ ذات کا گھٹن اور وہی اڑنے کی بے بال و پری، وہی غم کا یم،ظلم کا ماتم۔۔۔ جبرو جور کے جزر میں ہچکولے کھاتی وہی نصف سوختہ اور نصف عذاب یافتہ زندگی اور اس کی حبس زدہ رزمگاہ میں بے موت مرنے والےخواب، جذبات ، خواہشات، امیدیں، آرزوئیں۔ وہی شکستہ تمناؤں کی اذیت اور حویلیوں کی اونچی فصیل کے سائے میں تہذیبی اقدار کی شکست و ریخت۔ فارحہ ارشد کچھ نیا نہیں لکھتی ہیں، وہی کلیشے زدہ زندگی ہے ،وہی بوسیدہ خوشبوؤں میں رچےبسے الفاظ ہیں اور پھرحرف و صوت سے عاری بیانیہ کا وہی بجوکا جسے کبھی نئے کپڑے نصیب نہیں ہوتے،یا پھر یوں کہہ لیں کہ مہینوں ایک ہی ہانڈی میں پکنے والے تیل کا تڑکا۔آپ صحیح کہہ رہے ہیں ،فارحہ ارشد کچھ نیا نہیں لکھتی ہیں اورہم بھی کچھ نیا نہیں لکھتےہیں اور شاید آپ بھی۔لکھنے کے حوالے سے مجھے یوں لگتا ہے کہ دراصل ہم لکھتے نہیں ہیں ہم پیش کرتے ہیں،الف، ب، ت، ث،ج، د یہ پہلے سے لکھے جاچکے ہیں، ان کو ملائیں گے تو الفاط بنیں گے،یہ بھی لکھا جاچکا ہے، الفاط کو ملائیں گے تو جملے بنیں گے، یہ بھی لکھا جاچکا ہے اور جب جملوں سے کوئی معنیٰ نہیں نکلے گا تو ؟ یہیں سے تلاش کا سفر شروع ہوتاہے اور جب ہم معنویت کی تلاش میں کامیاب ہوتے ہیں تو اسے پیش کرتے ہیں، سو ہم لکھتے نہیں ہیں، ہم پیش کرتے ہیں وہ چیزیں جو نظر سے اوجھل ہوجاتی ہیں،وہ چیزیں جو تخلیق اور ردتخلیق کی کشمکش میں کہیں کھوجاتی ہیں اورکسی مسیحا نفس ہچ ہائکر کا انتظار کرتی ہیں کہ وہ آئے اور اس ’حکمت ضالۃ‘ کو گمشدگی کی دنیا سے باہر نکالے،ہم پیش کرتے ہیں وہ چیزیں جو آنکھ کی پتلی کا تماشا بن جاتی ہیں اور کسی مشاق مداری کا انتظار کرتی ہیں جو ڈگڈگی بجاتا ہوا آئے گا اور تماش بینوں کو محظوظ کرے گااوراپنے پیچھے طویل خاموش اداسی کی لکیر چھوڑ جائے گا ،انہیں ہم وہ چیزیں ڈھونڈ کر واپس لاتے ہیں اور آپ کی ضمیر کی آنکھ پر چسپاں کردیتے ہیں۔ہم لکھتے نہیں ہیں، ہم کاپی پیسٹ کرتے ہیں لیکن کچھ اس انداز میں کہ لکھنے جیسا معلوم ہوتا ہے لیکن وہ بہت پہلے لکھا جاچکا ہوتا ہے،گویا کہ لکھنے کا عمل ہمارے پیش کرنے کے عمل سے مشروط ہوا، اگر آپ اچھی طرح سے پیش نہیں کرسکے تو لکھنے کا عمل باطل اور بے کار ہوجاتا ہے۔جب یہ کہا جاتا ہے کہ آپ ’کیا لکھ رہے ہیں‘ تو اس کا مطلب کوئی ایک معجزاتی خیال کی نمود نہیں ہے بلکہ اُس خیال کو وسعت ِ گردوں عطا کرنا ہے اور یہی وہ مقام ہوتا ہے جب لکھنا صرف لکھنا نہیں بلکہ پیشکش کے ساتھ ملزوم ٹھہر جاتا ہے۔میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ ’کیا لکھنا‘ جتنا اہم ہے ٹھیک اسی طرح ’کیسے پیش کرنا ‘ہے وہ بھی اتنا ہی اہم ہے، باقی جہاں تک موضوعاتی جدت و ندرت کی بات ہے تو زیرسماوات کوئی چیز نئی نہیں ہے، پیرہن بدلتے رہے ہیں ،اندر ڈھانچہ وہی رہا ہے ۔چیزیں اپنی جدت کی وجہ سے زندہ نہیں رہتیں، ان کی معنویت اور افادیت انہیں آفاقیت و ہمہ گیری عطاکرتی ہے ۔ بہت ساری نئی چیزیں ایجاد ہوئیں اور دفن ہوگئیں کیونکہ وہ اپنے زمانے کے مخصوص لازمی تقاضوں کو ہی پورا کرنے کی فعلی قوت رکھتی تھیں، اور اسی امکانی کمی کو پوراکرنے کے لئے دوسری چیزیں وجود میں آتی رہیں اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہ معاملہ صرف مادی چیزوں کے ساتھ مشروط نہیں ہے، یہ حرف و صوت اور تخیل و فنتاسی کے ساتھ بھی ہے اور پھر یہ تمام چیزیں ،یعنی چیزوں کا بننا مٹنا، تعمیر و تخریب یہ زندگی سے ہی عبارت ہیں، زندگی ہے سو یہ چیزیں ہیں،زندگی ہے سو یہ کوزہ گری اور بخیہ گری ہے۔ زندگی ہےسو یہ شوریدگی ہے اور اس کی رائگانی بھی اور نہیں تو کچھ بھی نہیں، یہ ناتمام کائنات، یہ ہفت سماوات، یہ ذات اور ذات کی شکست و ریخت ماورائے زندگی کچھ بھی نہیں۔ سو لازم یہ ٹھہرا کہ زندگی سےزیادہ نئی یا زندگی سے زیادہ پرانی کوئی چیز دنیا میں کچھ نہیں۔اگر کوئی چیز ہے تو برائے کرم اسے پیش کیا جائے۔لہٰذا اگر زندگی کے بارے میں لکھا جارہا ہے تو پھر نئے اور پرانے کا مطالبہ نہیں ہونا چاہئے، میرا مطلب کہ اس میں نیا کیا ہے۔ وہی کلیشے زدہ کتھارسس، وہی ہزار بارکا نوحہ اور لاکھ بارکا مرثیہ۔ساری چیزیں زندگی کےدھنک رنگ دھاگوں سے مربوط ہیں اور زندگی بیک وقت سب سے زیادہ قدیم اور سب سے زیادہ جدیدبھی ہے سو ہمارا افسانہ یا ہمارا ادب ان دوانتہاؤں کے دائروں سے کبھی باہر نہیں نکل سکے گا بشرطیکہ افسانوں میں زندگی کو بیان کیا گیا ہو۔ہر وہ افسانہ جدید ہے جس میں زندگی سانس لیتی ہوئی نظرآتی ہواور ہر وہ افسانہ مابعد جدید ہے جس میں زندگی جینے پر بات کی گئی ہو کہ اس دور کا سب سے بڑا المیہ زندگی جینا ہی ہے۔یہی ہم نہیں جی پاتے، کیوں نہیں جی پاتے آپ خود سے پوچھئے، جب موت زندگی سے زیادہ سستی ہوجائے تو جینا یقیناً ایک معجزاتی عمل ہے اور یہی زیرنظرافسانے کا ماحصل ہے کہ سب کچھ آنکھ کی پتلی کا تماشا ہے،جو فیڈ کیا گیا ہے وہی آپ جی رہے ہیں اور وہی آپ دیکھ رہے ہیں سو یہ کوئی جینا ہے ؟ یہ بھی کوئی دیکھنا ہے؟ یہی ہے وہ چیز جو فاضل مصنفہ آنکھ کی پتلی کے رمز میں پرو کر ہمارے سامنے پیش کررہی ہیں لیکن کیسے انہوں نے پیش کیا ہے اس پر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔آنکھ کی پتلی کالی ہوتی ہے مگر روشنی دیتی ہے۔ یہ لڑکی ہمارےاپنےمہذب سماجی اصولوں کے مطابق گرچہ ایک غلیظ پیشے میں آگئی ہےلیکن روشنی بانٹ رہی ہے اس عورت کو جو بظاہر روشنی میں ہی رہتی ہے لیکن احساس زیاں سے بھی عاری ہے۔اورپھریہ المیہ بھی دیکھئے کہ کون کیوں مقدس یا مکدر ہے وہ بھی وہی آنکھ کی پتلی ہے طے کرتی ہے۔آنکھ کی پتلی کا ایک اور مفہوم بھی ہےاور وہ ہےعزیز ہونااور یہ مفہوم بھی بعید ازقیاس نہیں کہ جو عزیز ہوتے ہیں ان کے تماشے بھی عزیز ہوتے ہیں۔
    بات انہوں نے یہاں سے شروع کی ہے کہ اس دور میں اگر دس دگھنٹے کی محبت بھی ہوگئی اور مل بھی گئی تو وہ جینے کے لئے بہت ہےجیسا کہ انٹرویور آخر میں کہتی ہے’‘ اور کچھ کے نصیب میں تو دس گھنٹے کی محبت بھی نہیں ہوتی ‘کس دور میں؟ آج کے اس مابعد مشینی دور میں جب زندگی جینے کے سارے جذبے،رشتے، ناطےاورسہارے اغراض نفسانیہ(Vested Interest)کی کھوٹی سے لٹکے ہوں ممکن ہے یہ کوئی نیا خیال نہ ہو لیکن کیا یہ ایک بڑی سچائی نہیں ہے کہ اب روز کی نفسانفسی میں ہم نے اس طرف دیکھنا ہی بند کردیا ہےیا یوں کہہ لیں کہ اس جذبے میں کچھ نجس ملائے بغیر اسےسمجھنا ہی ترک کردیا ہےلیکن سوال یہ ہے ہ اس پہاڑی دہقانی لڑکی کو کیوں ہوئی اور یہ شہری ورکنگ خاتون اس دس گھنٹے کی بھی محبت سے کیوں محروم ہے؟ یہ ہے آنکھ کی پتلی کا تماشا۔ اگر بین المتون دیکھیں گے تو کئی ساری پرتیں ہیں اور ن پر تیکھا طنز نظرآرہا ہے۔ مثال کے طور پریہ دیکھیں کہ اس لڑکی کو کن حالات میں اور کس شخص سے دس گھنٹے کی محبت ہوتی ہے۔اسے زلزلہ متاثرہ علاقے میں راحت رسانی کی اشیاء لے جانے والے ایک مرد سے محبت ہوتی ہے ان حالات میں جب اس کی طرف بڑھنے والا کوئی بھی ہاتھ مسیحانفس کا ہی خیال کرے گی اور زندگی دینے والا وہی شخص اسے روز کی موت دے کرچلاجاتا ہے۔ وہ شخص اس کے حالات کا فائدہ اٹھاتا ہے، استحصال کرتا ہے اور جب اسے بیوی اور بچوں کی شکل میں اپنی مجبوریاں نظرآتی ہیں تو ایک دوست کے یہاں لے جاکر پٹخ دیتا ہے اور پھر وہاں سے اسے بازار حسن پہنچا دیا جاتا ہے۔یہ ہے ہیرامنڈی میں نئی نئی آنے والی اس پہاڑی لڑکی کا پس منظر۔ان سب کے باوجود وہ عورت اس آدمی سے کوئی نفرت نہیں کرتی بلکہ وہ دس گھنٹے کی محبت آج بھی اس کے ساتھ ہے ہر چند کہ وہ اس جذبے کو مسترد کرتی ہےکہ اس نے سب جھٹک کر اپنا دامن صاف کرلیا ہےلیکن اسی جذبے کے سہارے ہی جی رہی ہےجیسا کہ لرزہ خیز ماجرا سنانے کے دوران اس کی نم آنکھیں اشارہ کرتی ہیں۔ یہ جملہ ملاحظہ کریں ’’وہ ہیرا منڈی میں نئ نئی آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی پراسرار خاموش اداسی بتاتی تھی کہ وہ لائی گئی ہے خود تو وہ کہیں اور رہتی ہے کسی نا معلوم جزیرے پر‘‘ اور وہ جزیرہ کوئی اور نہیں دس گھنٹوں کی محبت میں آباد ہوانے والی غیرمختتم کائنات ہے۔دہقانی لڑکی کی آنکھ کی پتلی نے یہ دکھایا ہے اور راحت رساں اشیاء لے جانے والے اور اس کے دوست کو انکی آنکھوں کی پتلیوں نے کچھ اور دکھایا ہے۔۔استحصال ۔۔۔اسے بس ایک ہی چیز کا دکھ ہے۔۔خسارے کا دکھ۔۔۔۔یعنی کہ وہ اپنی ذات کے درون و بیرون یا زیادہ ننگے الفاظ میں کہیں تو اپنی اوقات سے واقف ہےاس کے باوجودوہ یہ جانتی ہےکہ وہ مسترد کئے جانے کی مستحق نہیں تھی، یہ ہیرامنڈی اس کا مقام نہیں ۔وہ حسین تھی اور صدق دل سے محبت بھی کرتی تھی اس کے باوجود مسترد کردی گئی،یہ وہ خسارہ ہے جس کا اسے دلی قلق ہے۔
    اس پہاڑی لڑکی کے برعکس انٹرویورخوشحال ہے، خودمختارورکنگ لیڈی ہےلیکن اسے محبت نصیب نہیں ہوئی اور حسن بھی نہیں۔ انٹرویور کا یہ کہنا کہ اس کے شوہر کو تو خسارے کابھی احساس ہوتا ہے اسی طرف لے جاتا ہے۔کچھ خاص فرق نہیں ۔۔۔ میرا بھی نکاح والا ہر رات میرا جسم کسی گدھ کے جیسا نوچتا ہے۔۔۔ اور ۔۔۔ اور ۔۔۔ ” میں نے خود سے بھی چھپانا چاہااور اسے اپنے خسارے کا بھی دکھ تھا۔۔۔۔ مگر مجھے؟۔۔۔۔
    دوسرا ایک اہم نکتہ جو اس لڑکی کےبیان سے سامنے آتا ہے ہےکہ اسے (آدمی کو) تو پتہ بھی نہیں تھا، یعنی کہ اگر پتہ چل جاتا تو شاید ایسا نہ کرتا یا پھر یہ کہ جس کو محبت کے بارے میں پتہ نہیں چلے گا تو وہ یہی کرے گا، بہ الفاظ دیگرمحبت میں دھوکے نہیں ہوتے اور اگر ہوتے ہیں تو پھر وہ حقیقی محبت نہیں ۔دہقانی لڑکی کو یہی فیڈ کیا گیا ہے،یہ ہے اس کی آنکھ کی پتلی کے تماشے کا نیتجہ۔معصومیت اور محبت۔اور یہیں سے آنکھ کی پتلی کا دوسرا متوازی تماشا شروع ہوتا ہے۔ایک وہ پہاڑی لڑکی ہے جس کی آنکھ کی پتلیوں نے دھوکہ،وہم اور فریب نہیں دکھایا ہے اور دوسری یہ انٹرویور ہے جو نہ صرف ایک وہم میں مبتلا ہے بلکہ خودمختار ہونے کے باوجود عدم تحفظ کی شکار ہے اورالمیہ یہ ہے کہ اسے خسارے کا کوئی احساس بھی نہیں ہے۔سو upper hand کس کو حاصل ہے اور کیوں حاصل ہے؟ یہ ایک چبھتا ہوا سوال ہے۔
    لڑکی اپنے پاؤں کو دیکھتی ہے اور موازنہ شروع کرتی ہے کہ دونوں کے پاؤں ایک جیسے ہیں پھر دونوں کو وہ عزت و تکریم حاصل کیوں نہیں؟ اور یہیں پر وہ انٹرویور خود کو مزید خسارے میں غرق محسوس کرتی ہے۔’’یہ سب آنکھ کی پُتلی سے نہیں دیکھا جاتا ۔ نظر صرف وہی آتا ہے جو آنکھ کی پُتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے۔ جو تمہارے پاؤں کو مقدس خیال سے چھونے کی جسارت کرتا ہے اور میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے۔۔۔‘‘
    آنکھ کی پتلی کا معاملہ یہ ہے کہ یہ روشنی کا ماخذ ہے، آئرس کےذریعہ روشنی پتلی کے اندر داخل ہوتی ہے۔ دن کی یا پھرتیز روشنی میں یہ سکڑتی ہے اور اندھیرے میں یا کم روشنی میں یہ پھیلتی ہے۔ آپ نے رات کی تاریکی میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کردیکھنے کا تجربہ کیا ہوگا،اس وقت آنکھ کی پتلیاں پھیلتی ہیں کیوں کہ دیکھنے کے لئے زیادہ بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔اب آئرس کےذریعہ جتنی روشنی جائے گی اتنی ہی آنکھ کی پتلی دکھائے گی۔سو ’آنکھ کی پتلی‘ یہاں معاشرے کی ایک علامت بن کر سامنے آرہی ہے۔ جب وہ کہتی ہے کہ یہ آنکھ کی پتلی کا تماشا ہے جس کی وجہ سے آپ کے پاؤں مقدس نظر آتے ہیں اور ہمارے نہیں تو دراصل وہ سماج پر ایک گہرا طنز کررہی ہوتی ہے کہ آپ کی آئرس سے وہی چیزیں فیڈ کی گئی ہیں اور وہ آنکھ کی پتلی کے پیچھے جاکر نقش ہوگئی ہیں سو اگر آپ کسی بھرم میں مبتلا ہوکر اندھی ہوگئی ہیں تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ،یہی آپ کو بتایا گیا ہے سو آپ مقدس ہیں اور ہم سیکس ورکر جو اپنے اصل مقام اور کام سے بھی واقف ہیں اور ہم کسی کے لئے خسارے کا سودا بھی نہیں ہیں ہم مکدر اور متعفن لوگ ہیں۔
    اسی بات کو آگےانٹرویورنے مزید واضح کیا ہے’’ہاں وہ رقاصہ تھی اور سیکس ورکربھی تھی ۔۔۔ وہ جانتی تھی اپنا کام بھی اور مقام بھی ۔۔۔‘‘
    انٹرویور کے مطابق سیکس ورکر اپنے کام اور مقام سے واقف ہے ۔وہ کسی بھرم میں نہیں ہے جب کہ اس کے برعکس انٹرویور(جسے آپ یہاں راوی کہہ سکتے ہیں) ایک بھرم میں ہے ، وہ جانتی ہے کہ وہ ایک خسارے کا سودا ہے اور پھر بھی اسی کے ساتھ جئے جا رہی ہے،ایسی زندگی کس کام کی جو خسارے کا سودا ہواور پھر بھی جینا پڑے۔یا ایسا بھرم کس کام کو جو آپ کو جینے سے محروم کردے یا سمجھوتوں کی نذر کردے،یا پھر ایسی زندگی کس کام کی جس میں دس گھنٹے کی بے لوث اور خالص محبت بھی شامل نہ ہو ۔سیکس ورکر کے یہاں کوئی تضاد،کوئی بھرم نہیں،لیکن اس کے برعکس انٹرویور کے یہاں ہے ۔ وہ صرف ایک بھرم میں ہی مبتلا نہیں ہے بلکہ آج کی اس نفسانفسی اور بقائے اصلح والے دور کی وجہ سے عدم تحفظ کی بھی شکار ہے۔
    بین السطور مفہوم یہ ہے کہ اپنے مقام سے واقف ہونے کے لئے بھرم سے نکلنا ہوگا ۔یہ بھرم ہے جو آپ کو اپنی زندگی جینے نہیں دے رہا ہے۔ سیکس ورکر اس بھرم سے نکل آئی ہے لیکن انٹرویور نہیں ۔ایک خیالی جزیرہ آباد کرلینا اور اس میں عافیت تلاش کرنا بھرم نہیں ہے لیکن اپنی ذات کو دھوکہ دینا یہ ایک بھرم ہے سو اندرون ذات اگر پاکیزہ کوئی ہے تو وہ سیکس ورکر ہے انٹرویور نہیں کہ سارے وسائل اُس کے پاس موجود ہیں پھر بھی وہ روٹین کی غلام ہوگئی ہے۔اسی کا دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اس پہاڑی لڑکی کو دس گھنٹے محبت ہوئی اور اس نے اس دس گھنٹےکے عوض سب کچھ دے دیا،کوئی بغاوت نہیں کی کہ پہاڑی لڑکیاں ایسی ہی ہوتی ہیں بھروسہ کرلیا تو کرلیا۔سو اس شہر والی ورکنگ لیڈی کو دس گھنٹے کی ہی سہی محبت کیوں نہیں ہوئی؟ یہ محبت اس کے ذہن ودل پر روح کی طرح کیوں نہیں اتری؟ محبت شہر سے رخصت ہوکر غاروں ،گپھاؤں اور جنگلوں میں جاکر بس گئی ہے۔واقعی شہر میں محبت نہیں رہی،یہ شہر ہمارے ہوں یا آپ کے محبت سے خالی ہوگئے ہیں۔
    افسانہ مجموعی طور پر مجھے اچھا لگا، ان کا کہانی بیان کرنےکا ا سلوب اور ڈکشن اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔نثر میں کوئی شعری بہاؤ نہیں اور کوئی رکاوٹ بھی نہیں ۔ جس چیز کو ردھم میں رکاوٹ تصور کیا جارہا ہے وہ ’کہانی‘ اور ’افسانے ‘ کی زبان کاخوبصورت اختلاط ہے۔ یہ کہانی کہنے کےڈھنگ سے شروع ہوتا ہے اور افسانویت بتدریج حروف و الفاظ کے ریشوں میں سرایت کرتی ہوئی فطری ارتقا کی طرف گامزن ہوتی ہے جو کہ ایک بڑا فن ہے اور قلم کی پختگی پر دال ہے۔ یہ ہنر آتے آتے آتا ہے۔میری طرف سے فاضل مصنفہ کو بہت بہت مبارکباد

    1. بے حد شکریہ ہاشم
      آپ کا تبصرہ و تجزیہ ہمیشہ کی طرح آپ کی تخلیقی تنقید کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
      خدا ان صلاحیتوں کو مزید جلا بخشے۔
      سلامت رہیے

  5. فارحہ ارشد کے افسانہ ” آنکھ کی پتلی کا تماشا ” پر میرا تاثر

    اس کہانی میں دو عورتوں کو مسائل کے سامنے ان کے الگ الگ رویوں کے ساتھ پیش کر کے ان کا نفسیاتی جائزہ سامنے لایا گیا ہے اور یہی نفسیاتی ٹریٹمنٹ ہی اس پرانے موضوع کو نیا بنا رہی ہے ۔ ۔۔۔ ایک وہ عورت جو سرنڈر کر گئی مگر اس کا پہلا جملہ ۔۔۔” مجھے اس سے دس گھنٹے کی محبت ہوئی تھی اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا ” ۔۔۔ ہی اتنا گہرا اور اس کی نفسیات کا پرتو ہے جو ظاہری سرنڈر کے باوجود اس کی اندر کی شدید بغاوت کو دکھاتا ہے ۔ اس نے اس محبت کو اپنے اندر مار دیا ۔ گویا اس شخص کو مار دیا کہ جا مجھے تجھ سے محبت بھی نہیں قبول ۔ یہ جملہ بہت معنی رکھتا ہے ۔ اس جملے پر رقاصہ / سیکس ورکر کا پورا کردار کھڑا ہے ۔۔۔۔ عورت جب کسی کی محبت سے دل خالی کر لیتی ہے تو گویا اسے دھتکار دیتی ہے ۔ اس کا وجود مٹا کر اسے بے نام و نشان کر دیتی ہے ۔ اسے مار دیتی ہے اور قبر تک نہیں بناتی ۔ یہ جملہ اس کی بغاوت کی مکمل تشریح ہے ۔ اور خود کو اپنے حالات کے حوالے کر دینا بھی منافق معاشرے کے منہ پر تھپڑ جیسا ہے کہ محض لمحاتی تفریح کی خاطر ایک مرد بلا سوچے سمجھے اس کی زندگی سے کھیل جاتا ہے اور اسے ملال تک نہیں ۔ وہ ایک عام کلاس کی عام لڑکی تھی جسے اس ٹھوکر نے خاص بنا دیا اور وہ ایک دم بڑا سوچنے لگی ۔ افسانہ میں یہ جملہ بھی بہت طاقتور ہے ۔ جب وہ رقاصہ / سیکس ورکر اس دوسری لڑکی کے پاؤں کا موازنہ اپنے پاؤں سے کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ” فرق تو کوئی نہیں یہ خیال ہے جو تمہارے پاؤں کو مقدس دکھاتا ہے اور میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے ” یہ جملہ بہت اہم ہے ۔ یہ دراصل معاشرے کے خودساختہ معیارات کے تحت ” بری عورت ” اور ” اچھی عورت ” کا موازنہ ہے ۔ وہ یہ بھی سوچ رہی ہوتی ہے کہ کچھ روز پہلے تک میرے پاؤں بھی ویسے تھے جنہیں مقدس خیال کیا جاتا تھا ۔ مگر ایک مرد نے ان کا مقام ایسے بدل دیا جیسے کوئی برتن ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دیتا ہے یعنی عورت کا وجود اس مرد کے لئے محض ایک برتن تھا ۔۔۔۔۔ دوسری طرف دوسری عورت کے ساتھ پلان کرتا مرد آ کھڑا ہوا جو اس لڑکی کی مرضی تک پہ جبر و اختیار رکھتا ہے اور اسے یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی اور خوشی سے اس پلان کا حصہ ہے ۔ گویا زنابالجبر اور زنابالرضا تک کے دو مقاموں کے درمیان عورت کو صلب کر دیا گیا ہے مگر رائیٹر نے آخر میں فرق کا سوال اٹھا کر رقاصہ اور جرنلسٹ کو زنابالرضا اور زنابالجبر کے دو پتوں کے درمیان پھینٹ کر رکھ دیا ہے اور شناخت کا اور اس کے مقام کا سوال قاری کے ذہن میں گاڑ کے رکھ دیا ۔
    یہ تو تھا اس افسانے کا نفسیاتی جائزہ ۔۔۔۔ اگلی بات یہ کہ اس افسانے میں بتایا گیا ہے کہ عورت کو اپنے مقام کا علم ہو یا نہ ہو ، اسے پالش کر کے پیش کیا جائے یا ننگا کر کے ، ہر دو صورتوں میں نقصان عورت کا ہے ۔ اسی کی شناخت اور ذات کا ہے ۔۔۔۔۔ افسانے میں یہ نسبتا نیا پوائینٹ اور نیا موضوع ہے کہ ایک عورت جو بظاہر ملازمت کرتی اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزارتی نظر آ رہی ہے مگر چادر اور چاردیواری پہ سوال اٹھا دیا کہ یہ تصور بھی اب کھوکھلا ہو چکا ہے ۔۔۔ شوہر کی مرضی سے وہ بھی سیکس ورکر ہی بنا دی گئی ہے ۔ اور جبر کی انتہا یہ کہ اس کے شوہر نے اسے اپنی مرضی کے اتنا تابع کر لیا کہ اس سے اپنے خسارے کا احساس تک چھین لیا ۔۔۔۔۔ دراصل یہ افسانہ رقاصہ اور سیکس ورکر سے زیادہ چادر اور چاردیواری کے کھوکھلے نعرے پہ سوال اٹھا رہا ہے ۔ اس معاشرے کے قائم کردہ اچھی عورت کے تصور پر سوال اٹھا رہا ہے جو اس کی خباثت کی وجہ سے اپنے مرد سے بھی محفوظ نہیں ۔ دو شوہر اور حقیقت دونوں کی ایک سی ۔۔۔۔ نسائی شعور نفسیات اور جبر و شناخت کا مکمل ڈسکورس ہے یہ افسانہ ۔۔۔۔۔
    اسلوب کے حوالے سے چست اور برجستہ ہے ۔ جس میں غیر ضروری طوالت کی بجائے موضوعاتی چیزوں کی نشاندہی کرتا انجام پذیر ہو جاتا ہے ۔ پورا افسانہ تین کرداروں میں ہی کھپا دیا گیا ہے ۔ مزید طوائفوں اور اخبار کے لوگوں کے غیر ضروری کرداروں سے بچ بچا کے نکل گیا ہے ۔ یہی اس افسانے کی خوبصورتی ہے ۔ کہیں خطیبانہ ، ناصحانہ یا معذرت خواہانہ انداز اختیار نہیں کیا گیا ۔ یہی خوبی اس افسانہ کو آج کا جدید افسانہ بنا رہی ہے ۔۔۔

  6. تبصرہ ، تجزیہ ” آنکھ کی پتلی کا تماشہ ”
    از عروج احمد (میڈیا ہیڈ ینگ ویمن رائٹرز فورم، اسلام آباد چیپٹر)

    پہلے بات کرتے ہیں افسانے کے پہلوں پر ۔۔۔

    افسانے کا ایک پہلو زلزلہ زدہ علاقے میں بچ جانے والے لوگوں کے ساتھ وہاں امداد لانے والوں کا سلوک ہے کہ کیسے انہوں نے وہاں کے بے بس ، مصیبت زدہ لوگوں کو مال غنیمت سمجھ کر لوٹا ۔۔۔ یہ سلوک جو ایک امدادی ٹرک کے ساتھ جانے والے ایک مرد کا دکھایا گیا ہے ، دراصل یہ معاشرے کی سفاکیت کی ایک جھلک دکھاتا ہے کہ کیسے انسان کسی دوسرے انسان کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتا ہے ۔ اسی اس بات سے کوئی حقیقی غرض نہیں کہ اس کی اس بے حسی اور سفاکیت کے کسی آل ریڈی بے بس انسان پر کیا نتائج مرتب ہوں گے ۔

    مجھے افسانے میں جس دوسری بات نے کلک کیا وہ ایک عورت کا دوسری عورت سے اپنا تقابلی جائزہ تھا ۔ اگر وسیع کینوس پر دیکھا تھا تو یہ دراصل محض ایک عورت کا دوسری عورت سے تقابل نہ تھا بلکہ ایک انسان کا دوسرے انسان سے تقابل تھا ۔ اور یہ تقابل آنکھ کی پتلی سے نظر آنے مناظر اور حالات و واقعات پر مبنی نہیں ہوتا بلکہ ان مناظر اور حالات و واقعات پر مبنی ہوتا ہے جو آنکھ کی پتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے ۔

    مجھے ذاتی طور پر انٹرویور کا یہ تقابلی جائزہ ان فیر لگا ۔ انٹرویور جو کہ زندگی میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہے اور اپنی زندگی کو اپنی مرضی یا باہمی رضامندی سے اپنے معیار تک لے جانے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے وہ اپنا موازنہ ایک ایسی خاتون سے کرنے لگتی ہے جسے محض چند گھنٹوں کی خوش گمانی کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے ۔ اس خاتون کے حالات کی سنگینی انٹرویور کو صرف اس لیے نظر نہیں آ رہی کیونکہ اس خاتون کی زندگی میں رمانویت کا وہ تڑکا لگا دکھائی دے رہا ہے جو کہ انٹرویور کی اپنی زندگی میں مفقود ہے ۔

    اسے ایک بار پھر ایک وسیع کینوس پر دیکھیں تو یہ الیمہ ہم میں سے اکثر انسانوں کے ساتھ ہے کہ کسی کی زندگی کی خوشیاں اور آسائشیں تو فوراً سے دیکھ لیتے ہیں ، ان کی زندگی میں کھلے گلابوں ، ان گلابوں کے رنگ اور خوشبو تو فوراً محسوس کر لیتے ہیں لیکن انہی گلابوں کے ساتھ لگے ان گنت کانٹوں کو دیکھنا بھول جاتے ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف اپنے پاس موجود ہزارہا نعمتیں کسی ایک نعمت کی کمی کے پیچھے چھپا دیتے ہیں اور جو ایک نعمت میسر نہیں ہوتی اسی پر آنسو بہاتے رہتے ہیں ۔

    اب آتے ہیں افسانے کے تھیم کی طرف ۔ گو کہ الفاظ کا چناؤ نیا اور منفرد ہے اور کچھ جملے تخلیقیت کا ایسا رنگ لیے ہوئے ہیں جو قاری کو اپنی جانب کھیچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر افسانے کا اوور آل موضوع اچھوتا نہیں ۔۔۔ افسانہ رمانویت اور نارسائی کے گرد ہی گھومتا رہتا ہے ۔۔۔سینکڑوں بار یہ موضوع قلم کی نوک سے صفحہ قرطاس پر اتارا جا چکا ہے ، بالخصوص خواتین قلم کاروں کے قلم سے ۔۔۔ افسانے کے بنیادی تھیم میں جدت نہیں ہے لیکن بہرحال یہ ایک مختصر مگر جامع افسانہ ہے ۔

  7. “آنکھ کی پتلی کا تماشا”
    تبصرہ ـــ از ثروت نجیب
    ینگ ویمن رائیٹرز فورم ‘ اسلام آباد چیپٹر ـــ

    بقول حمید شاہد صاحب “مشاہیر میں فارحہ ارشد ادب میں توانا نام ہے ”
    ان کا افسانہ ” آنکھ کی پتلی کا تماشہ کے محاسن پہ تبصرہ کرنے سے پہلے مبارک باد دیتی ہوں کہ ادب میں بطورِ خاتون نام منوانا کوئی آسان کام نہیں ‘،خدا ان کی تخلیقات کو دوام بخشے ـ ”
    تہہ در تہہ ‘ پرت در پرت پیاز کی مانند اس افسانے میں تجسس بھی تھا اور تلاش بھی ـانسانی فطرت خصوصاً عورت کی فطرت کے بےشمار پہلوؤں کا احاطہ کیے اس افسانے میں مرکزی نقطہ تو دس گھنٹے کی محبت کے گرد گھومتا ہے وہ دس گھنٹے جو بعد اکائی ‘ دہائی اور سینکڑوں کی گنتی سے بھی نکل جاتے ہیں ـ مگر “دس گھنٹے کی تکرار تھوڑی ثقیل لگی ـ ” میرا دل تو کوئی قدیم پتھر تھا جسے کدال سے توڑا گیا ” خوبصورت سطر ــــافسانہ پرپیچ مگر سادہ زبان قابلِ فہم الفاظ کا چناؤ بلاوجہ کی لفاظی سے گریز نے تحریر کو جہاں دلکش بنایا وہاں کردار نگاری پہ کم توجہ نے مجھے قدرے مایوس کیا ـ طوائف کی خوبصورتی کا ذکر تو ہوا بہت بعد میں مگر میرا دماغ انٹرویو دینے اور لینے والی کی شبیہہ نہ بنا سکا دو دھندلے عکس جیسے ایک پراسرار کہانی سنا رہے ہوں ـ
    افسانے میں دوہزار پانچ کے ہولناک زلزلے کے حالات سے بخوبی نقاب اتارا گیا ـ ایک قدرتی آفات میں جہاں ایک نسل آن کی آن میں صفحہِ ہستی سے نابود یو گئی اور رہ جانے والے متاثرین مددگاروں کو مسیحا سمجھتے رہے اور دھوکے کھاتے رہے ـ قدرتی آفت سے بڑھ کر المیہ یہ تھا کہ شدید زلزلے کے بعد متواتر جھٹکے محسوس ہونے کے باوجود ہزارہ جات سمیت ادھر اُدھر سے لوگ متاثرہ علاقے میں امداد کے بہانے عزتیں اور مال لوٹنے جاتے رہے ـ اس افسانے میں اس المیے کا ایک اور پہلو بھی دیکھنے کو ملا یعنی انسانی نفس اتنا قوی ہے کہ بالکل انجان شخص پہ بہ امر مجبوری ہی سہی بھروسہ کر کے اندوہناک حادثے کو ‘ اپنے جان سے پیاروں کو فراموش کر کے جسمانی لذت سے لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے؟ یہاں مجھے ایک سفاک حقیقت نظر آئی دل دکھی ہوا ـانٹرویو دیتے وقت اسے ایک دغاباز انسان کا اولین لمس اور دس گھنٹے کی یکطرفہ محبت تو یاد تھی مگر حادثہ اور حادثے میں کھو جانے والے رشتے یاد نہیں تھے ـاکثر افسانے عورت کی مظلومیت پہ مبنی ہوتے ہیں یہاں میں نے عورت کی بےبسی کے ساتھ اس کی سفاکی دیکھی ـ اس کا مزاج دیکھا کہ کیسے وہ خودسپردگی کے مراحل طے کرنے کے لیے تیار تھی ـ حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس نے خود کو حالات کے دھارے پہ چھوڑ دیا وہ دھارا جو اسے ہیرا منڈی تک لے آیا ـ
    انٹرویو لینے والی خاتون اور طوائف کے نام نہیں تھے جس کی کسک محسوس کی آخر یہ کردار میرے دماغ کے دریچوں پہ بےنام ہی امر ہوں گے یا پھر سفاکی اور مظلومیت کا کوئی نام ہی نہیں ہوتا ـــ
    صحافی لڑکی اپنی رپورٹ کے چکر میں کہیں کہیں خود کو اس سے ذیادہ مظلوم سمجھتی ہے ـیہاں ناشکری کی پرت کھلی ـ کتنا آسان ہے یہ کہہ دینا ہزار بھڑیے بھنبھوڑیں یا ایک کوئی فرق نہیں پڑتا ـفرق پڑتا ہے ـ یہ دکھڑا کہ کسی اور کے گھر کی قسطیں بھرنا جبکہ گھر ہی اس کے نام نہیں ـ ـ ـمکان کبھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتے وہ نسل در نسل منتقل ہو جاتے ہیں اگر ملکیت ہوتی ہے تو گھر کی ایک خاندان کی ـ ـ ـ انٹرویو والی خاتون اس بات سے بے بہرہ تھی مادہ پرست جس کی شادی ایک جبر ہے جسے وہ ایک مشینی طور پہ نبھا رہی ہے ـ یہاں ایسی شادیوں کے خلاف بھی مصنفہ نے موقف واضح کیا ہے کہ کیسے جبری شادی مادی زنجیروں اور بےحسی میں جکڑی ہوتی ہے ـ مرد ساری زندگی کماتا ہے مگر جتاتا نہیں عورت ایک ایک پیسہ ایک ایک پائی جتاتی ہے ـکماتی ہے بخوشی مگر خود کو مظلوم بھی سمجھتی ہے ـ عورت کے موضوع پہ جب لکھا جائے تو اکثر یہی سننے کا ملتا ہے نیا کیا ہے ـ وہی گھسی پٹی ظلم کی کہانی ‘ کلیشے وہی روداد جو برسوں سے عورت سناتی نہیں تھکتی ـ ہر عورت کے لیے اس کا ذاتی تجربہ ہی منفرد ہوتا ہے بطورِ عورت ہم عورت کے دکھ کو کلیشے کیسے کہہ سکتے ہیں ـ کیا ظلم اور استحصال میں بھی اب لکھاری نیا پن ڈھونڈنے لگے ہیں؟ یہ کلیشے نہیں المیہ ہے جسے بخوبی بیان کیا گیا ہے ـ
    عورت کے بیک وقت کئی روپ دیکھائی دیے کہیں وہ ناشکری ہے کہیں وہ تھکی ہوئی بیزار تو کہیں پہلی محبت کا داغ دل میں چھپائے پریشان ـ یہاں ایک مرد بھی تو تھا جس کو فراموش کرنا فاش غلطی ہوگی ـ وہ مرد جو اپنے بیوی بچوں کے لیے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر متاثرہ علاقے میں روزگار کی تلاش میں جاتا ہے وہاں سے اسے بطور مال ایک حسین لڑکی ملتی ہے مگر اس کا دل نہیں پگھلتا نکاح کرتا ہے تاکہ گناہ نہ ہو مگر وہ جس مقصد کے لیے گھر سے نکلا اس نے وہی پورا کیا وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی ماں سے دغا نہیں کرتا مال کھرا کر کے پلٹ جاتا ہے ـ اس لیے کہا کہ اس افسانے کی بہت سی پرتیں بہت سے معنی ہیں ہر ایک کہانی ایک انجام کے بجائے ایک نئی کھڑکی کھول دیتی ہے ـ
    اس افسانے کا عنوان ” آنکھ کی پتلی کا تماشہ” بہترین انتخاب ہے ـ آنکھ کی پتلی نجانے کیا کچھ دیکھتی ہے ـ اور کیا کچھ دیکھنا باقی ہے ـ محوِ حیرت ہوں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی ــــ پلاٹ نیا تھا کہ نہیں تھا مگر اندازِ بیاں نیا ضرور تھا ـایک بہترین کاوش ـ انسانی رویے ان کے حالات سے ذیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں ـ شاید اس لیے اتنی کہانیاں جنم لیتی ہیں اور لیتی رہیں گی مگر افسانہ نگار ان کہانیوں کو کس طرح پیش کرتے ہیں یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کہ سلاد کی ڈریسنگ کرنا ‘ کھیرے پیاز ٹماٹر اور سلاد کے پتوں کو پلیٹر میں کس طرح پیش کیا جائے کہ وہ ہر ایک کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائے ـ
    جسم فروشی دنیا کا قدیم ترین کاروبار ہے کروڑوں سال قبل سے اب تک اس پہ لکھا انسان اور انسانی فطرت میں کوئی خاص فرق نہیں آیا ـ اس لیے مذہب اور عورت پہ بہت لکھا گیا البتہ جداگانہ انداز ہی افسانے کو امر کر دیتا ہے ـ
    میں فارحہ جی کو مبارکباد دیتی ہوں ناصرف ایک کامیاب افسانے کے لیے بلکہ دوہزار پانچ کے تلخ حقائق کو قلمبند کرنے کے لیے بھی۔زلزلہ زدگان کے نام پر فنڈ لے کر ہڑپ کرنے والوں کے منہ پہ ایک طمانچہ ہے ‘،ریاست کے لیے ایک سوالیہ نشان؟ حقائق پہ مبنی ایک ایسا سچ جسے سب افسانہ تو کہہ رہے ہیں مگر اسے مبالغہ نہیں کہا جاسکتا نہ ہی کوئی اسے ذہنی اختراع یا جھوٹ پہ مبنی ایک روداد کہہ سکتا ہے ـاس سے ایک تاریخ جڑی ہے ـ آنیوالی نسلوں کو جنھیں نہیں معلوم کہ ایسی صورتحال میں کیا کچھ درپیش یو سکتا ہے ـ یہ افسانہ ایک سیکھ ہے ایک حکمت عملی ایک صلاح ہر لڑکی کے لیے جو میٹھی باتوں اور وقتی تعلق کو محبت سمجھ لیتی ہیں اسی افسانے میں اس کا تذکرہ بھی ہے کہ جسمانی کشش محبت نہیں ہوتی ـ لیکن شاید انسانی نفسیات تھی ـــ “پہلی پہلی محبت کا نشہ یاد ہے فراز دل خود یہ چاہتا تھا کہ رسوائیاں بھی ہوں ـــ” یہاں یہ پرت بھی کھلتی ہے کہ کچھ لوگ خود بھی دھوکہ کھانے کے لیے آمادہ ہوتے ہیں ـ لڑکی کی عمر نہیں بتائی گی اس کے رجحان کو دیکھ کر لگتا ہے کہ وہ بیس سال تک ہی ہوگی۔بحر حال ایک خوبصورت افسانہ خوبصورتی سے لکھا ہے ـ اس کے لیے داد وتحسین ــ

    1. سپاس گذار ہوں ثروت نجیب
      آپ نے بہت عمدگی سے تجزیہ کیا
      سلامت رہیے

  8. مجھے اس سے دس گھنٹے محبت ہوئی تھی صرف دس گھنٹے۔۔۔۔اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا”اففففففف یہیں ٹھہر گئی اور بہت دیر ٹھہری رہی ۔۔
    آنکھ کی پتلی کا تماشا کیاہے واااہ جو فیڈ ہوا وہی دیکھا جارہا ہے وہی سامنے پیش کیا جارہا ہے ۔
    افسانے کا مجموعی تاثر بھرپور رہا۔۔ بیانیہ ا سلوب اور ڈکشن پرالگ سے داد ۔۔فارحہ کو بہت مبارک اوربہت سی دعائیں ۔۔

    1. بے حد شکریہ رابعہ بصری
      آپ الفاظ میں چھپے تاثروتفاہیم کوبہتر سمجھ سکتی ہیں کیونکہ آپ خود بھی بہت اچھی شاعرہ ہیں ۔
      سلامت رہیے۔

  9. Edited: فارحہ ارشد کو شاید ایک آدھ بار میں نے پہلے بھی پڑھا مگر انکی یہ تحریر چونکا دینے والی ثابت ہوئی ۔الفاظ کا انتہائی ماہرانہ اور خوبصورت استعمال فقروں کی ایسی برجستگی لہجے کی کیا ہی رومانیت اظہار کی کیا ہی کسک کہ پڑھنے والا لفظ لہجے اور اظہار میں ڈوبا چلا جاتا ہے۔پہلے وہ دس گھنٹے کی محبت  کی  رومانوی فضا میں ڈوب جاتا ہے اور حیرت زدہ ہو جاتا ہے کہ وہ کونسی اور کیا محبت تھی کہ جو اسقدر خوبصورت اور دلکش تھی۔اور جب اس محبت کی اصلیت کھلتی ہے تو پڑھنے والا اسکے کرب سے لرزنے لگتا ہے۔ایسی دلنشیں دلربا محبت کا ایسا تلخ اور دلخراش  انجام ۔۔۔۔۔یوں لگتا ہے کہ جیسے سرخ گلابوں کے موسم میں تیزابی بارشیں برس جائیں۔ابتدا سے انجام تک پائے جانے والا تجسس۔لاعلمی سے علم تک کا سفر خوابوں سے عذابوں تک کی منزل جس طرح سے پڑھنے والے پر آشکار کی گئی ہے میرے خیال میں یہی فارحہ کا ہنر ہے۔پہلے الفاظ سے انجام تک نہ رومانویت کمزور پڑی نہ تلخی محو ہوئ ۔
    صرف یہی نہیں بلکہ نوخیز پریوں اور پرستان کی دنیا میں دل لگانے والی بھولی لڑکیاں کسطرح خوشبوؤں اور ستاروں کی تمنا میں ہر طرف صرف رنگ ہی رنگ محسوس کرتی ہیں جبکہ انکے دامن سے اکثر انکے لیے قیامت خیز اندھیری راتیں مقدر بنتی ہیں،اس بدصورت حقیقت کا پردہ بھی فارحہ نے بہت کامیابی سے چاک کیا ہے۔مردوں کی نظر میں حسن اور محبت کی وقعت کس طرح دس ہی گھنٹوں میں تعفن زدہ لاش کی طرح بدبودار ہو جاتی ہے یہ اندوہوناک حقیقت بھی فارحہ کے تیز قلم کی زد سے بچ نہ سکی ہے۔ایک چھوٹی سی تحریر میں اس قدر گہرائ سمو دینا اور اسقدر مکمل انداز میں بیان کر دینا کی فارحہ کے قلم کی جرات اور ہمت کو ظاہر کرتا ہے۔

  10. تبصرہ برائے افسانہ”آنکھ کی پتلی کا تماشا”از فارحہ ارشد
    تبصرہ نگار:صفیہ شاہد،جنرل سیکریٹری ینگ ویمن رائیٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر

    فارحہ ارشد کی پہلی تحریر سے میرا مصاحبہ فیس بک پر ہونے والے ایک افسانہ مقابلے میں ہوا۔ان کا افسانہ “ننگے ہاتھ” پڑھ کو جو دماغ میں رائے بنی تھی وہ آج بھی موجود ہےکہ فارحہ ارشد کے قلم کی زد میں آنے والےپرانے یا عام موضوعات خود کو نئی نویلی دلہن محسوس کرتے ہوں گے۔اور اس کی وجہ ہے ان کا اسلوب۔،ان کا بیانیہ۔۔۔فارحہ ہمارے معاشرے کے عام موضوعات جیسے معاشرتی رویے،روایات،بالخصوص نسائیت سے جڑے موضوعات کی حبس، گھٹن،عورت کی جدو جہد،عورت کے احتجاج اور اس کے کئی مسائل کو ایسے پیش کرتی ہیں کہ کہانی دیکھی ہوئی بھی لگتی ہے اور نئی نئی سی بھی۔
    زیر تبصرہ افسانہ “آنکھ کی پتلی کا تماشا” بنیادی طور پر مجھے ازلی جذبے یعنی محبت ،محبوب اور عاشق کی تکون لگتی ہے اور یہ تکون ایسی تکون ہے جو انواع و اقسام کے مسائل کو یکجا کر کے بیرونی حدوں سے آپس میں جڑ گئی ہے۔اس افسانے کے فنی و فکری دونوں پہلو توجہ چاہتے ہیں۔اگر ہم فنی حوالے سے بات کریں تو اختصار ہے،خواہ مخواہ کی بھول بھلیاں نہیں ہیں۔۔۔ایسی بے جا افسانویت نہیں گھڑی ہوئی جس سے کہانی کہیں معلق ہو جائے اور قاری فسوں میں کھویا رہے۔۔۔جیسے جیسے کہانی آگے بڑھتی ہے دس گھنٹے کی محبت کا انجام،عروج حتیٰ کہ ایک ایک جزو جاننے کا تجسس قاری کے اندر تقویت پاتا ہے۔جزیات نگاری ہے،اقتباس ملاحظہ ہو:
    “پو پھٹنے سے ذرا پہلے کی سحر انگیز روشنی جیسی ۔ تاریکی کی چادر اتارکر روشنی اوڑھنے تک کا دورانیہ یا پھر سورج کی معدوم ہوتی بنفشی شعاعوں کو نگلتی شام کی سیاہی جتنا وقت ۔۔۔”
    اور عمومی طور پر یہ ہوتا ہے کہ “میں” کے صیغے میں لکھے ہوئے افسانوں کا بیانیہ پھیل جاتا ہے لیکن اس کہانی میں راوی بطور کردار کہانی میں موجود ہے اور کہانی کی طوالت میں طبیعت پر گراں گزرنے والاکوئی اضافہ نہیں ہوا۔خواہ مخواہ کی پیچیدہ تراکیب،علامتیں نہیں ہیں بلکہ محبت جیسے منہ زور جذبے اور اس کے بیتنے کے عمل کو بیان کرنے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ ایسے ہیں کہ احساس کے مکمل ترجمان محسوس ہوتے ہیں۔جیسے :
    ” محبت کتنا طاقتور جذبہ ہے نا۔۔۔ کتنی شدتوں میں جسم و جاں کو گھسیڑ دیتا ہے بالکل ویسے جیسے جوس نکالنے والی مشین میں پھل کو ۔۔۔۔وہ تائید چاہ رہی تھی ۔ میں نے سر ہلانے پر اکتفا کیا ۔”
    ذیادہ تر جملے چھوٹے ہیں اور ایک آدھ جملہ بڑا بھی ہے تو معنی کے بہاؤ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔
    اب بات کرتے ہیں اس افسانے کی فکر پر۔۔۔۔میں طفل مکتب ہوں فن پر اساتذہ کی طرح بات نہیں کر سکتی اگرچہ فکر پر بھی نہیں کر سکتی مگر میں سمجھتی ہوں کہ فکر کو ہر کوئی اپنے پیمانے اپنے سانچے اور اپنی سوچ کی بنیاد پر پرکھے گا چاہے کو ئی استاد ہو یا چاہے مجھ جیسی طالبہ۔۔۔۔اس افسانے کا عنوان مجھے بہت دلچسپ لگا۔میں اس عنوان میں زندگی کا سادہ سا فلسفہ دیکھتی ہوں کہ ہم جو دیکھنا چاہتے ہیں وہی دکھائی دیتا ہے۔۔یہ جملہ بارہا ہم نے سنا ہو گا۔۔۔۔سامنے پڑی رسی کو سانپ، سانپ کہیں تو وہ سانپ لگنے لگے گی۔اب رسی کے سانپ لگنے میں یا ایک عام عورت کے پاؤں مقدس لگنے اور پازیب والے پاؤں رقاصہ یا دل بہلانے والے کھلونے کے پاؤں لگنے کی یہی وجہ ہے کہ آنکھ کی پتلی میں جو پیغام آن سمایا ہے اور دماغ نے اس پیغام کو جو لباس پہنایا ہےاسی سے تصویر بنے گی۔اس پیغام کے پیچھے ہمارے معاشرتی رویے ہیں ، ہمارے تہذیبی رویے ہیں کہ نشانیاں رکھی ہوئی ہیں اور انہی نشانیوں سے تخصیص کرتے ہیں کہ یہ عورت کیسی ہے یا وہ عورت کیسی ہے۔ہمارے معاشرے میں طوائف ہمیشہ سے قابل نفرت رہی ہے خواہ وہ کیسے بھی حالات سے گزری ہو۔مرد تو مرد عورتیں بھی اپنے ہی جیسی لیکن بازاری عورت سے گریز رکھتی ہیں۔اس افسانے میں ایک عورت جو ہو بہو دوسری عورت جیسی ہے لیکن وہ اپنے پاؤں بھی اس سے ملانا گوارا نہیں کرتی۔
    ملاحظہ ہو:
    “اس روز اپنے سرخ مہندی سے سجی پوروں والے نازک پاؤں میں جھنجھناتی پازیب پہنتے ہوئے مجھ سے بولی ” تم نےکبھی اپنے پاؤں دیکھے ہیں مقدس پانیوں میں تیرتے گلابیوں میں گھلی شفاف پتیوں جیسے۔موسیقیت تھرکتی ہے جب یہ اٹھتے اور تھمتے ہیں، ان چھوئے سے ، جن کے لمس سے چاند کھل اٹھے۔
    بناوٹ اور خوبصورتی میں بالکل میرے پاؤں جیسے۔ مگر بس ایک ہی فرق ہے کہ میرے پاؤں ایک رقاصہ کے پاؤں ہیں۔ ان کو دیکھ کر احساسات میں وہ پاکیزگی نہیں آتی، وہ نرمیاں وہ مقدس شفاف روشنی نہیں آتی بلکہ ایک چیختا چنگھاڑتا ، نفس کے تاروں کو چھیڑتا ، رنگ و بو کا بھاری پن حواس پر طاری ہوجاتا ہے۔ ۔۔۔
    کیسا وجود؟۔۔۔ کیسی ذات۔۔۔۔ ؟۔۔۔
    یہ سب آنکھ کی پُتلی سے نہیں دیکھا جاتا ۔ نظر صرف وہی آتا ہے جو آنکھ کی پُتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے۔ جو تمہارے پاؤں کو مقدس خیال سے چھونے کی جسارت کرتا ہے اور میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے۔۔۔
    ورنہ دیکھو نا! کوئی فرق ہے دونوں میں؟۔۔۔۔ ”
    میں نے لاشعوری طور پر پاؤں کو سمیٹا۔”
    اب یہ لفظ لا شعوری ہی پوری کہانی ہے،یہ لفظ قابل غور ہے۔
    مرکزی کردار اگر چہ بہت ٹوٹا بکھرا ہوا ہے۔محبت کے سنگ نے اس کا وجود تار تار کر دیا ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہوس ٹھنڈی کر کے چھوڑ جانے والے سے انتقاماً یہ راہ اختیار کی۔ ۔۔۔
    اقتباس:
    “جب اس کی جنسی کشش کم ہوئی تو وہ مجھے یہاں پھینک گیا
    اس نے کیا پھینکنا تھا ۔۔۔ میں نے بھی خود کو پھینک ڈالا۔ ایک گدھ نوچے یا ہزار ۔۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے” اس کا لہجہ بے حسی کی آخری حدود کو چھو رہا تھا۔”
    یعنی عورت کی محبت تو محبت انتقام کا بھی اپنا ہی رنگ ہے پھر بھلے اس کی زد میں اس کی اپنی ذات ہی کیوں نہ آئے۔
    مرکزی کردار کے بیان میں تھوڑا سا تضاد بھی نظر آیا۔۔۔وہ محبت کر بیٹھی،پھر مٹا دی،پھر آنکھیں نم بھی ہیں،انتقاماً طوائف بھی بن گئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ محبت بھولی ہی نہ ہو وہ۔۔۔۔دس گھنٹے کی وہ محبت جس میں اسے باپ کے محنت سے بنائے در و دیوار ،بہن بھائیوں کی لاشیں بھول گئیں،جس محبت کا نزول ایسا دم دار تھا وہ محبت ایسے دل سے اتری تھوڑی ہوگی۔
    “اور پھر میں خود ہی اس محبت کے ہونے کی مرضی کے خلاف اپنے ہی دل کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ اور اسے خالی کردیا
    بلکہ دل نے خود ہی کہہ دیا ۔۔۔ خالی ہی چھوڑ دو۔
    اور میں نے ایسا ہی کیا جیسے قتل کے بعد پانی سے سارے نشان دھودئیے جائیں۔”
    اس افسانے میں ایک اور زبردست بات یہ لگی کہ دو عورتیں ہیں ایک حالات کی ستم ظریفی اور محبت میں دل محبوب پر وار کر ایسے حالات میں ہے کہ جیتے جی مر رہی ہے اور دوسری عورت موجودہ سائنسی و مشینی زندگی کی متاثرہ ہے بلکہ اس دور کی علامت بن کر ابھر رہی ہے۔تانیثیت کی وہ تحریک جو عورت کو مرد کے شانہ بشانہ لانے کی کوشش کرتی ہے اس تحریک کی عورت مجھے یہاں تھکی تھکی دکھائی دی ۔ترقی و کامیابی کی دوڑ،مسائل کے انبار،بینک کاقرض ،مکان کی تعمیر،تزئین و آرائش ،نو سے پانچ نوکری کرتے ہوئے وہ ورکنگ لیڈی یا انٹرویو کرنے والی کہہ لیں وہ اپنے کسی خسارے کا ذکر بھی کرنا چاہتی ہے لیکن کر نہیں پاتی۔ہلکا سا اشارہ اس جانب ملتا ہے کہ وہ محبت نہیں کر پائی دس گھنٹے بھی نہیں۔مادی زندگی کے بکھیڑوں میں الجھ کر رہ گئی ہے۔۔۔۔اور ایسی الجھی ہے کہ اعتراف کے لمحےبھی کسی گاڑی کے دھوئیں سے مس ہو کر اوپر فضاؤں میں کہیں معلق ہو گئے ہیں۔۔ایسا لگا فارحہ صاحبہ نے پتی ورتا عورت اور آزاد خود مختار عورت کا موازنہ کر ڈالا ہو یہ بات الگ ہے کہ دونوں کو خسارہ ہی ہوا۔۔۔۔
    مجموعی طور پر مرد کی حسن پرست فطرت ،مذہب کا سہارا لے کر جنسی آگ بجھانے،عورت کی محبت،اس کی بے بسی ،اس کا انتقام،اس کی ترجیحات سبھی کچھ اس ایک افسانے میں مجھے نظر آیا۔ ایسی کئی پہاڑی محبتیں پڑھتی ہوں جن کا محبوب بچھڑنے والی تاریخ کے سورج کے ساتھ غروب ہو جاتا ہے کبھی نہ واپس آنے کے لیے۔۔۔لیکن اس کہانی میں موجود محبت قاری کی فکر کو کئی موضوعات دے کر غروب ہوتی ہے۔۔۔۔۔ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔کسی بات سے آپ اتفاق نہ کریں یا گراں گزرے تو معذرت

    1. سپاس گذار ہوں صفیہ شاہد
      آپ نے بہت جامع اور مفصل تجزیہ کیا۔
      سلامت رہیے

  11. فا رحه ارشد نے محبت کے جذبے اور اسکی قدر کو نہایت چونکا دینے والے انداز میں بیان کیا-وقت کو ناپ کر-
    “مجھے اس سے دس گھنٹے محبّت ہوئی تھی ،صرف دس گھنٹے——–اس کے بعد میرا دل خالی ہو گیا-” جملے کا دوسرا حصّہ دل کو اتھل پتھل کر دینے کی لیے کافی رہا- سوال اٹھا،جس محبّت کا دورانیہ تک یاد رکھا گیا،پھر اسی محبّت سے دل خالی کیسے ہو گیا، یہی تجسّس اس افسانہ کی پہلی سیڑھی بنا-
    ان گنت سوال اٹھنے لگے، مثلا محبّت کا وہ منہ زور جذبہ جس نے ماں باپ،بہن بھائیوں کی اندوہناک موت کا کرب ماند کر دیا،جس نے مال اسباب لٹ جانے کی اذیت فراموش کرا دی، حقیر اور بے وقعت ہو کر زمین پر کیسےآ رہا-اس کی تشریح وہ یوں کرتی ہیں:
    “اورپھر میں خود ہی اس محبّت کے ہونے کی مرضی کے خلاف اپنے دل کے سامنے کھڑی ہو گئی، اور اسے خالی کر دیا-”
    محبّت میں کھا ئی چوٹ اور اٹھائی گئی ذلت کی کہانی فار حہ اس ایک جملے کو لکھ کر سنا دیتی ہیں:
    “اسکے پاس دوست کو اس کمرے کے لیے دینے کو کچھ نہ تھا سو اس نے مجھے پیش کر دیا-”
    “اسکے دوست کے ہاتھ لگانے سے پہلے میں نے آخری بار اس کی طرف محبّت سے دیکھنا چاہا مگر محبّت اپنا وقت پورا کر چکی تھی-”
    افسانے کے دوسرے حصّے میں فارحہ،ہیرا منڈی میں آنے والی کئی مجبور عورتوں پر بیتے دکھ کو بیان کرتے ہوۓ لکھتی ہیں:
    “وہ ہیرا منڈی میں نئی نئی آئی تھی مگر اس کی آنکھوں کی پر اسرار خاموش اداسی بتاتی تھی کہ وہ لائی گئی ہے،خوک تو وہ کہیں اور رہتی ہے،کسی نامعلوم جزیرے پر-
    پھر آنکھ کی پتلی سے نظر آنے والے منظر کو لفظوں میں ڈھا لتے ہوۓ دو عورتوں کے درمیان کا مکالمہ لکھتی ہیں :
    “یہ سب آنکھ کی پتلی سے نہیں دیکھا جاتا-نظر صرف وہی آتا ہے جو آنکھ کی پتلی کے پوشیدہ پردے میں چھپا ہوتا ہے-جو تمہارے پاؤں کو مقدس خیال سے چھو نے کی جسارت کرتا ہے وہ میرے پاؤں پر کیچڑ ڈال دیتا ہے-”
    دونوں کے پاؤں کا موازنہ کرتے ہوۓ ہیرا منڈی میں آئی عورت کہنے لگی- “ورنہ دیکھو نہ کوئی فرق ہے دونوں میں؟”
    آزاداور روشنی میں رہنے والی دوسری عورت دیانت داری سے سوچنے لگی-
    “کچھ خاص فرق نہیں———-میرا بھی نکاح والا ہر رات میرا جسم کسی گدھ کے جیسے نوچتا ہے-”
    اوراسے بھی اپنے خسارے کا احساس ہونے لگتا ہے جو پہلے نہ تھا-
    فا رحہ نے اس افسانے میں بے حسی،بے وفائی،اور کرب کے کئی روپ لفظوں کے پیرہن میں سامنے لائے
    نرگس شاد-ینگ ویمن رایٹر اسلام آباد چیپٹر

اپنا تبصرہ بھیجیں