گُھس بیٹھیا—–وسیم بن اشرف

ڈان اینڈوکرز پلاسٹک کمپنی کے دفتر میں تاریکی اور خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ راہداری میں مدھم روشنی کا بلب جل رہا تھا۔ ایک دروازے پر کمپنی کے پارٹنر ڈان ماریسن کے نام کی تختی نظر آ رہی تھی۔
اس وقت رات کے دس بجے تھے۔ لؤکول ادھر ادھر دیکھتا ہوا راہداری میں داخل ہوا۔ اس کی چال میں خوداعتمادی اور وقار پایا جاتا تھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہی اس پوری عمارت کا مالک ہے۔ ڈان ماریسن کے دروازے پر پہنچ کر وہ رُک گیا۔ دائیں بائیں دیکھنے کے بعد قفل میں چابی گھمائی اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ پھر دروازہ بند کر کے اسے دوبارہ مقفل کر دیا۔ چند سیکنڈ تک وہ دروازے سے پشت لگائے کھڑا اندر کا جائزہ لیتا رہا۔ اس کا داہنا ہاتھ کوٹ کی جیب میں تھا جس میں اس نے اعشاریہ تین آٹھ کا پستول پکڑ رکھا تھا۔ کچھ دیر بعد جب اس کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہو گئیں تو وہ دبے پاؤں چلتا ہوا ڈان کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سامنے بڑی سی میز پر دو ٹیلی فون پڑے تھے۔
اسے ڈان سے ملے ہوئے چار سال گزر چکے تھے۔ پہلی ملاقات اس کے لئے انتہائی ناخوشگوار ثابت ہوئی تھی۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب یہ دوسری ملاقات ڈان کے لئے انتہائی ناخوشگوار ثابت ہو گی۔
چند روز قبل اس کے خصوصی ایجنٹ کروگر نے اسے بتایا تھا کہ رائے وکرز نامی ایک شخص اس کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے۔
’’کیا یہ ڈان اینڈوکرز کمپنی کا پارٹنر تو نہیں؟‘‘
’’وہی ہے‘‘ کروگر نے جواب دیا تھا۔
’’کیا یہ شخص مجھے جانتا ہے؟‘‘
’’نہیں‘‘ کروگر نے کہا۔
’’وہ صرف اتنا جانتا ہے کہ تم معاوضے پر قتل کرتے ہو‘‘
’’اور وہ کس شخص کو قتل کروانا چاہتا ہے؟‘‘
’’اپنے پارٹنر ڈان ماریسن کو‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’اس کا جواب تو رائے ہی دے سکتا ہے‘‘
یہ بات سن کر کول نے سگریٹ سلگایا اور کھڑکی سے باہر گھورنے لگا جہاں ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ کسی ایسے شخص کو قتل کرنا قطعی غلط تھا جس کے ساتھ کسی طرح کی جان پہچان رہی ہو۔ اس میں بہت زیادہ خطرہ تھا۔
’’وکرز نے کس جگہ پر ملاقات کرنے کو کہا تھا؟‘‘ اس نے کروگر سے پوچھا۔
کروگر نے اس کے ہاتھ میں ایک کاغذتھما دیا جس پر وقت، تاریخ اور فون نمبر درج تھا۔
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
رائے وکرز اور کول کی ملاقات چڑیا گھر کے اندر ہوئی۔ کول نے رائے کو آسانی کے ساتھ پہچان لیا تھا تاہم مزید احتیاط کے طور پر پوچھا ’’کیا تم رائے وکرز ہو؟‘‘
’’ہاں۔۔۔ اور کیا تم کروگر کے آدمی ہو؟‘‘
’’کروگر میرا آدمی ہے‘‘ کول نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’تمہیں کس نے بتایا کہ میں تمہارے کام آ سکتا ہوں؟‘‘
’’مجھے اپنے ایک دوست کے دوست سے معلوم ہوا تھا‘‘
کول کو یہ جواب پسند آیا۔ وہ ایسے لوگوں کو زیادہ پسند کرتا تھا جو دوسروں کا نام بتانے میں عجلت سے کام نہیں لیتے۔
’’بہت خوب‘‘ کول نے کہا
’’تمہارے کام کی نوعیت کیا ہے؟‘‘
’’میں اپنے پارٹنر ڈان ماریسن کو۔۔۔ قتل کروانا چاہتا ہوں‘‘
’’اور قتل کی وجہ کیا ہے؟‘‘
’’میں پورے کاروبار پر قبضہ کرنا چاہتا ہوں‘‘
’’تم کاروبار پر کیوں قبضہ کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’تعجب ہے‘‘ وکرز نے کہا۔
’’اتنی سی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آ سکی۔ کاروبار کا مطلب ہے، دولت‘‘
’’کیا اس کے علاوہ بھی کوئی وجہ ہے؟‘‘
’’ہاں‘‘ وکرز نے غرا کر کہا۔
’’اس نے میری بیوی کے ساتھ ناجائز تعلقات استوار کر لئے ہیں‘‘
’’ہوں۔۔۔ دو نہایت معقول محرکات‘‘ کول نے کہا۔
’’اب معاوضے کی بات ہو جائے‘‘
وکرز نے جیب سے ایک سفید لفافہ نکال کر کول کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ’’25 ہزار ڈالر کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس لفافے کے اندرساڑھے 12 ہزار ڈالر ہیں یعنی نصف معاوضہ اور نصف کام کی تسلی بخش تکمیل کے بعد واجب الادا ہوگا‘‘
کول نے لفافہ لیتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور پوچھا
’’اب مجھے ڈان کی مصروفیات کے بارے میں پوری تفصیل چاہیے‘‘
’’تفصیلات تمہیں آج شام کو مل جائیں گی‘‘وکرز نے کہا۔
’’بلکہ میں تمہارے لئے بڑا عمدہ موقع فراہم کردوں گا تاکہ تم آسانی کے ساتھ اسے قتل کر سکو‘‘
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
پانچ سال قبل ڈان ماریسن، کول کی بیوی کو لے اڑا تھا۔ جو کچھ عرصے بعد ٹیکساس کے ایک موٹل میں مردہ پائی گئی تھی۔ ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق اس نے زیادہ تعداد میں خواب آور گولیاں کھا لی تھیں۔ وہ ایک عرصے سے ڈان کو قتل کرنے کی تمنا دل میں لئے پھر رہا تھا۔ وہ خوش تھا کہ اسے اپنے دشمن کو قتل کرنے کے لئے پیسے بھی مل رہے تھے، تاہم یہ بات پیشہ ور قاتلوں کے بنیادی اصولوں کے سخت خلاف تھی۔ وہ کسی ایسے شخص کو قتل کرنے کا معاہدہ نہیں کرتے جس سے ان کا ذاتی عناد ہو۔ کیونکہ پولیس بالآخر کھوج لگاتے لگاتے ان تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم وکرز نے بڑی عمدہ منصوبہ بندی کی تھی۔ اس نے کول کو ڈان کے دفتر کی چابی مہیا کی تھی اور اس بات کا انتظام بھی کر دیا تھا کہ مقررہ وقت پر عمارت کے اندر کوئی شخص موجود نہ رہے۔ کول رات کے ٹھیک دس بجے ڈان کے دفتر میں چھپ کر بیٹھ جائے گا۔ اس دوران میں وکرز کسی دوسری جگہ سے ڈان کو فون کر کے کہے گا کہ وہ دفتر میں بیٹھا ہے اور کسی ضروری کام کے بہانے سے اسے دفتر میں بلائے گا۔ جب ڈان دفتر میں پہنچے گا تو وکرز کے بجائے کول کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔
ڈان کو فون کرنے کے بعد وکرز ڈان کے دفتر میں فون کرے گا جہاں کول بیٹھا ہو گا۔ وہ کول سے کوئی بات نہیں کرے گا اور دو دفعہ گھنٹی بجنے کے بعد فون بند کر دے گا جو اس بات کا اشارہ ہو گا کہ ڈان وہاں پہنچ رہا ہے اور یہ کہ فون وکرز نے ہی کیا ہے۔ فون بند کرنے کے فوراً بعد وہ دوبارہ رنگ کرے گا۔ کول اس فون کا جواب دے گا۔ تب وکرز اسے بتائے گا کہ ڈان کتنی دیر میں وہاں پہنچ رہا ہے۔
*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*
دس بجکر بیس منٹ پر ڈان کی میز پر رکھ ہوئے فون کی گھنٹی دو مرتبہ بجی اور پھر بند ہو گئی۔ گھنٹی مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے بجی تھی۔ کول ایک دم چوکنا ہو گیا۔ اس کے ذہن میں مختلف قسم کے وسوسے ابھرنے لگے۔ ایک لمحے کے بعد دوبارہ گھنٹی بجی۔ کول نے نہایت احتیاط سے ریسیور اٹھا کر کان سے لگا لیا۔
’’ہیلو لؤکول؟‘‘ دوسری طرف سے کسی نے کہا۔
وہ آواز وکرز کی نہیں تھی اور نہ ہی وکرز اس کا نام جانتا تھا۔ کول کے جسم میں خوف کی ایک سرد سی لہر سرایت کر گئی۔
’’کول! میں جانتا ہوں کہ یہ تم ہی ہو‘‘ آواز میں ہلکا سا طنز پایا جاتا تھا۔ ’’میں تمہارا پرانا دوست ڈان ماریسن بول رہا ہوں، مجھے معلوم ہے کہ تم میرے دفتر میں میری کرسی پر بیٹھے ہو۔ شاید تم یہ سوچ رہے ہو کہ یہ سب کیا چکر ہے‘‘
لاشعوری طور پر کول کی گرفت ریسیور پر سخت ہو گئی۔ اب خاموش رہنا مناسب نہیں تھا۔
’’واقعی، میں اس چکر کے بارے میں ہی سوچ رہا ہوں‘‘
’’گھبراؤ نہیں‘‘ ڈان نے پرمسرت لہجے میں کہا۔
’’میں ابھی ساری بات سمجھا دیتا ہوں۔ تم اس وقت ڈان اینڈ وکرز پلاسٹک کمپنی کے دفتر میں بیٹھے ہو۔ جانتے ہو ہم کیا چیز بناتے ہیں؟‘‘
’’ہم پلاسٹک سے کئی قسم کی چیزیں بناتے ہیں‘‘
ڈان نے کہا۔ ’’پچھلے دنوں ہم نے پلاسٹک کا ایک ٹائم پیس بنایا تھا۔ تمام کا تمام پلاسٹک کا۔
کول خاموش رہا۔ البتہ اس کا سانس تیزی سے چل رہا تھا۔
’’تم پوچھو گے کہ پلاسٹک کا ٹائم پیس بنانے کا کیا فائدہ؟‘‘ ڈان نے کہا ’’سنو کول! ہم انشورنس کمپنی سے کلیم وصول کرنا چاہتے تھے‘‘
کول کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ وہ ہنوز ڈان کا مطلب نہیں سمجھا تھا۔ لیکن وہ خوب جانتا تھا کہ ڈان انتہائی خطرناک آدمی ہے۔
’’انشورنس کلیم؟‘‘ کول نے کہا۔ ’’میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا‘‘
’’مطلب بالکل واضح ہے‘‘ ڈان نے کہا ’’ہمارا کاروبار نقصان میں جا رہا ہے اور ہم اس کا فائر انشورنس کلیم وصول کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی ایسے آدمی کی تلاش میں تھے جس کے پاس ہمارے کاروبار کو جلانے کا بہت زیادہ جواز موجود ہو اور تم سے بہتر مجھے کوئی شخص نہیں مل سکا۔ تمہارے پاس مجھے قتل کرنے اور میرے کاروبار کو نقصان پہنچانے کا اچھا خاصا جواز موجود ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ تم کسی نہ کسی روز مجھے ضرور قتل کر ڈالو گے۔ اس اعتبار سے اگر میں نے تمہیں قتل کرنے کا پروگرام بنایا تو کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘
’’سنو ڈان۔۔۔ میری بات سنو‘‘ کول کو ایک دم ٹھنڈے پسینے آنے شروع ہو گئے تھے۔۔۔ ’’دراصل بات یہ ہے۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ۔۔۔‘‘
’’پلاسٹک کا ٹائم پیس درحقیقت آگ لگانے والا ٹائم بم ہے‘‘ ڈان نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ایک ٹائم پیس ہم نے سیڑھیوں میں اور ایک لفٹ کے اندر رکھ دیا تھا۔ میرے حساب سے اب سے پانچ منٹ قبل دونوں بم پھٹ چکے ہوں گے اور اب تم عمارت سے باہر نہیں نکل سکو گے کیونکہ آگ نے تمام راستے مسدود کر دئیے ہوں گے۔ اگر تمہاری کوئی آخری خواہش۔۔۔‘‘
کول نے ریسیور میز پر پٹخ دیا اور دیوانوں کی طرح باہر کی طرف بھاگا۔ دھوئیں کی بو کمرے کے اندر تک پہنچ گئی تھی۔ جب وہ راہداری میں پہنچا تو دھوئیں کے گھنے بادلوں کو اپنی طرف بڑھتے پایا۔ کول زمین پر گھٹنوں کے بل جھک کر دھوئیں کی دیوار کو عبور کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ لیکن کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد اسے لپکتے ہوئے شعلے نظر آئے۔ وہ کھانستا ہوا پیچھے ہٹ گیا۔ پھر وہ دوبارہ کمر ے میں گھس گیا تاکہ مدد کے لئے کسی کو فون کر سکے۔ جب اس نے ریسیور اٹھایا تو ڈان کو بدستور باتیں کرتے پایا۔
’’۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے کہ تمہاری موت پر کوئی آنسو بہانے والا نہیں ہو گا‘‘ وہ کہہ رہا تھا ’’کیونکہ تم کسی کے دوست نہیں تھے، تم بے شمار لوگوں کو معاوضے پر قتل کر چکے ہو، کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اپنی موت کے وقت تمہارے کیا احساسات ہیں۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ڈان۔۔۔ ڈان، خدا کے لئے کچھ کرو۔ میں مر رہا ہوں، آگ چاروں طرف سے میری طرف بڑھ رہی ہے۔۔۔ تت۔۔۔ تمہیں میری موت سے کچھ حاصل نہ ہو گا‘‘
’’مجھے تمہاری موت سے بہت کچھ حاصل ہو گا‘‘ ڈان نے پرسکون لہجے میں کہا ’’نیا کاروبار شروع کرنے کے لئے انشورنس کی رقم ملے گی اور ایک خطرناک دشمن سے نجات بھی مل جائے گی۔ اچھا خدا حافظ‘‘
کمرے کی کھڑکیاں اور دروازے آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔ کول کے ہاتھ سے ریسیور چھوٹ گیا اور وہ بے سدھ ہو کر فرش پر گر گیا۔

*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*

گُھس بیٹھیا—–وسیم بن اشرف” ایک تبصرہ

  1. یہ تحریر ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ نہیں ہونی چاہیے لیکن پڑھتے ہوئے گمان گزرتا ہے جیسے انگریزی فکشن کا ترجمہ پڑھ رہے ہیں ، اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سرِ دست کمپنی و کرداروں کے نام و افعال اور ماحولیات کے ساتھ اس کی جزئیات جیسے 0.38 کارٹریج کے حامل ریوالور کا استعمال جو عالمی جنگِ اول تا نوے کی دہائی تک امریکہ و یورپ کی پولیس اور سیکرٹ ایجنٹس میں مقبول رہا ، اتفاق کہہ لیں کہ یہی عرصہ انگریزی سسپنس فکشن کے بامِ عروج کا زمانہ بھی ہے ، اس فکشن نے بعد ازاں اردو جاسوسی ادب کو بھی بہت متاثر کیا ، اردو ادب پر یہ اثرات اتنے گہرے تھے کہ بیشتر اوقات پورے کے پورےواقعات ، کردار اور نام جوں کے توں اردو ادب میں در آئے محسوس ہوئے، انگریزی ادب سے دوری نے اردو ادیبوں کو اس ضمن میں کھُل کھیلنے کا مزید موقع فراہم کیا ، خیر ، مذکورہ بالا افسانے کی نسبت یہ سوال ضرور دل میں پیدا ہوتا ہے کہ جب اس قدر جاسوسی اور سسپنس سے بھر پورخیال اپنی اوریجنل حالت میں لکھاری کے ذہنِ رسا میں تخلیقی طور پر راسخ ہوا تو افسانے کے نام و کرداراردو ماحول سے مانوس ہونے سے کیسے چُوک گئے ، دانستہ طور پر ایسا کیا جا سکتا ہے لیکن میری نا چیز رائے میں زیرِ نظر افسانے میں دانستہ ایسا نہیں ہوا !

اپنا تبصرہ بھیجیں