معاوضہ—ناصرصدیقی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

اس شادی شدہ عورت کی پہلی ہی بے وفائی ایک پرانی قحبہ اور دلالہ نے پکڑی تھی۔
مردملگجے اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر اپنے چہرے کے سارے تاثرات کے ساتھ بھاگ گیا تھا اور عورت کھڑی تھی جس کی نشہ آور اور خوشبو سے اٹی پڑی زلفوں کی چند لٹیں مست ہواؤں سے بکھری ہوئی تھیں ۔کسی غیر مرد کو پیش کی گئی اپنی پہلی ہی خود سپردگی کی تپش ٹھنڈی اور سبو تاژ ہونے پر عورت کے بدن میں فطر ی اور غیر مذہبی ناراضگی اور غصہ کی گرم لہریں اٹھنے لگی تھیں جو جذبات میں بہہ کر یہ بھول گئی تھی کہ وہ کس بزرگ تہذیب اورثقافت کو شرمندہ کر گئی ہے۔
’’میرا دوپٹہ دیجئے نا!‘‘عورت نے ایک شائستہ اور تعلیمیافتہ لہجہ اپنا کر،ایک منت بھرے انداز میں کہا جس کی صرف آنکھیں شرمندہ اور خوفزدہ سی دکھتی تھیں۔
’’ اگر نہیں دوں گی تو تم کیا کرلوگی؟؟‘‘پرانی قحبہ نے ایک پر اعتماد لہجہ میں جواب دیا جس کی مضبوط گرفت میں نازک دوپٹہ تڑپ رہا تھا۔
اس پر عورت خاموش رہی صرف آنکھیں جیسے منتیں کرنے لگی تھیں۔
’’کون تھا وہ؟ایک ہمت پا کر اپنے زمانے کی مست اور گرم قحبہ اور پرانی دلالہ نے پوچھا جس میں ایک دلالی سی اور پرانی خرابیاں جاگنے لگی تھیں جو اس عورت مرد کے نامکمل ملاپ کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی اتفاقی کامیابی پر فاحشانہ انداز میں خوش دکھائی دیتی تھی۔
’’انھیں میں نے خود یہاں بلایا تھا۔‘‘پختہ عمر کی عورت نے جوا ب دیا جس کے پاس اب سوائے سچ کہنے کے اور کوئی صحیح راستہ نہیں بچا تھا۔
لہجہ کی پختگی میں بے خوفی دیکھ کر پہلے قحبہ ڈر سی گئی پھر سنبھل کر اپنی آنکھوں میں بلیک میلنگ سی دھمکی لاتے ہوئے بولی،’’اور تمہارا میاں کہا ں ہے؟شادی شدہ ہو نا؟‘‘
’’وہ یہاں نہیں ہیں۔اب میرا دوپٹہ دیجئے نا!‘‘اب کی بار کی التجا میں ایک تباہ کن اور شہوت پرستانہ مسکراہٹ بھی شامل تھی جس سے قحبہ کو اپنے پرانے اچھے دنوں کی یاد آگئی۔دراصل قحبہ اس تیز جسم اورجوانی سے بھری پختہ عمر کی عورت میں اپنے مطلب کی چیز پا گئی تھی۔
ایک باغی عورت لگتی ہے،اپنے بدن کی آواز پر شوہر سے طلاق تک لے کر اپنے محبوب پر نچھاور ہونے والی عورت____یہ سوچ کر قحبہ نے مسکرا کر اسکا دوپٹہ دے دیا،’’یہ لو دوپٹہ۔کتی،حرافہ! کسی اچھی جگہ پہ تو اپنے’’یار‘‘ کو بلالیتیں۔اس گندی گلی میں تم دونوں کتاکتی کی طرح دکھائی دیتے۔‘‘اور ساتھ ہی ہنسنے بھی لگی۔
عورت ہنسنے کی بجائے صرف مسکرا اٹھی،’’قسم سے! کوئی اور اچھی جگہ ملی نہیں۔‘‘اور اب کی مسکراہٹ سے جیسے اسکی روح بھی شہوت سے پر ہوگئی تھی۔ جیسے اس کے طلب گار جسم سے ٹکرا ٹکرا کر اسکی ایک تعلیم یافتہ بیوی اور سماج میں معزز عورت ہونے کی ساری ڈگریاں اور سندیں مٹی مٹی ہونے لگی ہوں۔
’’ کیا جسم کا بوجھ بہت بھاری ہو گیا تھا؟اپنے مرد سے سنبھالا نہیں جا رہا تھا؟‘‘ ماحول کو میٹھا بنانے کے لئے قحبہ اپنی فحاشیت کا گڑ ڈالنے ، پھیلانے گی۔
’’ہاں!‘‘عورت نے سنجیدہ ہو کر جواب دیا۔’’مجھے عذاب میں ڈالا ہے ’’اس‘‘ نے۔کیا عورت صرف اعلی خاندان،اچھی تعلیم ، دولت ،عزت اور چند زبردستی لائے گئے بچوں سے خوش ہوتی ہے؟‘‘
’’نہیں! اسے ایک مرد چاہیے،ایک مکمل مرد،ہے نا؟‘‘ قحبہ مسکرائی۔
’’ہاں!____ارے! میں دوپٹہ تو اوڑھ لوں۔‘‘اور پھر مسکرا کر اس نے دوپٹہ اپنے سر پر اچھی طرح رکھ دیا۔
دوپٹہ سے عورت اور بھی حسین دکھائی دی تو قحبہ میں ایک حسد سی آگئی اور اس نے جل کر پوچھا:’’کیا کل وہ پھر آئے گا؟‘‘
’’ہاں! میں نے انھیں مسلسل تین دنوں تک یہاں آنے کا کہا تھا۔‘‘
’’ اور ان تین دنوں میں تمہارا میاں بھی یہاں نہیں ہوگا۔حررررررام ذادی! ہے نا؟‘‘قحبہ نے رنڈی ذدہ مسکراہٹ میں اپنے پرانے تجربوں کو آزمایا تو عورت نے سر ہلا کر اقرار کیا کہ تم تو میری رگ رگ سے واقف لگتی ہو۔
پھر اچانک قحبہ نے آگے بڑھ کر عورت کی نیم ڈھیلی قمیص کے اندر ،تنے ہوئے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر اسے اوپر لے جانے لگی۔۔۔
’’کیا کر رہی ہو؟‘‘عورت حیران رہ گئی۔
’’کچھ نہیں۔‘‘قحبہ نے حرامی سی مسکراکر جواب دیا،’’سمجھ لو،اسکے بعد،میں اس گلی میں نہیں آؤں گی۔عیش کرنا اپنے یار کے ساتھ۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے عورت کی نرم بریزیئر میں چھپے ہوئے پستان پہ اس زور سے چٹکی لی کہ ’’عورت‘‘ کی کسمساتی،تڑپتی چیخ نکل گئی اور قمیص سائیڈ سے پھٹ بھی گئی۔عورت کا چہرہ قحبہ کی اس غیر متوقع حرکت سے سرخ ہو چکا تھا۔ اس سے پہلے،اسے کبھی بھی کسی نسوانی ہاتھوں کا اسطرح کا درد بھرا سامنا کرنا نہیں پڑا تھا۔
قحبہ اب ہنستے ہوئے،مٹک مٹک کر چلنے لگی تھی اور عورت اب وہاں کھڑی یہ سوچنے لگی تھی کہ یہ قحبہ کا کونسا انداز تھا؟ کیسا جذبہ تھا؟اس نے ایسا کیوں کیا تھا؟کیا اب وہ واقعی دوبارہ نہیں آئے گی؟کیا یہ سب اسکا ’’معاوضہ‘‘ تھا بجائے مجھے بلیک میل کرتی؟یا کوئی اور نفسیاتی الجھن اور گرہ؟؟؟اپنے عالیشان گھر کی طرف لوٹ جاتے ہوئے عورت نے سنا ،قحبہ گلہ پھاڑ پھاڑ کر اپنے سر پہ رکھی کھانے کی معمولی چیزوں کو بکوانے لگی تھی۔
دوسرے دن آشناکے نہ آنے پر عورت نفرت،غصہ اور بے بسی سے تپنے لگی۔۔۔پھر اتنی بے بس ہو گئی کہ سوچنے لگی کہ آج اگر وہ قحبہ بھی آجائے تو بھی ٹھیک ہے۔ لیکن قحبہ نہیں آئی کہ اپنے قول کی پکی تھی،مرد ہی کچا نکلا تھا جو ’’عورت‘‘ کی آشنائی کے’’لائق‘‘ ہی نہیں تھا۔
عورت نے غصہ،نفرت اور نہ جانے اور کس جذبات کے تلے آکر اپنا دوپٹہ گلی میں پھینک دیا اور یونہی ننگے سر’’اپنے گھر‘‘ چلی آئی۔

یہ افسانہ بھی پڑھیں
آنکھ کی پتلی کا تماشا… فارحہ ارشد

معاوضہ—ناصرصدیقی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)” ایک تبصرہ

  1. واہ واہ ، بہت خوب ، ناصر صدیقی بھائی سمپلی سُپرب ، کیا کہنے ، سلامت رہیں ، لکھتے رہیں –

اپنا تبصرہ بھیجیں