زم زم کی واپسی—عظمٰی عروج عباسی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

1 ڈور پاسورڈ پریس کرتی ہوئی “حورالعین” دھک دھک کی آواز سے سیکیورٹی کو چیرتی ہوئی سی سی ٹی وی ہال میں داخل ہو رہی تھی۔معمول کے مطابق فین سینا کی نظریں حور کو ہی فالو کررہی تھی تو میم فین سینا تم سارے کیسسز چھوڑ کر مجھے ہی sourt out کرنے میں لگی تھی ابھی بھی تماری آف میں پورے تین منٹ اور پچیس سیکنڈ باقی ہیں حور نے سپلٹ کی سپید بڑھاتے ہوئے سامنے نصب ایل ای ڈیز اور اپنی رسٹ واچ کو ایک ساتھ دیکھتے ہوئے بھر پور مسکراہٹ کے ساتھ ریوالونگ سیٹ سنبھالی۔کیلی فورنیا میں قائم آٰئی ٹی کے اس ہیڈ آفس میں فین سینا اور اسکی ٹیم کافی پرانی تھی دنیا بھر کے ماسٹر مائنڈ آئی کیو لیول کے لوگ اسمیں کام کرتے تھے “حورالعین ” کو آفس جوائن کیے محض اڑھائی سال کا عرصہ ہوا تھا لیکن حور اپنی اسٹڈیذ اور یہ جاب نہایت پر اعتماد انداز سے کررہی تھی۔بلا شبہ وہ ملٹی ٹلینٹڈ ہونے کا ساتھ مذہبی اور مشرقی اطوار کی پْرکشش لڑکی تھی اس کے حسن کے چرچے آفس میں عام تھے لوگ اسے قلو پطرہ کہتے تھے اس کی پر وقار شخصیت کے سامنے ماہر تجربہ کار لوگ بھی مات کھاتے تھے ہمیشہ خود کو نظر انداز کرتی حور مختلف ایکٹی ویٹیز میں مشغول نظر آتی اسے کامیاب جرنلسٹ صرف اسلئے بننا تھا کہ یہ اسکی جگری دوست فیری فاضل” “عرف بوزم “کا خواب تھا اور حور کیلئے passion(جنون)۔۔۔.

اف یا حمیمی تم اتنا کہاں مصروف ہو ؟پرسوں سے آف لائن جارہی ہو امریکہ میں جا کر بس تم بھولتی جارہی ہو ہینڈ بیگ پھینکتے ہوئے حور بیڈ پر تھکن سے ڈھیر ہوگئی فون ان کرتے ہی بوزم کے آڈیو میسج لائن سے آرہے تھے “اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت “تو محترمہ اپکو کتنی کالز کی آگاہ کرنے کیلئے لیکن اپکا نمبر نان سروس تھا میں تین دن سے ایک پروجیکٹ میں مصروف تھی اسکی ڈاکومینٹری پاکستان میں بھی مختلف چینلز کو بھیجی ہے تم بھی دیکھنا “حورالعین “کال کر کے نروٹھے انداز میں وضاحت پیش کررہی تھی۔ جھگڑے کے بعد گھنٹوں دونوں شاپنگ، اسٹڈیز، گروپینز، اور پھر اپنے اپنے passion’s کو لے کر پر جوش ہو جاتی یہ ہر رات کا معمول تھا۔۔
بار بار چہرے پر آتے لمبے سنہری بالوں کو کان کے پھیچے اڑھستی حور کیبل بی این سیز (“bnc) کو تاروں کے گچے کے ساتھ ٹائیٹ کرتی جیسے ہی ایلیویٹرز سے اتری سودیم اور فین سینا بڑی محویت سے اسے گھور رہے تھے۔لوز پنک ٹراؤزر اور بلیو شرٹ ٹکنیشن کے یونیفارم میں وہ پہلی مرتبہ دوپٹے کے بغیر سیلنگ بورڈ برابر کرتی کمپاونڈ میں اتر رہی تھی۔خود کو کمپوز کرتے ہاتھوں میں لوشنز رگڑتے ہوئے اسے خود کو نارمل کرنے میں چند منٹ لگے۔
is every thing is fine?
LCD کا بٹن آن کرتے ہوئے حور چونکنے والے انداز
سیانکی طرف مخاطب تھی۔؟
مس حور خوش قسمتی سے آج ہمیں آپکے دیے ہوئے ایک عشائیے پر پہنچنا تھا اور بد قسمتی سے ریسٹورنٹ اپکو نا پا کر ہم یہاں آ گئے اور یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ میزبان مہمان کو رسیو کرنے آرہے ہیں اب فین سینا نے بھی گولڈن کنڈلے بالوں کو ایک طرف کرتے ہوئے بشاشت سے جملہ کسا اور حور مجھے فین سینا کے سامنے کتنی embarrassment محسوس ہوئی کم ازکم اشینز پاکستانی مہمان نوازی میں اتنے بھلکڑ نہیں ہوتے۔وہ دونوں مکمل ٹیز کے موڈ میں تھے۔یو ار رائیٹ سودیم دراصل کچھ کیمراز آف تھے اور مجھے ریکارڈنگز چیک کرنی تھی اسلئے میں خود سیٹ کرنے لگی۔اوہو۔وہ دونوں بھنویں چڑھا کر داددے رہے تھے۔۔

اور سنو! Hvc/spilt surver room اور sap میں بھی تکنیکی پرابلمز ہیں اب تم ایز ٹیکنیشن اور سرویلنس کی ذمہ داری بھی لے لو میں آج ہی hr سے بات کرتی ہوں
فیس سکیین آوٹ کرتے ہوئے فین سینا جوش میں بولے جارہی تھی۔۔
ڈنر سے واپسی پرحور العین الامیڈا اسلامک لاء4 سینٹر کے سامنے اتر گئی تھی اسے بوزم کیلئے آرٹیکلز سمری تیار کرنی تھی۔۔

“زندگی اور پتنگ بعض دفعہ انسان کو ایک ہی طرح خوار کرتے ہیں ایک ہی طرح fantasize کرتے ہیں ایک ہی طرح اپنے پھیچھے دوڑاتے ہیں ایک ہی طرح خوشی سے پاگل کرتے ہیں اور۔۔۔۔ کھبی کھبی مایوس بھی لیکن نہ پتنگ کوکوئی آسمان میں آڑنے سے روک سکتا ہے نہ زندگی کو چلنے سے۔”
ماما جی یہی زندگی کی فالاسفی ہے اور آپ کیوں فکر کرتی ہیں میرا لاسٹ ایئر تو ہے پھر اپکے سارے شکوے ختم، چھٹی کا دن میں اور بوزم اب باہر نہیں اپ کے ساتھ گزاریں گیپرامس اس دفعہ عمرے پر بھی میں اپکے ساتھ جاؤں گی اور فیری بھی، حور ماما کو چڑاتے ہوئے شوخ ہوئی اور خوب زم زم بھی پیوں گی۔ اونہہ بس کرو بیٹا تمہارا یہ فیری ٹاکشاک جو مجھے فکشن سٹوری لگتا ہے تمہارا کعبہ قبلہ تمہارے والدین نہیں بلکہ فیری نامہ ہے پتہ نہیں کیا جادو کیا ہے اس نے تم پر۔۔۔۔
پتہ نہیں کب جان چھوٹے گی میری بچی کی? کھٹاک سے ساکن ہوتے فون کی بلیک اسکرین دیار غیر میں حورالعین کے دل کو بھی اندھیر کر گئی “عباسیہ مینشن بڑے پاپا تائی مما بابا کزنز اور بہن بھائیوں کی یاد میں اسکا دل ڈوبنے لگا وہ جوائنٹ فیملی کا حصہ تھی دو بھائیوں طلال حیدر اور فاتحہ سے چھوٹی ہونے کی وجہ سے سب کی دلعزیز تھی اور یہی وجہ تھی کہ بابا سے ہر بات منوانے میں کامیاب ہو جاتی ہمیشہ ہونہار ہونے کے ساتھ حور کے بہترین ریکار،ڈز اس کی شخصیت کو نکھارتے تھے ورنہ عباسیہ مینشن میں کوئی لڑکی اس طرح abroad اکیلی تعلیم کی غرض سے نہ جاتی کجا کہ جرنلسٹ بننا اور اسکرین پر آنا تو گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا یہ حور ہی تھی جس نے اپ زندگی سے تین سال بھیک کے طور پر بابا سے مانگے تھے صرف اسلیئے کہ اسے سپریم کورٹ کے باہر جا کر کسی کو اپنی ڈگری دکھانی تھی اور اپنے عہد و پیما کا منصفی دیکھنا تھا یہی حور کی زندگی کا فوکس پییشن اور حاصل تھا۔۔۔۔
ایکسیوز می میم ! کلاس میٹس کے ساتھ وہ ایم آئی ٹی کے کوریڈور سے گزرتے ہوئے چیئرٹی ایونٹ ہال میں داخل ہو رہی تھی عقب سے کسی نے پکارا حور پلٹی۔آپ؟
اسکی ہرنی جیسی بلو مون آنکھیں مزید پھیل گئی چمکتے سنہری بال اونچی پونی ٹیل دوپٹے میں وہ پہلے دن سے بھی زیادہ جازب نظر لگی تھی۔آپ یہاں؟ زبان حلق سے چپک گئی تھی جی بد قسمتی سے میں ہی یہ ایونٹ لیڈ کر رہا ہوں m it یونیورسٹی اسے اپنے سر پر محسوس ہوئی ھر چیز جیسے گھوم رہی تھی یونیورسٹی کے دروبام گھوم رہے تھے ہر منظر دھندلا سا گیا تھا گھنے سائے لہرا رہے تھے۔کڑاکے دار تھپڑ کی گونج حور کو اب اپنے گالوں پر محسوس ہونے لگی وہ برف کا پہاڑ بن کر زمین دوز ہورہی تھی ہا۔ہا۔ہا کیا یاد رکھے گا گروپینز اف حورالعین سے پالا پڑا تھا ساری آوزیں گڈ مڈ ہورہی تھی رینج روور ( renge rover ) کے شیشے ٹوٹنے کی چھناکے دار آوازیں بلگری bulgari.. کیا سوچ رہی ہیں حور العین؟ شائستگی کے ساتھ انگریزی کے بجائے وہ اب اردو میں مخاطب تھا؟
۔
سر سر لسن ٹو می؟ پلیز مجھے معاف کردیں میرا فائنل ایئر ہے اپ کی ایک کمپلین میرا پیشن میرا ڈریم میرا ٹرسٹ میرا کیریئر سب تباہ ہو جائے گا میں آپ کے اگے ہاتھ جو ڑتی ہوں۔آپ… آپ مجھے دو تھپڑ مار دیں وہ اسکے ہاتھوں کی طرف بڑھی تھی وہ دو فٹ پھیچے ہوا تھا اور رینج روور کے شیشے جتنا نقصان ہوا میں جاب کر کے چکا دونگی میں جانتی ہوں وہ بہت مہنگی گاڑی تھی اور ہمیں اسکا اندازہ بعد میں ہوا۔ازلان نے اپنی مسکراہٹ زبردستی دبائی تھی اور اپ کی بلگری بلکل محفوظ ہے بوزم کے پاس ،ائی مین فیری کے پاس وہ سر جھٹک کے تصیحیح کرہی تھی ہاں ہاں پاکستان لاہور میں۔۔۔ میرے پاس کچھ رقم ہے آپ وہ بھی لے لیں سٹاپ حورالعین! ڈونٹ بی ایو لایک چائلڈ آواز تھی یا جے ایف 17 تھنڈر کی گونج
غزالی آنکھوں کی لالی کھڑی ناک اور دودھیہ ہاتھوں کو رنگ آلود کرہی تھی مس حور ازلان زمین پر پاؤں کے بل بیٹھ گیا تھا جھکا سر ابھی بھی جھکا تھا

آج کے چیئرٹی پروگرام کی سب سے زیادہ حق دار کنٹیسٹ اپ ہی ہیں شاہد ؟ اور وہ نقصان نہ ہوتا تو آفٹر آل اپ مجھے کیسے ملتی؟ مونچوں کو تاؤ دے کر دلچسپی سے دیکھتا ہوا مسکرایا تھا۔ایک بات بتائیں؟ اگر اپ کی بوزم اور گیارہ عدد گروپینز یہاں ہوتی تب بھی آپ؟
چاروں طرف خامشی تھی چیئرٹی اڈیٹیوریم سے ازلان حیدر پکارہ جارہا تھا۔پتہ ہے بوزم اسنے اپنی تقریر کے اختتام پر کیا کہا تھا؟
اچھی تہذیب اور اعلیٰ اقدار عورت سے بدلہ نہیں لیتی بلکہ اسکے گناہ پر بھی عزت اور مقام دیا کرتی ہیں تب ہی آزاد اور زندہ معاشرہ وجود میں آتا ہے”ارے بوزم اونٹ کے منہ میں زیرہ “مجال ہے اسے کوئی ملال ہو اتنے بھاری نقصان پر بھی کمال کاکا بندہ تھا یار وہ برملا اعتراف کررہی تھی۔
یا حمیمی تم بھی نا وہ تو بس تماری بلو مون آنکھوں میں ہی ڈوب گیا ہوگا اب اور کیا آ بیل مجھے مار “کیا رینج روور کیا بلگری؟ ہم نے بڑے بڑوں کو سیدھا کیا ہیپھر یہ کس کھیت کی مولی؟ تم اب بلگری کی فکر نہ کرو میں نے سوچ لیا ہے۔گڈ نائیٹ!
آج تو بڑی خوش لگ رہی ہیں حورالعین؟ لگتا ہے پاکستان پہنچتے ہی پیا گھر سدھار جائیں گی سٹیفن سینا منہ ٹیڑھا کر کہ شوخ ہوا اسپیڈ ڈوم مانیٹرنگ کرتے ہوئے وہ دائیں بائیں بٹن پریس کرنے لگی “حور ہم دونوں شادی تو کریں گے ہی نہیں کی بھی تو ایک ہی لڑکے سے یا پھر دو بھائیوں سے فیری نے سرگوشی کی فیری اور فیری ٹالز حور مسکرانے لگی سٹیفن یہ فین سینا آج کل کہاں غائب ہے؟ اسنے موضوع بدلا یہ تو آپ سودیم پیر زادہ سے معلوم کریں لیکن وہ تمہاری بیسٹ فرینڈ ہے۔۔۔۔۔۔108 سے کورڈلیس فون کی بیپ نے دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا سٹیفن فون پر لاپرواہی سے بات کرتا گلاس ڈور کراس کر گیا۔
جرنلسٹ کیپ پہننے کے بعد حور فوٹو سیشن کررہی تھی ایم آئی ٹی واقعی امراء4 کی جامعہ تھی یہاں تعلیم حاصل کرنا ایک خواب سے کم نہ تھا وہ خود کو آخری بار بہت اونچی اڑان میں تول رہی تھی بار بار ہاتھ میں پکڑی ڈگری جسکے سفید لفافے پر گولڈن دل اور “دماغ کا لوگو ” اسکی انفرادیت پر دلالت کرتا تھا ستائشی انداز میں چومتی اور فیری کو تصور کرتی کتنا خوش ہو گی۔کیا وہ بھی وکیل بن گئی ہو گی؟

سرپرائز دینگے ہم دونوں فون بیگ میں رکھتے ہوئے حور کو اپنی بات یاد آئی۔ جامعہ کے پچھلے حصے میں وہ گھنٹوں سے پیر جھیل میں ڈھالے پْرسکون انداز میں چبوترے سے ٹیک لگا کر بیٹھی تھی وہ مدعوش تھی سارا عالم مدعوش تھا وہ ہر منظر کو قید کرنا چاہتی تھی جامعہ کے چاروں طرف سفید اور رنگ برنگے پھولوں کی باڑ تھی جھیل میں گرتے فوارے اور جھلمل کرتے قوس قزاح کے رنگ اترتی شام کی سرخی کے سارے عکس اپنی روح میں اترتا محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔…

دور سے آتی گھنٹی کی آواز اشارہ تھی کے سیکیورٹی اہلکار بلا رہا ہیوہ جیسے ہی مڑی گارڈ اسی کی سمت آرہا تھا پلیز سائن! حور متذبذب سی ہوئی کیا ہے یہ؟سفید گلابوں کا سٹینڈ جو دیکھنے میں آرٹیفیشل لگ رہا تھا نہایت خوبصورتی سے مزین اس بناوٹ میں تھا کہ حور نے چھو کر ستائشی انداز میں مہک اپنے اندر تک محسوس کی مخملی گرے ڈبیا اسنے حیرانگی سے بیگ میں ٹھونسی نایاب پھولوں سے سجا اسٹینڈ وہ جامعہ کو آخری تحفے کے طور سونپ ائی تھی گھر آ کر اسنے دوسری بار کارڈ پڑھا تھا “till death do us a part ”
عجیب ایڈوینچر تھا بوزم یا پہلی ؟وہ حیران ہوئی
۔ویزے اور دوسرے معاملات کو کلیئر کرتیمسلسل ایک ہفتے سے زیادہ لگ گیا تھا سن ویلی sunvally شاپنگ مال میں شاپنگ کے بعد حور فین سینا کے ساتھ کیفے ٹیریا میں آگئی بوزم یہاں کی کافی کمال ہے کافی یا کوفی؟ویڈیو کال پردونوں کھلکھلا کر ہنس پڑی فین سینا خوب محفوظ ہورہی تھی پتہ ہے حور مجھے مسلم اور ان سے جڑی سب چیزیں پسند ہیں جانتی ہو کیوں؟ اب وہ دونوں آخری بار Pacific occean بحرالکاہل سمندر کی گیلی ریت پر آبلہ پا واک کر رہی تھیں حورالعین کھبی تم نے دھوپ اور چھاؤں کو ایک جگہ دیکھا ہے زندگی بھی ایسی ہوتی ہے اس میں بھی دھوپ اور چھاؤں ایک جگہ نہیں رہتی بلکل اس ڈوبتے ہوئے سورج کی طرح سورج کی کرنیں پیسیفک سمندر کو اس کے معنی کی طرح پر سکون کررہی تھی شاہد ڈوب کر ہی انہیں نیا جیون دان ملتا ہو گا کینوس کے سارے رنگ ڈوبتی کرنوں کے ساتھ اندھیر ہو گئے حور اس سمندر کی گہرائی اتنی ہے کہ پورا امریکہ 18 بار اسمیں سما سکتا ہے لیکن میری بے چینی اس سے بھی زیادہ ہے۔فین سینا سب ٹھیک ہوگا پہیلی بار وہ ایک برٹش لڑکی کو اتنا احساس دیکھ رہی تھی اسے گالوں پر تھپکی دیتے ہوئے حور خود بھی بے چین تھی سفید دودھیا پاؤں سرخ پڑ رہے تھے میرون کورٹ مفلر اور جینس میں فر فر انگلش بولتی وہ فین سینا جیسی برٹش لگ رہی تھی
” ایک سمندر کے شوق میں رقصاں، اک دریا کو دربدر دیکھا”
پیسفک سمندر میں لی گئی تصویر شعر کے ساتھ اسنیبوزم کو پوسٹ کی۔

الامیڈا اور ایڈمز کی گلیوں میں ڈرائیو کرتے ہوئے وہ بوزم کو مس کررہی
تھی امریکہ کا چپہ چپہ گھومتے اپنے ہر ارٹیکلز کے ہرمنظر میں اسنے بوزم کو محسوس کیا اگر وہ ساتھ ہوتی تو امریکہ گھومنے کو مزہ دوبالا ہو جاتا۔

ماما فیری نہیں آئی؟ مجھے ریسو کرنے؟ ایئر پورٹ سے نکلتے ہی حور کو شاکڈ لگا تھا بچپن سے لے کر آج تک حورالعین کی زندگی کا ناقابل یقین ،یقین تھا۔وہ اسکا نمبر مسلسل ٹرائے کررہی تھی حور پرہشان تھی بوزم پچھلے کئی دنوں سے اسے نظر انداز کررہی تھی۔ڈرائیور گاڑی موڑو مجھے بوزم سے ملنا ہے پر چھوٹی بی بی وہ اب ڈیفینس میں شفٹ ہو گئی ہیں۔بیل پر ہاتھ رکھتے ہوئے “فیری ہاوس “کا چمکتا بورڈو سرپرائز تھا فیری کو گھر نہ پاکر آنسو روکتے ہوئے شاہد اسے اور بھی سرپرائز دیکھنے تھے۔
“عباسیہ مینشن” کے مکینوں کی خوشی دیدنی تھی گھر میں دعوت کا سماں تھا جس میں پورا خاندان شامل ہوا تھا وہ اپنے خاندان کی پہلی جرنلسٹ تھی ہر کوئی داد دے رہا لیکن حور کو کوئی دلچسپی نہیں تھی تین بعد فیری نے کال ریسو کر لی تھی۔
دونوں طرف خاموشی تھی تم ٹھیک تو ہو حور نے ہی بلا آخر خاموشی توڑی تھی۔

اسے ملنے کیلیئے حور دو گھنٹے سے فیری ہاوس میں انتظار کر رہی تھی یہ پہلی بار ہو رہا تھا ورنہ فیری ہمیشہ اسکا انتظار کرتی لیٹ آنے پر خوب کوستی گھنٹوں بعد وہ دونوں نارمل ہوتی حور کی نگاہیں گھڑی کی سوئیوں پر اٹکی ہوئی تھی اسنے منتظر نگاہوں سے صحن سے ملحق نچلی منزل سے آتی ہوئی سیڑھیوں پر نگاہ ڈالی وہ شاید اسلام آباد سے ابھی آرہی تھی زینہ عبور کرتی فیری فاضل اک شاہانہ ادا سے سج سج چل رہی تھی ہشاش بشاش Pacific سمندر سے زیادہ پر سکون وہ رسمی انداز سے ملی۔ “محبت کی ایک سے زیادہ دلیل نہیں ہوتی اور بے وفائی کے سو سے زیادہ بہانے “حور نے اسکی لمبی دلیلوں کے بعد سوچا۔
ابھی بھی بہت کچھ ادھورا تھا اعتبار کی کہیں منزلوں کو گرنا تھا۔
حور بیٹا اتنی میٹھی نا بنو کہ لوگ تمہیں آرام سے نگل جائیں مما کی ناصحانہ باتیں یاد آئیں لیکن حور زمانہ شناس تجزیہ نگار تھی اسے بوزم کے آگے بیوقوف بننا اچھا لگ رہا تھا یہ اس ساتھی کا معاملہ تھا جس سے اسے عشق تھا اگر وہ کبوتر بن بھی رہی تھی تو اسمیں میں بھی اسے چین تھا وہ تاسف سے فیری کے خیالات پڑھ رہی تھی حور کو اپنی طرف متوجہ پا کر وہ خود کو کمپوز کرنے لگی یہ لو نا اسپیشل تمہارے لیے اسلام آباد سے لائی ہوں مرمرے کے لڈو اور کھوپرے کی مٹھائی تمہیں پسند ہے نا ۔۔۔آج ہی بنوائے ہیں خستہ اور تازہ ہیں
واؤ امیزنگ ٹفنی رنگ Tiffany یہ تو ساؤتھ کوسٹ پلازہ کی انٹر نیشنل برانڈ ہے نا بوزم؟ اور بہت مہنگی بھی؟ حور سوال کیے بغیر نہ رہ سکی فیری ایک نارمل فیملی سے تعلق رکھتی تھی اور ابھی تک ڈپینڈٹ تھی ٹفنی جیسی برانڈ اسکی وساط سے بہت دور تھی گلاب کے پھول پر ڈیزائن وہ نہایت دلکش لگ رہی تھی وہ کچھ دیر بول نہیں پائی تھی منگنی کی رنگ ہے کیا؟ اسکے چہرے کا رنگ بدلا تھا نہیں دراصل میری ایک نیو فرینڈ ہے روشنی تم نہیں جانتی اسنے گفٹ کی ہے۔اور یہ گھر؟ وہ نروس ہوئی تھی۔اور تم بتاؤ تم کیا لائی میرے لیے؟
سن ویلی شاپنگ مال کیسا ہے امریکہ کیسا لگا؟
کنفیوڑن میں وہ بوکھلاہٹ کو شکار تھی۔تم کسی بات پر پریشان ہو بوزم؟ مجھ سے شیئر کرو پلیز نہیں بلکل نہیں تم سے میں کچھ بھی نہیں چھپا سکتی لیکن تمہارا چہرہ تمہاری زبان کا ساتھ نہیں دے رہا۔زبیدہ کہاں ہو تم یہ چائے گرم کر کے لاؤ اور یہ ٹرالی پر چائے گری ہوئی تمہیں نظر نہیں آتی وہ بوزم تھی یا کوئی اور حور نے درد سے سوچا اچھا میں چلتی ہوں یہ گفٹ دیکھ لینا حور نے سامنے پڑے شاپر کی طرف اشارہ کیا. اہوہ تھینکس وہ ایک مرتبہ پھر شرمندہ ہوئی

فیری یہ میری ڈگری۔۔۔۔ اوہو مبارک ہو اسنے بغیر چھوئے ایک توصیفی نگاہ ڈالی اور بے نیازی سے پلٹ گئی اور تمہاری؟ حور کو اپنا یہ جملہ خود سماعت محسوس ہوا۔
آسمان کی نیلگوں پوشاک نیم مائل سرخیوں میں بدل رہی تھی سفید پڑتے شگاف بے رحم انداز سے طوفان برپا کرنے والے تھے “اے میرے دوست لوٹ کے آ جا بن تیرے زندگی اداس ہے “باریش ڈرائیو کرتے ہوئے وہ اس دھن میں اتنی مگن تھی کہ اردگرد کا ہوش نہ تھا۔وہ بوزم سے لڑی کیوں نہیں کوئی ہرزہ سرائی نہ شکوہ۔کیا اقرار کے بعد تکرار کی گنجائش تھی؟ اسکا وجود دھواں دھواں تھا ساحل کی گیلی ریت پر وہ آبلہ پا تنہا تھی۔آنکھیں بند کرو لیکن کیوں کروں؟ کرو تو۔ریت پر بڑا بڑا یا حمیمی یا صدیقی لکھ کر وہ تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کے ارد گرد ریت کی دیوار بنا رہی تھی۔چلو اب تم بند کرو مجھے پتہ ہے تم bossam لکھو گی اور مطلب ایک ہے۔وہ شانے اچکا کر بھاگ گئی دونوں صبح صبح ٹھنڈی ہوا میں طلوع آفتاب کو کینوس کرتی واک کرتے ہوئے ریت کے کچے گھروندے بناتییں۔۔
وہ اجلی صبحیں تھی اور آج ڈوبتی شام اہ بھرتے حور خالی تھی۔یادیں کسی بھی انسان کی ہوں اندر تک توڑ دیتی ہیں تہہ دامن کر دیتی ہیں
” جسم کی دراڑوں سے روح نظر آنے لگی بہت اندر تک توڑ گیا مجھے عشق تیرا ”
آنسو ریت پر لکھے موٹے حروف پر گرے تھے۔
میری بچی کہاں تھی تم؟ سفینہ بیگم فرحت جزبات سے اسکے ساتھ چپک گئی تم کیوں اسکی وجہ سے خود کو تھکا رہی ہو تمہیں ہمیشہ کہتی تھی وہ تمہاری دوستی کے قابل ہی نہیں من دھن مت لٹاؤ پرچھائیوں کے پھیچے بھاگنے سے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔مل گیا ہوگا کوئی اور۔مما پلیز مجھے سونے دیں اور مجھے کوئی بھی ڈسٹرب۔۔۔۔۔۔
فون ریسو کرت ہوئے وہ جھنجھلا سی گئی مجھے آپ لوگوں کا چینل جوائن نہیں کرنا سمجھ نہیں آرہی اور اب کال مت کیجیگا پلیز
حور تمہیں تو بخار ہے سفینہ بیگم سخت پریشان تھی دو دن ہو گئے ایسے پڑی ہو بیٹا میری محنت کا سفینہ مت ڈوبو تم بھی عام لڑکیوں کی طرح ہنسو کھیلو جیسے پہلے ہوتی تھی میرا دل کڑھتا ہے تم نیکیوں یہ جوگ پال لیا ہے وہ کونسا اپنی ہے
۔مما وہ بہت اپنی ہے اسکی ہر ادا اپنی تھی مما میری دوستی موڑ کی نہیں تھی پھر اسنے یہ موڑ کیوں بدلا اور وہ مجھے چیٹ کیوں کررہی ہے؟ میں تو اسکی ہر خوشی میں خوش ہوتی بہوشگی اور نیم غنودگی میں وہ سکتہ میں تھی۔

تم کب آئی؟ مجھے تھوڑی ہی دیر ہوئی کل سے تمہارا فون بھی ٹرائے کیا سوچا کہیں آؤٹنگ پر چلیں اور بائے دا وے میں تمہیں چینلز میں سرچ کررہی تھی اور تم یہاں بیڈ توڑ رہی ہو وہ اپنے سے انداز میں لگی بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر حور اسے دیکھ رہی تھی۔حور تم یہ شادی کر لو نا پلیز میرے لیے۔۔۔تمہارے ماموں بہت چاہ سے آئے ہیں اور تمہاری ماما کی دلی خواہش ہے۔آخر شادی تو کرنی ہے نا؟ پھر برہان سے بڑھ کر کوئی پرپوزل نہیں ہو سکتا تمہارے لیے۔۔۔۔۔!؟

میرے لیے کیا؟ مسکراتی جوابی آ?نکھوں سے کہیں رنگ فیری کے چہرے پر ٹھر گئے۔فیری ہمارے خواب ہمہارا پیشن ہمہاری دوستی اونہہ
۔حور وہ سب احمقانہ باتیں تھیں۔بی بولڈ یار اس خول سے باہر آؤ۔کوئی یقین نہیں کرے گا تم یورپ سے آئی ہو ایم آئی ٹی کی ڈگری ہولڈر ہو۔یہ خول تو میری عمر کے ساتھ بڑھتا رہا اور یہ خواب تو تمہاری آنکھوں کے دیکھے میں نے پورے کیے۔اور تم نے۔۔۔؟حور زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ہمیں کبھی مل نہیں سکتی ہم روئیں چلائیں یا بچوں کی طرح ایڑیاں رگڑیں وہ کسی دوسرے کیلئے ہوتی ہیں مگر اسکا مطلب یہ نہیں زندگی میں ہمہارے لیے ہمہارے لیے کچھ نہیں ہوتا ” بہت کوشش کے باوجود میں وکیل نہیں بن سکی کافی کا کپ ٹرالی پر رکھتے ہوئے وہ کھڑی ہو گئی۔اسکے گلے پر جھولتا چین کا کلچ اسکی روح کو بھی زنجیرِ کر گیا.۔
خاموشی بہترین گفتگو ہے اس کیلئے عقل والی سماعت ہونی چاہئے۔وہ اپنا اور اسکا تمسخر اڑا گئی تھی سب کچھ چھپا کر۔۔۔

“میں تم سے کھبی محبت کر ہی نہیں سکتا تم تو اس لفظ سے بھی نا واقف ہو فیری فاضل۔۔۔ ۔۔۔
تمہیں میرے سٹیٹس میرے سٹینڈرڈ سے دلچسپی تھی اور مجھے مجبور کر کے تم نے یہ نکاح کیا میں نے تمہیں عزت حورالعین کی وجہ سے دی ورنہ تم معاشرے میں کسی کو منہ دکھانے کے قابل
نہ رہتی۔میں صرف حورالعین سے محبت کرتا ہوں وہ میرے جسم میں روح کی طرح ہے۔تم نے یہ کیا کردیا اپنی کمنٹ منٹ توڑ کر اسکی شادی کہیں اور کروا دی۔تم نے مجھے ہی نہیں ہر رشتے کو استعمال کیا اپنی جگری دوست کو اپنے مطلب کیئے بھینٹ چڑھا دیا آئی ہیٹ یو۔جو دوستی نہیں نبھا سکتا وہ کوئی رشتہ نہیں نبھا سکتا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں طلاق ۔۔۔.۔تلا۔۔۔ پٹاخ۔زناٹے دار تھپڑ سے بیچ ویو میں بھیٹھے سب نفوس جامد ہوگئیتھے۔۔
ازلان حیدر اور فیری کیلئے اس گونج سے زیادہ فیری کا یہاں موجود ہونا دھماکہ خیز لگ رہا تھا۔۔

“داغ دنیا نے دیے زخم زمانے سے ملے ہم کو تحفے یہ تمہیں دوست بنانے سے ملے ” ازلان حیدر، فیری فاضل، برھان اور حور ایک دوسرے کے سامنے بے نقاب تھے۔
حور شادی کے بعد پہلی مرتبہ برھان کے ساتھ ڈنر پر آئی تھی۔سمندر کے اندر بیک ویو کیبن لکڑی کے فرش اور چاروں طرف سے گرلز میں مقید تھا جس سے نظارہ اور اواز صاف آرہی تھی اسکی ذات پر اعترافات کی بارش تھی وہ بے خبر تھی لیکن انجان نہیں۔ازلان کے آخری الفاظ نے اسے اندر سے جھنجھوڑ ڈالا یہ تو وہ کسی عورت کیلئے یوں سر عام برداشت نہ کرتی یہاں تو بچپن کی ساتھی کا معاملہ تھا۔حور ازلان پر تھپڑوں کی بارش کر گئی تھی۔ یہ کیا تماشا تھا حور؟
برھان کے کہیں بار پوچھنے پر بھی حور خاموش تھی خاموشی کی کتنی زبانیں ہوتی ہیں نا۔۔۔دکھ، گلہ، غصہ، ضہد، انا اور بے بسی لب بھینچتے ہوئے لان میں یہاں سے وہاں کے چکر کاٹ رہی تھی مجھے ازلان اور بوزم سے بات کرنی چاہئے اتنا کچھ ہوتا رہا حور تڑپ کرگھاس میں بیٹھ گئی میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی اجڑتے ہؤے وہ بار بار فیری کا نمبر ڈائل کررہی تھی ایک بار تم مجھے سب بتاتی شیئر کرتی آنسو کی لڑیاں گھاس کو گیلا کر رہی تھی۔
یہ کافی لیں حور میں نے خود بنائی ہے وہ اسکی ٹوٹی کیفیت اور بے بسی سے بے خبر نہ تھا
۔برھان ٹکٹ کنفرم کروا لیں میں اپکے ساتھ سیٹیلڈ ہونے کیلئے تیار ہوں وارڈروب بند کرتے ہوئے اسنے اعلان کیا اچانک انکار کے بعد اقرا پر حیران ہوا لیکن آپ تو کوئی چینل جوائن کرنے۔آپکی مرضی بھی یہی تھی نا کہ اپنے ساتھ سعودیہ رہوں وہ جتاتے ہوئے چینج کرنے چلی گئی گزرے ماہ میں وہ حورالعین کو اتنا جان چکا تھا کے وہ فیصلے سنانے کی عادی تھی برھان بخوشی سننے کا عادی ہو چکا تھا۔

آپ بغیر اپائنٹمنٹ کے آج بوس سے نہیں مل سکتی، میرے پاس بھی آج کے علاوہ وقت نہیں حور سپاٹ لہجے میں بولی۔ریسپشنسٹ حور کے اصرار پر چڑھنے لگی میم وہ کوئی عام آدمی نہیں کہ آپ منہ اٹھا کے جارہی ہیں ،ایک بزنس ٹائیکون ملک کے ٹاپسٹ بزنس مین سے پتہ نہیں کیسے لوگ منہ اٹھا کے آجاتے ہیں ریسپشنٹ بڑبڑہا رہی حور سیکیورٹی گارڈ سے الجھتی دھندھنھاتی ہال کا مرکزی دروازہ عبور کر گئی تھی۔
ایکسیوز می ٹو آل۔۔سب ایک ایک کر کے باہر جانے لگے۔سوری باس دراصل یہ میڈم ہاتھ کے اشارے سے ازلان نے سیکورٹی اہلکار کو بھی باہر جانے کا اشارہ کیا۔دونوں کہنیاں میز پر ٹکائے وہ میز پر رکھے گھومتے ہوئے گلوبل پیس کو دیکھ رہا تھا۔جیسے نئی دنیا بنانے کی یا دنیا کو قابو میں کرنے کی تدبیر سوچ رہا ہو۔بلاشبہ وہ وجہیہ پر کشش مرد تھا حور سدھ بدھ کھڑی اسے گھور رہی تھی کوئی بھی لڑکی اسانی سے زلیخا بن سکتی تھی اسکی بارعب شخصیت، گہری سنیجدگی پیسیفک سمندر سے زیادہ ٹھراؤ اسے سب سے منفرد بناتا تھا۔ازلان مجھے گلٹ ہے مجھے حقیقت پتہ تھی لیکن وہ الفاظ میں بوزم کیلئے۔۔۔۔. اوہو شٹ آپ مس حورالعین۔ وہ ایک ٹرانس کی کیفیت میں کرسی سے اٹھ کر دھاڑا تھا۔کیا سمجھتی ہیں آپ خود کو؟اہاں… مس ورلڈ قلو پطرہ؟ وہ بے وقوف نہیں تھی تمہاری طرح… اپکی طرح ،بھری پارکنگ میں مجھے تھپڑ رسید کریں گی میری رینج روور کے شیشے چکنا چور کر کے گاڑی میں رکھا سامان اپنی دوستوں میں تقسیم کر کہ خود کو ڈان تصور کر لیا اپ نے خود کو…۔غصے سے بلبلاتا چھنگھاڑتی آنکھوں سے وہ اس کے قریب آ چکا تھا۔حور دیوار کے ساتھ مجسمے کی طرح چپک گئی تھی۔کیا قصور تھا میرا؟ وہ آنکھوں میں انکھین ڈال کر پوچھ رہا تھا ؟اسلیئے کہ میں نے غلط پارک ہوئی کار کو کرین کروایا تھا تاکہ رولز کی خلاف ورزی نہ ہو میرے کسٹمرز کوپریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے میرے ہی شاپنگ مال کے سامنے تم نے میری عزت جوتی کی نوک پر رکھ دی اور پھر کل بیچ ویو سب کے سامنے تم نے؟ وہ غراہا رہا تھا آنکھیں شعلے اگل رہی تھی۔۔حور کو لگا اہستہ اہستہ اسکا سانس نکل رہا ہے۔پورا جسم خوف سے کپکپا رہا تھا۔پتہ ہے میرا قصور کیا ہے؟ اسنے شیشے کے ٹیبل پر زودار مکا رسید کیا اب وہ افس accessories ایک ایک کر کے توڑ رہا تھا کرچیاں پورے ہال میں بکھری تھی۔خون آلود ہاتھ نیچے پڑے ایرانی قالین کو بھگو رہے تھے۔تم سمجھ ہی نہیں سکتی۔۔تم اور تمہاری دوست نے میری ترجیحات میری اخلاقیات کا جنازہ نکال کر مجھے خود کی نظروں میں کمزور اور حقیر بنا دیا۔کیوں آئی تم یہاں؟ وہ اب اسکی طرف پشت کر کے کھڑا تھا۔گیٹ رائیڈ اف مائے بیک پلیز “میرا پیچھا چھوڑ دو”وہ دونوں ہاتھ جوڑنے لگا۔ازلان۔۔۔ اسے معاف کردو جو سزا دینی ہے مجھے دو لیکن بوزم کو بے سہاارا نہ کرو تم اسکا ایمان ہو وہ ٹوٹ جائے گی میں تمہاری مجرم ہوں اور اج تم سے منصفی چاہتی ہوں خود کو کمپوز کرتی وہ اسکی منت کررہی تھی دونوں ہاتھ جوڑ کرگڑگڑا رہی تھی۔بوزم کو اپنا لو اور یہ مان رکھ لو۔مان؟ وہ نیچے بیٹھ گیا تھا۔اسنے تمہاری دوستی کا مان رکھا؟ جسکے نام کی مالا تم بچپن سے جھپتی ہو جو تمہارے لیے پہلا اور اخری رشتہ ہے تمہیں اردگرد کچھ نظر ہی نہیں اتا اسکا دھوکہ بھی نہیں ؟وہ استہزایہ انداز میں ہنسا تھا۔میں نے “تم سے محبت کی جنون کی حد تک اور تم نے دوستی کی جنون کی حد تک “لیکن میں تمہارے راستے کا کانٹہ کھبی نہیں بنا۔اس لیے مجھے اور تکلیف مت دو۔ہر منظر کرچی کرچی تھا بکھرا ٹوٹا اور۔۔۔۔ادھورا۔ٹوٹی ہوئی چیزیں ٹوٹے ہوئے دلوں پر پیوست ہورہی تھیں۔مرد ذات کو حور نے ہمیشہ مذاق سمجھا تھا پر جانے کیوں اس شخص کے الفاظ پر بے بس ہوئی تھی۔”جب ملنے کی رسم پوری نہیں ہوتی تو بچھڑنے کی رسم پوری کرنی پڑتی ہے”جہاز پر سیٹ بیلٹ باندھتے ہوئے حور نے شہر جہاں پر الوداعی نظر ڈالی وہ شہر ذات نہیں بننا چاہتی تھی جو کسی کیلئے بھی پتھر بنے وہ تو گلوں کی شیدائی تھی رتوں کی بزم تھی اسے تو بس دوستوں کیلئے حد سے گزرنا اتا تھا اس نے زندگی میں اسی جزبے کو دل میں پنپنے اور عمر رواں کے ساتھ پھیلنے پھولنے دیا اور اب وہ تناور درخت بن چکا تھا بھلا وہ خود کیسے اسکی جڑیں کاٹتی۔۔۔”میم حورالعین پلیز فالو می ارجنٹ۔۔۔حور سوالیہ نگاہوں سے برہان کو دیکھتی ایئر ہوسٹس کی معیت میں لمبے لمبے ڈگ بھرنے لگی۔برھان اپ روکو شاہد کوئی پرابلم ہے اشارتاً اسنے پھیچے اتے برھان کو روکا۔بوزم وہ اسکے گلے لگ گئی بلکل بچپن کی طرح “نام ہونٹوں پر تیرا آئے تو راحت سی ملے۔تو تسلی ہے دلاسہ ہے زم زم ہے دعا ہے کیا ہے ”

رک جاؤ یا حمیمی یا صدیقی مجھے ایسے اجاڑ کے مت جاؤ اباد ہونے سے پہلے میری بربادی بھی دیکھ جاؤ تم میری جگری دوست نہیں میری خوشیوں کی دشمن ہو تم اتنی کٹھور کیسے بن سکتی ہو وہ اسے جھنجھوڑ رہی تھی لیکن بوزم۔۔۔۔۔آنسو رک گئے تھے انسو انکھ سے نکل بہہ جائیں تو مطلب اپ کو تکلیف ہوئی ہے لیکن انکھ سے ہوتے حلق میں میں اٹک جائیں تو اندر بہت کچھ ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے حور ساکن تھی بول بھی نہیں پا رہی تھی جرنلسٹ خاموش تھی ایک لکھاری کے پاس الفاظ ختم ہو چکے تھے۔حور تم نے میرے کہنے پر شادی کی تھی نا؟ وہ اسکا ٹھنڈا پڑتا چہرہ چھو کو تسلی کررہی تھی تو تم طلاق لے لو برھان سے ابھی۔۔

تیری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں، سفر میں دشت بھی اتا ہے گھر بھی اتا ہے ”
اناؤسمنٹ کی آواز پر حور کے قدم زنجیر پا تھے جب برھان اسے گھسیٹتے ہوا لے جا رہا تھا رن ویو پر سیکیورٹی آ چکی تھی جو فیری کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کررہی تھی رک جاؤ یا حمیمی اسکے بغیر مر جاؤں گی مت جاؤ یا حمیمی وہ ہسٹرہائی کیفیت میں چلا رہی تھی۔
۔جہاز تئیس منٹ لیٹ ہوا تھا برھان ملامتی نظروں سے حور کو دیکھتا ہوا انتظامیہ سے معافی مانگ رہا تھا “نکال لایا ہوں ایک پرندہ پنجرے سے، اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے “حور پھتر کا بت بنے سیٹ پر ڈھیر ہو چکی تھی۔میں اسکے بغیر مر جاؤں گی مت چھینو اسے مجھ کے وہ تم سے محبت کرتا ہے برھان سے طلاق لے کر خوشیاں میری جھولی میں ڈھال دو۔یا حمیمی مت جاؤ۔خانہ کعبہ میں بھی وہ یہ منظر بھلا نہیں پا رہی تھی
“ہم عمرہ ساتھ ادا کریں گے پتہ ہے پتہ ہے بوزم جلدی سے تعلیم مکمل ہو جائے میری مما کا خواب ہے ان کے سب بچے انکے ساتھ طواف کریں لیکن میں تمہیں بھی ساتھ لے کر جاؤں گی طواف کرتے ہوئے حور کی ہچکی بندھ گئی ہر پل سایہ کی طرح ساتھ برھان کو دیکھتی کیا میں اسے چھوڑ دوں؟ یہ تو رستہ ہے وہ رستہ ہے جو دوست نے چنا منزل تو دوستی تھی۔اے اللہ مجھے آزمائش سے نکال دیں میں اپکو مما کو بوزم کسی کو دکھ نہیں دینا چاہتی “۔مجھے وصل عطا کر مالک یا میرا ہجر مکمل کردے “مجھے خود سے قریب کردے بھول بھلیوں میں کھو کر زندگی کا مقصد بھول چکی ہوں مجھے کنارہ عطا کر۔وفا کا تقاضا ہے جفا نہ کرو برھان اسے یوں بے قرار دیکھ کر اپنے ہونے کا احساس دلاتا زندگی بھر وفا کا عہد کرتا
۔تمیں بہت تیز بخار ہے حور مسلسل دو دن سے تم نیکچھ کھایا بھی نہیں۔اس کنڈیشن میں خودکو زیادہ مت تھکاؤ اب ہم یہاں ہی رہیں گے تم روز عبادت کرنا دارالتقویٰ ہوٹل سے نکلتے ہوئے حور روزے کی طرف بھاگ رہی تھی۔۔
روکو حور رک جاؤ “برھان اسکے پھیچے بھاگا تھا “تیری تلاش میں جانے کہاں بھٹک جاؤں سفر میں دشت بھی اتا ہے گھر بھی اتا ہے”حور
مسجد نبوی کے صحن میں انکھیں موندے نیم بے ہوشی کی کیفیت میں گررہی تھی سب منظر دھندلا گئے تھے وہ اسمان کی طرف دیکھ رھی تھی کبوتروں کا جھنڈ روزے کی جالیوں کو چومتا پڑپڑہاتا ہوا گزرا تھا برھان، بوزم۔روکو روکو کی اوازیں گڈ مڈ ہو رہی تھی۔مدینہ نیشنل ہسپتال کے ائی سی یو میں سب دعا گو تھے حور العین سبکی نورالعین تھی وہ ہر رشتے میں امر ہو گئی تھی سفینہ بیگم نے تڑپ کر حور کا ماتھا چوما۔برھان کھبی مدینہ ہسپتال تو کھبی مسجد نبوی میں دوڑتا روزہ انور کے سامنے گڑگڑاتا۔
اے خالق کائنات میری حور میری اولاد کو بچا لو میں نے کہیں مرتبہ اسی جگہ حور کا ساتھ مانگا اج پھر اسکی زندگی کی بھیک مانگتا ہوں
۔برھان اللہ کا قرب ہر کرب کو ختم کر دیتا ہے گزشتہ رات وہ سرگوشی کر رہی تھی۔پتہ ہے برھان کوئی بندہ ایسا نہیں ہوتا جس میں صرف ایک ہی خوبی ہو اچھائی یا برائی اللہ نے ہر شئے کو دو روخوں میں بنایا ہے اچھائی کا دوسرا رخ برائی ہے اور برائی کا دوسرا رخ اچھائی، ہوتا یہ ہے کہ جب ہم پہلی بار کسی انسان کا برائی والا رخ دیکھ لیتے ہیں تو اسکی ساری اچھائیوں کو بھول جاتے ہیں۔حالانکہ ہمیں “اچھائی پتھر پر لکھنی چائیے اور برائی ریت پر ”
وہ مدینہ نیشنل ہسپتال کی طرف بھاگا تھا۔مبارک ہو بیٹی ہوئی ہے لیکن اپکی وائف بہت سیریس ہیں ادھوری خوشیاں پورے غم۔۔۔
“نام ہونٹوں پر تیرا ائے تو راحت سی ملے، تو تسلی یے دلاسہ ہے، زمزم ہے دعا ہے کیا ہے”
حور اب زم زم کی کتنی بوتلیں پی چکی تھی مما میری پیاس اب زم زم سے بھی ختم نہیں ہو رہی وہ سوجھی ہوئی انکھیں کھولے بغیر کہنا چارہی تھی۔بیٹا “تمہاری اب حیات ہی تمہاری پیاس کو زم زم کریگی “انکھیں کھولو یا حمیمی خدا کیلئے مجھے معاف کردو تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا مجھ سے شکوہ کیے لڑے بغیر کوئی دلیل اور میری بے وفائی دھوکے کی سزا دیے بغیر تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا۔”حور میری خود غرضی کی اتنی بڑی سزا خود کو مت دو میں تمہاری دوستی کے قابل ہی نہیں تھی تم نے ہر عہد وفا نبھایا پوری زندگی تم نے میرے دیکھے خواب پورے کیے تم امر ہو گئی۔

“زندگی کی تلخیوں کو میں کیسے سمجھ پاتی یہ خواب نہ ہوتے تو شاہد میں مر جاتی ”
حور نے انکھیں کھول کر اپنی جگری ددوست کو دیکھا۔اسکے عقب میں ازلان بھی کھڑا تھا۔جیسے وہ اخری بار طواف کررہی ہو۔اس سرزمین کی تاریخ بیان کررہی ہو حضرت خلیل اللہ کی دوستی دہرا رہی ہو جو اپنے دوست کا ایک بار نام سننے پر اپنا تن من دھن اولاد سب قربان کر تے چلے گئے۔۔حور اٹھو ہمیں عمرہ ساتھ ادا کرنا تھا “میری خامشی کو بیان دو میرے خوابوں کوتعبیر دو “دیکھو حور تمہاری بیٹی نے سارے نقوش تمہارے چرائے ہیں فیری ماتم کناں تھی “حور تم مجھ سے کتنی محبت کرتی ہو؟ دوستی موڑ کی ہوتی ہے یا توڑ کی؟ اچھا چھوڑو یہ بتاؤ؟تم اپنی پہلی اولاد مجھے دے سکتی ہو؟ کافی کا کپ تھامے فیری سوئمنگ پول پہ ا گئی تھی “سوچ کر جواب دینا یہاں تمہارے شوہر نامدار بھی ہونگے۔فیری نے انکھیں مٹکاتے ہوئے باور کروایا ”
سامنے رکھے پنجرے میں پرندوں نے خوب شور مچایا تھا۔شہادت کی انگلی ملا کر دونوں پر جوش نظر ائیں تھی ہر شے شام ہوئی تھی اسمان نے عجیب منظر بدلا تھا۔”
لاؤ اب کافی تو دو”حور خفا ہوئی، کوفی یا کافی؟ کافی کھبی نہیں ہوتی جیسے تمہاری باتیں ختم نہیں ہوتیں “دونوں بغلگیر ہوئیں تھیں۔فیری نے ہاتھوں میں اٹھائے نھنے وجود کو دیکھا حور مجھے اور شرمندہ نہ کرو میری بے حسی کی ایسی سزا مت دو تم ہر رشتے میں امر ہوگئی اور مجھے بیچ منجدھار چھوڑ کر تمہیں کچھ نہیں ہو سکتا۔”ازلان ٹھیک کہتا دوستی ابتدا ہے ہر رشتے کی جو دوستی نہیں نبھا سکتا وہ کسے رشتے میں پورا نہیں اتر سکتا”اس کیلئے خاص دل مخصوص ہوتے ہیں یہ وہ نغمہ ہے جو ہر ساز پہ گایا نہیں جاتا “ازلان نے تڑپ کرسوچا اور باہر نکل گیا “پھتر سے ہو اللہ سے ہو یا پھر کسی شئے سے، اتا نہیں چین محبت کے بغیر ”
جنت البقیع میں مدفن حور کی قبر پر پھول ڈالتے فیری ازلان پیر زادہ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے یہی سوچ رہے تھے ”
“زندگی میں کھبی نہ کھبی ہم اس مقام پر آ جاتے ہیں جہاں سارے رشتے ختم ہو جاتے ہیں وہاں صرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتا ہے کوئی ماں باپ کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا پھر ہمیں پتہ چلتا ہے ہمارے پیروں کے نیچے زمین ہے نا سر کے اوپر اسمان ،بس صرف ایک اللہ جو ہمیں اس خلا میں تھامے ہوئے ہے پھر پتہ چلتا ہے ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک ذرہ یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے ہمہارے ہونے یا نہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے کائنات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔۔ صفا مروہ میں چکر لگاتے دعا مانگتے ہوئے سودیم پیر زادہ اور فاطمہ(فیری سینا) کی انکھوں میں اس دھان پان سی لڑکی کا چہرہ تھا انسو تھے اور دعا تھی۔
“کہیں عشق ذبح کو تیار ہے
کہیں عشق کوہ طور ہے
کہیں عشق انکھوں کا نور ہے
کہیں عشق اللہ ہو ہے ”
فیری ازلان حیدر پیرزادہ کو ٹفنی بریسلیٹ دکھا رہی تھی جو کل اسے برھان نے امانت کہہ کر لوٹایا تھا۔۔
Till death do us a part ”
جب تک موت ہمیں جدا نہ کردے “سن ویلی شاپنگ مال میں ازلان حیدر کا کندھوایا گیا جملہ جگمگا رہا تھا۔”فیری تم یہ بریسلیٹ برھان کی بیٹی نورالعین کو دے دینا ”
یہ افسانہ بھی پڑھیں
معاوضہ—ناصرصدیقی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

زم زم کی واپسی—عظمٰی عروج عباسی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)” ایک تبصرہ

  1. یہ ایک خاص کلاس میں خواہ مخواہ پیدا شدہ سطحی رومان پر مبنی ٹیپیکل ڈائجسٹی کہانی ہےجس کا بیانیہ عدم علت کی بنا پر افسانے جیسی گہرائی و گیرائی سے قطعی محروم ہے- طوالت ایسی غیر ضروری کہ جس کا مستعمل ڈائجسٹ کے صفحات بھرنے کے سوا نہیں ، زبان اور املا کی لا تعداد اغلاط کی بنا پر متن کو پڑھنا انتہائی دشوار کام ہے !

اپنا تبصرہ بھیجیں