فریبی اجالا—طارق شبنم بانڈی پورہ کشمیر (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

دن بھر کسی پُر کشش چٹ پٹی مصالحے دار خبر کی تلاش میں بھٹکتے ہوئے میں نڈھال ہو چکا تھا۔جسم کا انگ انگ تھکن سے چور تھا۔شام کے دھند لے سائے چھاتے ہی میرے قدم خود بہ خود اس خوبصورت پارک کی طرف اُٹھ گئے جہاں نیم عریاں لباس زیب تن کئے مرد و زن کی کثیر تعداد موج مستیوں میں مد ہوش تھی۔سوچوں کی بھول بھلیوں میں گُم میں بھی یہاں دم سنبھالنے کی غرض سے بیٹھ گیا اور یہاں کے پُرلُطف نظاروں سے محفوظ ہونے لگا۔
تھوڑی دیر بعد ہی اندھیرا بڑھنے لگا اور میرا دھیان ایک دم پارک کے ساتھ ہی واقع اس شاندار عمارت کی طرف چلاگیا جو ٹمٹماتی تیز روشنیوں سے چمک کر بقعہ نور لگ رہی تھی ۔عمارت پر نصب سائن بورڈ پر لال لال انگارہ سی آنکھوں والے اُلو کے شکل وصورت کے ایک پرندے کی تصویر بنی تھی اور سنہرے حروف میں دل کو چھولینے والے انداز میں’’ خوش آمدید‘‘ کے الفاط تحریر تھے۔لوگ بھی کافی تعداد میں عمارت کے اندر داخل ہورہے تھے۔شاید کوئی خاص تقریب منعقد ہونے جارہی ہے یہ سوچ کر میں بھی اٹھا اور تیزتیز قدم اُٹھاتے ہوئے اس نیت سے عمارت کے اندر داخل ہوگیا کہ شاید کوئی خبر مل جائے۔
میں جونہی اندر داخل ہوا تو ایک حسینہ،جس کے سنہرے بال بادلوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے ،آنکھوں سے عجیب قسم کی سُرخی چھلک رہی تھی اور زیتون کے تیل کی طرح تازہ اور شفاف جسم پر برائے نام لباس تھا ،اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں شراب کا جام لئے جیسے میری ہی منتظر تھی۔
’’ سر ۔۔۔ ہماری کمپنی میں آپ کا بہت بہت خوش آمدید ہے ۔‘‘
’’شکر یہ میڈم۔۔۔ میں شراب نہیں پیتا ‘‘۔
’’What‘‘
میرا جواب سن کر وہ حیرت زدہ ہوئی ۔
’’ نو پرابلم سر۔۔۔ آج آپ جوس ہی پی لیجئے‘‘۔
اس نے پھرتی سے کاؤنٹر سے دوسرا گلاس اُٹھا کر میری طرف بڑھادیا۔
اس کی آواز اور بات کرنے کا انداز ایسا دلفریب تھا کہ میں انکار نہیں کر سکا اور ٹھنڈے مشروب کا گلاس لے کر گٹا گٹ پی گیا ۔
’’ سر ۔۔۔ کہئے میں آپ کی اور کیا خدمت کر سکتی ہوں؟‘‘
اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسکراتے ہوئے اس انداز سے کہا کہ دیکھتے ہی دیکھتے جیسے میں اچھل کر ایسے اُڑن کھٹولے میں جا بیٹھا جسے جن اور پریاں ہر وقت اپنے کندھوں پر اُٹھائے اُڑ تے رہتے ہوں۔
’’ سر۔۔۔ کہاں کھو گئے آپ؟ کوئی پرابلم؟‘‘
’’ شکریہ میڈم۔۔۔ لیکن ایک بات بتایئے کہ یہ کمپنی کون سا تجارت کر رہی ہے۔‘‘
’’سر ۔۔۔ یہ ایک عالمی سطح کی مشہور کمپنی ہے یہاں پر دنیا کی عیش و عشرت اور موج مستی کی ہر چیز میسر ہے۔چلئے فی الحال آگے بڑھتے ہیں۔‘‘
اس نے بلا تکلف میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچ کر ایک بڑے ہال کی طرف لے گئی۔ ہال کی آرائش وزیبائش لاجواب تھی ۔یہ مردو زن سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور یہاں اونچی آواز میں سنگیت بج رہا تھا ۔ہال کی ایک طرف بنے سٹیج پر نیم عریاں لباس زیب تن کئے کچھ حسینا ئیں مینڈھکوں کی طرح پھدک پھدک کررقص کر رہی تھیں ،باقی لوگ بھنا ہوا گوشت چٹخارے لے لے کر کھا رہے تھے اور شراب کے جام پی پی کر رقص و سرور کی محفل سے لطف اندوز ہورہے تھے۔اس نے مجھے ایک نرم و گداز صوفے پر بٹھایا اور خود بھی میرے پاس ہی چُپک کر بیٹھ گئی ۔۔۔اب میں مست مدہوش ہوکر ہوا سے باتیں کرنے لگا جیسے دنیا بھر کی نعمتوں سے میر ی جھولی بھر گئی تھی۔میرے نفسیاتی زیروبم پر ایک عجیب قسم کا سرور چھا گیا۔میرے اندر حرص و ہوس کی بھٹی سلگنے لگی اور خواہشات کے بھڑوں کا چھتا بننے لگا ۔ میری اس کیفیت کو بھانپتے ہوئے وہ شادماں ہوکر مجھ سے مخاطب ہوئی۔
’’ سر۔۔۔ اس مستی کو برقرار رکھنے کے لئے آپ کیا لینا پسند کریں گے۔چرس،گانجا ،افیم ،براون شوگر ۔اس کے ساتھ ساتھ یہاں پر شراب،کباب اور شباب کا بھی انتظام ہے۔‘‘
اس کی زبان سے بے با کانہ انداز میں یہ الفاظ سن کر میں سکتے میں آگیا اور میں نے یہاں سے واپس نکلنے کا پکا ارادہ کرتے ہوئے اُٹھنا چاہا لیکن یہاں سے واپس نکلنے کے لئے کوئی دروازہ نظر نہیں آیا۔
’’ گھبرائیے نہیں،آپ اس کمپنی میں نئے نئے آئے ہیں ،تھوڑی دیر میں آپ کا دل لگ جائے گا اور آپ بھی یہاں کے ماحول سے مسرور ہوجائیں گے‘‘۔
اس نے میرے اضطراب کو بھانپتے ہوئے سگریٹ سلگا کر میری طرف بڑھاتے ہوئے اپنا کلام جاری رکھا۔
’’ کیا میں آپ کا شبھ نام جان سکتی ہوں؟‘‘
ٍٍٍ ’’اظہر‘‘۔
’’ہاں تو مسٹر اظہر۔۔۔ آپ ہماری کمپنی کا ممبر بننا پسند کریں گے؟آپ کی لائف بن جائے گی‘‘۔
اس نے دل کے تاروں کو چھیڑنے کے انداز میں کہا۔
’’ممبر بن کے مجھے کیا کرنا ہوگا ؟‘‘
میں نے بے تابی سے پوچھا کیونکہ طفلانہ پن اور بچگانہ آرزو مندی کا رنگ مجھ پر پھر غالب آنے لگا۔
’’وہی جو آپ کرتے ہو صرف طریقہ کار ہمارا اپنا نا ہوگا‘‘۔
’’مطلب؟‘‘
’’مطلب ۔۔۔جھوٹ،فریب ،دھوکہ دہی ،حق تلفی ،چاپلوسی، بے انصافی،رشوت خوری ،غبن گھوٹالے۔۔۔ یہی وہ طریقے ہیں جن پر عمل کرنے سے ہمارا باس بھی خوش ہوجاتا ہے اور زندگی بھی عیش وعشرت سے گزرتی ہے۔‘‘
’’میں تمہاری اس کمپنی کے تمام سیاہ کارناموں کا بھانڈ ابیچ چورا ہے پر پھوڑدوں گا‘‘۔
اس کے انکشاف سے میرے اندر کا صحافی جاگ اُٹھا اور میں نے من ہی من میں ارادہ کر لیا اور سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے اس کی باتوں میں دلچسپی لینا شروع کردی۔
’’میڈم۔۔۔ یہ کمپنی آخر کون سی تجارت کرتی ہے؟‘‘

’’ہماری کمپنی ہر تجارت میں اپنا رول نبھاتی ہے۔جیسے کہ لباس ،جو جسم کو چھپانے کے بجائے بڑی فنکاری سے عریاں کرتا ہے ،وہ ہماری کمپنی کا ہے۔مختلف بہانے تراش کر خون ریز فتنے جگانا ،قتل و غارت،دنگے فساد اور چوری ڈکیتی کو اس طریقے سے فروغ دینا کہ ہماری کمپنی پر ذرا سی بھی آنچ نہ آئے۔قانون کی آنکھوں پر فریب کی پٹی باندھ کر غیرقانونی کام دھندے کرنا جیسے خوردونوش کی اشیاء اور ادویات میں ملاوٹ کرکے کالے دھن کے ڈھیر لگانا،رقص وسرور کی محفلیں سجا کر بے حیائی اور فحاشی کی فروغ دینا ،لذت پرستی کو عام کرنا ،رشوت کے بل پر سیاہ کو سفید اور کمال ہوشیاری سے سفید کو سیاہ بنانا،شیروں سے ہل جوتو انااور بیلوں کو اونچے منصبوں پر بٹھا کر انصاف کا گلا گھوٹنا یہ سب کام ہماری کمپنی کے لوگ ہی انجام دیتے ہیں۔‘‘
’’میڈم ۔۔۔آپ کی کمپنی کے ساتھ کون سے لوگ وابستہ ہیں؟‘‘۔
’’ہماری کمپنی کے ممبران میں اگر چہ ہر فرقے کے ماننے والے ہیں لیکن ان سب کا مذہب صرف دھن دولت کمانا اور دنیاوی جاہ و حشمت کا حصول ہوتا ہے چاہے اس کے لئے انہیں کسی بھی حد کو پار کرنا پڑے۔اس کے علاوہ بہت سے لوگ ہمارے باس اور کمپنی کو بظاہر ہر وقت کو ستے رہتے ہیں لیکن ان کی یہ حرکتیں ہمارے باس کو بالکل بھی بُری نہیں لگتی ہیں کیونکہ یہ لوگ بھی ہر وقت اس کمپنی کے مشن کو آگے بڑھانے میں پیش پیش رہتے ہیں جسے ہماری کمپنی روز بروز ترقی کی بلندیوں کو چھورہی ہے۔‘‘
’’کیا میں آپ کے باس سے مل سکتا ہوں؟‘‘
’’ویسے ہمارے باس اس طرح کسی سے نہیں ملتے لیکن اگر آپ لگن تندہی اور محنت سے کمپنی کے مشن کو آگے برھانے کی کوشش کریں گے تو باس آپ کو ضرور اپنے درشن سے نوازیں گے۔ ویسے بھی ہمارے باس اور کارندے ہر وقت لوگوں کے قریبی رابطے میں رہ کر انہیں کمپنی کا ممبر بننے اور مشن کو آگے بڑھانے کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔‘‘
’’انی وے۔۔۔ تمہاری اس کمپنی کا نام کیا ہے؟ اور اس کے باس کون ہیں؟‘‘
میں نے خبر مکمل کرنے کے لئے اس سے آخری سوال کیا۔
میرے اس سوال پروہ اس طرح مسکرائی جیسے سورج کی پہلی کرن کنول کے پھول کو کھلنے پر اُکسارہی ہو۔
’’تم ہمارے باس کا نام نہیں جانتے ہو،شیطان کہیں۔۔۔‘‘۔
اس کی بات ابھی ادھوری ہی تھی کہ پاس والے مندر سے گھنٹی بجنے لگی اور ساتھ ہی گردوارے سے بھی’’واہے گرو‘‘ کی اونچی آوازیں آنے لگیں جس کے ساتھ ہی یہ عمارت ایسے ہلنے لگی جیسے ہلکا سازلزلہ آیا ہو،عمارت کے اندر ایسا شور و غوغا بلند ہوگیا جیسے بلیاں اور کتے رورہے ہیں۔یہاں موجود لوگوں نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھوس دیں،میرے ساتھ جو حسینہ محو گفتگو تھی اس کے چہرے کا رنگ پیلا پڑ گیا ۔میرے دل کے اندر بھی عجیب سی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔
’’گھبرائیں نہیں اظہر۔۔۔ کانوں میں انگلیاں ٹھونس دیں ۔یہ ہمارے دُشمنوں کی آواز یں ہیں جو ہمیشہ ہمارے مشن میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔
اس کے ساتھ ہی اللہ اکبر کی خوش الحان آواز فضاء میں بلند ہوگئی اور عمارت میں ایسی خوفناک آواز گونجنے لگی جیسے ایک ساتھ سینکٹروں لوگوں کا گلا گھونٹا جارہا ہوا اور وہ ہم آہنگ آواز میں درد کی شدت سے کراہ رہے ہوں۔اب مجھ پر ایک بھیانک خوف طاری ہوگیا مجھے لگا کہ بے شمار سانپ اور بچھومیرے بدن پر رینگ رہے ہیں۔میں ایک دم اُٹھا اور تیز تیز قدموں سے چل کر یہاں سے بھاگ نکلنے کا راستہ ڈھونڈنے لگا ۔وہ حسینہ میرا پیچھا کرتے ہوئے مجھے روکنے کے سخت کوشش کررہی تھی۔
’’رُک جاؤ اظہر۔۔۔ رُک جاؤ۔۔۔ آگے مت بڑھو وہاں خطرہ ہے۔‘‘
میں اس کی باتوں پر دھیان دیئے بغیر بھاگے جارہا تھا کہ اچانک میرے سامنے ایک خوفناک ہڈیوں کا انسانی ڈھانچہ کھڑا ہوگیا جو ،جبڑے کٹ کٹا کرکے اس طرح دانت بجانے لگا جیسے زور زور سے ہنس رہا ہو۔ایک لمحے بعد یہ ڈھانچہ غائب ہوگیا اور میرے سامنے درجنوں انسانی کھوپڑیاں ہوا میں رقص کرنے لگیں۔یہ منظر دیکھکر خوف سے مجھ پر تھر تھری ،کپکپی اور بدحواسی چھا گئی۔میرے پاؤں من من بھاری ہوگئے لیکن میں ہمت کرے دھیرے دھیرے آگے برھتا رہا کہ دفعتاً مجھے عمارت کے پچھلے حصے کی طرف ایک چھوٹا سا دروازہ کھلا ہوا نظر آیا اور میں نے دوڑتے ہوئے اس دروازے سے باہر چھلانگ لگادی اور بھاگنے لگا۔
’’واپس آجاؤ اظہر۔۔۔ واپس آجاؤ۔۔۔ دیکھو میں بانہیں پھیلا ئیں تمہاری منتظر ہوں ۔میں تمہیں اپنے باس کا نام اور کمپنی کے سارے راز بتاؤں گی۔‘‘
اس حسینہ کی سریلی محسورکن آواز بدستور میرا پیچھا کررہی تھی۔میں ایک لمحے کے لئے رُکااور پلٹ کر دیکھا تو میری نظر سیدھے عمارت پر لگے سائن بورڈ پر پڑی جس پر سُنہرے حروف میں یہ الفاظ تحریر تھے:
’’ابلیس اینڈ کمپنی‘‘۔
اور وہ خو ب رو پُر فریب حسینہ دروازے پر کھڑی بے چین ہوکر مجھے واپس بلارہی تھی۔اب میرے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل بن گیا کہ میں واپس مڑوں یا بھاگ جاؤں میں اسی کشمکش میں مبتلا تھا کہ اللہ اکبر کی رسیلی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی اور میری آنکھ کھل گئی۔
***

یہ افسانہ بھی پڑھیں
زم زم کی واپسی—عظمٰی عروج عباسی (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

فریبی اجالا—طارق شبنم بانڈی پورہ کشمیر (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)” ایک تبصرہ

  1. اول: یہ افسانہ بڑی ہی مومنانہ خوش خیالی بلکہ خوش خوابی پرمبنی ہے ، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کو یہ نیازمندی حاصل ہے لیکن میرے جیسے مردود و مقہور بھی بہتیرے ہیں کہ جن کے دل و دماغ میں تشکیک اور سوال و احتجاج کا لاوا پکتا رہتا ہے، جن کوتاریخِ انسانی کا مطالعہ ادیان کے معاشرتی کردار پر خندہ زن دکھائی دیتا ہے- دوم: طارق شبنم میرے بھائی ہیں لیکن ایک تجربہ کار اور پختہ نگار لکھاری سے اس قسم کے ٹیکسٹ کی توقع نہ تھی جو زبان و املا کی اغلاط سے پُر ھو، ملاحظہ کیجے ! دم سنبھالنا محاورہ نہیں دم لینے کی غرض سے بیٹھ گیا ، سنہرے بال / سنہری بال ، سر ہماری کمپنی میں آپ کا بہت بہت خوش آمدید ہے / آپ کو بہت خوش آمدید ، کمپنی کونسا تجارت کر رہی ہے/ کمپنی کیا تجارت کرتی ہے یا کمپنی کی تجارت کیا ہے ، مینڈھکوں/ مینڈکوں ، چٹخارے لے لے کر کی بجائے چٹخارے لے کر اور جام پی پی کر کی بجائے جام پی کر، مست مدہوش ہو کر/ مست ہو کر یا مدہوش ہو کر، میرے نفسیاتی زیر و بم پر ایک عجیب قسم کا سرور چھا گیا ؟ بھٹی سلگنے لگی / بھٹی تپنے لگی ، خواہشات کے بھڑوں کا چھتہ/ خواہشات کی بھڑوں کا چھتہ ، افیم / افیون ، بے باکانہ انداز/ بے باک انداز ، طفلانہ پن اور بچگانہ آرزومندی کا رنگ مجھ پر غالب آنے لگا؟/ متن کی نسبت بے محل لفاظی اور جملہ بندی ہے ، شیروں سے ہل جوتوانا / شیروں کو ہل میں جوتنا ، جبڑے کٹ کٹا کر کے / جبڑے کٹکٹا کر، تھر تھری اور کپکپی طاری ہو گئی؟ یہ دونوں ایک ہی شے ہے ، بانہیں پھیلائیں / پھیلائے ، محسور کن / مسحور کن ، فیصلہ کرنا مشکل بن گیا/ مشکل ہو گیا –

اپنا تبصرہ بھیجیں