انوکھی تجارت—وقاص اسلم کمبوہ ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

وہ اپنی قسمت سے مایوس ہو چکا تھا۔ مایوسی نے اسے اس قدر گھیر لیا تھا کہ اب وہ اس دنیا میں رہنا تک نہیں چاہتا تھا ۔اس نے ہر کاروبار میں قسمت آزمائی کی،مزدوری کی، لیکن شاید ہر کام میں اس کے لیے نقصان ہی لکھاتھا۔ وہ جو بھی کام شروع کرتا اسی میں خسارا ہو جاتا۔ شاید اس کی قسمت اس سے روٹھ چکی تھی۔ دو وقت کا کھانا بھی اس کے لیے بہت مشکل ہو گیا تھا۔وہ اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بچوں کو بھوک سے بلکتا نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کی مایوسی کی انتہا تھی۔ اس کے بر عکس اس کی بیوی بہت صابر تھی ۔ان حالات کے باوجود بھی وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی منتظر تھی ۔وہ اپنے شوہر کو بھی ہمیشہ اللہ پر توکل کے لیے اکساتی…
’’آپ میری بات مانیں تو دبئی چلے جائیں… ہوسکتا ہے وہاں کوئی کام مل جائے۔‘‘ اس کی بیوی نے مشورہ دیا۔
’’لل… لیکن تم جانتی ہو باہر جانے کے لیے بھی تو ایک بہت بڑی رقم کی ضرورت ہوتی ہے نا…‘‘ اس نے نوالہ نگلتے ہوئے کہا۔
‘‘ہاں یہ بات تو ٹھیک ہے، مگر تمہیں تو پتا ہے میری بہن وہاں رہتی ہے ، میرے بہنوئی وہاں سے اچھا خاصا کما لیتے ہیں… ہر ماہ ایک بڑی رقم اپنے والدین کو بھی بھیجتے ہیں… ہوسکتا ہے وہ وہاں تمہاری کوئی مدد کریں اور کوئی کام دلوادیں… اور رہی بات ویزے کی تو وہ میں اپنی بہن تسلیم سے بات کرتی ہوں کہ وہ اس حوالے سے اپنے میاں سے بات کرے ۔‘‘
’’ہاں مگر… اتنے پیسے وہ ہم پر کیوں کر خرچ کریں گے۔‘‘
’’دیکھو! وہ جتنے بھی پیسے تمہارے دبئی جانے پر لگائیں گے وہ تم کما کر ،تھوڑے تھوڑے کرکے ان کو لوٹاتے رہنا… ادھار کی ماں تو نہیں مر گئی نا…‘‘ بیوی نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
اب وہ اپنی بیوی کے مشورے پر ہی بیرون ملک جا رہا تھا تاکہ وہاں کوئی نیا کاروبار یا ملازمت کر سکے۔اس کا ایک بہنوئی پہلے ہی وہاں مقیم تھا ۔وہ وہاں ایک کمپنی میں ملازم تھا ۔اس کی اچھی خاصی آمدن تھی ۔اسی نے اسلم کے لیے ویزا اور ٹکٹ کا بندوبست کروادیا۔وہ بھی بیرون ملک جانے پر پوری طرح آمادہ تھا کہ ہو سکتا ہے خدا نے اس کی روزی ،روٹی وہا ں لکھی ہو۔. ا سی آس امید کے ساتھ وہ اپنے کپڑوں اور چند ضروری اشیاء سے بھرا بیگ اٹھائے ،قسمت آزمانے کے لیے گھر سے نکل کھڑا ہوا …
*…*…*

سکینہ بیگم نے دو بڑی بیٹیوں کی منگنی تو پانچ سال پہلے ہی کر دی تھی۔اب زبیدہ اور زاہدہ بیاہنے کے لائق ہو چکی تھیں۔ ان سات بیٹیوں کا باپ تو اس وقت ہی ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسا تھا جب سب سے چھوٹی بیٹی نمرہ تین ماہ کی تھی۔ اس وقت سکینہ بیگم کو بھی کبھی نہ بھرنے والا زخم ملا تھا۔ ان کا باپ شہر کے چوک میں سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھی لگاتا تھا جس سے اچھی خاصی آمدن ہو جاتی تھی اور گھر کے اخراجات پورے ہوتے رہتے تھے لیکن اب ان کی موت کے بعد ان کے گھر میں فاقوں نے ڈیرے ڈال لیے تھے۔سکینہ بیگم خود بھی دمہ کی مریض تھیں۔
’’اماں! آخر آپ کوئی کام شروع کیوں نہیں کر لیتیں…‘‘ ایک دن بڑی بیٹی نے ماں کا سردباتے ہوئے کہا۔
’’بیٹی! اب میں کیا کام کروں گی… میری ان بوڑھی ہڈیوں میں اتنی سکت کہاں ہے…‘‘
’’امی آپ اتنا اچھا سلائی کڑھائی کا کام کر لیتی ہیں… ہم ایک سلائی مشین لے لیتے ہیں آپ کپڑے سیا کرنا اور میں کڑھائی میں آپ کی مدد کیا کروں گی… اس طرح کچھ نہ کچھ آمدن شروع ہوجائے گی ۔ گھرکا چولہا بھی جلتا رہے گا اور آپ کی دوائیں بھی آتی رہیں گی۔‘‘
’’ہاں بیٹا! کہتی تو تم ٹھیک ہو… اللہ ہمارے حال پر رحم کرے۔‘‘
آخر کار سکینہ بیگم نے کچھ جمع پونجی سے ایک سلائی مشین خرید لی ۔وہ سلائی کڑھائی ؂؂میں ماہر تھیں ۔انہوں نے ارد گرد محلے والی عورتوں کے کپڑے سلائی کرنا شروع کر دیے ،جس سے کچھ رقم گھر میں آجاتی اور وہ گھر کے لیے سودا سلف لا کر رکھتیں۔
ایک دن اچانک دل کا دورہ پڑنے سے سکینہ بیگم کپڑے سلائی کرتی کرتی خود کفن میں لپٹ گئیں ۔ اس کے ساتھ ہی تمام رشتہ دار وں نے بھی ان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ زاہدہ اور زبیدہ دونوں میٹرک پاس تھیں ۔ اب وہ ساتوں بہنیں اپنی بے اولاد خالہ نسرین کے پاس رہنے لگیں۔
خالہ نسرین کو بھی ہر وقت ان کی فکر رہتی تھی۔اس نے کئی مرتبہ لڑکے والوں سے شادی کی بات کی تو وہ ہر بار ہی جہیز کا تقاضہ کرتے اور نسرین مائی اپنا سا منہ لیے واپس آجاتی۔ نسرین مائی کے پاس بھی اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ ان دونوں بہنوں کو ضروری جہیز دے کر رخصت کردیتی۔ اب تو زاہدہ اور زبیدہ سے چھوٹی دو بہنیں بھی جوان ہو چکی تھیں ۔اب انہیں اور بھی زیادہ فکر رہتی تھی ۔گھر کے حالات دن بدن بگڑتے جا رہے تھے۔ اب ان کو بھی اللہ کی ذات سے ہروقت شکوہ رہتا تھا ۔دونوں بڑی بہنیں اکثر اپنے ابا اور سکینہ بیگم کو یاد کر کے چپکے سے آنسو بہاتی رہتی تھیں ۔
’’خالہ ! اللہ تعالیٰ نے ہمیں غریب پیدا کیوں کیا…؟ اور پھر پہلے ابا کا سایہ ہمارے سروں سے چھین لیا، ابھی وہ زخم نہیں بھرا تھا کہ ہماری ماں کو بھی اپنے پاس بلالیا…‘‘ زاہدہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور وہ خالہ نسرین کے گلے لگ گئی۔
’’اور پھر اللہ تعالیٰ نے ساری بہنیں ہی پیدا کردیں… اگر ہمارا کوئی بھائی ہوتا تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے…‘‘ زاہدہ کی آنکھوں میں بھی شکوہ تھا۔
’’میری بچیو! مت رو… اللہ کی ذات ہمارے ساتھ ہے نا… بس دعا کیا کرو کہ وہ ذات ہمارا ہاتھ تھام لے… ‘‘خالہ نسرین نے دونوں کو گلے لگاتے ہوئے کہا۔
وہ اللہ پاک سے شکوہ کرتی رہتیں کہ ہمیں غریب کیوں پیدا کیا… پھر یتیم اور مسکین بھی کر دیا اور پھر ساری بہنیں پیدا کر دیں … اگر ہمیں ایک بھائی دیا ہوتا تو شاید آج ہمیں ان پریشانیوں اور مایوسیوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا … وہ گھنٹوں اندر کمرے میں چھپ کر روتیں۔ وہ ہر وقت کسی معجزے کی آس میں رہتیں،کیونکہ اب تو کوئی معجزہ ہی ان کی کایا پلٹ سکتا تھا۔ زاہدہ اور زبیدہ نے چھوٹے بچوں کو گھر میں پڑھانا شروع کر دیا ۔جن کی فیس سے ان کے گھر کے حالات قدرے بہتر ہونے لگے مگر جہیز کا مسئلہ حل کرنے کے لیے یہ پیسے کچھ اہمیت نہیں رکھتے تھے ۔ظاہر ہے دس بارہ بچوں کی ماہانہ فیس سے چولہا ہی جل سکتا تھا۔
*…*…*

اسلم بیرون ملک پہنچ چکا تھا ۔اپنے بہنوئی کے توسط سے اسے ایک فیکٹری میں چھوٹی سے ملازمت بھی مل گئی تھی۔لیکن یہ ملازمت اس کے حالات بدلنے کے لیے کم تھی۔اس کی مایوسی ابھی جوں کی توں تھی ۔ وہ اچھی ملازمت چاہتا تھا جس سے اچھی آمدن ہو اور وہ گھر کے حالات بدل سکے ، اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا سکے … وہ ہر وقت انہی سوچوں میں گم رہتا تھا ۔ایک دن جمعہ کے روز فیکٹری کے باقی مزدوروں کے ساتھ وہ بھی قریبی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے گیا جہاں امام صاحب’’ محبت الٰہی ‘‘پر بیان فرما رہے تھے :
’’اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے پناہ محبت کرتا ہے ۔انسان جتنا اللہ کے قریب جاتا ہے االلہ پاک اس سے دس گنا زیادہ بندے کے قریب ہو جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی ذات تو انسان کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے ۔اللہ پاک انسان کے دل میں رہتا ہے بشرطیکہ اللہ پاک کی ذات کو پہچانا جائے ،اس ذاتِ اقدس کا قرب حاصل کیا جائے ۔ اللہ پاک کا قرب اس کے بتائے ہوئے احکامات پر چل کر حاصل کیا جا سکتا ہے ۔‘‘ اسلم امام صاحب کی باتیں بڑی توجہ اور انہماک سے سن رہا تھا۔وہ مزید بولے :
’’ آج کل کا انسان پریشان کیوں نظر آتا ہے… ؟مایوس کیوں ہے..؟ اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات چھوڑ دیے ہیں ۔دنیا کی محبت میں آکر اللہ تعالیٰ کو بھول گیا ہے ۔ انسان کا دل ہر وقت دولت کی طلب میں مگن رہتا ہے۔ دن میں پانچ مرتبہ مسجد سے اللہ اکبر کی صدا پر انسان نے لبیک کہنا چھوڑ دیا ہے ۔ ورنہ اللہ پاک کی ذات تو اپنے بندے سے ستر ماؤں سے بڑھ کر پیار کرتی ہے ۔انسان اللہ تعالیٰ سے محبت کر کے تو دیکھے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کومختلف طریقوں سے آزماتا ہے ،ہمیں ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اس پاک ذات سے کبھی نا امید اور مایوس نہیں ہونا چاہیے ،کیونکہ مایوس ہونے کا مطلب یہی ہے کہ انسان کو اللہ پاک کی ذات پر یقین نہیں ہے ۔اور ہمارے پیارے نبی ﷺکا ارشادِ گرامی ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔
’’ہمیں اللہ پاک کی ذ ات سے کبھی مایوس نہیں ہو نا چاہیے ۔بلکہ اللہ پاک کا قرب حاصل کرنا چاہیے ۔ہم دن میں پانچ وقت نماز کو اپنا اصول بنا لیں اور اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھیں تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ پاک بندے کے قریب نہ ہو ۔‘‘ اس کے بعد نمازِ جمعہ ادا ہوئی اور سب لوگ واپس آنے لگے ۔ اسلم نے مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ کر دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے۔
’’اے میرے اللہ! میں نے ہمیشہ تجھ سے شکوہ کیا.. مجھے معاف کردے … میں رستہ بھٹک چکا ہوں، مجھے سیدھا رستہ دکھا دے… مجھے وہ زبان عطا کر جو ہروقت تیرا شکر ادا کرے … اے میرے مالک…‘‘ اس کے ساتھ ہی اس کی ہچکی بندھ گئی۔
اسلم کی سوچ واپسی پر بالکل تبدیل ہو چکی تھی ۔اس نے دل ہی دل میں عہد کر لیا تھا کہ آئندہ کبھی اللہ پاک سے شکوہ نہیں کروں گا اور پانچ وقت کی نماز اد اکر کے اس ذات سے دعا مانگا کروں گا ۔
اب اسلم ہر وقت اللہ پاک کا شکر ادا کرتا اور نماز کی پابندی کرتا ۔فارغ وقت تسبیحات میں گزارتا۔باقی مزدوروں سے اس کا لہجہ دن بدن اچھا ہوتا جا رہا تھا۔ اپنا کام بھی دلجوئی سے کرتا ۔اس کے کام میں نفاست بھی روز بروز بڑھتی جا رہی تھی ۔ وہ اللہ پاک کی ذات سے بہت پر امید تھا۔ اس کو اب دلی سکون ملتا … جس سے اللہ کی ذات پر اس کا یقین اور بھی مضبوط ہو تا جا رہا تھا۔ ایک دن وہ کام سے فارغ ہو کر فیکٹری کے مالک کے پاس اس کے آفس آیا اور دعا سلام کے بعد بولا:
’’ سر مجھے کوئی اور کام بھی دلوا دیں جو میں پارٹ ٹائم میں کرسکوں ۔‘‘
’’کیوں بھئی اسلم اس میں کیا گزارہ نہیں ہو پا رہا …؟‘‘ سیٹھ اکبر نے سوال کیا۔
اس کے بعد اسلم نے ساری کہانی سیٹھ اکبر کے گوش گزار دی ۔ سیٹھ اکبر ایک ہمدرد اور با اخلا ق انسان تھا ۔ وہ جمشید کے کام میں نفاست اور دلچسپی پچھلے کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا تھا۔ وہ دیکھتا کہ اسلم وقت پر فیکٹری آتا ہے اور انتہائی محنت سے کام کرتا ہے ۔
’’اسلم ! میں تمہارے کام سے بہت خوش ہوں ، مجھے تم جیسے انسان کی ہی تلاش تھی ۔‘‘ سیٹھ اکبر نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اپنی تعریف سن کر اسلم کے لبوں پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔ اسے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ فیکٹری کے مالک سیٹھ اکبر اس کی تعریف کر رہے تھے۔
’’اور آج سے تم تمام ملازمین کے سپر وائزر ہو۔ تمہاری تنخواہ بھی دوگنی کردی گئی ہے ۔‘‘ سیٹھ اکبر نے ایک بہت بڑی خوش خبری اسلم کو سنا دی۔
’’اسلم! اگر تم اسی طرح محنت اور ایمانداری سے کام کرتے رہے تمہیں مزید بھی ترقی دی جائے گی۔ ‘‘ سیٹھ اکبر نے ایک اور خوش خبری بھی سنا دی۔
وہ محبت اور ایمانداری سے کام کرتا رہا اور اللہ پاک کا اس دیے ہوئے پر شکر گزار رہتا اور فیکٹری کے تمام ملازمین سے محبت اور شفقت سے پیش آتا۔ٹھیک تین سال کے بعد وہ اس فیکٹری کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر بن چکا تھا ۔یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔پڑھا لکھا تو وہ تھا ہی اور اب اس کی مزید بھی ترقی ہو گئی تھی۔ اس کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے کر دی گئی تھی ۔جو اس کے خوابوں کی تعبیر کے لیے کافی تھی۔ اس کا یقین خدا پر اور بھی پختہ ہو گیا ۔
’’ اللہ تعالی اپنے بندوں کو صرف آزماتا ہے، وہ اپنے بندوں کو کبھی بھولتا نہیں۔‘‘ وہ اکثر سوچتا ۔
اس کے بچوں کی فیس اور گھر کا تمام خرچہ اچھے طریقے سے چلنے لگا تھا ۔ یہ سب اسے اپنے خالق سے محبت اور اس پر کامل یقین سے ملا تھا ۔وہ اپنے خالق کے ذرا سا قریب ہو اتو وہ وہ پاک ذات اس کے اور بھی قریب ہوتی چلی گئی۔
* …*…*

ہر طرف خوشی اور حیرانی کی ملی جلی کیفیات تھیں ۔کھانا بھی تیار ہو چکا تھا ۔مہمان بھی تشریف لا چکے تھے ۔بس اب تو بارات کا انتظار تھا۔ کچھ ہی دیر میں بارات بھی آ چکی تھی اور دونوں دولہے بھی اکٹھے تشریف لا چکے تھے۔ اب کھانا اور نکاح کی رسم باقی تھی۔
زاہدہ اور زبیدہ عروسی ملبوسات اوڑھے موٹے موٹے آنسو بہا رہی تھیں۔ انہیں اپنے امی اور ابا کی محبتیں اور لاڈ پیار شدت سے یاد آرہے تھے۔وہ ماں جو زاہدہ کے پیٹ میں درد ہونے کی وجہ سے پور ی رات اس کے سرہانے جاگتی تھی اور دعائیں کرتی تھی۔ وہ باپ جو میلوں دور زاہدہ اور زبیدہ کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر دادا اور دادی سے ملوانے گاؤں لے جاتا تھا ۔وہ ماں باپ اب موجود نہیں تھے۔ بیٹیاں بیگانے گھروں کو جا رہی تھیں ۔ہاں خالہ نسرین کی آنکھوں میں ایک خوبصورت چمک تھی وہ کبھی آسمان کی طرف دیکھتی اور کبھی عروسی لباسوں میں ملبوس زاہدہ اور زبیدہ کو دیکھتی اور کبھی صحن میں پھیلے ان کے جہیز کو…
خالہ اور ان سب بہنوں کی اداسی اور مایوسی اب خوشیوں میں بدل گئی تھی ۔انہیں اپنے خالق کی ذات پر کامل یقین ہو گیا تھا ۔ انہوں نے تو سوچ لیا تھا کہ ہمیشہ خالہ نسرین کے ساتھ ہی رہنا پڑے گا۔ نہ جہیز ہوگا نہ ان کی شادیاں ہو ں گی لیکن آج ان کی یہ ناا میدی اور مایوسی خوشیوں میں بدل گئی تھی۔ان کی بے بسی اب ختم ہو گئی تھی ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ وہ جو خالقِ کائنات ہے اپنے بندوں کو کبھی نہیں بھولتا بلکہ وہ تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے ۔
اللہ پاک نے ان دونوں بہنوں کی شادیوں کا کام اپنے ایک محبت کرنے والے انسان ’’اسلم خان ‘‘ سے لیا تھا۔ جی ہاں وہی اسلم جو کہ ایک وقت میں مایوس ترین انسان تھا لیکن جب اس نے اپنے خالق پر یقین کیا اور اس سے پر امید ہوا تو خالق نے اس کو اتنا دیا کہ آج وہ اس کی مخلوق کے کام آ رہا تھا۔ جب چار سال بعد وہ وطن واپس آیا تو اسے اس خاندان کے بارے میں اپنی بیوی سے علم ہوا تو اس نے اپنی بیوی کو ان کے گھر بھیج دیا اور انہیں کہا :
’’ جو چیزیں اور سامان لینا ہے اس کی فہرست تیار کر دیں، ہم آپ کی بچیوں کا جہیز اور باقی تمام ضروریات بغیر کسی لالچ کے پوری کرنے کو تیار ہیں۔‘‘
اسلم خان نے اللہ کی رحمت اور نصرت سے دونوں بہنوں کی شادیوں کا سارا خرچ خود اٹھا یا اور انہیں خوبصورت اور با عزت طریقے سے رخصت کیا۔ اور نہ صرف یہی بلکہ اگلے دو سالوں میں ہی چھوٹی دو بچیوں کشمالہ اور نورین کی شادیوں کا بھی ذمہ لے لیا ۔ یوں اللہ پاک نے ایک شخص کے ذریعے اس مایوس خاندان کی مدد فرمائی اور انہیں مایوسیوں اور اداسیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیرے سے لا کر روشنیوں اور امیدوں کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔خالہ نسرین ، زاہدہ ، زبیدہ ، اور ان کی بہنوں کو یقین ہو گیا تھا کہ جو خالق انسان کو پیدا کرتا ہے وہ اس کی زندگی کے رزق کا بھی بندو بست کرتا ہے ۔وہ جان چکی تھیں کہ وہ خالق و مالک انسان کو مختلف طریقوں سے آزماتا ضرور ہے مگر ان آزمائشوں میں صبر کرنے والوں اور اس کا ہر حال میں شکر ادا کرنے والوں کو نعمتوں سے نوازتا ہے۔ان کی مایوسی اور نا امیدی کی جگہ اب خوشیوں اور امیدوں نے لے لی تھی ۔زاہدہ اور زبیدہ کی شادیوں نے اس خاندان کے اندر اللہ کی محبت اور کامل یقین کی روح پھونک دی تھی۔ رخصتی کے وقت خالہ نسرین ،زاہدہ اور زبیدہ کی چھوٹی بہنوں کی آنکھوں میں خوشی اور غم کے آنسو تھے ،خوشی اس بات کی تھی کہ ان کی بہنیں با عزت طریقے سے اپنے اگلے گھر جا رہی تھیں ،غم اس چیز کا تھا کہ آج اس خوشی کے پر مسرت موقع پر ان کے ابا اور امی بھی ہوتے تو یہ خوشیاں اور بھی زیادہ رنگ لیے ہوتیں ،انہیں اپنے امی ،ابا بہت یاد آرہے تھے۔ خالہ نسرین اور اسلم کی بیوی نے ان دونوں بہنوں کو اس گھر سے گلے سے لگا کر رخصت کیا۔ اسلم خان کی بیوی کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔ پاس ہی کھڑے اسلم خان کی آنکھیں بھی چھلک رہی تھیں ۔وہ سوچ رہا تھا کہ خالق کتنا رحیم و کریم ہے کہ ایک مایوس شخص کو اپنی محبت سے نواز کر بلندیوں پر لے جاتا ہے اور پھر اسی شخص کو اپنی مخلوق کے لیے ہمدرد بنا کر بھیجتا ہیے۔ کتنا عظیم ہے وہ خالق و مالک جو اپنے بندے کی شہہ رگ سے بھی زیادقریب ہے اور اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے بھی بڑھ کر پیار کرتا ہے۔
*…*…*
اب خالہ نسرین اور اسلم خان کا ایک دوسرے کے ہاں آنا جانا بن گیا تھا۔ خالہ نسرین کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہوتی ، اسلم خان اپنی بیوی کے ہاتھوں بھجو ادیتا تھا۔یوں اللہ پاک نے دونوں خاندانوں کو اپنے اس قدر قریب کر لیا تھا۔اسلم خان کے بچے ایک اچھے سکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔یہ خالق کی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ اسلم خان اب ہر سال حج کی سعادت بھی حاصل کرتا ہے اور اس خالق کی مخلوق سے بھی بے پناہ محبت کرتا ہے اور غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے ہر دم کوشاں رہتا ہے۔
اگر آپ کو بھی اللہ نے دولت اور عزت سے نوازا ہے تو اپنے آس پاس ایسے غریب خاندان ضرور ڈھونڈیں اوران کی مدد کر کے اللہ کے ساتھ تجارت کریں۔ یقین کریں یہ وہ تجارت ہے جس میں کبھی گھاٹا ہو ہی نہیں سکتا۔
*…*…*

یہ افسانہ بھی پڑھیں
فریبی اجالا—طارق شبنم بانڈی پورہ کشمیر (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں