عشق سترنگی (ناول)….فاطمہ عمران (قسط نمبر 9)

قسط نمبر 9

“نور پلیز میری ریکویسٹ ہے کہ مالا سے میری صرف ایک بار بات کرا دو”
احمد نے ملتجی نظروں سے نور کو دیکھا تو نور کو اس پر ترس سا آنے لگا “احمد میں نے بہت کوشش کی ہے۔ مگر وہ تو تمہارا نام تک سننے کی روادار نہیں ہے”
“پلیز نور۔۔صرف ایک بار۔۔۔اسے کہو میرا نمبر انبلاک کر دے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اسے دوبارہ کبھی تنگ نہیں کروں گا۔ اپنے ہاتھوں سے اپنی مالا کسی اور کو سونپ دوں گا۔ میں صبر کر لوں گا۔ مگر بس ایک بار میری التجا اس تک پہنچا دو”
احمد تقریباََ رو دیا تو نور سے بھی رہا نہ گیا۔ وہ احمد کو اچھی طرح سے جانتی تھی۔ احمد کوئی برا لڑکا تو نہیں تھا۔ بس وقت اور حالات کی ستم ظریفی کہ یہ سب واقعات احمد کے خلاف جا رہے تھے۔ مگر کیا پتہ کہ وہ سب کچھ سچ کہہ رہا ہو۔ مالا کو کچھ ایسا بتانا چاہ رہا ہو۔ جو اسکی بیگناہی ثابت کر دے۔ مگر اب کیا فائدہ؟ اب تو مالا کسی اور کی ہو چکی ۔
نور بھی جانتی تھی کہ مالا احمد کو حال دل بیان کرنے کا یہ موقع شاید ہی دے۔ وہ تو احمد کا نام سن کر ہی نور کو سختی سے منع کر چکی تھی کہ اسے اس بارے میں کوئی بات نہیں کرنی۔ اور نہ ہی کسی بات کو کرنے سے اب کچھ حاصل ہو سکتا تھا۔
** *** ****
“i love u”
مالا کے موبائل پر میسج ریسیو ہوا۔ اس نے سینڈر کا نام دیکھا۔ حیدر کا نام پڑھ کر اسکے رگ و پے میں ایک عجیب سی رو گردش کر گئی۔ کسی اپنے کی طرف سے چاہے جانے کا احساس دلایا جائے تو انسان خود پر نازاں ہو جاتا ہے۔ مالا نے بھی حیدر کو دل و جان سے قبول کر لیا تھا۔ اب وہی اس کے سر کا تاج تھا اور وہی اس کا سائباں۔ اور اس کا دل اب ہر گھڑی اسی کے لیے دھڑکتا تھا۔
مالا کا یہ فیصلہ اس کی سمجھداری کا ثبوت تھا۔ ورنہ کسی کے ہاتھ کچھ نہ آتا اور کئی زندگیاں برباد ہو جاتیں۔
مالا نے میسج پڑھ کر ریپلائی کیا۔۔۔
“i love u too”
فورا ہی جواب آگیا “کتنا؟ ”
مالا نے بھی ٹائپ کرنا شروع کر دیا
“کیا مطلب کتنا؟ ” مالا نے پوچھا تو جواب آیا
“شام میں سرپرائز ہے”
“کیا؟ ”
“شام کو بتاؤں گا”
“بتاؤ بھی”
“انتظار کرو”
“بتاؤ نا”
“کہا نا انتظار کرو”
“جاؤ ہٹو۔ بات مت کرنا”
“ہاہاہاہا”
جواب پڑھ کر مالا نے مصنوعی منہ بنا لیا اور بے اختیار ہی مسکرا دی۔
پھر موبائل رکھ کر وہ کچھ دیر حیدر کے بارے میں سوچتی رہی۔
پھر اچانک اس کے جی میں نجانے کیا آیا کہ اس نے موبائل اٹھایا احمد کا نمبر انبلاک کیا اور اسے ایک میسج سینڈ کر دیا۔
“ہم نیند سے کب کے
بیدار ہو چکے۔۔۔
کہ تیرے خواب اب مجھے
کبھی تنگ نہیں کرتے۔۔۔
وہ تیرے ساتھ کی خواہش۔۔
جو کبھی حسرت تھی ہماری۔۔
وہ تیرے نام سے چاہت ۔۔۔
جو کبھی پہچان تھی ہماری
اب ان ہواؤں کے حوالے۔۔۔
کہ ہم نیند سے کب کے
بیدار ہو چکے”
میسج سینڈ کر کے مالا کو ایک عجیب سا اطمینان محسوس ہوا۔ اس نے احمد کا نمبر دوبارہ بلاک کر دیا ۔
میسج احمد کو موصول ہوا تو اس نے فورا کال بیک کی۔ مگر نمبر بند جا رہا تھا۔۔۔””اوہ مالا ۔۔۔۔کاش تم ایک بار میری بات سن لو۔۔کاش!!! ”
*** **** ****

شام کو حیدر گھر آیا تو مالا تقریباً بھاگتی ہوئی دروازے تک پہنچی ۔ آج سے پہلے اس نے کبھی حیدر کا اتنا والہانہ استقبال نہیں کیا تھا ۔ اسکی والدہ بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکیں۔ مگر وہ پر اطمینان تھیں۔ مالا اب حیدر کے ساتھ گھر بسانے جا رہی تھی۔ انکے لیے اس سے بڑھ کر کیاتسلی ہو سکتی تھی۔ ویسے بھی اس دن بازار میں احمد کی والدہ کا مالا کے ساتھ سلوک دیکھ کر وہ دل ہی دل میں خدا کا شکر بجا لاتیں کہ انکی مالا احمد کے ساتھ نہیں ہے۔ اس کے لیے حیدر سے بہترین کوئی ہمسفر نہیں ہو سکتا تھا۔ حیدر سے زیادہ مالا کو کوئی پیار دے سکتا تھا نہ سکھی رکھ سکتا تھا۔ اور یہ بات وہ اچھی طرح جانتی تھیں۔
مالا نے دروازہ کھولا تو حیدر کے ساتھ آئی بی بھی تھیں۔ مالا ٹھٹھک کر رک گئی۔ اور پھر فورا آئی بی کے گلے لگ گئی۔ آئی بی بھی مسکرائے بنا نہ رہ سکیں۔ “اچھا بس آئی بی ہی نظر آتی ہیں آپ کو۔ یہاں کوئی اور بھی اسی گرمجوشی سے آپ کے استقبال کا منتظر ہے”
حیدر نے آئی بی کے سامنے ہی کہہ دیا تو مالا گھبرا کر شرما سی گئی۔ آئی بی کھلکھلا کر ہنس پڑیں۔ “بے شرم کہیں کا۔ اتنا بھی خیال نہیں کہ آئی بی بھی سامنے کھڑی ہیں۔ اتنا ہی شوق ہے ملنے کا تو مالا کو ذرا لانگ ڈرائیو پر لے جاؤ” آئی بی نے بھی شرارتاً کہا تو مالا جھینپ گئی۔ “آئی بی آپ بھی !!”
آئی بی نے مالا کے ماتھے پر بوسہ لیا اور اندر آ گئیں۔ “آؤ تو میری بچی ۔ اب تم میرے حیدر کی ہی تو امانت ہو۔ جو میں جلد از جلد حیدر کو سونپ دینا چاہتی ہوں۔ ”
آئی بی حیدر کے ساتھ اندر آئیں تو مالا کے گھر والوں نے انکا پرتپاک استقبال کیا۔
ڈرائنگ روم میں بیٹھتے ہی مالا چائے بنانے کیلیے کچن میں چلی گئی۔آج کام والی ماسی بھی چھٹی پر تھی۔لہذا سب انتظام مالا کو ہی دیکھنا تھا۔ تبھی آئی بی مالا کی والدہ سے مخاطب ہو کر بولیں ” بہن اب مالا ہمیں دے دیجیے۔ چھ مہینے بہت دور سے لگ رہے ہیں اپنی مالا بٹیا سے۔ اگلے مہینے ہی ہمیں شادی کی تاریخ دیجیے۔ مالا شادی کے بعد جتنی مرضی پڑھائی کرتی رہے۔ بس ہمارا گھر بھی روشن ہو جائے ہماری بہو کی چہل پہل سے”
آئی بی نے کہا تو مالا کی والدہ رد نہ کر سکیں۔ “وہ تو ٹھیک ہے۔لیکن اتنی جلدی شادی کی سب تیاریاں کیسے ہوں گی”؟
مالا کی والدہ نے پریشانی کے عالم میں کہا تو حیدر نے فورا ٹوکا “آنٹی وہ سب آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ میں آپکا داماد ہی نہیں ۔ بیٹا بھی تو ہوں۔ آپ بس مالا کو میرے سنگ رخصت کر دیں۔ میں وعدہ کرتا ہوں۔ اسے ہمیشہ خوش رکھوں گا۔ ”
مالا کی والدہ آبدیدہ ہو گئیں۔ خوشی کے یہ آنسو نجانے کب سے انکی آنکھوں سے ٹپکنے کو بیتاب تھے۔ “ارے آپ تو ابھی سے رونے لگیں۔ مالا ہے ہی ایسی۔۔۔اس سے دور رہنا آسان تھوڑا ہی ہے۔ لیکن رسم دنیا ہے۔ نبھانی تو پڑے گی۔ بس آپ جلدی سے اب اسے وداع کرنے کی تیاری کیجیے۔ اور ہم اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہو کر اس کا اپنے آنگن میں اترنے کا انتظار کرتے ہیں۔”آئی بی نے کہا تو حیدر فورا بولا “آنٹی اگر آپ کی اجازت ہو تو میں مالا کے ساتھ کچن میں ہیلپ کروا دوں۔ میرا مطلب چائے لانے میں”
مالا کی والدہ نے مسکرا کر اجازت دے دی۔
*** *** ***
“ہوں ہوں۔”۔۔حیدر نے کچن میں آکر مالا کے کان میں کہا تو مالاکے ہاتھ سے کپ گرتے گرتے بچا۔
“کیا ہے؟ یہاں کیوں آ گئے آپ”
“ارے واہ تم تو ابھی سے آپ پر آ گئیں۔ مانا کہ تمہارا سرتاج ہوں مگر ابھی سے آپ آپ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ ۔۔۔یہ سنیے دیکھیے سہاگ رات کے اگلے دن سے شروع کرنا۔ ”
مالا کے چہرے پر گلابی رنگ بکھر گیا۔ “بہت بےشرم ہو”
“ہاں وہ تو ہوں… ”
“پرے ہٹو”
“نہ ہٹوں تو”
“اچھا۔۔ کیا کر لو گے”
“بتاتا ہوں۔ آنکھیں بند کرو”
مالا نے آنکھیں بند کیں تو حیدر نے اسکے گال پر ایک نشانی ثبت کر دی۔ مالا نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔ “ہا کتنے بےشرم ہو۔۔رکو ابھی امی کو آواز دیتی ہوں”
مالا نے شرارتا دھمکی آمیز لہجے میں کہا تو حیدر نے اطمینان سے بسکٹ اٹھا کر منہ میں رکھا۔ اور کہا “ہاں بتا دو۔ کیا کہو گی کہ حیدر نے کیا کیا؟ ”
جواباً مالا کے چہرے پر پھیلی لالی نے اس کے دل میں موجود محبت کے جذبے کی گواہی دی۔ اور حیدر اپنی قسمت پر نہال ہو گیا
* * * * * * * *
احمد مالا سے بات کرنے کے لیے بیتاب تھا۔ اسے کسی پل چین نہیں آ رہا تھا۔ وہ تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جب وہ واپس آئے گا تو مالا جا چکی ہو گی۔ وہ دل ہی دل میں خود پر ناداں تھا۔۔۔۔شرمندہ تھا۔۔۔اس نے خود سے ہی سوچ لیا تھا کہ اگر وہ کبھی نہیں آئے گا تو مالا ساری عمر اس کے نام پر بیٹھی انتظار کرتی رہے گی۔ اور جب بھی وہ آئے گا۔۔ مالا ہنستی ہوئی بغیر کسی شکوے اور گلے کے اس کی راہ دیکھ رہی ہو گی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ نہ مالا نے اس سے کوئی شکایت کی نہ کوئی شکوہ درج کرایا بس چپ چاپ اسکے ہاتھ الوداعی پروانہ تھمایا اور چلی گئی۔ جاتے جاتے اپنے قدموں کے نشاں تک مٹاتی گئی کہ مبادا احمد اس کی راہ پر اسکا پیچھا کرنے آ جائے.
اتنی گہری لاتعلقی ۔۔۔اتنی بڑی سزا۔۔۔۔اور وہ بھی کٹہرے میں کھڑے انسان کا مدعا سننے سے پہلے ہی۔
احمد منتیں کرتا رہ گیا۔۔۔کبھی نور۔ کبھی سندس۔۔ کبھی کسی دوست کبھی کسی کلاس فیلو کے ذریعہ پیغام پہچانے کی۔مگر مالا سے بس ایک دن ادھار لینے کی التجا ۔۔۔التجا ہی رہی۔ وہ کہاں گیا تھا۔۔۔کیوں گیا۔۔۔اس بارے میں مالا نے نہ پوچھا اور نہ احمد کو بتانے کا موقع ملا۔۔۔اور مالا سے جب اسکا سامنا ہوا تو وہ گجروں میں لدی صرف اور صرف حیدر کی منتظر تھی۔
احمد چھپتے چھپاتے مالا کا دوست بن کر اسکی شادی میں شرکت کرنے آگیا۔۔۔
*** *** ****

ہاتھوں میں کنگن۔۔۔۔بالوں میں گجرے ۔۔۔۔کانوں میں بالی۔۔ پھولوں سے پروئی ہوئی مالا۔۔۔ جب حیدر کی کسی سرگوشی پر مسکرائی تو احمد کے دل میں جیسے کسی نے آگ بھر دی۔۔۔نارنجی کرتے میں ملبوس مالا کے ہم رنگ لباس میں وہ دونوں سورج کی جوڑی ہی لگ رہے تھے ۔۔۔ کہ چاند تو سفید ہوتا ہے ۔ ۔۔۔وہ دونوں آتشیں رنگ میں ایک دوسرے کی سنگت میں بہت خوش نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
مالا جانتی بھی نہ تھی کہ احمد اسکی شادی میں نہ صرف شریک ہے بلکہ ایک اوٹ سے بس اسٹیج پر انہی دونوں کو تکے بھی جا رہا ہے ۔۔
حیدر نے سب سے نظر بچا کر مالا کو کہنی ماری تو احمد کے دل پر جیسے کسی نے گھونسا سا مار دیا۔۔
اپنی محبت کو یوں نظروں کے سامنے پرایا ہوتا دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔۔۔
مگر پرایا تو احمد تھا مالا کے لیے۔ حیدر کے ساتھ تو اس نے قبول و ایجاب کے مراحل طے کیے تھے۔ احمد اس پل صراط پر کھڑا تھا کہ آر یا پار۔۔۔۔اسکی تو ہار ہی تھی ۔۔وہ مالا جو کبھی صرف اسکی تھی۔۔۔اب بس اسی کی نہیں تھی۔۔۔۔
سب لوگ شادی میں خوش تھے۔۔ مالا اور حیدر کے چہروں پر محبتوں کے پیغام صاف پڑھے جا سکتے تھے۔ حیدر کی نظریں مالا کا طواف کرتیں تو وہ بے اختیار نظریں نیچی کر کے سمٹ سی جاتی۔ حیدر کی پرشوق نگاہیں۔۔۔اسکی نگاہوں میں مالا کیلیے موجود جذبے ۔۔۔اور اسکی آنکھوں کی حدت۔۔۔احمد کا من پگھلائے دے رہی تھی۔ شاید احمد خود کو سزا دے رہا تھا۔ اسے مالا کو یوں بغیر بتائے نہیں جانا چاہیے تھا۔ اسی لیے وہ اپنی نظروں کے سامنے مالا کو کسی اور کا ہوتے دیکھ رہا تھا۔ شاید وہ اس اذیت سے گزر کر سکون حاصل کرنا چاہتا تھا۔
مہندی کی تقریب کا وہ ایک ایک لمحہ اس پر قیامت ڈھاتا رہا اور ادھر مالا ہر گزرتے لمحے حیدر کے اور قریب ہوتی گئی ۔۔۔
**** *** ****
اگلے دن رخصتی تھی۔ احمد کو رات سے تیز بخار تھا۔ اور اسکے لیے بستر سے ہلنا بھی دشوار تھا۔
صرف نور تھی جو سب جانتی تھی۔ وہ احمد کی مہندی میں موجودگی سے بھی باخبر تھی۔ مگر مالا کو کچھ نہ بتانے کا وعدہ کر چکی تھی احمد سے۔
صبح سے ہی ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی۔۔۔
سہانے موسم میں رخصتی کی رسم طے ہوئی اور قرآن کے سائے تلے مالا بابل کا انگنا چھوڑ کر سدا کیلیے پیا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
*** **** ****
“کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ ”
“آپ آ چکے ہیں”
مالا نے کہا تو حیدر مسکراتے ہوئے بولا۔۔”بھئی مجھے بےشرم کہتی ہو اور خود کیسی دلہن ہو کہ سہاگ رات کو ہی ایسے پٹر پٹر جواب دے رہی ہو”
مالا کو حیدر کی بات سن کر اچانک یاد آیا کہ وہ سہاگ کی سیج پر بیٹھی ہے تو وہ جھجک کر سمٹ گئی۔
حیدر نے پورا کمرا اسکے من پسند پھولوں سے سجایا تھا۔ کھڑکی کی چوکھٹ پر بارش کی بوندیں پڑتیں تو ہلکی سی آواز پیدا ہوتی تھی۔
“سنو تمہیں بارش پسند ہے نا!! آؤ بارش دیکھیں۔۔۔” حیدر نے مالا کا ہاتھ پکڑ کر اٹھایا اور اسے کھڑکی کے پاس لے گیا۔۔۔اس نے پردہ ہٹایا۔۔۔۔بارش کی ننھی ننھی بوندیں شیشے پر لکیریں بناتی ہوئی نیچے تک جا رہی تھیں۔۔۔چند سیکنڈ کے وقفے سے آسمان پر بجلی چمکتی تو ایک روشن لہر سی جیسے آسمان سے زمین پر آتی دکھائی دیتی۔۔
حیدر اور مالا کھڑکی کے پاس کھڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے بارش دیکھ رہے تھے۔ انکے سانسوں سے کھڑکی پر دھند کی ایک تہہ سی جم رہی تھی۔ تبھی حیدر بوجھل آواز میں بولا “مالا تم خوش تو ہو نا؟ آج سے تم صرف میری اور میں تمہارا ہوں۔ کیا تم بھی مجھ سے اتنی ہی محبت کرتی ہو؟ آج تمہارا لمس میری سانسوں میں اتر رہا ہے۔۔کہو نا۔۔اس محبت کی بھی کوئی زباں ہوتی ہے بھلا؟ یا میں تمہاری آنکھوں سے ہی دل تک پہنچنے کا کوئی تار ڈھونڈوں؟ ”
حیدر کے جذبات سے معمور لہجے نے مالا کے دل کے ساز چھیڑے اور وہ یوں ہی حیدر کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے۔۔۔کھڑکی کے اس پار دیکھتی ہوئی سرگوشی میں بولی

“بھیگتی ہوئی راتوں میں
سناٹے کی چادر اوڑھے
بادلوں کی اوٹ سے
گرتی
قطرہ قطرہ اوس
مجھ میں جذب
ہونے سے پہلے
سرگوشی کیا کرتی ہے
کہ
اے دھنک رنگ چنری والی!!!
محبت کے
لمس کی ذرا زباں
تو بتاؤ ؟؟؟
تب میری جھکتی پلکوں
کی چلمن
اور دبے ہونٹوں کی
اوٹ سے
جھانکتی مدھم مسکان
کہتی ہے
کہ لمس کی بھلا
زباں کیا ہے؟؟
بس
ٹھہرے ہوئے وقت میں
چند سرگوشیاں
اور پھر خاموشیاں۔ ۔ ۔

مالا کی پلکیں جھک گئیں۔۔حیدر نے اسے اپنے بازوؤں میں بھر لیا۔۔۔
اور اس کے بعد۔۔۔۔لمس کی زباں تھی۔۔۔۔خاموشیوں کے قصے اور سرگوشیوں کی آہٹیں تھیں۔۔۔
مالا کی زندگی میں ایک قوس قزاح بکھر گئی۔
*** *** ***

یہ قسط بھی پڑھیں
شق سترنگی (ناول)—-فاطمہ عمران (قسط نمبر 8)

اپنا تبصرہ بھیجیں