پاکستانی استاد نے سینکڑوں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کر کے اساتذہ کے سرشرم سےجھکا دیئے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ایک پاکستانی استاد نے درندگی کی انتہا کرتے ہوئے ایک یا دو نہیں بلکہ سینکڑوں طالبات کو ہراسا ں کیا ۔ بحریہ کالج اسلام آباد کی صبا علی نامی متاثرہ ایک طالبہ نے اپنے فیس بک اکائونٹ پر اپنے اور دیگر طالبات پربیتی تمام کہانی شیئر کرتے ہوئے اس استاد کی نشاندہی کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ یہ استاد جس کا نام سادا ت بشیر ہےاور یہ ایچ نائن آئی ایم سی بی اسلام آباد میں پڑھاتا ہےاور یہ ہمارا بیالوجی کا پریکٹیکل لینےبحریہ کالج اسلام آباد آیا، یہ وہاں طالبات کو ہراساں کرتا رہا اور انہیں بلیک میل کر کے ان کیساتھ انتہائی قبیح حرکات کابھی مرتکب ہوا ہے۔ طالبہ نے اپنے بلاگ میں اپنی آپ بیتی لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ مذکورہ ایگزامنر سے متعلق اس سے پہلے امتحان دینے والی طالبات اس کی حرکات سے متعلق آگاہ کر چکی تھیں،طالبات کے مطابق یہ شخص انہیں پرچوں میں کم مارکس ، غلطیوں اور نمبرز کے حوالے سے بلیک میل کر کے ان کے جسمانی اعضا پر ہاتھ پھیرنے اور مختلف جنسی حرکات کرنے لگتا تھا ۔ کئی طالبات خوفزدہ بھی تھیں کیونکہ ان کے پریکٹیکل میں اسی ایگزامنر کی ڈیوٹی تھی۔ طالبہ بتاتی ہے کہ اس کے پریکٹیکل والے دن وہ اور اس کی ساتھی طالبہ کے علاوہ کمرہ امتحان میں اس کی ایک دوست بھی موجود تھی۔ ایگزامنر سے متعلق کہانیاں کیونکہ ہم نے پہلے ہی سن رکھی تھیں اس لئے میں خوفزدہ تھی اور وہاں سے جلدی نکل جانا چاہتی تھی اور میں نے اس کی کوشش بھی کی ۔پریکٹیکل میں آئے سوالات کا جواب امتحانی شیٹ پر دے کر اسے اس کے حوالے کرنے کے بعد ہمارا وائیوا تھا جو کہ اس نے لینا تھا۔ میں گھبراہٹ میں وہاں سے جلدی نکل آئی جس پر اس نے میری ساتھی طالبہ جو کہ میری سہیلی بھی تھی مجھے واپس بلایا اور میرے پرچے میں سے غلطیاں دکھانے لگ گیا، اس دوران اس نے بتایا کہ وہ ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ کچھ لمحوں بعد اس نے لیب اسسٹنٹ کو بھی وہاں سے بھیج دیا ۔ اس نے مجھے رخ دوسری طرف کرکے کھڑا ہونے کا کہا جس پر میں نے عمل کیا اور اچانک مجھے محسوس ہوا کہ وہ بالکل میرے عقب میں موجود ہے اور اس نے میری کمر کو چھونا شروع کر دیا۔اور پھر اس کا ہاتھ میرے نازک اعضا کو ٹٹول رہا تھا۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ اسی دوران وہاں اچانک لیب اسسٹنٹ دوبارہ آگیاجس کو دیکھتے ہوئے وہ ایگزامنر جو مجھے دبوچنے کے قریب تھا پیچھے ہٹ گیا اور مجھے وہاں سے جانے کا کہا۔ طالبہ کا کہنا تھا کہ اس سمیت متعدد لڑکیوں نے ایگزامنر کی قبیح اور جنسی حرکات سے متعلق امتحانی مرکز کی انتظامیہ اور اپنے سکول پرنسپل کو بھی آگاہ کیا۔ سکول پرنسپل کا کہنا تھا کہ ابھی چپ کر جائو کیونکہ آپ کے نمبرز اس کے ہاتھ میں ہیں۔ جب کہیں بھی سنوائی نہ ہوئی اور مجھ سمیت کئی لڑکیوں کی شکایات پر کسی کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی تو میں نے اس معاملے پر چپ رہنے کے بجائے ایسے شخص کو سب کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا ۔ طالبہ نے امتحانی نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا ہونا ہی نہیں چاہئے کہ طالبات کے امتحانی مراکز اور پڑھنے کی جگہوں پر مردوں کی ڈیوٹی ہونی چاہئے۔اور پھر جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو خواتین کو ہی چپ رہنے کا کہا جاتا ہے جو کہ بالکل بھی غلط ہے جبکہ اصل قصوروار کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہئے۔ یہ انتہائی دکھی اور قابل افسوس ہے کہ وہاں ایسا کوئی نہ تھا جو اس جنسی درندے سے طالبات کو محفوظ رکھتا۔ طالبہ نے اس ایگزامنر کے خلاف سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ’’سٹینڈ اپ فار یور سیلف ‘‘کے نام سے تحریک بھی شروع کر دی ہے اور اس نے سوشل میڈیا صارفین سےاستدعا کی ہے کہ وہ اپنی بچیوں کے بہتر مستقل کیلئے اس ہیش ٹیگ سے اس کے بلاگ کو شیئر کریں تاکہ ایسی خبیث ذہنیت کے افراد کو روکا جا سکے جو کسی کی زندگی خراب کرنے کا موجب بن رہے

اپنا تبصرہ بھیجیں