زینب—ثناء سعید (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

یوں تو زینب کی زندگی کو موضوع گفتگو بنانا،اس پر کوئی کہانی لکھنا سراسر نامعقولیت کی بات لگتی ہےمگر نجانے کیوں سر جھکائے اداس آنکھوں والی زینب کو نظرانداز کرنا مجھے جرم سامحسوس ہونے لگا ہے. شاید اس لیے کہ یہ عام سی کہانی متوسط طبقے کے ہر تیسرے گھر کی کہانی ہے،اسے دہراتے رہنا چاہیےکہ شاید کوئی زینب اس سے سبق سیکھ سکے،
سترہ سالہ زینب ایک چہکتی مہکتی سی لڑکی ہے.زندگی کے غموں سے بے نیاز جان محمد کی اکلوتی خوبصورت بیٹی،حسن جسے اپنی دادی سے ورثے میں ملا ہے، جان محمد ایک انتہائی معقول آدمی ہے، ایک چھوٹے سے ہوٹل کا مالک ہے، جان محمد کی ایمانداری اور علاقے میں نیک نامی کی وجہ سے یہ چھوٹا سا ہوٹل خوب چلتاہے، یوں سمجھیں کہ جان محمد کو سر کھجانے کی فرصت نہیں ملتی،جان محمد کی والدہ سارے محلے کی ادے ہیں،محلے کی تمام عورتیں اپنے دکھ سکھ ادے سے ہی کہتی سنتی ہیں، اس کی وجہ ادے کی رازداری کی عادت ہے،ادے ان کی چھوٹی موٹی ضرورت بھی پوری کردیتی ہیں، اکثر تو وہ بن کہے ہی ان کی ضرورت سمجھ جاتی ہیں اور اس خاموشی سے ان کی مدد کرتی ہیں کہ دوسرے ہاتھ کو بھی خبر نہیں ہوتی، ادے اس لیے بھی سب کے دکھ سکھ میں شریک ہوتی ہیں کیونکہ وہ خود جوانی میں بیوگی کے دکھ سے گزری تھیں، جوانی میں بیوگی کی چادر اوڑھنا آسان نہیں ہوتا،پھر اس صورت میں جبکہ بچے بھی چھوٹے ہوں،یہ شکرہے کہ شوہر مرتے وقت ایک چھوٹی سی دکان اور چار مرحلے کا گھر چھوڑ گیا تھا، کچھ برس اس دکان کو پردے میں رہ کر جیسے تیسے خود چلایا پھر جب بڑے بیٹے جان محمد نے آٹھویں پاس کر لی تو اس کو دکان پر بٹھا دیا کہ پریشانیوں نے جوانی میں ہی جوڑوں کے درد کا تحفہ دے دیا تھا، چھوٹا بیٹا علی محمد پڑھنے لکھنے میں تیزتھا سو بھائی نے اسے پڑھنے دیا اور خود اس دکان کو ایک چھوٹے سے ہوٹل کی شکل دے دی، دکان کے باہر خالی جگہ بہت تھی وہاں کرسیاں بچھا دی گئیں، اب یہ ہوٹل نہ صرف مقامی لوگوں کے مل بیٹھنے کی ایک مناسب جگہ بن گیا بلکہ اپنے کھانوں کے ذائقے اور صفائی ستھرائی کی بدولت دور دراز کے علاقوں میں کافی مقبول بھی ہو گیا خود جان محمد اور اس کی چھوٹی سی فیملی کے لیے یہ ہوٹل آمدنی کا ایک معقول ذریعہ بھی بن گیا، یوں زندگی کی جھیلی گئی مشقتوں نے اس خاندان کے لیے آسودگی کی راہیں ہموار کر دیں اور وہ ہنسی خوشی رہنے لگے.
اب ادے نے جان محمد کی شادی کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور اپنے ہی جیسے ایک متوسط گھرانے سے سیدھی سادی،خاموش طبع شازیہ کو بیاہ لائی، شازیہ نے آتے ہی نہ صرف جان محمد بلکہ ادے کا دل بھی جیت لیا، زندگی سبک رفتاری سے چلنے لگی جس میں زینب نے آکر اپنی قلقاریوں اور ننھی ننھی شرارتوں سے مزید رنگ بھر دیئے، جان محمد کو اپنی زندگی مکمل لگنے لگی، ادے بھی بیٹی کی کمی زینب کے ننھے وجود سے مٹتا محسوس کرنے لگیں.
Advertisement
know about a latest virus who can kill you in few minutes
ان کی پرسکون زندگی میں اس وقت ناگوار ہلچل مچی جب ادے کا چھوٹا بیٹا علی محمد انجان لوگوں میں سے ادے کو بتائے بغیر شمائلہ کو بیاہ لایا جس نے اپنے ناگوار رویے کی وجہ سے نہ صرف دونوں بھائیوں میں ناراضگی ڈالی بلکہ ادے کے دل میں پڑی ناراضگی کی اس دراڑ کر مزید گہرا کر دیا جو بیٹے کے بغیر بتائے شادی کرنے سے پڑی تھی، اسی بڑی ہوتی دراڑ نے آگے چل کر گھر کے درمیان دیوار کھڑی کروا دی اور چار مرحلے کا گھر بٹ کر دو دو مرحلوں کے چھوٹے چھوٹے دو مکانوں میں منقسم ہو گیا. ادے یوں تو بڑے دل گردے کی مالک تھیں مگر بیٹے کی خود سری سہنے کی ہمت نہ رکھتی تھیں، اس عالم میں بھی ننھی زینب کا وجود ان کے لیے شادمانی کا باعث تھا، زینب پاؤں پاؤں چلتے، ننھے ننھے قدم اٹھاتے،توتلی زبان میں باتیں کرتے اب سکول جانے لگی تھی، پڑھنے کی شوقین بھی تھی اور ذہین بھی، اس دوران شمائلہ بھی دو بچیوں کی ماں بن چکی تھی، اس کی عادات میں کوئی خاص فرق تو نہیں آیا تھا البتہ یہ معجزہ ہوا تھا کہ زینب کے آنے سے ناراضگی کا اظہار نہیں کرتی تھی اور زینب کے لیے اتنا ہی کافی تھا.
زینب کی چاچا کے گھر میں دلچسپی کی وجہ صبیحہ اور ماہ نور تھیں،اگرچہ وہ دونوں زینب سے چھوٹی تھیں مگر زینب اپنے اکلوتے پن سے گھبرا کر کبھی کبھار چاچا کے گھر چلی جاتی، چاچا بھی اس کے آنے سے کھل اٹھتے کیونکہ اس گھر سے تعلق صرف زینب کی وجہ سے تھا جہاں اس کی ماں اور بھائی رہتے تھے. ادے کو یوں تو زینب سے کوئی شکایت نہ تھی مگر اس کا چاچی کی طرف جانا انہیں ناگوار گزرتا تھا، دوسری طرف زینب اپنی ناسمجھی اور کم عمری کی وجہ سے حقیقت حال سے یکسر انجان اور زندگی کے اسرار و رموز سے مکمل بے خبر تھی. وہ ادے کے تجربے اورلوگوں کے بدلتے رویے کو اپنی کتابی معلومات اور سہیلیوں کے ساتھ مل کر کیے گئے تجزیے پر پرکھتی اور اکثر ادے سے ڈانٹ کھا کر بد مزہ ہو جاتی، ادے کو شمائلہ کے رنگ ڈھنگ سے ہی تو پرخاش تھی ورنہ وہ اب تک اس کو معاف کر بھی چکی ہوتیں، زینب بھی کیا کرتی،یہ عمر ایسی ہی ہوتی ہے رنگوں سے مزین اوراسے یہ رنگ شمائلہ چاچی کی باتوں اور صبیحہ اور ماہ نور کی ہنسی میں نظر آتے تھے مگر ادی نے زندگی کی کڑی دھوپ سہی تھی، اپنوں کی نگاہوں کو بدلتے دیکھا تھا، سکھ بھری زندگی کو اچانک دکھوں سے جلتے دیکھا تھا، انہیں زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا تھا، وہ خود چار جماعتیں پڑھ سکی تھیں مگر تعلیم کی اہمیت سے باخوبی آگاہ تھیں، وہ جانتی تھیں کہ تعلیم یافتہ عورت کبھی کسب معاش میں مار نہیں کھاتی اور مردوں کے اس معاشرے میں عزت سے سر اٹھا کرجینے کا ہنر جان جاتی ہے. وہ زینب کو یہ ہی سمجھاتیں، اکثر پاس بٹھا کر زندگی کے اسرار و موز سمجھاتیں کہ پڑھی لکھی عورت سلجھاؤاور سجاؤ کے ساتھ چلتی ہے.وہ نہ صرف اپنی ذات کے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے آسودگی کا سامان مہیا کرتی ہے کیونکہ وہ اولاد کو جب صحیح خطوط پر پالتی ہے تو نسلیں سنورتی ہیں. ادے جانتی تھیں کہ لڑکیوں کو شرم و حیا کے جس لبادے میں ہمارا معاشرہ لپیٹتا ہے اس میں دانائی کی کوئی رمق نہیں ہوتی. قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور ایک مسلمان لڑکی کو سات سال کی عمرسے پہلے شروع کرا دیا جاتا ہے. قرآن میں زندگی کے پنہاں راز کھول کر بتا دیئے گئے ہیں، زندگی گزارنے کا سلیقہ، والدین کے حقوق و فرائض سے لے کر ازدواجی زندگی گزارنے کے طریقے موجود ہیں مگر افسوس کہ لڑکیوں کو یہ تعیم نہیں دی جاتی، وہ اسے سمجھاتیں کہ تعلیم صرف باعزت روزی کمانا ہی نہیں بلکہ ایک اچھی بیوی اور ایک اچھی ماں بننا بھی سکھاتی ہے. سلیقہ مند عورتیں گھرپر ہی نہیں بلکہ مرد کے دل پر بھی حکمرانی کرتی ہیں. گھر ان کی راجدھانی ہوتا ہے اوروہ اس کی بے تاج ملکہ، مرد سے جڑے تمام رشتے اس کے اپنے ہوتے ہیں جس کے لیے اس کا دل اور ہاتھ ہمیشہ کشادہ رہنے چاہیں. مرد کو گھر میں آسودگی میسر ہوتو اس کی نہ صرف جسمانی صحت بلکہ ذہنی صحت بھی خوشگوار رہتی ہے.
زینب ادے کی ساری باتیں سن تو لیتی تھی اور عمل کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی مگر شمائلہ چچی کی بظاہر رنگین نظر آنے والی دنیا بھی اسے متاثر کرتی، ان کا رویہ اس قدر سحر انگیز ہوتا کہ زینب کو ادے کی تمام نصیحتیں کسی اور دنیا کی باتیں لگنے لگتیں، وقت پر لگا کر اڑتا رہا، اسی اثناء میں شمائلہ چچی کی کوششیں رنگ لائیں اور صبیحہ کا رشتہ ایک انتہائی امیر کبیر گھرانے میں طے پا گیا،جلد ہی دھوم دھام سے شادی ہو گئی.صبیحہ جب بھی سسرال سے آتی زینب کو ضرور بلا بھیجتی.زینب تو خود صبیحہ کے انتظار میں رہتی کہ صبیحہ کے رنگ برنگے،چمکیلے ملبوسات زینب کی سپنوں کی دنیاکے کئی در وا کر دیتےماہ نور اور زینب کا موضوع گفتگو کتابوں سے زیادہ فیشن اور رنگ برنگی جیولری ہوا کرتا.
ادے خوفزدہ تھیں اور زینب کی ماں بھی.زینب اپنی سادگی کی بنا پر یہ سمجھتی تھی کہ چچا کی خودسری کی سزا ادے شمائلہ چچی سے نفرت کا اظہار کر کے دیتی ہیں.شمائلہ چچی اکثر زینب کے حسن کے قصیدے پڑھتیں اور زینب کی آنکھیں رنگین خواب بننے لگتیں.
صبیحہ کی نند نہ صرف بہت امیر کبیر عورت تھیں بلکہ ایک خوبصورت اور لائق فائق بیٹے کی ماں بھی تھیں. صبیحہ اور شمائلہ چچی کی ہرممکن کوشش تھی کہ ماہ نور کا رشتہ وہاں ہو جائے.اسی سلسلے میں شمائلہ چچی نے ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا جس میں صبیحہ کے سسرالیوں کے علاوہ اس کی نند کے گھرانےکو بھی مدعو کیا گیا.ماہ نور نے خوشی سے تمام کام سرانجام دیئے اور خوب وقت لگا کر خود بھی تیار ہوئی. آج انہو ں نے زینب کو اس دعوت کی بھنک بھی نہ پڑنے دی. کھانے سے فراغت کے بعد صبیحہ کی نند کو ادے کو دیکھنے کا خیال آیا،انہوں نے کہا کہ ایک دفعہ ادے سے ملاقات ہوئی تھی میں ان کو دوبارہ ملنا چاپتی ہوں، بہت اچھے دل کی مالک عورت ہیں. شمائلہ چچی اور اس کی بچیوں نے اسے ٹالنے کی بہت کوشش کی مگر وہ بضد رہی تو اسے جانے دیا.وہاں پہنچ کر شمائلہ کی نند تو جیسے مسحور ہی ہو گئی. صاف ستھرا سادگی سے آراستہ گھر، زینب کی خوبصورت آنکھوں والی والدہ، ادے کا پرخلوص رویہ اور زینب کا دل موہ لینے والا حسن ان پر سحر طاری کر رہا تھا، وہ ان کے گھر سے نکلنے سے پہلے پہلے زینب کو اپنی بہو بنانے کا ارادہ کر چکی تھیں بس صرف اپنے بیٹے واثق کا عندیہ لینا تھا. واثق انتہائی فرمانبردار بیٹا تھا جو اپنی ماں کا ہر حکم بجا لانا اپنا ایمان سمجھتا تھا. وہ اماں آپ کا ہر فیصلہ دل و جان سے منظور ہے کہ کر چلا گیا. نسرین خاتون سے انتظار کرنا مشکل ہو رہا تھا جیسے تیسے کر کے انہوں نے تین دن انتظار کیا اور باقاعدہ رشتہ لے کر زینب کے گھر پہنچ گئیں. ادے سوچ میں پڑگئیں کیونکہ صبیحہ کی وہاں موجودگی ان کو خدشات میں مبتلا کر رہی تھی.وہ زینب کی تعلیم بھی مکمل کرنے کے حق میں تھیں مگر نسرین خاتون کے اس وعدے پر کہ وہ زینب کی تعلیم مکمل کروائیں گی اور نسرین خاتون کی نیک خوئی کی وجہ سے وہ خاموش ہوگئیں. انہوں نے سوچنے کے لیے وقت مانگ لیا، اب نسرین خاتون سے انتظار مشکل ہو رہا تھا اس نے تو گویا دہلیز ہی پکڑ لی اور پھر ادے کو ہاں کرتے ہی بنی. رشتے کے اقرار کے بعد اب جلد شادی پر اصرار شروع ہو گیا،ادھر شمائلہ چچی کے سینے پر سانپ لوٹنے لگے.
زینب کو انہوں نے احساس ہی نہ ہونے دیا کہ اس رشتے نے ان کے دل میں کیا آگ بھڑکا رکھی ہے. دو ماہ پلک جھپکتے گزر گئے، جان محمد نے نسرین خاتون کے شایان شان جہیز بھی دیا شاندار طریقے سے اپنی زینب کی رخصتی بھی کر دی،ادے،جان محمد اور زینب کی ماں افسردہ تو تھے مگر زینب کی قسمت پر خدا کا شکر بھی کر رہے تھے. شادی کے اولین دنوں کی ہر ساعت خوشگوار تھی، واثق ایک جان فدا کرنے والا ساتھی تھا تو ساس بھی محبت اور شفقت کا پیکر تھیں اور سسر خلیق صاحب نے تو زینب کو بالکل اپنی بیٹی جانا، زینب خوش تھی،بے انتہا خوش. وہ اپنی جنت میں مگن تھی مگر شیطان اس جنت کی طاق میں تھا.اچانک شمائلہ چچی کا آنا جانا بڑھ گیاجسے زینب نے چچی کی الفت سمجھا. واثق نے زینب کا تعلیمی سلسلہ پھر سے جاری کروادیا. وعدے کی پاسداری بھی ضروری تھی اور اس کی اپنی خواہش بھی. اس کے اپنے خیالات بھی عورتوں کی تعلیم کے معاملے میں ادے سے ملتے جلتے تھے. زینب کے اوپر گھر داری کا بوجھ نہیں تھا لیکن صبیحہ اور شمائلہ چچی اسے اکثر و بیشتر نجانے کیا احساس دلانے کی کوشش کرتی رہتیں، نسرین خاتون کی محبت کو دکھاوا اوربناوٹ کا نام دیتیں، ان کی زینب کی خیریت دریافت کرنے اور تعلیم کا پوچھنے کو اس کی ٹوہ لینے کا نام دیتیں اور زینب کے کھانے کا خیال رکھنے کو چالاکی کہتیں. وہ زینب کی آنکھوں پر مکروفریب کی پٹی باندھ رہی تھیں جسے زینب سمجھنے سے قاصر تھی اور اسے وہ ان کی ہمدردی اور محبت سمجھ رہی تھی. واثق کی مصروفیت کو باہر کے دل بہلاوے کا نام دیا جا رہا تھا، زینب کی نادانی کہ اس کی زبان گلے شکوے اگلنی لگی، تعلیم سے جی اچاٹ ہونا شروع ہوا اور نسرین خاتون اور واثق کی خوشیوں پر پانی پھرتا نظر آنے لگا. ادے کی تمام نصیحتیں ہوا ہونے لگیں، انہی گزرتے ناخوشگوار دنوں میں جب ڈاکٹر نے زینب کی بگڑتی طبیعت کو خوشی کی نوید بتایا تو وہ زینب کے رویے کو طبیعت کی خرابی جان کر نطر انداز کر گئے مگر صبیحہ جو ابھی تک ماں نہیں بن سکی تھی اس کے نت نئے مشوروں نے زینب کو ایک پرخار راستے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا جس کی منزل ایک اندھی اور گہری کھائی تھی.زینب کو واثق کی محبت اور ساس کی شفقت پر بھروسہ نہ رہا.
شمائلہ چچی نے دو طرفہ چال چل کر واثق اور نسرین خاتون کے کان بھرنا شروع کر دیئے. وہ گھر جو زینب کے لیے جنت تھا اب جہنم نظر آنے لگا، واثق بھی اکھڑا اکھڑا نظر آنے لگا اور ساس کی آنکھوں میں محبت نے جگہ بدل لی. زینب جب گھر آتی تو اپنی ماں اور ادے کو قصوروار ٹھہراتی، سب کچھ کس قدر تیزی سے بدل رہا تھا، رشتے کی یہ ڈور الجھتی جا رہی تھی، ان ہی الجھاؤ بھرے لمحوں میں وہ ساعت آ پہنچی جب زینب نے معصوم بسمہ کو جنم دیا مگر کوئی بھی خوش نہیں تھا کیونکہ واثق نے زینب سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا تھا.
زینب تین دن کی بسمہ کو اٹھائے ہسپتال سے سسرال نہیں بلکہ میکے گئی تھی، ابھی وہ اس صدمے سے سنبھلی نہ تھی، ادے اور زینب کی ماں کے آنسو رکے نہ تھے، جان محمد کے دل کے زخم بھرنے نہ پائے تھے کہ ماہ نور کی واثق کے ساتھ شادی نے زینب کی آنکھوں پر بندھی پٹی کھول دی. اس سحر سے اسے چھٹکارا مل گیا جس میں وہ کافی عرصے سے گرفتار تھی اور الجھی ڈور سلجھ گئی. ادے کی کہی ہوئی تمام باتیں سچ تھیں اور آج زینب ادے بن کر سوچ رہی تھی.
یہ افسانہ بھی پڑھیں
انوکھی تجارت—وقاص اسلم کمبوہ ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

زینب—ثناء سعید (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)” ایک تبصرہ

  1. یہ ایک کہانی ہے ناں کہ افسانہ کہ اِس میں افسانہ کی مبادیات تئیں بیانیہ میں کوئی ایسا اُتار چڑھاوء موجُود نہیں جو اس تحریر کو کسی بھی طور افسانے میں شامل کرنے کی صلاحیت و اہلیت رکھتا ہو ، لکھاری کی اِس بات سے اتفاق ہے کہ یہ ہمارے ہر تیسرے گھر کی کہانی ہے اور بالاتفاق ہماری ہر تیسری کہانی کا بیانیہ بھی یہی ہے ، افسانہ مقابلہ میں شرکت کے لئے مبارکباد –

اپنا تبصرہ بھیجیں