عشق سترنگی (ناول) قسط نمبر 12، فاطمہ عمران

قسط نمبر 12
مالا کی آنکھوں میں بے یقینی دیکھ کر احمد کو ذرا بھی حیرانی نہیں ہوئی۔ اسے مالا سے اسی رویے کی توقع تھی۔ “مالا میں سمجھ سکتا ہوں کہ تمہارے لیے یہ بات سمجھنا مشکل ہو گا مگر میرا ایک ایک حرف سچ ہے”
“احمد مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ ” مالا نے حیرت و پریشانی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ کہا تو احمد اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ وہ جانتا تھا کہ مالا کے لیے یہ سب کچھ ہضم کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا۔
“مالا میں تمہیں شروع سے سمجھاتا ہوں۔ میں ایک خفیہ ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میرا کام دہشت گرد عناصر پر نظر رکھنا اور انکی کسی بھی ممکنہ حرکت کی اطلاع آگے دینا ہے تاکہ بروقت کاروائی کر کے کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے ۔ تمہیں یونیورسٹی میں وہ سنہرے سے بالوں والا لڑکا یاد ہے جس کو سب مذاق سے گولڈن ایگل کہتے تھے؟ ”
مالا نے اثبات میں سر ہلایا۔ اسے یاد تھا کہ وہ لڑکا اپنے بالوں کی وجہ سے ہی مشہور تھا۔ اس کے سر کے بال سنہرے تھے۔ جب کہ رنگت ایشیائی ہونے کی وجہ سے سنہرے بال اسکی شخصیت کا کچھ عجیب سا تاثر دیتے تھے۔ بظاہر وہ ایک عام اور شرمیلا لڑکا تھا جس کی باقی ساتھیوں سے کچھ خاص سلام دعا نہیں تھی۔ مگر اپنے بالوں کے رنگ کی وجہ سے ہی ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنتا تھا۔
“مالا وہ ہماری یونیورسٹی میں دہشتگردوں کا آلہ کار تھا۔ جیسے میرا کام ملکی مفاد میں خبر آگے پہنچانا تھا ویسے ہی اسکا کام دہشت گردوں کیلیے مخبری کرنا تھا”
مالا کو حیرت کا ایک اور جھٹکا لگا۔ “وہ گولڈن ایگل؟ یقین نہیں آرہا ۔احمد یہ تم کیسی باتیں کر رہے ہو۔ ”
احمد نے اپنی بات جاری رکھی۔ ” اس دن یونیورسٹی میں ایک بہت بڑے ہنگامے کی پلاننگ کی جا چکی تھی۔ اور مجھے نہ صرف اس بارے میں پتہ چل چکا تھا۔ بلکہ کوریڈور سے گزرتے ہوئے اتفاقاً میں نے اس گولڈن ایگل کو ایک مشکوک آدمی کے ساتھ گفتگو کرتے بھی دیکھ لیا تھا۔ میں نے مزید کوشش کی اور پتہ لگایا تو مجھ پر حیرت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا کہ جس آدمی کو میں ایک سال سے دہشت گردوں کے آلہ کار کے طور پر تلاش کر رہا تھا وہ کوئی اور نہیں گولڈن ایگل ہی تھا”.
“مگر تم غائب کیوں ہو گئے ؟”
مالا نے الجھے انداز میں سوال کیا تو احمد نے کہا ” جیسے مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ گولڈن ایگل دہشت گردوں کا آلہ کار ہے ویسے ہی اسے بھی معلوم ہو گیا تھا کہ میں کون ہوں اور یہ کہ میں نے اس کے بارے میں معلومات اکٹھی کر لی ہیں۔ ایسے میں میری گمشدگی کا ڈرامہ رچا کر خفیہ اداروں نے مجھے منظر عام سے غائب کر دیا۔ میں دوسرے پراجیکٹس پر خفیہ کام کرنے لگا۔ دہشت گردوں کو بھی یہی تاثر دیا گیا کہ مجھے نامعلوم افراد اٹھا کر لے گئے ہیں۔ ہماری یونیورسٹی میں تو ان کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی اور انکے سارے ساتھی پکڑے گئے۔مگر ظاہر ہے وہ مجھے نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ میری گمشدگی سے انہوں نے یہی سمجھا کہ شاید میں کسی اور دشمن کی نذر ہو گیا۔ انکی اسی بےخبری کا فائدہ اٹھا کر ہی تو انکو دھر لیا گیا تھا”
احمد ہر بات مالا کو تفصیل سے بتا دینے کیلیے تیار ہو کر آیا تھا۔ آج وہ اپنے دل سے ہر بوجھ اتار پھینکنا چاہتا تھا۔
“مگر مجھے فون کرنے والی لڑکی کون تھی؟ اور اسے کیسے معلوم ہوا مالا کے بارے میں؟ ”
مالا نے ہچکچاتے ہوئے سوال کیا۔
“وہ سبیکا تھی۔ میرے ساتھ ایک دوسرے پراجیکٹ پر کام کر رہی تھی۔ اکثر ہم اکٹھے بیٹھتے تھے تو میں اس سے تمہاری باتیں کیا کرتا تھا۔ وہ تمہارے بارے میں بہت پوچھا کرتی تھی مثلا” کہ تم کیسی دکھتی ہو؟ یا ہم دونوں کا رشتہ کتنا گہرا ہے۔ میں اسے ایک لڑکی کی معمول کی باتیں اور تجسس سمجھتا تھا۔ مگر مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ وہ میری محبت میں گرفتار تھی۔ اس دن جب تم نے مجھے گیٹ پر چلے جانے کا کہا اور کال کے بارے میں بتایا تو میں حیران ہو گیا۔ تمہارے اس طرح کے رویے سے میں بری طرح ٹوٹ چکا تھا۔ اور ایسے میں انسان کسی ایسے دوست کا کندھا تلاش کرتا ہے جو آپ کا غم بانٹ سکے اور آپ کا رازدار ہو۔ میں سبیکا کے پاس چلا گیا۔ نجانے کتنی ہی دیر میں رو کر دل ہلکا کرتا رہا۔ تبھی سبیکا نے میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔ میں نے اسے ایک دوست کی تسلی سمجھا مگر اسکے ضرورت سے زیادہ ہمدردانہ رویے پر میں نے اسے دھکا دے کر پیچھے کیا تو وہ پھٹ پڑی اور چلائی کہ تم مجھے کبھی نہیں ملو گی کیونکہ اس نے تمہیں فون کیا تھا کہ تم مالا کو بھول جاؤ۔ اور تم واقعی بھول گئیں مالا”
احمد کی باتیں سن کر مالا کا سر چکرا رہا تھا۔ افف خدایا یہ زندگی کا کیسا موڑ تھا کہ وہ ان سب باتوں کا یقین کر لے تب بھی وقت کی ڈور جو ہاتھ سے پھسل چکی تھی اب اسے واپس لانا ناممکن تھا۔
کیا سب محض غلط فہمیوں کی نذر ہو گیا؟ یا جذباتیت کی؟ لیکن جو بھی گزر چکا تھا اب اس کو تقدیر کا لکھا سمجھ کر قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا۔
زندگی نے انکی راہیں ایسے جدا کی تھیں کہ انہیں احساس تک نہ ہوا کہ کیسا ستم ہو گیا۔
اور آج جب وقت کے چہرے سے دھول اڑی تو مالا اور احمد کو اس میں اپنی خستہ لکیروں کیساتھ گرد آلود ہاتھ نظر آ رہے تھے۔
*** *** ****
مالا کا رنگ احمد کی باتیں سن کر کچھ اور زرد ہو گیا تھا۔ اسے اپنی قسمت کی کم مائیگی کا یقین ہو گیا۔ ورنہ اس طرح احمد اسکی زندگی سے نہ جاتا۔ اور اگر قسمت نے حیدر کو اسکا نصیب چن ہی لیا تھا تو پھر آج اس کی کلائیاں سونی کیوں تھیں؟
“مالا ایک بات پوچھوں اگر تم برا نہ مانو تو؟ ”
احمد نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں مالا کو اس کا سوال برا نہ لگ جائے۔
“پوچھو احمد۔ آج ہم سب کچھ کہنے سننے کیلیے ہی یہاں ہیں۔ اسکے بعد شاید یہ موقع دوبارہ نہ آئے”
مالا کی بات سن کر احمد کے دل میں ٹھیس سی اٹھی ۔ مگر اس کا چہرہ سپاٹ تھا “مالا تم نے میرا انتظار کیوں نہیں کیا؟ ”
“انتظار نہیں کیا؟ یہ تم مردوں کے نزدیک ساری عمر کا جوگ لینے کو انتظار کہتے ہیں؟ تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔ہر جگہ دھکے کھائے۔ پولیس، تھانے، کورٹ تک میں حاضری دی۔
اور محض ایک فون کال کر کے مجھے تمہیں بھلا دینے کو کہا گیا۔ وہ مالا تو میرے دل کو تمہارے دل سے جوڑتی تھی نا پھر کسی غیر کو موقع کیسے ملا اسے اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کا۔ اور سر بازار تمہارے گھر والوں نے مجھ پر ہی انگلی اٹھا دی کہ تم میرا برا سایہ پڑنے کی وجہ سے غائب ہو گئے ہو۔ پولیس تک میرے گھر آ گئی۔۔۔۔۔تمہارا اور میرا تعلق ڈھونڈنے ۔ کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ پولیس جب جوان بیٹی کا کسی آدمی سے رشتہ پوچھتی ہے تو اس تعلق کی ایک جائز سند ہونا کتنا ضروری ہے۔ جو کم از کم اس وقت میرے پاس نہیں تھی۔ تم نہیں جانتے کہ مجھ پر کیا بیتی۔ میری کتنی دعائیں قبولیت کی منتظر رہ گئیں۔ کتنے لمحے آس کی نظر ہو گئے۔ اور جب تم نہیں تھے تب حیدر نے مجھے سہارا دیا۔ میری کھوئی ہوئی مسکراہٹ واپس لانے والا مسیحا تھا وہ۔۔ میرے ہر درد کی دوا بن گیا۔ میری دعائیں رد نہیں گئیں احمد۔۔۔جو دعائیں میں نے تمہارے لیے مانگی تھیں وہ حیدر کی صورت میں پوری ہو گئیں۔ ”
جذبات کی شدت سے مالا کا گلا رندھ گیا۔
“حیدر کہاں ہے مالا؟ ”
احمد کے اس اچانک سوال پر مالا کے چہرے پر درد آ کر ٹھہر گیا جسے احمد نے فورا” محسوس کیا۔
“نامعلوم افراد اٹھا لے گئے” ۔۔۔مالا نے ٹوٹا پھوٹا سا جواب دیا۔
“تین سال سے تلاش کرنے کے باوجود کوئی سرا ہاتھ نہیں آرہا۔ ٹارگٹ کڈنیپنگ ہوئی تھی۔ آخری اطلاعات کے مطابق اغواءکار حیدر کو علاقہ غیر لے گئے ہیں۔مگر نہ تو کبھی تاوان کیلیے کوئی کال آئی نہ ہی اسکے بعد کوئی سراغ ٹریس ہو سکا”
“اوہ آئی ایم سوری فار دیٹ۔۔رئیلی سوری” احمد کو یہ سن کر دھچکا لگا۔
“ڈونٹ بی۔۔بلکہ تم سے بات کر کے تو میرے دل میں ایک امید جاگ گئی ہے ۔ہو سکتا ہے وہ بھی کسی دن تمہاری طرح آ کھڑا ہو جائے میرے سامنے اور کہے کہ۔۔۔ مالا میں اٹھایا نہیں لے جایا گیا تھا”.
مالا کی آواز گلے میں ہی رندھ گئی۔ احمد نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ جسے مالا نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔
“تم واقعی ایک بہادر لڑکی ہو مالا۔ہم بے شک آج ساتھ نہیں مگر کم از کم کبھی دوست تو تھے۔تم مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہو”
مالا نے ایک نظر اٹھا کر احمد کو دیکھا۔ احمد اسکی نگاہوں میں چھپے پیغام کو نہ پڑھ سکا۔ نجانے بظاہر نازک سی نظر آتی اس آہنی حوصلے والی لڑکی کی آنکھوں میں غصہ تھا ، کرب یا پھر بے بسی۔ اسکی نظروں سے گھبرا کر اس نے صفائی دینا مناسب سمجھا “مالا میرا غلط مطلب نہ لینا۔ میں تمہیں ایک بات اور بھی بتانا چاہتا ہوں۔ میری منگنی ہو چکی ہے۔ زندگی کے اس سفر پر جب آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا تو تم نظر آ گئیں۔ یہ تمہیں اس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں تم یہ نہ سمجھو کہ میں کسی غلط نیت یا ارادے سے تمہارے پاس آیا ہوں ۔ میں خود کو تمہارا مجرم سمجھتا ہوں اسی لیے تمہیں دیکھتے ہی میرا ضمیر پھر سے مجھے ملامت کرنے لگا۔ اور میں تمہارے پاس کھچا چلا آیا کہ کاش میں تمہیں بتا سکوں کہ میں نے سب کچھ جان بوجھ کر نہیں کیا”
احمد کی بات جاری تھی۔ مالا خالی خالی نظروں سے اسے دیکھے جا رہی تھی۔ اسکے سارے الفاظ اسکی زندگی میں موجود رنگوں کی طرح کھو گئے۔
“کیا تم پوچھو گی نہیں ۔ میری منگیتر کا نام؟ ”
مالا نے احمد کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا مگر کچھ نہیں کہا۔
“سبیکا.. وہی میری منگیتر ہے ”
احمد کی اس بات پر جیسے کسی نے مالا کے کانوں میں انگارے بھر دیے ہوں۔۔اس کو دھچکا سا لگا۔ جس لڑکی کی وجہ سے وہ دونوں دور ہوئے تھے۔ وہی لڑکی احمد نے اپنے لیے چن لی تھی۔ اسکے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ آ گئی۔ مگر اس نے ابھی بھی ایک لفظ نہ کہا۔ کہتی بھی کیا۔؟
****** *****
اس مرد ذات کا کیا بھروسہ؟ ۔۔دینے پر آئے تو جان بھی دے دے۔۔۔ تتلیوں سے رنگ چرا کر مانگ میں بھر دے۔۔کلیوں سے خوشبو چرا کر پہلو کو مہکا دے۔۔۔آسمان سے تارے لا کر جھولی میں ڈال دے۔۔۔ سارے نرم جذبوں کا فخر اور مان آنکھوں میں بھر دے اور لینے پر آئے تو آخری ہچکی میں چھپی دیدار کی آس کو بھی جھٹلا دے۔۔۔
***** ****
“میرا خیال ہے ہم نے کافی باتیں کر لی ہیں۔ اب چلنا چاہیے ”
مالا ایک جھٹکے سے اٹھی اور بغیر کچھ کہے باہر نکل گئی۔
احمد وہیں بیٹھا رہا۔ اسے اندازہ تھا کہ مالا کو سب سچ بتا دینا جتنا مشکل ہو گا اس سے زیادہ مشکل مالا کے لیے اس سچ کو سہنا ہو گا۔ مگر یہ تو ہونا ہی تھا۔ان کی زندگی میں جو ہو چکا تھا اس کو نہ احمد جھٹلا سکتا تھا نہ ہی مالا۔
سبیکا کا نام سن کر مالا کے چہرے پر ایک لمحے کیلیے نظر آنے والے اس کرب کو احمد نے اپنے دل میں محسوس کیا۔
مالا کے ہوٹل سے نکل جانے کے بعد وہ بھی اٹھا اور باہر چل پڑا ۔
**** **** ****
ریسٹورنٹ سے نکلتے ہی مالا کیلیے آنسو روکنا مشکل ہو گیا۔ اس نے بھی پلکوں کا باندھ کھول دیا۔ آنسوؤں کی لڑیاں اسکے گالوں سے نیچے بہتی جاتی تھیں۔ سارا منظر دھندلا سا رہا تھا۔ اس نے تیز تیز قدموں سے چلتے ہوئے پہلا ٹرن لیا تو بے اختیار ہی سامنے موجود پارک میں داخل ہو گئی۔ اسے خود کو سنبھالنے کیلیے تھوڑا وقت چاہیے تھا۔ وہیں پارک میں بنچ پر بیٹھے بیٹھے وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد کلائی اٹھا کر اپنی آنکھوں کے پاس لاتی اور قمیض کیساتھ اپنے آنسو صاف کرتی۔ مگر ہر بار پھر اسکے گال آنسوؤں سے تر ہو جاتے۔
تبھی ایک مانوس آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی “ہیلو”
اس نے سر اٹھا کر اوپر کیطرف دیکھا تبھی وہ بولا “ارے جب بھی آپ ملتی ہیں کہیں نہ کہیں یا اداس بیٹھی ہوتی ہیں یا رو رہی ہوتی ہیں۔ آپ کو تو کوئین آف ٹئیرز کا خطاب دے دینا چاہیے ۔ ویسے اتنے دنوں سے تھیں کہاں آپ اور آج یہاں گھر سے اتنے دور اس پارک میں کیسے؟اب وہاں اس پارک میں آپ کی بنچ خالی ہو گئی ہو گی۔ وہاں کوئی بیٹھ گیا تو۔۔آپ کو برا لگ جائے گا”
اجنبی اپنی دھن میں بولتا گیا۔
مالا خاموش رہی۔ تبھی اجنبی کو احساس ہوا کہ شاید وہ کچھ زیادہ ہی کہہ گیا ۔ “اوہ سوری شاید یہ صحیح وقت یا جگہ نہیں اس بات کیلئے ۔ بس آپ کو دیکھا تو خوشگوار حیرت کے ساتھ آپ کے پاس چلا آیا۔ اور آپ ہیں کہ بیٹھی رو رہی ہیں۔ ”
مالا نے پھر بھی کوئی جواب نہیں دیا “چلیں بات نہ کریں۔ مگر سن لیں۔ ہو سکتا ہے آپ کا موڈ کچھ بہتر ہو جائے۔ میرا نام حمزہ ہے ویسے۔ اور آج یہاں ایسے موجود ہوں کہ کچھ دوست میچ کھیلنے کیلئے اس پارک میں لے آئے۔ اور اب گھر ہی جا رہا تھا۔آپ نے جانا ہے تو آئیے آپ کو بھی ساتھ لے چلوں ”
“جی نہیں شکریہ”
مالا نے کہا تو اجنبی بولا”شکر ہے آپ نے کچھ کہا تو۔ ارے آپ مجھے ایسا ویسا مت سمجھیے۔ آپ یہاں غالبا اکیلی ہیں۔ اور تھوڑی ہی دیر میں شام ہو جائے گی تو اگر آپ مناسب سمجھیں تو مجھ پر اعتماد کر سکتی ہیں۔ باہر پارکنگ میں ہی میری گاڑی کھڑی یے۔ آئیے پلیز ”
مالا نے کچھ دیر کیلیے سوچا ۔ تھوڑی دیر اور رکتی تو اسے واقعی دیر ہو جاتی۔ کسی کو بتا کر بھی نہیں آئی تھی۔وہ اٹھی اور اس کے ساتھ چل دی۔
قسط نمبر11 بھی پڑھیں
عشق سترنگی (ناول) فاطمہ عمران (قسط نمبر 11)

اپنا تبصرہ بھیجیں