شبنم کو ناحق بدنام کیا گیا، فاروق بندیال نے بھی آبروریزی نہ کرنے کی بات حلفاً بتا دی، شبنم کے جعلی ٹئوٹر اکاؤنٹ کا معمہ بھی حل.ریاست نامہ کی تحقیقات

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ ریاست نامہ
رپورٹ: عمانوائیل ڈیوڈ (کراچی)

فاروق بندیال تحریک انصاف میں شامل ہوا اور گلے میں پی ٹی آئی کا مفلر ڈال کر تصویر کیا بنوائی کہ سوشل میڈیا پر بھونچال آگیا. کسی نے 40 سالہ پرانا ایک کیس نکالا اور پاکستان کی معروف فلم سٹار شبنم کی عزت کو اچھالنے کا سلسلہ شروع کر دیا. سوشل میڈیا پر لگائی جانےوالی اس پوسٹ کے مطابق فاروق بندیال اور اس کے ساتھیوں نے 40 سال قبل شبنم کے گھر میں ڈکیتی کی.5 لاکھ مالیت کا سامان لوٹا، اس کے بیٹے، شوہر اور سیکریٹری کے سامنے اس کی آبروریزی کی اور بعد ازاں گرفتار ہو گئے، کیس چلا، فوجی عدالت نے فاروق بندیال اور اس کے ساتھیوں کو سزائے موت سنا دی. ملزمان کے ساتھیوں نے شبنم کے اکلوتے بیٹے کو اغوا کیا اور یوں بلیک میل کر کے شبنم سے راضی نامے پر دستخط کر والیے اور فاروق بندیال اور اس کے ساتھی رہا ہو گئے، سوشل میڈیا کی اس مضبوط کمپین کی وجہ سے عمران خان نے فاروق بندیال کو پی ٹی آئی سے نکال دیا اور اپنے کارکنوں سے معذرت بھی کی. عمران خان کے اس اقدام کے فوراً بعد شبنم کی طرف سے ٹوئٹر پر عمران خان کا شکریہ ادا کیا گیا اور یہ لکھا گیا کہ Rapist (زانی) کو نکالنے پر عمران خان کا شکریہ. اس سارے واقعہ میں ویسے تو بظاہر تمام معاملات نارمل ہیں اور کسی شک کی گنجائش نظر نہیں آتی مگر ٹئوٹر اکاؤنٹ پر اس شبنم کا فاروق بندیال کو rapist قرار دینا جس نے پورے کیس میں Rape کا الزام ہی نہیں لگایا تھا معاملے کو مشکوک بنا گیا یوں ریاست نامہ نے اس سلسلے میں انویسٹی گیشن کا فیصلہ کیا. اس سلسلے میں پاکستان کے سینئر صحافیوں سہیل وڑائچ، حامد میر، حسن نثار کے خیالات سے استفادہ کیا گیا اور ریاست نامہ کی انتظامیہ کی مشاورت سے سرگودھا (پاکستان) میں محمد اسماعیل،بھارت میں محسن خان اورجلیل احمد، بنگلہ دیش میں عبید احمد خان اور پدما سری،امریکہ میں احمد حسین اور برطانیہ میں رضا علی عابدی اس قافلے میں شامل کیے گئے، قافلے کے ہر ممبر کو الگ ذمہ داری سونپی گئی اور انہوں نے اپنا اپنا کام شروع کر دیا. اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے سینئر وکیل ایس ایم ظفر، اداکارہ شبنم کے بیٹے رونی گوش، واقعے کے مرکزی کردار فاروق بندیال اور کئی سابق پولیس افسرا ن کا مئوقف لیا گیا اور حتمی حقائق تک پہنچا گیا.

اداکارہ شبنم کی سوانح حیات
شبنم کا اصل نام جھرنا باسک تھا‘ یہ 1942ءمیں ڈھاکہ کی ایک ہندو فیملی میں پیدا ہوئی‘ والد نانی باسک، فٹ بال کا ریفری تھا‘ یہ بچپن میں ”ٹام بوائے“ قسم کی لڑکی تھی‘ والد کے کہنے پر ڈانس سیکھا‘ بلبل لالی ٹاکلا اکیڈمی میں داخلہ لیا‘ بنگالی فلم ”ای دیش تمرامر“ میں چھوٹا سا رول کیا‘ اگلی فلم ”راجدھانیر بوکے“تھی‘ شبنم نے اس میں ڈانس کیا اور گانا گایا‘ یہ گانا ہٹ ہو گیا‘ یہ اس کے بعد بنگالی فلم ”ہرانا دن“ میں ہیروئن کاسٹ ہو گئی یہاں سے اس کا فلمی کیریئر شروع ہو گیا‘1962ءمیں ڈھاکہ میں اردو فلمیں بننے کا آغاز ہوا‘شبنم کوہدایت کار احتشام نے فلم ”چندا “میں کاسٹ کیا‘یہ اس فلم کی سائیڈ ہیر وئن تھی لیکن اس کی اداکاری اتنی جاندار تھی کہ اس کے پاس فلموں کی لائن لگ گئی‘ شبنم بڑی ایکٹریس تھی اور بنگال میں بننے والی فلمیں محدود چنانچہ یہ ڈھاکہ سے لاہور شفٹ ہو گئی‘ وحید مراد نے اسے 1968ءمیں اپنی فلم سمندر میں کاسٹ کیا اور پھر شبنم نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا‘ یہ 1980ءکی دہائی تک پاکستانی فلم انڈسٹری پر چھائی رہی‘ فلم بین اس کی ایک جھلک دیکھنے کےلئے ترستے تھے‘ یہ 28برس فلم انڈسٹری سے منسلک رہی‘ 13 نگار فلم ایوارڈز حاصل کئے اور 180 فلموں میں لیڈنگ رول ادا کیا‘ شبنم نے 1965ءمیں نامور موسیقار روبن گھوش سے شادی کر لی‘ 1966 میں ان کے ہاں بیٹے رونی گھوش کی پیدائش ہوئی‘ مشرقی پاکستان 1971ءمیں بنگلہ دیش بن گیا‘ شبنم کے والدین بنگلہ دیش میں تھے‘سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد اس کے پاس دو آپشن تھے‘ یہ ڈھاکہ شفٹ ہو جاتی یا پھر پاکستان میں مقیم رہتی‘ شبنم نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا‘یہ پاکستان کی مقبول ترین ہیروئن تھی، گلبرگ لاہور میں رہتی تھی اور اس کے بنگلے کے آس پاس ہر وقت مداحوں کا رش رہتا تھا جو صرف شبنم کی ایک جھلک دیکھنے کے خواہش مند رہتے تھے.
1978 میں پیش آنے والا ایک افسوسناک واقعہ
شبنم معروف اداکارہ تھی اور اس زمانے کے کالج، یونیورسٹی کے طالب علم شبنم پر جان چھڑکتے تھے اور اس کے گھر کے اردگرد منڈلاتے رہتے تھے. ان میں ایک لڑکا فاروق بندیا ل بھی تھا جو گاؤں بندیال کے ایک جاگیر دار گھرانے کا ہونہار فرزند اور اس وقت کے چیف سیکریٹری ایف کے بندیال کا بھانجا تھا، خود سر بھی تھا اور پیسوں کی کثرت کی وجہ سے بدمعاش بھی تھا. اس نے شبنم سے دوستی کی اور اس کے گھر آنے جانے لگا، گھر آنے جانے کی وجہ سے اسے گھر کے کئی رازوں کا پتہ چل گیا جس میں ایک یہ بھی تھا کہ شبنم اپنی رقم اور جمع پونجی کہاں رکھتی ہے لہٰذا ایک دن فاروق بندیال اپنے ساتھیوں یعقوب بٹ، عابد تنویر،جمشید اکبر ساہی اور دو دیگر کے ساتھ رات کے وقت شبنم کے گھر آیا، گھر کے تمام افراد کو باندھا اور شبنم کے بیٹے رونی گوش کی کنپٹی پر پستول رکھااور اسے جان سے مارنے کی دھمکی دی، شبنم اور اس کا شوہر کہتے رہے کہ گھر میں کوئی رقم نہیں ہے لیکن گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مترادف فاروق بندیال کو پتہ تھا کہ رقم کہاں رکھی ہوئی ہے اس لیے اس نے صاف صاف بتا دیا کہ مجھے معلوم ہے رقم فلاں جگہ رکھی ہوئی ہے وہاں سے لا دیں ورنہ رونی گوش کو گولی مار دی جائے گی.مجبوراً اہل خانہ نے مطلوبہ رقم اور زیورات لا کر دیئے اور رونی گوش کی جان خلاصی ہوئی. ملزمان کے فرار ہونے کے فوراً بعد متعلقہ تھانے میں اطلاع کر دی گئی،پولیس آئی،ایف آئی آر درج ہوئی، ملزمان نامزد کئے گئے. ایک مشہور اداکارہ ہونے کی وجہ سے پولیس پرشدید دباؤ تھا لہٰذا ملزمان جلدی گرفتار ہو گئے. شروع میں ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا مگر ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انہیں واردات کا ماننا ہی پڑا، مال مسروقہ برآمد ہوا، فاروق بندیال کا ماموں چیف سیکریٹری پنجاب تھا اس لیے ملزمان کو وی آئی پی سہولیات میسر رہیں، مشہور ماہر قانون ایس ایم ظفر شبنم کے وکیل تھے، کیس کی سماعت ختم ہوئی تو فوجی عدالت نے فاروق بندیال اور اس کے پانچ ساتھیوں کو سزائے موت سنا دی، باقی دو ساتھیوں میں سے ایک کو عمر قید اور دوسرے کو کمزور ثبوتوں کی بنیاد پر بری کر دیا گیا، شبنم اور انکے وکیل کو اتنی سخت سزا کی توقع نہیں تھی، شبنم گھبرا گئی کہ اگر ملزمان کو سزائے موت ہو جاتی ہے تو ایک مستقل دشمنی بن جائے گی، شبنم نے ایس ایم ظفر کو کہا اور ایس ایم طفرنے اس وقت کے صدر جنرل ضیاءالحق کو ایک درخواست دے دی جس میں ملزمان کی سزائے موت کو عمر قید میں بدنے کی استدعا کی گئی. جنرل ضیاء الحق چیف سیکریٹری پنجاب کو بھی خوش کرنا چاہتے تھے اس لیے درخواست فوراً قبول ہوئی اور ملزمان کی سزائے موت عمر قید میں بدل دی گئی. کچھ عرصہ بعد ملزمان کے ساتھ شبنم نے راضی نامہ کر لیا اور یوں وہ رہا ہو گئے. راضی نامہ کے حوالے سے یہ کہانی مشہور ہے کہ ملزمان نے راضی نامہ نہ کرنے کی صورت میں رونی گوش کو اغوا کرنےکی دھمکی دی تھی. راضی نامے کے کچھ ہی عرصے بعد شبنم نے ملک چھوڑ دیا اور خاندان سمیت بنگلہ دیش منتقل ہو گئیں.
ایک اخبار کادعوٰی
اس زمانے میں لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار نے دعوٰی کیا تھا کہ وقوعہ کے دوران ملزمان نے شبنم کے شوہر،بیٹے اور سیکریٹری خالد کو باندھ کر ان کے سامنے شبنم کی آبروریزی بھی کی ہے لیکن اس دعوے کو زیادہ پزیرائی نہ ملی جس کی وجوہات یہ تھیں
1) اس اخبار نے صرف ایک خبر کے علاوہ اپنی کسی خبر میں دوبارہ یہ الزام نہیں دہرایا
2) شبنم یا اس کے وکیل نے کیس کی سماعت کے دوران کسی بھی موقع پرملزمان پر یہ الزام نہیں لگایا
3) اگر ملزمان نے ایسی کوئی حرکت کی ہوئی ہوتی تو شبنم جیسی حساس عورت ملزمان کو سزائے موت ملنے کے بعد کبھی معاف نہ کرتی.
4) روبھن گوش اور رونی گوش سمیت کسی بھی شخص کی زندگی میں بعد ازاں اس واقعے کے کوئی نشانات دیکھنے میں نہیں آئے
5) شبنم کے سیکریٹری خالد نے بھی اس واقعے کی تردید کی اور کہا کہ وہ ڈکیتی کے موقع پر شبنم کے گھر ہی تھے ملزمان نے کسی بھی فرد سے کوئی بد تمیزی نہیں کی ان کا مقصد پیسہ تھا وہ انہوں نے لیا اور چلے گئے.

یہاں یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ صرف عمران خان کو اچھا اور سچا ثابت کرنے کے لیے فاروق بندیال کو تحریک انصاف سے نکالے جانے کے بعد فیس بک اور ٹئوٹر پرطوفان بدتمیزی برپا کیا گیا. ماضی کی ایک ایسی اداکارہ جن کا کبھی کوئی سکینڈل بھی منظرعام پر نہیں آیا تھا اسے بے عزت کر دیا گیا.
شبنم کا ٹئوٹر اکاؤنٹ (اصل حقائق)
جوں ہی عمران خان نے فاروق بندیال کو پارٹی سے فارغ کیا، تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم متحرک ہو گئی. ایک ایسی بات جو محض الزام تھی اس کو سچ ثابت کرنے کے لیے شبنم کا جعلی اکاؤنٹ بنایا گیا اور اس سے عمران خان کا شکریہ ادا کیا گیا

اس ٹویٹ سے یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ شبنم کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی تھی. جبکہ اس اکاؤنٹ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک پرانا اکاؤنٹ تھا جسے پی ٹی ائی کے فرحان ورک نے شبنم کا نام دیا اور ٹویٹ کر دیا. اس بات کی تصدیق ایک مئوقر انگریزی اخبار نے بھی کی. اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ یہ ہی ٹویٹ سب سے پہلے غدار کے نام سے گل بخاری کے اکاؤنٹ سے ٹویٹ کیا گیا اور پھر ہو بہو اسے کاپی کرکے شبنم کے نام سے ٹویٹ کر دیا گیا.

اس سے زیادہ اخلاقی اور سیاسی طور پر پست ہونے کی کوئی مثال نہیں ملے گی کہ محض سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے ایک شریف عورت کو بدنام کر دیا گیا، اس سارے معاملے میں دونوں بڑی جماعتیں قصور وار ہیں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی، ن لیگ نے فاروق بندیال کی پی ٹی آئی میں شمولیت کے بعد سوشل میڈیا کا سہارا لیا اور تحریک انصاف نے فاروق بندیال کو نکالنے کے بعد لیکن دونوں نے شبنم اور اس کے خاندان کی عزت خاک میں ملا دی.پی ٹی آئی نے مسلم لیگ کے ایک اور رہنما میاں عالمگیر شاہ کی ایک تصویر شیئر کرنا شروع کر دی جس میں وہ مریم نواز کو چادر پہنا رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ لکھ دیا کہ فاروق بندیال مریم نواز کو چادر پہنا رہے ہیں، یہ تصویر بھی خوب وائرل ہوئی حتٰی کہ میاں عالمگیر شاہ کے ٹویٹ اور وضاحت کے بعد بھی اس تصویر کو ابھی تک فاروق بندیال کی تصویر کے طور پر شئر کیا جا رہا ہے.

ایک اور بات آج کل مشہور کی جا رہی ہے کہ نواز لیگ نے فاروق بندیال کوٹکٹ دے دیا ہے ایسا بھی کچھ نہیں کیا گیا، لیکن ہمارے سیاست دان اور ان کے سوشل میڈیا ورکرز بغیر سوچے سمجھے محض سیاسی فوائد اٹھانے کے لیے لوگوں کی عزتوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں،
فاروق بندیال کا مئوقف
ریاست نامہ نے فاروق بندیال سے رابطہ کرکے ان کا انٹرویو ریکارڈ کیا جو جلد ریاست نامہ یو ٹیوب چینل پر نشر کیا جائے گا اور ریاست نامہ ڈاٹ کام پر تفصیلی طور پر پیش کیا جائے گا، اس انٹرویو کی تلخیص کو اس رپورٹ کا حصہ بناتے ہیں
فاروق بندیال کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے کہ میں اور میرے کچھ ساتھی کالج کے زمانے میں کچھ بدقماش لوگوں کی محفل میں بیٹھا کرتے تھے اور ان محفلوں کا ہم پر یہ اثر ہوا کہ ہم محض ایڈونچر کے لیے ڈکیتیوں کے منصوبے بناتے رہتے تھے لیکن یہ صرف منصوبے تھے ان پر کبھی عمل نہیں کیا تھا، ڈکیتی کی صرف ایک وارادت کی تھی جو فلمسٹار شبنم کے گھر کی اور اس میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے پکڑے بھی گئے اور سزا بھی بھگتی، اس پوری واردات کے دوران میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے یا میرے کسی بھی ساتھی نے شبنم سمیت کسی خاتون سے کوئی بدتمیزی نہیں کی، کوئی زیادتی نہیں کی، ریپ کی کوئی کوشش نہیں کی. یہ الزام میرے ساتھ ساتھ ایک مشہور اداکارہ کو جو اب پوتوں والی ہے بدنام کرنے کی سازش ہے، انہوں نے کہا کہ محض سیاسی فائدہ اٹھانے کی غرض سے مجھے میری اولاد کے سامنے ذلیل کر کے رکھ دیا گیا، انہوں نے کہاکہ جو جرم کیا تھا اس کا اعتراف عدالت میں بھی کیا تھا، معافی بھی مانگی تھی اور سزا بھی بھگتی تھی لیکن جو جرم کیا ہی نہیں تھا اس کی سزا بھی دے دی گئی، ڈکیت تھا تو صرف ڈکیت ہی کہا جاتا تو پھر بھی تسلی ہوتی کہ گناہ کیا ہے اور سزا بھی ملی ہے، مجھے تو زانی بھی بنا دیا گیا ہے. ایک سوال کے جواب میں فاروق بندیال نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ ڈکیتی کوئی چھوٹا جرم ہے یہ بھی بڑا جرم ہے لیکن غلطی ہو گئی ہے جس کی معافی مانگ رہا ہوں، انسان خطا کا پتلا ہے خطا ہو جاتی ہے، وہ نادانی کا دور تھا اس میں یہ نادانی ہو گئی لیکن جو نادانی نہیں کی وہ مجھ پر نہ تھونپی جائے اور ایک شریف عورت کو بدنام نہ کیا جائے.
سینئر صحافی حسن نثار کہتے ہیں
سینئر صحافی حسن نثار کہتے ہیں کہ پچھلے کئی دنوں سے یہ ڈرامہ دیکھ رہا ہوں اور افسوس کر رہا ہوں کسی کو اس کیس کی اے بی سی نہیں پتہ لیکن ماہرین کی طرح اس پر رائے زنی کی جا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ میں اس وقت دھنک اور تصویر کا ایڈیٹر تھا اور میڈم شبنم کی کوریج کیا کرتا تھا، شبنم کے گھر باقاعدگی سے جوا ہوتا تھا،انہوں نے پروفیشنل رکھے ہوئے تھے اور وہاں بگڑے ہوئے امیر زادے آتے تھے اور جوا کھیلتے تھے، فاروق بندیال بھی آیا ہو گا، جوا کھیلا ہوگا،ہار گیا ہوگا، غصے اور انتقام کے جذبات کے زیراثر ڈکیتی کر لی ہو گی،شبنم نے بھی ڈکیتی کی ایف آئی ار درج کروائی، فاروق بندیال بھی ڈکیتی کا اعتراف کرتا ہے تو ہمیں بھی اس کو ڈکیتی ہی تصور کرنا چاہیے ہم اپنی قیاس آرائیوں کے گھوڑے دوڑا کر لوگوں کو بدنام کیوں کر رہے ہیں، میں موقع واردات پرموجود نہیں تھا، نہ آپ تھے، جو لوگ تھے وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ محض ڈکیتی تھی تو ہمیں ان کی بات مان لینی چاہیے. انہوں نے کہا کہ مشہور ولی اللہ ابراہیم ادہم پہلے بادشاہ تھے اور انہوں نے بادشاہوں کی طرح زندگی گزاری لیکن جب اللہ نے کایا پلٹ دی تو وہ بہت بڑے ولی بنے، دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے کیا پتہ فاروق بندیال نے بھی معافی مانگ لی ہو ہمیں اس کا بھی پردہ رکھنا چاہیے
رونی گوش کہتے ہیں
شبنم کے اکلوتے بیٹے رونی گوش سے رابطہ کیا گیا تو ان سے پہلی استدعا یہ کی گئی کہ میڈم شبنم سے ہماری بات کروائی جائے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور وہ بات نہیں کر سکتیں جب ان سے اس سارے معاملے میں کچھ کہنے کو کہا گیا تو رونی گوش افسردہ ہو گئے. کہنے لگے میں اس ساری واردات کا چشم دید تھا، یہ واردات صرف ڈکیتی کی واردات تھی لیکن جس طرح چالیس سال بعد اس واردات کو جواز بنا کر میڈم کی کردارکشی کی گئی وہ افسوسناک ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کیا سیاسی فائدے اٹھانے کی غرض سے اتنی گھٹیا حرکتیں بھی کی جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ پاکستان چھوڑنے کے بعد اکثر خیال آتا تھا اور سوچتے تھے کہ کہیں کوئی غلط فیصلہ تو نہیں کیا لیکن پہلی دفعہ اپنے فیصلے کی خوشی ہو رہی ہے، جہاں سیاسی طور پر اتنا گند پھیل گیاہے وہ ملک چھوڑ دینا ہی ہمارا دانشمندانہ فیصلہ تھا ورنہ اس گند کا آج ہم بھی حصہ ہوتے. رونی گوش نے کہا کہ میرے باپ اور ماں دونوں کا تعلق فلم انڈسٹری سے تھا اور دونوں نے جتنا بھی وقت فلم میں گزارا ان کا کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا لیکن آج جب یہ انڈسٹری چھوڑے ہوئے برسوں گزر گئے ہیں،یہ گھٹیا الزام میرے اور میرے خاندان کے لیے تکلیف دہ ہے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈم نے کبھی بھی ٹئوٹر یا سماجی رابطے کی کوئی اور ویب سائٹ استعمال نہیں کی اور ان سے منسوب ٹویٹ 100 فیصد جعلی ہے.

ایس ایم ظفر کہتے ہیں
سینئر قانون دان ایس ایم ظفر اس کیس میں شبنم کے وکیل تھے انہوں نے ہی ملزمان کو سزا دلوائی اور پھر انہوں نے سزائے موت کو عمر قید میں بدلنے کی جنرل ضیاء الحق سے اپیل کی وہ کہتے ہیں
اس کیس میں شبنم کا وکیل میں ہی تھا. جب ایف آئی آر درج کرائی گئی تو اس وقت کیس میرے علم میں نہیں تھا جب مجھے اس کیس میں وکیل نامزد کیا گیا تو تب میں نے اس کیس کو سٹڈی کیا، ایف آئی آر میں یا بعد میں کیس کی سماعت کے دوران کسی بھی مرحلے پر میں نے یا میری مئوکلہ نے زیادتی کا الزام نہیں لگایا اور نہ ہی اس کیس میں آبروریزی کا معاملہ تھا، یہ سیدھی سادی ایک ڈکیتی تھی اور اگر شبنم کی جگہ کوئی عام پاکستانی ہوتا تو شاید یہ کیس دب بھی جاتا لیکن شبنم ایک شہرت یافتہ اداکارہ تھی اور حکومتی و عوامی دباؤ کی وجہ سے اس کیس کو دبانا اتنا آسان نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ اب یہ مجھے یاد نہیں کہ ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا یا پولیس نے اپنی تفتیش کے بعد ملزمان کو گرفتار کیا تھا. کیس کا ٹرائل فیئر ہوا تھا اور کسی بھی مقام پر اس وقت کے چیف سیکریٹری اور ملزم فاروق بندیال کے ماموں نے کوئی مداخلت یا اثرورسوخ استعمال نہیں کیا تھا. جب ملزمان کو سزائے موت سنائی گئی تو مجھے اور شبنم کو بھی جھٹکا لگا کیوں کہ نہ میں سزائے موت کے حق میں ہوں اور نہ ہی چاہتا ہوں کہ میری وجہ سے کسی کو سزائے موت ہو اور نہ ہی شبنم اس حق میں تھی، اس کا خیال تھا کہ اگر ملزمان کو سزائے موت ہو جاتی ہے تو مستقل دشمنی بن جائے گی جو وہ نہیں چاہتی تھیں. شبنم کے ہی کہنے پر میں نے صدر جنرل ضیاءالحق کو درخواست دی اور سزائے موت کو عمر قید میں بدلوایا. بعد میں ملزمان کے گھر والوں نے شبنم سے براہ راست مذاکرات کر کے ملزمان کے لیے راضی نامہ لکھوا لیا اور یوں ملزمان رہا ہو گئے. انہوں نے بار بار زور دے کر کہا کہ اس کیس میں زیادتی، آبروریزی جیسی کوئی واردات نہیں ہوئی تھی اور نہ میں نے یا میری مئوکلہ نے ایسا کبھی کہا تھا اور نہ اب کہتے ہیں.
شبنم نے پاکستان کیسے چھوڑا
جب فاروق بندیال اور اس کے ساتھی رہا ہوگئے تو شبنم نے پاکستان چھوڑ دینا زیادہ ضروری سمجھا اور پاکستان سے بنگلہ دیش جانا چاہا لیکن اس وقت کی حکومت نے سوچا کہ اگر شبنم جیسی معروف اداکارہ ملک چھوڑ جاتی ہیں تو اقوام عالم میں جگ ہنسائی ہو گی اور انڈیا کو پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کا موقع مل جائے گا لہٰذا حکومت نے شبنم کو جانے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا. بار بار کی درخواست کے بعد شبنم نے حلف نامہ جمع کروایا کہ وہ مستقل نہیں جارہیں صرف اپنے والدین کو دیکھنے جا رہی ہیں جو بیمار ہیں، انہیں دیکھنے کے بعد وہ واپس آجائیں گی، اس حلف نامے کے بعد شبنم کو جانے کی اجازت دے دی گئی، یوں 1978 میں وہ بنگلہ دیش چلی گئیں اور پھر 2016 میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ وصول کرنے چند دنوں کے لیے پاکستان آئیں.
حاصل کلام
حاصل کلام یہ ہے کہ شبنم کے گھر صرف ڈکیتی ہوئی تھی جس میں کسی قسم کی آبروریزی نہیں کی گئی تھی. محض سیاسی دکان چمکانے کے لیے مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف دونوں نے سوشل میڈیا پر یہ مہم چلائی اور ماضی کی ایک ایسی اداکارہ جن کا پاکستان،ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بہت کام ہے کی عزت کو اچھال دیا گیا، ہمیں ایک قوم کی حیثیت سے سیاسی طور پر بالغ ہونے کی ضرورت ہے جو ہم ابھی تک نہیں ہیں. ریاست نامہ نے محض سچائی تک پہنچنے کے لیے اس کیس پر کام کیا اور یہ رپورٹ شائع کی، اگر اس رپورٹ کی اشاعت سے کسی بھی شخص کی دل آزاری ہوتی ہے تو ہم پیشگی معذرت خواہ ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں