عشق سترنگی (ناول) قسط نمبر 13 فاطمہ عمران

آپ کا نام تو میں نے پوچھا ہی نہیں… حمزہ نے کہا تو مالا نے لب ہلائے “مالا”.
“ؤاؤ کتنا اچھا نام ہے آپ کا۔ بالکل آپ کی طرح نازک اور نفیس”
حمزہ کے اس جملے پر مالا نے سر گھما کر اسے دیکھا۔ “ارے یہ کمپلیمنٹ ہے۔”مالا کے دیکھنے پر حمزہ نےمسکرا کر صفائی دی۔
مالا نے پہلی بار اسے گھور کر دیکھا۔ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔۔۔دونوں ہاتھوں سے سٹیرئنگ پکڑے اور بات کرتے وقت درمیانی انگلی اٹھاتا۔۔ حمزہ کچھ ایسا بھی برا نہیں تھا۔ اچھی خاصی جاذب نظر شخصیت تھی۔ گندمی رنگت اور الجھے سے بال جو غالبا میچ کھیلنے کے دوران بے ترتیب ہو گئے تھے۔ اسکے باوجود اسے وجیہہ نہ کہنا زیادتی تھی۔
مالا کے اسطرح بغور دیکھنے پر اس نے جوابا مالا کو دیکھ کر ابرو سے “کیا؟ ” کا اشارہ کیا تو مالا دوبارہ سر گھما کر باہر دیکھنے لگی۔
سڑک انکے ساتھ ہی تیز تیز چلتی جا رہی تھی۔ اچانک لال بتی جل اٹھی اور انہیں رکنا پڑا۔ تبھی مالا نے دیکھا کہ انکے ساتھ کھڑی گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ پر کوئی اور نہیں بلکہ احمد بیٹھا ہے۔ مالا نے چہرہ فورا سامنے کی طرف کر لیا۔ مگر احمد ان دونوں کی طرف نہ صرف دیکھ رہا تھا بلکہ بغور جائزہ بھی لے رہا تھا۔
*** **** **** ***
“احمد کیا تم جانتے ہو کہ تم نے کیا حرکت کی ہے؟ اس لڑکی کو تم اتنا سب کچھ کیسے بتا سکتے ہو؟ ”
ٹیبل پر سامنے بیٹھے خاکی وردی میں ملبوس آفیسر نے احمد سے سوال کیا۔
“سر اٹ واز امپارٹنٹ”
“تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا۔ کم از کم مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی۔ اتنا قابل آفیسر اور اتنا بڑا بلنڈر۔ پندرہ سالوں کی محنت کے بعد تم یہاں پہنچے ہو ۔ اور کس چکر میں پڑ گئے ہو؟ تم جیسے آفیسرز پر ہمیں ناز ہے۔ یہ مت بھولو کہ تمہاری زندگی اب صرف تمہاری اپنی نہیں اس ملک کی بھی امانت ہے۔ ”
آفیسر نے سنجیدگی سے کہا۔ احمد نے سر جھکا لیا “سر کچھ قرض ایسے ہوتے ہیں کہ انکو چکانے کے لیے جان کا نذرانہ بھی کم پڑ جاتا ہے۔ اور اس لڑکی کا قرض تھا مجھ پر۔ مجھے اس سے محبت تھی”
“واٹ نان سینس۔۔کیا رومانٹک ہیرو بننے بیٹھ گئے تم۔ تمہیں اس سے محبت تھی یا ابھی بھی ہے؟یہ مت بھولو کہ تم یہاں مشن پر آئے ہو۔ اپنے ماضی کے قرض چکانے نہیں ۔ اور تمہاری زندگی میں کسی کمزوری کی گنجائش ہرگز نہیں۔ایسا کر کے تم نے اپنے ساتھ ساتھ اس لڑکی کی زندگی بھی خطرے میں ڈال لی ہے۔اور اب تمہیں تاکید کی جارہی ہے کہ اس لڑکی سے دور رہنا”
“جی سر” احمد دھیمے لہجے میں بولا۔
“احمد وی آر واچنگ یو۔ بی کیرفل فار واٹ یو ڈو۔ ڈونٹ ٹرائے ٹو بھی اوور سمارٹ۔ مجنوں بننے کا وقت نہیں ہے ہمارے پاس ۔ تمہارے اور سبیکا کے پاس صرف ایک مہینہ ہے اس مشن کو کمپلیٹ کرنے کا۔ اسکے بعد یو ول بھی مووڈ بیک۔ گاٹ اٹ؟ ”
“یس سر”
“اور یاد رکھنا ہم ایک قابل آفیسر کسی فضول رومانی جذبے کے ہاتھوں نہیں کھونا چاہتے۔”
“یس سر”
احمد بدستور سر جھکائے کھڑا تھا۔
“یو مے گو ناؤ۔ اینڈ کنٹینیو یور ورک”
سرد لہجے میں دیے گئے حکم پر احمد نے اثبات میں سر ہلایا اور کمرے سے باہر نکل گیا۔
*** *** ***
دروازے پر مسلسل بیل بجے جا رہی تھی۔ “ارے بابا کون ہے ؟ صبر نہیں ہوتا ایک تو لوگوں سے۔ بیل پر بیل دیے جاتے ہیں۔ ” مالا بڑبڑاتی ہوئی دروازہ کھولنے گئی۔ دروازہ کھولتے ہی وہ ٹھٹھک کر رک گئی۔ “تم؟ ”
احمد کا جواب آیا “ہاں میں”
“۔۔۔مگر تمہیں یہاں کا پتہ کس نے دیا؟ اوہ میں سمجھ گئی نور نے نا۔۔۔اس سے تو میں بعد میں نپٹوں گی۔ مگر میرا خیال ہے کہ تم سے میری آخری ملاقات ابھی دو دن پہلے ہی ہو چکی ہے۔ لہذا میرے گھر تک آنے کی کوئی خاص وجہ؟ اور یہ گارڈ نے تمہیں مین گیٹ سے اندر کیسے آنے دیا؟”
مالا نے سختی سے پوچھا تو احمد نے ملائمت سے جواب دیا “اسی سے پوچھ لینا ۔فی الحال اندر آنے کا نہیں کہو گی۔ تھوڑی دیر اکھٹے بیٹھ کر چائے پی لیں گے”
“نہیں۔۔بالکل نہیں ۔۔ بہتر ہو گا کہ تم واپس چلے جاؤ ” مالا نے سیدھا ہی کہہ دیا تو احمد جواباً مسکرایا “اچھا ایک گلاس پانی ہی پلا دو۔ یہیں دروازے پر کھڑے کھڑے ۔ پھر چلا جاتا ہوں”
مالا پانی لینے کے لیے مڑی۔ واپس آئی تو احمد دروازے پر نہیں تھا۔ اس نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا۔
کیا یہ محض اسکا وہم تھا؟ مگر احمد ابھی تو یہیں تھا۔ پھر کہاں گیا۔ اچھا ہے واپس چلا گیا ہو گیا۔ پتہ نہیں کیا سمجھ رہا ہے خود کو۔ ہمت کیسے ہوئی اس کی یہاں تک آنے کی؟ انہی سوچوں میں الجھی مالا حیرانی سے دروازہ بند کر کے واپس اندر آ گئی۔
**** **** **** ***
شام کو تیار ہو کر مالا نور سے ملنے کیلیے نکلی۔ اس نے فون پر پہلے ہی نور کو بتا دیا تھا کہ وہ اس سے ملنے آنے والی ہے۔ اور اب جاکر نور سے اچھی خاصی لڑائی کرنے کا ارادہ تھا۔ اس بیوقوف نے احمد کو اس کے گھر کا پتہ کیوں دے دیا؟
باہر نکلتے ہوئے مالا نے بلاارادہ ہی گارڈ سے پوچھ لیا “خان تم نے ان صاحب کو اندر کیوں آنے دیا؟ بے شک کوئی خود کو میرا کتنا ہی قریبی کیوں نہ بتائے۔ اگر تم نے اسے پہلے میرے ساتھ نہیں دیکھا تو تم نے اسے اندر تک نہیں آنے دینا۔ یا پہلے انٹرکام پر مجھ سے پوچھ لینا”
مالا کے گھر کے مین دروازے سے اندر داخل ہونے کے بعد آگے جا کر دائیں مڑ کر گھر کے اندرونی اینٹرنس سے پہلے بھی بیل بجانی پڑتی تھی۔ یہ بیل عموما کام والی ماسی یا دودھ والا دیتے تھے یا وہ لوگ جن کا مالا سے براہ راست کوئی کام ہو۔ ورنہ مالی یا باہر کے کام کرنے والے ملازم باہر سے ہی کام کر کے چلے جاتے۔ ان ملازمین کو خان دیکھتا تھا جو ملازمین کا انچارج ہونے کے علاوہ ایک طرح سے انکا گارڈ بھی تھا ۔ اگر گھر میں کوئی کام نہ ہو تو خان دروازے کے ساتھ ملحقہ ایک چھوٹے سے کمرے میں چلا جاتااور وہیں بیٹھا رہتا۔خان کے اس چھوٹے سے کمرے میں پنکھا اور لیٹنے کیلیے بستر کی سہولت بھی موجود تھی۔
جب گیٹ پر بیل ہوتی تو وہ بیل خان کے کمرے میں بجتی تھی۔انٹرکام بھی اسی کمرے میں تھا جو گھر کے اندر انٹرکام سے منسلک تھا۔ پھر جس کو خان اندر جانے دیتا وہ اندر جا کر بیل دیتا کیونکہ گھر کے رہائشی پورشن میں ہر ایک کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ پہلے دن سے انکے گھر کا یہی اصول تھا۔مالا اور حیدر کے سپنوں کے اس محل میں بسنے کے بعد حیدر نے اپنے تئیں مالا کیلیے حفاظت کا پورا انتظام کیا تھا۔ اکثر مریض اسکا پتہ پوچھتے ہوئے علاج کیلیے اسکے گھر تک بھی آ جاتے تھے۔ ایسے میں وہ نہیں چاہتا تھا کہ جب وہ گھر پر نہ ہو تو مالا کو دروازہ کھولنے کی پریشانی یا اجنبی لوگوں کا کوئی خوف ستائے۔
“بی بی جی کس کو؟ میں نے تو کسی کو اندر نہیں آنے دیا۔ صبح سے کوئی آیا بھی نہیں ہے۔ بس وہ شیر علی آیا تھا۔ اس نے باہر سے ہی کیاری میں لگے کچھ پودوں کی گوڈی کی اور پھر میں نے اسے چلتا کیا۔اس کے علاوہ تو کوئی نہیں آیا. ”
خان نے حیرت سے کہا تو مالا کے چہرے پر تشویش کے سائے لہرانے لگے۔
“خان وہ جو ابھی دو گھنٹے پہلے ہی اندر آئے تھے ۔ میرے ایک پرانے دوست، انکی بات کر رہی ہوں۔ مجھے لگا انہوں نے تمہیں اپنا تعارف کرایا اور تم نے انہیں اندر بھیج دیا۔ تو میں تمہیں منع کرنے والی تھی کہ آئندہ ایسے کسی کو اندر نہ بھیجنا جب تک مجھے معلوم نہ ہو۔”
“بی بی جی آپ پتہ نہیں کیا بات کر رہی ہیں۔ میں تو سویا بھی نہیں کہ کہوں آنکھ لگ گئی تھی۔ میں نے تو کسی کو اندر نہیں بھیجا۔ ”
خان بھی اتنا ہی حیرت زدہ ہو گیا جتنا مالا پریشان ہوئی۔
“اچھا؟. چلو آئندہ دھیان رکھنا۔میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔ذرا نور باجی سے ملنے جا رہی ہوں”
“جی بی بی جی۔ میرا سلام بھی دینا نور باجی کو. اور ان سے کہنا کہ اس بار آئیں گی تو خان انکے لیے اسپیشل پشاور کے مشہور چپلی کباب لے کر آئے گا۔”
نور کا آنا جانا زیادہ تھا۔ وہ اکثر خان سے آتے جاتے کوئی ہنسی مذاق کی بات کر لیا کرتی تھی۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی اسے جاتے ہوئے کہہ کر گئی تھی کہ اگلی دفعہ آؤں گی تو خان ذراچپلی کباب تو کھلانا۔ خان اسی بابت مالا سے بات کر رہا تھا۔
مالا نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا۔ “اچھا خان تمہارا پیغام اسے ضرور دے دوں گی۔ سن کر کل ہی چلی آئے گی۔”
مالا بظاہر مسکرا رہی تھی مگر اندر سے وہ اچھی خاصی پریشان ہو چکی تھی۔
اسی شش و پنج میں مالا نور کے گھر پہنچی۔
**** *** ***
“نور تمہیں کس نے اجازت دی تھی کہ احمد کو میرا پتہ دو”
“واٹ؟ پاگل تو نہیں ہو گئی تم ۔ آ کر بیٹھی بھی نہیں اور فضول باتیں شروع کر دیں۔ بے فکر رہو۔ میں تم سے پوچھے بغیر احمد کو تمہارا پتہ نہیں دوں گی”
“مطلب تم نے نہیں دیا؟ ”
مالا نے پوچھا تو نور نے اسکی آواز میں چھپی پریشانی کو محسوس کر لیا۔ وہ فورا مالا کے پاس چلی آئی
“کیا مطلب احمد تمہارے گھر آیا تھا؟ ”
جواباً مالا نے اسے پوری کہانی سنا ڈالی۔ مالا کی زبانی خان کا جواب سن کر اس نے کسی کو اندر نہیں بھیجا، نور بھی وقتی طور پر پریشان ہوگئی۔ مگر پھر فورا ہی بولی
“محبت بیٹا محبت۔۔۔یہ جو تمہیں ہواؤں میں بھی احمد دکھ رہا ہے نا۔ ہو نہ ہو۔ دال میں کچھ نہ کچھ کالا ضرور ہے”
“پلیز نور۔ بکواس مت کرو۔ ایک تو تم کسی بات کو سیریس نہیں لیتی ۔ میں تمہیں پاگل لگتی ہوں کیا جو جھوٹ بولوں گی۔ احمد واقعی آیا تھا۔ ”
“ہاں لگتی تو پاگل ہی ہو۔اگر آیا تھا پھر گیا کہاں۔ تمہارا وہم ہے ڈارلنگ۔ اور کچھ نہیں ۔ سٹریس لے رہی ہو تم شاید۔ حالانکہ اس دن ریزورٹ میں بھی میں نے کافی کوشش کی کہ تمہارا موڈ خوشگوار ہو جائے۔ ”
نور مالا اور احمد کی آخری مالاقات کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔ اور مالا نے اسے بتانا مناسب بھی نہ سمجھا۔ نور نے ہنس کر بات ٹال دی کہ مالا کا وہم ہوگا۔
**** **** **** ****
“چلو مالا سیل لگی ہے زبردست۔ ذرا دیکھ کر تو آئیں۔ ”
نور حسب معمول مالا کو گھسیٹ کر اپنے ساتھ لے گئی۔
واپسی پر نور کی فرمائش پر وہ سڑک کنارے کون آئسکریم کھانے رک گئیں۔
تبھی ایک مانوس آواز مالا کے کانوں سے ٹکرائی “اسلام علیکم! ”
مالا اور نور نے مڑ کر دیکھا۔ حمزہ کھڑا مسکرا رہا تھا۔
“جی آپ کا تعارف ” نور نے حیرت سے پوچھا تو حمزہ سے پہلے مالا بول اٹھی “نور یہ حمزہ ہیں”
نور نے ایک نظر حمزہ اور پھر مالا کو دیکھا۔ “ہاں ۔ انکا نام بھی حمزہ ہی ہے ۔ “پھر حمزہ کی طرف دیکھ کر بولی “وہ دراصل نور کے ہسبینڈ کا نام بھی حمزہ ہی ہے ”
“اوہ اچھا! “حمزہ مسکرا دیا
نور نے بیچ میں ٹوکا “وہ تو ٹھیک ہے مگر یہ ہیں کون؟ کہاں سے ٹپکے۔ اور میں انہیں کیوں نہیں جانتی؟ ”
“ارے ارے اتنے سوال ایک ساتھ۔ ”
اس بار جواب حمزہ نے دیا۔
“آپ ذرا چپ کریں۔ میں اپنی دوست سے پوچھ رہی ہوں۔”
نور نے کہا تو حمزہ نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔ “نور یہ میرے کمرے کی کھڑکی سے جو پارک نظر آتا ہے نا۔ وہاں ان سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی۔ اور دو تین دفعہ مل چکے ہیں مجھے ۔ بس یہاں وہاں نازل ہوتے رہتے ہیں” ” مالا نے تفصیلاً بتایاتو نور معنی خیز نظروں سے حمزہ کا جائزہ لینے لگی ۔
“آئسکریم لیں گے ۔ ”
نور نے پوچھا تو حمزہ نے انکار کر دیا۔ اور کہا کہ وہ ضروری کام سے یہاں سے گزر رہا تھا۔بس مالا کو دیکھ کر سلام کرنے چلا آیا۔
“دیکھیں اگر آپکو لگتا ہے کہ میری یہ سڑیل دوست آپ سے آئسکریم کھانے کا پوچھے گی تو آپ کی غلط فہمی ہے۔ لہذامیری مانیے اور ایک کون کا ساتھ دے دیجیے۔ ”
نور نے حسبِ عادت کھلے ڈلے انداز میں کہا تو حمزہ چہکتے ہوئے بولا “یہ سڑیل والی بات تو آپ نے سو فیصد ٹھیک کہی ہے۔ اسی بات پر ہو جائے ایک کون۔ ”
حمزہ نے بھی کون لے لی۔ اور ان کے ساتھ ہی سڑک پر قریب لگے بینچ پر بیٹھ گیا۔
“ویسے آپ کا مزید تفصلی تعارف۔ کرتےکیا ہیں آپ؟
نور نے سوال کیا۔
“جی ویسے کچھ خاص نہیں بس ایک چھوٹا سا بزنس ہے میرا۔
“اور امید ہے اب آپ کا یہ چھوٹا سا بزنس کسی فلم کی طرح پانچ سو ارب والا نہیں نکلے گا اور نہ ہی آپ کسی بزنس ٹائیکون کے بیٹے نکلیں گے جو چلتے پھرتے میری دوست کا عاشق ہو گیا ہے”
“باقی نہیں مگر آخری بات کیا پتہ سچ ہو جائے”
نور اور حمزہ کی ہنسی مالا کے کانوں میں پڑی مگر مالا نے انکی بات نہیں سنی۔ اسکا دھیان سامنے پارکنگ میں موجود گاڑی کی طرف تھا۔ جہاں احمد ایک لڑکی کی ساتھ بیٹھا کوئی بات کرتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
کون تھی یہ لڑکی؟ شاید اسکی منگیتر جس کے بارے میں اسے احمد نے بتایا تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ان کے درمیان کافی گہری وابستگی ہے۔ انہیں دیکھ کر مالا کے دل کی حالت عجیب ہو رہی تھی۔
**** *** ****
یہ قسط بھی پڑھیں
عشق سترنگی (ناول) قسط نمبر 12، فاطمہ عمران

اپنا تبصرہ بھیجیں