باپ کی اولاد–ناہید اختر بلوچ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)

دھرتی کے ناہموار سینے پر پھیلے بے ترتیب جھونپڑے اپنی قسمت پر شکوہ کناں نظر آتے تھے ۔غربت ان کے آنگنوں میں چلچلاتی ہوئی دھوپ کی طرح اترتی اور پھر دھیرے دھیرے سیاہ رات کا لبادہ اوڑھے ان پر چھا جاتی ۔ان کے نصیب میں سکھ کی ٹھنڈی چھایا مفقود تھی ۔
ایک ایسی ہی جھلستی ہوئی دوپہر جب سورج ان جھونپڑوں پر آگ برسا رہا تھا تب بستی سے ذرا آگے گندے نالے پر کھیلتے ننگ دھڑنگ بچے اپنی موج مستی میں گم تھے ۔کالے بھجنگ ،غربت کے مارے کوئی نیکر پہنے تو کوئی صرف پھٹی پرانی بشرٹ پہنے جو بمشکل اس کے پیٹ کو چھپائے ہوئے تھی ۔وہ سب تین تین چار چار کی ٹولیاں بنائے اپنے اپنے خود ساختہ کھیلوں میں مگن تھے ۔
چند چھوٹے بچے ایک مریل سی کتیا کے گلے میں رسی ڈالے اسے کھینچنے میں لگے تھے مگر وہ کتیا بھی اپنی ضد کی پکی تھی ۔پچھلے آدھے گھنٹے سے ایک ہی جگہ پھسکڑا مارے بیٹھی تھی ۔مجال ہے جو ٹس سے مس بھی ہوئی ہو ۔جب بچے اس کی رسی کو زور سے جھٹکا دیتے تو وہ غرا کر رسی اپنے دانتوں سے پکڑ لیتی ۔اور بچوں کے دور ہٹتے ہی پھر سے اپنی ٹانگوں میں سر دے کر سوچوں میں مستغرق ہو جاتی ۔یہ کھیل آدھے گھنٹے سے جاری تھا اور فریقین میں سے کوئی بھی ہار ماننے کو تیار نہ تھا ۔
ان چھوٹے بچوں کی ٹولی سے زرا دور چار پانچ بڑی عمر کے لڑکے نالے کے گندے پانی میں پتھر اچھالنے کا مقابلہ کر رہے تھے۔
لڑکے اپنی پوری طاقت لگا کر پتھر دور پھینک رہے تھے ۔ ابھی تک اس مقابلے میں راجا سب سے آگے تھا ۔راجا ، مٹھو کا بیٹا تھا ۔
ابھی راجا نے پتھر پھینکنے کے لیے اسے ہاتھ میں تولا ہی تھا کہ اسے دور سے اپنا باپ آتا دکھائی دیا۔ اس کی بے ڈھنگی چال بتا رہی تھی کہ وہ حسبِ معمول نشے میں تھا ۔راجا نے پتھر دوسرے لڑکے کی طرف اچھالا اور انہیں کھیل جاری رکھنے کا کہہ کر اپنے باپ کی طرف دوڑا ۔
باپ کے سامنے پہنچتے ہی اس نے اپنی شلوار کے خفیہ خانے سے ایک مڑا تڑا نوٹ نکال کر عین اس کی آنکھوں کے سامنے گھمانا شروع کر دیا ۔
نوٹ دیکھتے ہی مٹھو کی آنکھیں چمک اٹھیں ۔
”کہاں سے اڑایا ہے یہ نوٹ تو نے ؟؟؟“
اس نے حریص نظروں سے نوٹ کو تکتے ہوئے پوچھا ۔
اس کی آواز نشے کی وجہ سے بھاری ہو رہی تھی اور وہ زمین پر کھڑے کھڑے ادھر ادھر ڈول رہا تھا ۔
مگر راجا جواب دینے کے بجائے نوٹ کو اسی طرح انگلیوں میں گھماتا رہا ۔
”ارے منہ سے کچھ پھوٹ نا حرام خور کی اولاد “مٹھو کا صبر جواب دے گیا تھا ۔
”خفیہ خزانے میں سے اپن کو حصہ ملا ہے“
راجا نے خالص فلمی سٹائل میں جواب دیا ۔
”خفیہ خزانہ ! کون سا خفیہ خزانہ ۔؟؟“
مٹھو نے چونکتے ہوئے کہا ۔خزانے کا نام سنتے ہی اس کا سارا نشہ ہرن ہونے لگا تھا ۔
”نا ابا نا ! خزانے کا پتہ مفت میں تھوڑی ملتا ہے ۔مال لگانا پڑتا ہے مال“
راجا نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا ۔ایسی باتوں میں وہ اپنے باپ سے بھی چار ہاتھ آگے تھا ۔
”او تیری تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“ مٹھو نے اسے ایک کراری سے گالی سے نوازتے ہوئے اپنی پھٹی پرانی جیبیں ٹٹولنی شروع کر دیں ۔
راجا نے کوفت سے اسے دیکھا ۔
کافی تلاش بسیار کے بعد اس نے کہیں سے ایک پھٹا پرانا بیس کا نوٹ نکال کر راجا کی طرف بڑھایا ۔
”نا ابا ! یہ نوٹ نہیں چلے گا ۔خزانے کا پتہ نہ بتانے پر پچاس روپے ملے ہیں تو پتہ بتانے پر سو روپے تو ملنے چاہیے نا “
اس نے سر کو انکار میں ہلاتے ہوئے باپ کو سمجھایا ۔
مٹھو کچھ دیر اسے گھورتا رہا اور پھر زیرِلب اسے چار پانچ گالیاں دینے کے بعد جیب سے پچاس روپے نکال کر اس کے منہ پر مارتے ہوئے بولا ۔
”اب جلدی سے بک ،جو بھی بکنا ہے ۔میرا مغز خراب نہ کر “
”یہ ہوئی نا بات “ راجا نے نوٹ کو چومتے ہوئے کہا ۔اور پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے رازدارانہ لہجے میں بولا ۔
”آج اماں اور اس کی چہیتی بیٹی پورے پانچ ہزار کما کر لائی ہیں ۔جا تو بھی اپنا حصہ وصول کر لے “
”پورے پانچ ہزار “ مٹھو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔
”ہاں پورے پانچ ہزار “ راجا نے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں پھیلا کر اشارہ کیا ۔
راجا کی بات سنتے ہی مٹھو کو کرارے کرارے نوٹوں کی خوشبو اپنے نتھنوں میں گھستی محسوس ہوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چنی نے پلیٹ میں بچی بریانی کو ایک بڑا سا نوالہ بنا کر اپنے منہ میں ٹھونسا اور پھر لبالب بھرے پیپسی کے گلاس کو ایک ہی سانس میں چڑھا گئی ۔ایک زوردار ڈکار کے بعد اس نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔
واہ میرے مالک ، تو بڑا بے نیاز ہے ۔آج دو مہینے بعد ایسا کھانا نصیب ہوا ہے ۔مزہ آ گیا ۔
پھر فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر اس نے پاس بیٹھی نو سالہ گوری کا منہ چوم لیا ۔
”یہ سب تیرے بھاگ ہیں میری شہزادی !رب نے میری نیکیوں کا صلہ تیری شکل میں دے دیا ۔ہائے صدقے جاٶں سوہنے رب کے “
چنی نے گوری کی قنچی آنکھوں کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
وہ واقعی شہزادی لگتی تھی ۔خانہ بدوشوں کی اس بستی میں جہاں ہر گھر کالے کلوٹے بچوں سے بھرا پڑا تھا وہاں گوری جیسی خوبصورت بچی کی موجودگی اندھیری رات میں چمکنے والے چاند جیسی تھی ۔خوب گوری رنگت اور اس پر قنچی آنکھیں ،جو بھی دیکھتا ،دیکھتا ہی رہ جاتا ۔چنی کے باقی سارے بچے پیدائشی کالے تھے بالکل اپنے باپ مٹھو کی طرح مگر گوری ان سے مختلف اور الگ تھی ۔گوری اس کے لیے خوش قسمتی کی علامت تھی ۔بلکہ اس کے جھونپڑے میں چمکتا کوہِ نور ہیرا تھی ۔
پیٹ بھرنے کے بعد اب چنی پر ہلکی ہلکی غنودگی طاری ہونے لگی تھی ۔اس نے اپنے میلے سے دوپٹے کو سر کے نیچے رکھا اور لیٹ گئی ۔گوری بھی سکڑ سمٹ کر اس کے ساتھ لیٹی اپنی نئی گڑیا سے ہولے ہولے باتیں کرنے لگی ۔جو آج ہی چنی نے اسے بازار سے دلائی تھی ۔
چنی نے دل ہی دل میں باقی رقم کا حساب کتاب کرنا شروع کر دیا تھا ۔گھر میں راشن سارا ختم ہو چکا تھا ۔سوچتے سوچتے اچانک اس کے ذہن کے پردے پر صبح کا منظر لہرایا ۔
حسبِ معمول صبح کے ملگجے اندھیرے میں وہ دونوں ماں بیٹیاں جب دربار کے ایک حصے میں مخصوص اپنی جگہ پر پہنچیں تو وہاں اکا دکا لوگ ہی نظر آ رہے تھے ۔پچھلے چار دن سے چنی کی کوئی خاص کمائی نہیں ہو رہی تھی ۔گھر میں جیسے فاقوں نے ڈیرہ ڈال لیا تھا ۔مگر مٹھو کو اس بات کا رتی بھر بھی احساس نہیں تھا ۔وہ سارا دن نشے میں دھت کسی گلی میں پڑا رہتا اور رات ہوتے ہی جب اس کا نشہ ٹوٹتا تو گھر آ کر شور شرابا کر کے سو جاتا ۔گھر اور بچے چنی کی زمہ داری تھے ۔اس کی بلا سے وہ جیسے بھی چلاتی ۔چنی نے گوری کے کملائے ہوئے چہرے پر نظر ڈالی تو اس کا دل کٹ کر رہ گیا ۔وہ دونوں ماں بیٹیاں رات سے بھوکی تھیں ۔اچانک اس کی نظر دربار کے گیٹ سے اندر آتی اس عورت پر پڑی جو تیز قدموں سے اپنا دوپٹہ سنبھالتی ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے انہی کی سمت آ رہی تھی ۔تھوڑا قریب آنے پر چنی نے دیکھا کہ اس کی آنکھیں رونے سے لال ہو رہی تھیں ۔
وہ جیسے ہی ان ماں بیٹی کے پاس سے گزری ،گوری نے آگے بڑھ کر اس کے سامنے ہاتھ پھیلا دیا ۔اس عورت نے ایک لمحے کو گوری کی طرف دیکھا اور پھر نجانے اس کے من میں کیا سمائی کہ اس نے اپنے پرس میں ہاتھ ڈالا اور جتنے نوٹ بھی اس کے ہاتھ میں آئے اس نے گوری کے ہاتھ پر رکھ دیے ۔۔چنی اتنے سارے نوٹ دیکھ کر حیرانی سے آگے بڑھی ۔اتنے میں وہ عورت گوری کے سر پر ہاتھ پھیر کر دربار کے اندر جا چکی تھی ۔
چنی نے فوراً ہی گوری کے ہاتھ سے پیسے لے کر اپنے دوپٹے کے اندر چھپا لیے ۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔اس نے گوری کا ہاتھ پکڑا اور تیز تیز قدموں سے گھر کی طرف جیسے دوڑنے لگی ۔۔سارے راستے وہ اس دیالو عورت کو دعائیں دیتی آئی تھی ۔
کسی برتن کے زور سے گرنے کی آواز سے چنی کے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا ۔اس نے وہیں سے شش شش کر کے بلی کو بھگانے کی کوشش کی ۔
”لگتا ہے ابا آ گیا ۔“ گوری نے جیسے خدشہ ظاہر کیا ۔
اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
”چپ کر کے سو جا ۔اور مٹھو کے سامنے ان پیسوں کا زکر مت کرنا“
اس نے دبی زبان میں گوری کو سمجھایا اور محتاط قدموں سے چلتے ہوئے باہر آئی تو سامنے مٹھو کو دیکھ کر اس کی چھٹی حس بیدار ہو گئی ۔
مٹھو چند لمحے اپنی سرخ آنکھوں سے اسے گھورتا رہا اور پھر لڑکھڑاتے قدموں سے اس کی طرف بڑھا ۔
کہاں ہیں وہ پیسے ۔۔۔؟؟ جلدی سے نکال “
مٹھو بے صبری سے بولا ۔
اس کے منہ سے پیسوں کا سنتے ہی چنی کا رنگ فق ہو گیا ۔
”کک کون سے پیسے ۔۔۔؟؟“
وہ ہکلاتے ہوئے بولی ۔
”ارے وہی پیسے جن کا زکر خفیہ رکھنے پر تو نے راجا کو پچاس روپے دیے ہیں ۔“
مٹھو تیزی سے بولا ۔
”او تیرا بیڑا غرق ہو راجا ۔۔۔۔نکلا نا اپنے کمینے باپ کی اولاد ۔بدبخت پورے سو روپے بھی کھا گیا مگر پھر بھی بات پیٹ میں نہیں رکھ سکا ۔۔۔“
چنی دل ہی دل میں تلملائی ۔
پھر مٹھو سے نظریں چراتے ہوئے بولی ۔
میرے پاس کوئی پیسے ویسے نہیں ۔جھوٹ بول رہا ہے وہ کمبخت راجا ۔
مٹھو اسے گھورتے ہوئے آگے بڑھا ۔
”اچھا تو تیرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں ۔“
اس کے لہجے میں صاف دھمکی سنائی دے رہی تھی ۔
وہ چار پانچ قدم طے کر کے عین اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
”آخری بار پوچھ رہا ہوں کہاں ہیں وہ پیسے ؟؟“
مٹھو نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا ۔اس کے تیور بہت خطرناک لگ رہے تھے ۔
”اور میں بھی آخری بار کہہ رہی ہوں کہ میرے پاس کوئی پیسے نہیں ہیں ۔جا دفع ہو جا ۔وہیں جا کے مر جہاں سارا دن نشے میں پڑا رہتا ہے ۔جان چھوڑ میری “
چنی نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے درشتی سے کہا ۔
”دیکھ چنی میں کہہ رہا ہوں بتا دے ۔۔۔نہیں تو ۔۔۔۔“
مٹھو نے غصے سے کانپتے ہوئے کہا ۔اس کا نشہ جیسے سر پر چڑھ رہا تھا ۔
”کیا کرے گا تو ۔۔۔؟ بول نا کیا کرے گا ۔اپنا آپ تو تُو تجھ سے سنبھالا نہیں جاتا ۔اور مجھے دھمکی دے رہا ہے ۔“
چنی نے غصے سے آگے بڑھ کر مٹھو کو ایک زوردار دھکا دیا ۔
وہ اس حملے کے لیے بالکل تیار نہیں تھا ۔لڑکھڑا کر پاس پڑی جھلنگا سی چارپائی پر جا گرا ۔چارپائی پر پڑے برتن ایک زوردار آواز سے زمین بوس ہو گئے ۔
شور سن کر گوری سہم کر باہر نکلی ۔اپنے ماں باپ کو جانوروں کی طرح لڑتے دیکھ کر وہ ہر بار اسی طرح سہم جاتی تھی ۔
مٹھو کے منہ سے گالیوں کا طوفان ابل پڑا ۔اس نے ایک دیگچی اٹھا کر پوری قوت سے چنی کی طرف پھینکی ۔مگر چنی اپنے پورے ہوش حواس میں تھی ۔اس نے بروقت جھکائی دے کر خود کو اس وار سے بچایا ۔ورنہ دیگچی یقیناً اس کا سر کھول دیتی ۔
مٹھو اس جھلنگا چارپائی سے نکل کر اس کی طرف بڑھا ۔چنی کو اب اس کے ارادوں سے خوف محسوس ہونے لگا تھا ۔
”سیدھی شرافت سے پیسے میرے حوالے کر دے ورنہ مرنے کے لیے تیار ہو جا چنی ۔یہ کمائی تیری نہیں بلکہ میری بیٹی گوری کی ہے “
مٹھو اب مرنے مارنے پر اتر آیا تھا ۔
”تیری بیٹی !ہونہہ ۔۔کبھی اسے غور سے دیکھا ہے ۔۔۔لگتی ہے وہ تیرے جیسے نشئی کی بیٹی ۔۔؟؟؟
چنی نے استہزائیہ لہجے میں اسے جواب دیا ۔
”کیا بکواس کر رہی ہے تو ۔۔۔گوری اگر میری بیٹی نہیں ہے تو پھر کس کی ہے۔۔۔۔؟“
مٹھو نے چلا کر کہا ۔
چنی کے ذہن میں جیسے ایک جھماکہ ہوا ۔اسے مٹھو کی حالت لطف دے رہی تھی ۔
اس کے چہرے پر ایک پراسرار مسکراہٹ ابھری ۔وہ مٹھو کے قریب آئی اور سرگوشی میں بولی ۔
”گوری گنیش بابو کی بیٹی ہے ۔تجھے یاد ہے تو ہے نا گنیش بابو ۔۔۔؟؟
جو بستی میں غریب عورتوں میں دودھ کے پیکٹ اور دوائیں بانٹتا تھا ۔بڑا ہی نیک اور خوبصورت انسان تھا ۔ ہمارے جھونپڑے میں بھی آتا تھا ۔تمہارے جانے کے بعد ۔۔۔۔“
چٹاخ کی آواز گونجی اور چنی زمین پر گر پڑی۔
مٹھو کے منہ سے مغلظات کا ایک طوفان ابل پڑا ۔اس کے بعد اس نے چنی کو اپنی ٹھوکروں پر رکھ لیا ۔ٹھڈے مار مار کر اس کا جسم لہولہان کر دیا ۔۔اس پر جیسے جنون طاری ہو گیا تھا ۔وہ مارتے ہوئے ہر ٹھوکر پر اسے نئی گالی دیتا تھا ۔
مٹھو اپنی طاقت ختم ہونے تک اسے مارتا رہا تھا اور چنی خاموشی سے مار کھاتی رہی تھی ۔
آخری ٹھڈا مار کر وہ گرتا پڑتا باہر نکل گیا ۔
اس کے جانے کے بعد چند لمحوں تک چنی بے حس و حرکت پڑی رہی ۔پھر آہستگی سے اٹھ بیٹھی ۔اپنے جسم کو ہاتھوں سے ٹٹول کر اس نے چوٹوں کا اندازہ لگایا ۔پھر لڑکھڑاتے قدموں سے اندر کی جانب بڑھی ۔
اس نے کراہتے ہوئے گوری کو آواز دی ۔مگر کوئی جواب نہ ملا ۔وہ اسے پکارتی ہوئی آگے بڑھی تو سامنے کا منظر دیکھ کر اس کے پیروں سے زمین نکل گئی ۔
گوری اپنے سامنے سارے نوٹ اکٹھے کیے انہیں آگ لگا چکی تھی ۔اور دھویں کے پار اس کی قنچی آنکھوں سے سرخ شعلے لپک رہے تھے ۔
یہ افسانہ بھی پڑھیں
بھیگے کاغذ میں لپٹے ہوئے لمحات—-سلمیٰ صنم (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ)

باپ کی اولاد–ناہید اختر بلوچ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)” ایک تبصرہ

  1. بھئی بہت خوب ، بہت عمدہ و اعلی افسانہ ہے ، افسانے کی زبان درست ( سوائے ایک دو ٹائپو کے) اور بیانیہ چست ہے ، ماحول کی منظر کشی دیدنی اور جملوں کی نشست و برخاست قابلِ داد ہے، اول تا آخر قاری کی دلچسپی افسانے میں برقرار رہتی ہے تا آنکہ اُس کا دل اختتامیہ کے لئے مچلنے لگتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ چنی گئی کہ گئی لیکن اختتامیہ قاری کی امید سے کہیں بڑھ کر نکلتا ہے ، داد بے شمار ، ، ،

اپنا تبصرہ بھیجیں