ٹوم اینڈ جیری—اظہر اقبال مغل

پاکستان جب سے وجود میں آیا ہے۔انتشار کا شکار نظر آتا ہے اس ملک میں جو بھی وزیر کے عہدے پر فائز ہوا ہے اس نے مشکل سے ہی اپنے 5 سال پورے کئے ہیں۔یہ کھیل بالکل ٹوم اینڈ جیری کی طرح جاری ہے،جو بھی برسر اقتدار آتا ہے اسے پہلے دن ہی سے ہٹانے کا سوچا جاتا ہے کہ اس کو کیسے اقتدار سے ہٹایا جائے اس کے خلاف پروپیگنڈہ شروع ہو جاتا ہے۔ااس کو نیچا دکھانے کیلئے دوسرے سیاست دان ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔جن میں حکومت کے خلاف دھرنا دیا جاتا ہے ریلیاں نکالی جاتی ہے ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں،گالی گلوچ تک سے بھی پرہیز نہیں کیا جاتا۔اگر ماضی پر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ماضی میں ہم نے کیا غلطیاں کی جو کہ اب نہیں ہونی چاہیئے لیکن ماضی کی غلطیاں اس ملک میں بار بار دہرائی گئی ہے قیام پاکستان کے بعد لیاقت علی خان پہلے وزیر اعظم تھے جن کا دورانیہ اکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان 4 سال سے بھی کم مدت تک عہدے پر رہے، وہ 15 اگست 1947 کو منتخب ہوئے، اور 16 اکتوبر 1951 تک اپنے قتل تک عہدے پر رہے۔ان کے بعد یہ ٹوم اینڈ جیری کا کھیل جاری رہا اور مختلف لوگ کچھ دنوں یا مہینوں کیلیئے منتخب ہوئے اور برطرف ہوئے،اس ٹوم اینڈ جیری کے کھیل میں پاکستان کے دوسرے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین رہے، جو 17 اکتوبر 1951 سے 17 اپریل 1953 تک عہدے پر رہے، تیسرے وزیر اعظم محمد علی بوگرا نے 17 اپریل 1953 کو ذمہ داریاں سنبھالیں اور 11 اگست 1955 تک انہیں نبھاتے رہے،پاکستان کے چوتھے وزیر اعظم چوہدری محمد علی نے12 ستمبر1956سے 11 اگست 1958تک ملک پر حکمرانی کی، پھر حسین شہید سہروردی نے 12 ستمبر 1956 سے 18 اکتوبر 1957 تک حکومت چلائی۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کے چھٹے وزیر اعظم ابراہیم اسماعیل (آئی آئی) چندریگر منتخب ہوئے جن کا دورانیہ 18 اکتوبر 1956 سے 16 دسمبر 1957 تک رہا جس کے بعد ملک فیروز خان نون نے 16 دسمبر سے ہی 7 اکتوبر 1958 تک ذمہ داریاں سنبھالیں لیکن یہ ٹوم جیری کا کھیل زیادہ دیر تک بر قرار نہ رہ سکا اور پاکستان کے پہلے صدر جناب سکندر مرزا صاحب نے فساد کی جڑ ہی ختم کر دی مطلب وزیر اعظم کا عہدہ ہی ختم کر دیا 13 سال یہ کھیل ختم رہا ۔لیکن 13 سال بعد وزیر اعظم کا عہدہ دوبارہ بحال ہوا اور یہ ٹوم اینڈ جیری کا کھیل پھر شروع ہو گیا اور جناب نورالامین کو 7 دسمبر 1971 کو آٹھواں وزیر اعظم بنایا گیا، مگر صرف 13 دن بعد ہی 20 دسمبر کو انہیں ہٹادیا گیا، یوں ان کے پاس مختصر مدت کے وزیراعظم کا ریکارڈ ہے۔اس کے بعد ملک کو ایک ایسی شخصیت ملی جو کہ آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں آج تک لوگ اس شخصیت کو بھلا نہیں سکے اس میں کچھ تو ایسا ہو گا جو آج بھی لوگ اس کو یاد کرتے ہیں اس شخصیت کا نام تھا پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے بانی ذوالفقار علی بھٹو جو کہ 14 اگست 1973 سے 5 جولائی 1977 تک وزیر اعظم رہے، اس کے بعد ایک بار پھر اس ٹوم اینڈ جیری کے کھیل کو ختم کر دیا گیا جس کا سہرا جنرل ضیاء الحق کے سر ہے اور 1985 میں جنرل ضیاء صاحب نے ہی وزیر اعظم کے عہدہ کو بحال کرتے ہوئے محمد علی جونیجو کو وزیر اعظم منتخب کیا ، محمد خان جونیجو 23 مارچ 1985 سے 29 مئی 1988 اس عہدے پر فائز رہے۔ کے بعد ضیاء صاحب کی شہادت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ اسلامی دُنیا کی پہلی خاتوں وزیر اعظم تھیں جو کہ صرف 2 دسمبر 1988 سے 6 اگست 1990 تک رہیں۔ملک کے بارہویں وزیر اعظم غلام مصطفیٰ خان جتوئی 6اگست 1990 سے 6 نومبر 1990 تک ملک کے نگراں وزیر اعظم رہے۔ اس کے بعد نواز شریف پہلی بار 6 نومبر 1990 کو ملک کے 13 ویں وزیر اعظم بنے، وہ اس عہدے پر 18 اپریل 1993 تک رہے۔میر بخش شیر مزاری ملک کے 14 وزیر اعظم تھے، جو 18 اپریل 1993 سے 26 مئی 1993 تک عہدے پر رہے، ایک بار پھر نواز شریف 26 مئی 1993 سے 8 جولائی 1993 تک وزیر اعظم بنے۔میر معین قریشی 8 جولائی 1993 سے 19 اکتوبر 1993 تک وزیر اعظم بنے، جس کے بعد ایک بار پھر بے نظیر بھٹو 19 اکتوبر 1993 سے 5 نومبر 1996 تک وزیراعظم رہیں۔ملک معراج خالد 1996 سے 17 فروری 1997 تک وزیر اعظم رہے، جس کے بعد ایک بار پھر نواز شریف اس عہدے پر براجمان رہے، وہ 17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک اس عہدے پر رہے، یہ ان کی دوسری مدت تھی۔یک بار پھر ملک غیر اعلانیہ طور پر تین سال تک ملک وزیر اعظم کے بغیر چلا، پھر میر ظفراللہ جمالی کو ملک کے 20 ویں وزیر اعظم کے طور پر 23 نومبر 2002 کو منتخب کیا گیا، وہ 26 جون 2004 تک اس عہدے پر رہے۔ ملک کے 21 ویں وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین 30 جون 2004 سے 26 اگست 2004 تک قریبا 57 دن تک وزیراعظم رہے۔شوکت عزیز 28 اگست 2004 سے 15 نومبر 2007 تک ملک کے 22 ویں وزیر اعظم رہے، جس کے بعد ملک کا 23 واں وزیر اعظم میاں محمد سومرو کو بنایا گیا، وہ 16 نومبر 2007 سے 24 مارچ 2008 تک نگراں وزیر اعظم کے طور پر خدمات سر انجام دیتے رہے۔پاکستان کی 65 سالہ سیاسی تاریخ میں پہلی بار پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت نے آئینی مدت پوری کی تھی، تاہم اسے مدت پوری کرنے کے لیے ایک سے زائد وزرائے اعظم پر گزارا کرنا پڑا، یوسف رضا گیلانی 25 مارچ 2008 سے 25 اپریل 2012 تک آئینی وزیر اعظم رہے۔یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں جون 2012 میں نااہل قرار دیا، جس کے بعد وہ عہدے پر برقرار نہ رہے، عدالت نے انہیں 25 اپریل سے نااہل قرار دیا۔نواز شریف وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے 70 سال میں تین بار وزارت عظمیٰ کی کرسی حاصل کی، تاہم تینوں بار وہ اپنی مدت پوری نہ کرسکے، تیسری بار وہ 5 جون 2013 کو وزیر اعظم منتخب ہوئے۔سپریم کورٹ نے پاناما لیکس اسکینڈل کیس میں ان کے اقامہ کے انکشاف کے بعد انہیں آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت 28 جولائی کو نااہل قرار دیا۔نواز شریف کے بعد قومی اسمبلی نے شاہد خاقان عباسی کو 28 ویں وزیر اعظم کے طور پر یکم اگست 2017 کو منتخب کیا۔اس طرح یہ ٹوم اینڈ جیر ی کھیل جاری ہے دیکھیں یہ کب دم توڑتا ہے اور کوئی وزیر اعظم 5 سال کب پورے کرتا ہے۔اسی طرح سے یہ کھیل جاری ہے۔اس ملک میں تب تک ترقی اور کرپشن ختم نہیں ہوسکتی جب تک اس کھیل کا خاتمہ نہیں ہوجاتا اب دیکھیں اگلا ویزاعظم کون بنتا ہے اور کیا وہ 5سال پورے کر پائے گا؟ یہ بات سب کے ذہنوں میں ایک سوالیہ نشان کی طرح گردش کر رہی ہے جو پاکستان کے حالات چل رہے ہٰن ان سے نہیں لگتا کہ یہ ٹوم اینڈ جیری کا کھیل ختم ہو گا
یہ کالم بھی پڑھیں
سجدہِ رن مریدی—اظہر اقبال مغل

اپنا تبصرہ بھیجیں