نواز شریف طیارے سے ہی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اڈیالہ جیل منتقل کر دیئے جائیں گے،ڈی جی نیب لاہور نے فساد کا پروگرام بنا لیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو جمعہ کو ممکنہ واپسی کی صورت میں لاہور ایئرپورٹ سے بذریعہ ہیلی کاپٹر اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ امیگریشن کا عمل طیارے کے اندر ہی مکمل کیا جائے گا جبکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو اڈیالہ جیل میں ہی سماعت کے لئے بلانے کی تجویز بھی دے دی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈی جی نیب لاہور نے اپنے خط میں سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو وطن واپسی پر
گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کرنے کے لئے چیئرمین نیب سے ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے ،انہوں نے تجویز دی ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کا امیگریشن کا عمل مکمل کرنے کے لیے امیگریشن کا عملہ ہوائی جہاز میں ہی جائے،عمل مکمل ہونے کے بعد نیب لاہور کی ٹیم انہیں ہوائی جہاز کے اندر ہی گرفتار کر لے، جس کے بعد ہوائی اڈے کے اندر کھڑے ہیلی کاپٹر کے ذریعے مریم نواز شریف اور نواز شریف کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا جائے ۔ جبکہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کو بھی سماعت کے لئے اڈیالہ جیل میں ہی بلانے کی تجویز دی گئی ہے. حتمی فیصلہ چیئرمین نیب کریں گے لیکن اگر ایسا کیا گیا تو ایئرپورٹ‌ پر نواز شریف کے استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں میں مایوسی پھیل جائے گی اور وہ ہنگامہ آرائی پر اتر آئیں گے. اس لیے مبصرین کے نزدیک ڈائریکٹر نیب لاہور اپنی اس تجویز سے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے ہیں، وہ کارکنوں کو نواز شریف کا استقبال کرنے دیں اور نواز شریف کو موقع دیں کہ وہ خود اپنی مرضی سے گرفتاری دیں، اگر وہ برطانیہ سے پاکستان آرہے ہیں گرفتاری دینے تووہ ضرور گرفتاری دیں گے، انتشار اور فساد کے کسی بھی عمل سے گریز کیا جائے، انتشار کی صورت میں نہ تو نوازشریف یا اس کے خاندان کوکوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی چیئرمین اور ڈائیریکٹر نیب لاہور کو وہ دونوں بھی حفاظتی حصار میں ہوں گے یا تو ن لیگ کے غریب ورکر مریں گے یا غریب پولیس والے

اپنا تبصرہ بھیجیں