جھوٹی–گل ارباب پشاور (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)

پہلی بار جب استانی جی نے اک بچے کا جھوٹ پکڑا تو سب شاگردوں کو سمجھایا تھا کہ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ بات سبھی بچوں نے اپنی ماؤں سے بھی سن رکھی ہوگی لیکن جو نئی بات استانی جی نے بتائی اس پہ بچے ڈر گیے تھے انھوں نے کہا کہ جھوٹ بولنے والےاور جھوٹی قسمیں اٹھانے والوں کو آللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سزا ملتی ہے کہ ان کا منہ کالا ہو جاتا ہے تب سے استانی جی کی ہر بات غور سے سن کر عمل کرنے والی سوہنی ۔کو جھوٹ سے بیر ہوگیا تھا … گھر آ کر بھی استانی جی کی باتوں نے اس کی ساری توجہ کھینچے رکھی اس کی حسیات اک بات پہ ہی مرکوز رہیں سکول کا کام کرتے ہوئے بھی اسی سوچ میں گم تھی .”کیا ہوا میری سونی کو.؟“ اماں نے اسے یو ں گم صم بیٹھے دیکھ کر پیار بھرے لہجے میں پوچھا .”اماں کیا سچ میں جھوٹ بولنے والے کا منہ کالا ہو جاتا ہے ؟” اس نے اپنے دودھیا سفید ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے ماں سے جوابی سوال کیا ۔۔ تو اماں نے اثبات میں سر ہلا دیا .” جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے بیٹا اس سے چہرہ تو کیا دل بھی کالا پڑ جاتا ہے .“ وہ حیرت کے سمندر میں ڈوبتی ابھرتی کبھی اماں کی جلی جلی رنگت کو دیکھتی اور کبھی ان کے سانولے ہاتھوں کو .” اماں ! اس نے ذھن میں اٹھتے سوالوں اور دل میں بسے وہموں کو زبان دی .” اگر جھوٹ بولنے سے صرف منہ ہی کالا ہوتا ہے نا ؟ تو باقی سارا جسم کون سے گناہ سے کالا ہو جاتا ہے اماں ؟” ماں نے اس کی نظروں کے زاویے نوٹ کر لیے تھے وہ بھی اک افسردہ نظر اپنے ہاتھوں پہ ڈال کر کچھ دیر تو انکھوں میں پھیلتی ہلکی سی نمی کو پینے کی کوشش کرتی رہیں اور جب آنسووں کا گولا سا گلے میں پھنسنے لگا تو اسے نگلنے کے لیے کھانسنے لگ گئیں وہ اماں کی عادت سے خوب واقف تھی اماں جب بھی کوئی بات چھپانا چاہتیں تھیں تو اسی طرح ان پہ کھانسی حملہ کرتی تھی اور وہ اماں کو کھانستا دیکھ کر بھائی کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھنے لگتی اور آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کرتی کہ دیکھ لو اب اماں کی پردہ داریاں اب غلط بیانی سے کام لیں گی .” بتائیں نا اماں ؟” کھانسی رکتے ہی اس نے دوبارہ سے ماں کے ضبط پہ چوٹ لگائی .”اک گناہ ہے بیٹا ! جو ہر گناہ سے بڑا ہے … اور ایسا گناہ کوئی معاف بھی نہیں کرتا …جانتی ہو یہ گناہ کون سا ہے ؟ مگر ۔۔۔۔ ابھی کیسے جان پاو گی ؟ ابھی تو بچپن کی گود میں کچھ سوتی کچھ جاگتی آنکھوں سے پریوں کے سپنے دیکھنے کی عمر ہے تمہاری ۔۔ جب جوانی کی دھلیز پہ پہلا قدم رکھو گی نا تب اس گناہ سے آشنائی ہوگی اور یہ گناہ ہے عورت ہونا …. وہ نہ سمجھنے والے انداز میں ماں کے اداس چہرے کو تکتی رہی .” اللہ کرے تمہارے لیے عمر بھر یہ احساس اجنبی رہے تمہیں کبھی اس نا کردہ گناہ کے لیئے جواب دہ نہ ہونا پڑے.“ اماں عورت ہونا گناہ ہے تو اس کی سزا کیا ہوتی ہے .؟ “ وہ تڑپ کر بے ساختہ بولیں ۔” اس گناہ کی سزا ہے زندگی ۔۔۔ اس کے اس سوال نے ماں کو کئی سال پہلے والے اپنی ماں سے پوچھے گئے سوال کی یاد دلا دی تھی ان کی پیلی زرد آنکھوں میں اک سویا ہوا منظر انگڑائی لے کر کھڑا ہوگیا .” اماں یہ شادی ہے یا سزا ؟ روتے ہوئے وہ اپنی ماں سے پوچھ رہی تھیں .”چپ کرو کوئی سن لے گا اسے قسمت کا لکھا سمجھ کر سر جھکا لو ورنہ سر کاٹنے کے مختار بہت ہیں اس گھر میں۔” اس گھر کے کسی مرد کو اٹھا ہوا سر پسند نہیں ہے۔” تو اماں میری کوئی پسند نہیں؟“ وہ رونے لگی تھی ۔”نہیں تم بیٹی ہو اور تمارے مقدر کا فیصلہ اس گھر کے مرد لکھیں گے ورنہ تمہارا مقدر سوائے قبر کے اندھیرے کے اور کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔ چپ رہنا ہی تمہاری زندگی کی ضمانت ہے ۔“ سامنے بیٹھی عورت کوئی اور نہیں اس کی سگی ماں تھی وہ اسے قبر کے اندھیرے سے ڈرا کر زندگی کے اجالے سے دور لے جانے پہ آمادہ کر رہی تھی کیونکہ یہ ان کی مجبوری تھی ۔ “ماں بہت درد ہو تب بھی چپ رہنا ہوگا ؟ “ یہ کیسے کر پاؤں گی یہ تو ممکن ہی نہیں۔“ اس کی سسکتی آواز ماں کے پہلے سے چھلنی کلیجے میں مزید چھید ڈال رہی تھی ۔۔۔ ماں نےاسے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور درد بھری آواز میں بولی ۔”ہاں بہت درد ہو تب بھی چپ ہی رہنا ہوگا اور اسے ناممکنات میں شامل نہ کرنا کیونکہ ممکن ہے تبھی تیری ماں اس چپ کو برسوں سے اوڑھے اپنا اصل رنگ اپنی فطری خواہشات اور اپنی مسکراہٹیں تک اس چپ کی چادر میں لپیٹ کر رکھ چکی ہے ۔” یہ سب سن کر وہ چپ ہو گئی تھیں اس کے بعد عمر بھر چپ ہی رہیں اپنے دکھ اپنے ہی اندر دفن کرتے رہنا بہت مشکل ہوتا ہے مگر وہ عورت ہی کیا جو یہ مشکل سفر طے نہ کر پائے ۔۔۔ شروع میں ضبط نا ممکن لگتا تھا جب بہت تکلیف ہوتی ۔۔۔ کوئی سسکی لبوں کی دھلیز پار کرنے لگتی تو وہ ہونٹ بھینچ کر آزادی کا در بند کر دیتی سسکیاں اندر ہی اندر دم توڑ دیتیں اور پھر تو عادت ہی بن گئی تھی بہت شدید درد شروع میں ہی افضل سے شادی کے وقت سہہ لیا تھا پھر اس درد کے بعد تو ہر درد کم لگنے لگا تھاافضل سے ان کی شادی ان کی زندگی کا اختتام تھی ۔ برسوں سے اپنا لاشہ اپنے ہی کاندھوں پر اٹھائے وہ چل پھر رہی تھیں اسے جینا نہیں کہتے مگر اسے مکمل موت بھی نہیں کہتے اب وہ مکمل موت کا رستہ تکتی رہتیں تھیں افضل میں بہت سی برائیاں تھیں یہ دکھ نہیں تھا بلکہ دکھ تو یہ تھا کہ اس میں کوئی خوبی کوئی اچھائی نہیں تھی۔ بہت ڈھونڈا مگر اس میں کچھ اچھا نہ ملا شوہر نے ان کے ساتھ ساری عمر مالک اور غلام والا تعلق ہی رکھا ۔۔۔ لیکن ماں کو اپنی بیٹی سے بہت پیار تھا بیٹے سے بھی زیادہ۔۔۔ کیونکہ بیٹے کو تو باپ کی توجہ حاصل تھی محبت سے محروم تھی تو بیٹی ۔۔۔ ان کی تمام رایگاں عمر کی پونجی بس ایک بیٹی اور بیٹا ہی تھے بیٹی سونیا جسے پیار سے وہ سونی پکارتیں تھیں جس نے ان کی سونی زندگی میں اپنے وجود سے رنگ بھر دیئے تھے ۔” اللہ جی۔۔۔۔ میں کبھی جھوٹ نہیں بولوں گی ۔۔۔جھوٹی قسم سے بھی میری توبہ۔ “ سونیا دونوں کانوں کو ہاتھ لگا کر بولی تو اماں اس کی بات سن کردھیمے سے مسکرا دیں اچھی طرح جانتی تھیں کہ ان کی سونی کو اپنی سرخ سفید رنگت سے کتنا پیار ہے ۔۔۔اسے بہت ناز تھا بچپن سے اپنی خوبصورت رنگت پہ اور اپنی اس خوبی پہ بہت اتراتی بھی رہتی تھی اور اب جوان ہو کر تو وہ اور بھی نکھر گئی تھی خوبصورت سرخ و سفید رنگت بڑی بڑی خوبصورت کالی آنکھیں لمبی اور گھنی ریشمی زلفیں جو آوارہ لٹوں کی صورت اس کے گالوں کو چومتی رہتیں اور دیکھنے والے جوان ۔۔۔دل ان لٹوں کو۔ ۔۔ رشک بھری نظروں سے دیکھتے رہتے ۔۔۔ خوبصورت گداز بدن کا لوچ اور اس پہ لہراتی چال جو بھی دیکھتا یہی کہتا سونی بالکل اپنے نام کی طرح سوہنی ہے۔ ماں نے اسے زمانے کے سرد و گرم سے بچایا ہوا تھا لیکن اچھے برے کی پہچان اور تمیز بھی سیکھا رکھی تھی وہ زمانہ شناس نہ سہی مگر ماں نے اسے زمانے کے چلن سے اچھی طرح آشنا کیا ہوا تھا۔وہ بہت محتاط تھی کیونکہ جانتی تھی کہ اس کی ذرا سی لغزش اسکی ماں کی تربیت پہ سوال اٹھائے گی ۔استانی کی اس بات کے بعد جھوٹ نہ بولنے کی عادت اس کی پہچان بن چکی تھی ۔ سکول میں جب کسی بھی معاملے میں گواہی کی ضرورت پڑتی ٹیچرز اسے کھڑا کرتیں ۔” تم بتاؤ سونیا ! یہ شرارت کس کی ہے ؟ “ مس ناہید نے بورڈ کی طرف اشارہ کیا جس پہ اک موٹی عورت کی کارٹون نما تصویر بنا کر ساتھ میں مس ناہید کا نام لکھا تھا ” ساری کلاس چپ تھی لیکن وہ ان کے سوال پہ گھبرائی ہوئی سی کھڑی ہوگئی “مس یہ سنبل نے کیا ہے ۔” اسے بادل نخواستہ بولنا پڑا سنبل بے شک اس کی بہترین دوست تھی لیکن اسے سچ بولنے کی اپنی قسم بھی اچھی طرح یاد تھی سنبل نے غصے اور بے یقینی سے اسے گھورا اور وہ معذرت خواہانہ انداز میں اسے دیکھتی ہوئی بیٹھ گئی۔
ٹیسٹ ہو رہے تھے اور ساری کلاس کو کیمسٹری مشکل لگتی تھی چونکہ ٹیچر بھی بہت سست سی تھیں ذیادہ محنت نہیں کرتی تھیں۔۔۔ان کی شادی کو کچھ ہی عرصہ ہوا تھا ان کی اپنی کیمیسٹری بگڑی ہوئی تھی اور اپنے سسرال کے سارے غصے ان ہی پہ نکالتی تھیں ۔۔ مشہور تھا کہ ان کے شوہر نشے کے عادی ہیں ۔۔۔ سو جس دن ان کا موڈ آف ہوتا سبھی اشاروں میں ایک دوسرے کو کہتیں آج خوب بدلے لیں گی اپنے میاں کی عیاشی کے ہم سے ۔۔۔ اور ساس کا سارا نزلہ بھی ہم پہ ہی گرےگا ۔۔ ایک دن کیمسٹری کے پرچے میں مس نے اسے کھڑا کیا ” تم بتاؤ کون کون چیٹنگ لایا ہے ؟ ” وہ پہلے تو شش و پنج کی کیفیت میں گرفتار کھڑی رہی پھر کچھ سوچ کر بولی۔”مس ! رضیہ اور ثمینہ کے پاس چیٹنگ نہیں ہے۔“ ٹیچر نے چشمے کے اوپر سے اسے گھورا ۔” سیاست نہ کرو میرے ساتھ ۔۔۔۔میں نے یہ نہیں پوچھا کہ کس کے پاس نقل نہیں ہے بلکہ یہ پوچھا ہے کہ کس کے پاس ہے ؟ “ وہ نظریں جھکائے بولی ۔” مس ساری کلاس کے پاس نقل موجود ہے ۔“ یہ کہہ کر وہ شرمندہ سی اپنی جگہ بیٹھ گئی۔رضیہ اور ثمینہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر معنی خیز انداز میں مسکرانے لگیں انھوں نے یہ چالاکی کی تھی کہ سونیا سے چیٹنگ والی بات چھپا لی تھی کیونکہ انہیں اچھی طرح اندازہ تھا کہ مس کے پوچھنے کی دیر ہے وہ سب کچھ اگل دے گی باقی سب کا یہ پیپر تو خراب ہو گیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے جو اس کی کلاس لی تو سونیا کو رونا آ گیا ۔”تم لوگ جانتی بھی ہو کہ مجھ سے جھوٹ نہیں بولا جاتا بلکہ میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تو پھر تم لوگ میرے سامنے چیٹنگ کی بات نہ کیا کرو بلکہ ہر وہ بات میرے سامنے کرنے سے پرہیز کیا کرو جس میں مجھے جھوٹ بولنا پڑے۔” ایک دن اس کو سکول کا ضروری ٹیسٹ یاد کرنا تھا اور اس کا رف کام والا رجسٹر پورا ختم ہوچکا تھا اس نےبنا اجازت کےابو کے کمرے کی تلاشی لی اور بہت سی اور چیزوں کے درمیان ابا کے کمرے میں ان کا ایک پرانا استعمال شدہ رجسٹر پڑا ہوا تھا ریشم نے بغیر اجازت کے اس رجسٹر میں کچھ ضروری نوٹس بنائے گھر آتے ہی ابا کی نظر اس رجسٹر پہ پڑی اماں سے پوچھنے لگے۔” یہ میرے کمرے کی تلاشی کھول لیتا ہے؟ اور یہ رجسٹر کس نے نکالا ہے؟ابا کی تیز اور غصلی آواز سن کر اماں کی رنگت متغیر ہو گئی۔” وہ جلدی سے آگے آئیں اور ابا سے کہا کہ سونی کو ضروری کام کرنا تھا رجسٹر ختم ہوگیا تھا اس لیے میں نے آپ کے کمرے سے یہ نکال کر اس کو دے دیا سونی حیرت سے ماں کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی۔”ابا نے تصدیق کے لیے اس کی طرف دیکھا تو وہ جلدی سے بولی ۔” نہیں ابا ماں جھوٹ بول رہی ہے یہ میں نے خود آپ کے کمرے سے نکالا ہے ماں سے پوچھا بھی نہیں ۔” ابا نے پہلے تو گھور کے اماں کی طرف دیکھا اور پھر سونی کے گال پر ایک زور دار تھپڑ لگا کر بولے .” آئندہ میرے کمرے سے میری اجازت کے بغیر کوئی چیز مت اٹھانا سمجھیں ؟ ۔”وہ ایک ہاتھ سے اپنے گال کو ملتی ہوئی ماں کی طرف دیکھنے لگی۔ماں نے اسے گھورتی ہوئی نظروں سے دیکھا اور کہا۔’ کبھی تو سوچ سمجھ کر بولا کر اس سچ نے تو ہمیشہ تجھے رلایا ہے ۔مگر باپ کا تھپڑ کھا کر روتے ہوئے بھی اس کا دل اندر سے مطمئن تھا کہ اس نے ایک بار پھر سچ کا دامن ہاتھ سے نہں چھوڑا یوں ہی عمر کی منزلیں طے کرتے ہوئے سچ کا دامن تھامے وہ جوانی کی دھلیز پہ قدم رکھ چکی تھی اور جوانی کے ساتھ ہی کئی دلوں کی دھڑکنیں بھی اسکے حسن پہ قربان ہونے کو تیار رہتیں تھیں وہ اک ایسی لڑکی تھی کہ جس کی صورت اور سیرت دونوں کمال تھے نور کا اک ہالہ سا ہمہ وقت اسکے چہرے کو روشن رکھتا تھا اس کی آنکھوں میں حیا کے رنگ پھیلے رہتے تھے اور حیا کے یہ رنگ واقعی بہت نایاب سے لگتے تھے ” اس کے بارے میں خاندان کے لڑکے کہتے تھے کہ سونی کا جمال بھی کمال ہے اور جلال اس سے بھی زیادہ کمال ہے کیونکہ اس کی شخصیت کا وقار کسی کو اس سے گھلنے ملنے اجازت نہیں دیتا تھا۔ وہ کالج سے واپس آئی تو اماں کی آنکھوں میں اداسی کے رنگ کچھ زیادہ ہی پھیلے ہوئے تھے۔” جانتی تھی کہ وہ اتنی آسانی سے اداسی کا سبب نہیں بتائیں گی ۔ پھر بھی پوچھ لیا۔” اماں! کیا بات ہے کیا کوئی آ رہا ہے ؟ شامی کباب فریزر سے نکال کر باہر رکھتی ماں کے ہاتھ اس سوال پہ اک پل کو رکے ۔” تیرے رشتے کے لیے کچھ لوگ آ رہے ہیں۔۔۔تیرے ابا کے جاننے والے ہیں۔” وہ دم بخود سی انہیں دیکھنے لگی ۔۔۔رشتے تو پہلے بھی بہت آتے تھے مگر اماں بات ابا تک پہنچنے سے پہلے ہی انہیں جواب دے دیتی تھیں ۔۔۔لیکن اس دفعہ تو بات ابا تک پہلے پہنچ گئی تھی ۔” مگر اماں’ میں نے تو ابھی بہت پڑھنا ہے ۔ “وہ ہراساں سی رونے لگی۔” تم جانتی ہو کہ جو تمہارے ابا چاہتے ہیں اس گھر میں وہ ہی ہوتا ہے ۔۔۔تیری ماں تو اک کٹھ پتلی ہے جس کی نہ کوئی پسند ہے نہ مرضی ۔۔۔“ انہوں نے ہتھیار اٹھائے ہی نہ تھے کیونکہ جانتی تھیں کہ لڑ کر بھی ہارنا ہی ہے ۔۔۔ اور پھر وہی ہوا جو ابا نے چاہا ۔۔اس کا رونا تڑپنا ابا کی منتیں کرنا سب رائگاں گیا اماں کی عمر کی طرح ۔۔اس نے تتلیوں کے پروں سے سجے علم کے خواب اپنی آنکھوں سے نوچ کر قسمت کی کتاب میں چپکے سے رکھ دیے تھے اس آس پہ کہ فرصت کے لمحات میں ان خوابوں کے رنگوں سے سجے نصیبوں کے ورق کھول کر ان خوابوں کے درشن کر لیا کرے گی ۔۔ کچھ ہی مہینوں میں ۔ مکینک شبیر کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی۔پہلی رات شوھر نے اس سے پوچھا ۔” تم تو اتنی خوبصورت ہو پڑھی لکھی بھی ہو اچھا خاندان بھی ہے تمہارے لیے تو کئی لڑکے پاگل ہوں گے کتنے عاشق تھے تیرے ؟ ۔“ اس لمحے ماں کی وہ نصیحت جو وقت رخصت اس کے پلو سے باندھی گئی تھی یاد آئی ۔”بیٹیا عورت کے ساتھ سچ زیادہ دیر تک چل نہیں سکتا بابل کے آنگن سے رخصت ہوتے ہی عورت اور سچ کے راستے الگ الگ ہو جا تے ہیں اگر سچ کے ساتھ چلو گی تو عمر بھر منزل کی تلاش میں بھٹکتی رہو گی ۔۔ سچ کی کرواہٹ مرد کی برداشت سے باہر ہوتی ہے وہ اس کڑواہٹ کو فوری تھوک دیتا ہے کبھی کبھی تو سیدھا عورت کے منہ پہ ۔۔۔ بھی تھوک دیتا ہے ۔ اور یہ تلخی زہر بن کر عورت کی پوری زندگی نیلی کر دیتی ہے ۔“ اس نے دل ہی دل میں اپنی صاف ستھری زندگی پہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔۔۔اور شوہر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ۔” میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں اور میرا دل و دماغ ان چیزوں سے مکمل پاک رہا ہے ۔۔۔ مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ کوئی میرے لیے پاگل تھا یا نہیں میں مگر کسی کے لیے کبھی بھی پاگل نہیں تھی۔”اس کی آنکھوں کے رنگ سچے تھے سو وہ بھی جان گیا کہ یہ عورت سچ کا زاد راہ لے کر ازدواجی زندگی کے سفر پہ نکلی ہے ۔وہ اس کے باپ کی طرح کا اک پریکٹیکل ذھن کا انسان تھا پل میں تولہ پل میں ماشہ کبھی کبھی تو کسی چھوٹی سی بات پہ اسکی ایسی تذلیل کرتا کہ وہ اپنی نیلو نیل روح کے داغ چھپا نہ پاتی اور ماں جو خود تو سب سہتی رہی تھی لیکن اب بیٹی کا درد سہنا اس کے لئے بہت مشکل تھا وہ اسے سینے سے لگا کر صبر کا درس دینے لگتی اس کے بس میں اور کچھ تھا بھی تو نہں یہ ہی تو زندگی نے اسے سکھایا تھا ۔۔شبیر کا چھوٹا بھائی انگلینڈ میں رہتا تھا سکالر شپ پہ پڑھنے گیا تھا اور وہیں ایک یونیو رسٹی میں اسے جاب بھی مل گئی تھی ۔۔۔ان دنوں وہ کافی عرصے بعد واپس پاکستان آ رہا تھا شبیر بھائی کی آمد پہ بہت خوش تھا ۔ والدین کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں کے علاؤہ ان کا اور کوئی قریبی سگا رشتہ نہیں تھا اب دونوں بھائیوں کی خواہش تھی کہ عظیم کی شادی ہوجائے وہ باہر رہ کر بھی پاکستان میں شادی کا فیصلہ کر چکا تھا اسے اپنی پرکشش شخصیت اور اچھی مالی حالت کی وجہ سے بہت مواقعے ملے تھے خوبصورت اوراچھی عورتوں سے تعلق جوڑنے کے لیکن اسے ان عورتوں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہوتی تھی وہ شادی کے لیے جب بھی سوچتا اس کی آنکھوں کے سامنے حیا کے بوجھ سے جھکی پلکوں والی ایک ایسی لڑکی آ جاتی جس نے سر پہ سکارف اور بڑے سے دوپٹے سے اپنے وجود کو ڈھانپا ہوتا ۔عظیم سے پہلی ملاقات میں ہی وہ جان گئی تھی کہ وہ اپنے بھائی سے بہت مختلف ہے اس کی ہر بات سے اعلی تعلیم یافتہ ہونا ہی نہیں علم کا قدردان ہونا بھی ثابت ہوتا تھا ۔۔ شبیر کے خاندان کا بلکہ اس کے اپنے خاندان کا بھی وہ پہلا فرد تھا جسے اس نے عورت کے احترام میں کھڑے ہوتے دیکھا تھا وہ کھڑا ہو کر آنکھیں جھکائے اس کے ساتھ رسمی سلام دعا میں مصروف تھا کہ شبیر نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچا ” ارے بیٹھو یار یہ لندن امریکہ نہیں ہے کہ تو عورت کے احترام میں کھڑا ہو گیا ہے ۔“ وہ مسکرا کر نرم لہجے میں بولا ۔” بھائی اسلام نے جو عزت خواتین کودی ہے کسی اور مذھب نے نہیں دی مگر ہم خواتین کے احترام کو مغربی تہذیب سے جوڑتے رہتے ہیں یہ جانے بغیر کہ یہ تو ہمارا ورثہ ہے یہ تو ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔“ وہ چپ چاپ دونوں بھائیوں کی گفتگو سن رہی تھی ۔” چلو جلدی چائے بنا کر لاؤ“ ۔شبیر کا حاکمانہ اور خشک انداز اعظم کو اچھا نہیں لگا لیکن وہ چپ ہی رہا ۔ اعظم نے برسوں سے اپنے ذھن میں جو آئیڈیل جیون ساتھی کے لیے بنا رکھا تھا وہ وہ ہو بہو ویسی ہی تھی اسے ایک نظر دیکھتے ہی ایک پل کو اعظم کے دل کی دھڑکنیں تیز ہوگئیں لیکن دوسرے ہی لمحے رشتے کے تقدس نے اسے نظریں جھکانے پہ مجبور کر دیا ۔۔۔اس کے دل و دماغ میں اک کسک سی جاگی لیکن وہ ایک مثبت سوچ کا مالک تھا اس لیے مسلسل دل و دماغ میں اٹھتے شوریدہ جذبات کو رشتے کے احترام کی بیڑیاں پہناتے ہوئے سر جھکائے کھڑا رہا۔ وہ کچن کی طرف جا رہی تھی کہ اس نے سنا اعظم ۔۔ بھائی کو کہہ رہا تھا ” بھیا اللہ کا جتنا شکر ادا کرو کم ہے جو آپ کو بھابھی جیسی بیوی ملی ایسی حیا دار پردے کی پابند اور اچھی شکل وصورت والی عورت رب کی قیمتی ترین متاع ہے آپ شکر ادا کیا کریں کیونکہ نعمتوں کی شکر گزاری رب کو پسند ہے ۔“ وہ ایک دھیمی سی دکھ بھری مسکراہٹ ہونٹوں پہ پھیلانے بنا شبیر کا جواب سنے کچن میں آ گئی ۔۔۔کیونکہ جانتی تھی اس کا شوہر کوئی جاہلوں والی بات ہی کرے گا جس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ عورت پاؤں کی جوتی ہے اسے سر پہ رکھنا گناہ ہے ۔یہ روز کا معمول ہی بن گیا تھا کہ شبیر٬ اعظم کے سامنے حسب معمول آسکی انسلٹ کرتا اور اعظم اس خراب رویئے پر بھائی کو ٹوکتا رہتا۔اور وہ چُپ چاپ دونوں بھائیوں کی تکرار سنتی رہتی ۔۔جبکہ اعظم کی اس ہمدردی پر شبیر اسے گھورتا رہتا یوں کہ جیسے اس میں سارا قصور سونیا کا ہو۔
ایک دن صبح اٹھتے ہی شبیر نے ہنگامہ کھڑا کردیا ۔ان کے کمرے سے آتی شور شرابے کی آوازیں سن کر اعظم بھی آنکھیں ملتا ہوا اندر آ گیا ۔ اندر کا منظر اس کے لیے ناقابل برداشت تھا شبیر اس پہ جھکا لاتیں مار رہا تھا ۔ سونیا پلنگ پہ گری ہوئی تھی اور اس کا دوپٹہ پاؤں میں پڑا ہوا تھا اس کے ریشمی لمبے بال کمر اور کندھوں پہ یوں بکھرے ہوئے تھے کہ اس کا سارا وجود اس ریشم نے ڈھانپ رکھا تھا اتنے عرصے ایک ہی گھر میں قیام کے باوجود آج پہلی بار آعظم نے اسے یوں بے پردہ دیکھا تھا ور نہ تو ہمہ وقت وہ ایک بڑی چادر میں لپٹی رہتی تھی سر پہ سکارف پہنے نظریں جھکائے وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف رہتی اور اعظم اس سہمی ہوئی سی عورت پہ جب بھی نظر ڈالتا احترام اور ہمدردی اس کی آنکھوں میں واضح نظر آتی ۔مگر آج یوں کھلے بالوں اور بنا اوڑھنی کے سونیا کو دیکھتے ہی ایک بار پھر اس کا دل معمول سے کچھ زیادہ ہی تیز دھڑکنے لگا تھا ۔۔۔دھک دھک دھک اعظم کے دل میں ڈر پیدا ہوا کہ کہیں یہ اتنی تیز دھڑکنیں شبیر یا سونیا کی سماعتوں تک نہ پہنچ جاہیں۔” تم ؟ شبیر چلایا اعظم تم کچھ نہ کہنا یہ عورت اس قابل ہے کہ اس سے لاتوں مکوں اور ٹھوکروں کی زبان میں بات کی جائے کیونکہ یہ ہی زبان اسے سمجھ آتی ہے ۔وہ اعظم کو دیکھ کر بمشکل اٹھی اور اپنا دوپٹہ تیزی سے اٹھا کر جسم اور سر ڈھانپنے لگی اعظم کو لگا جیسے دھنک سے رنگ پھولوں سے خوشبو اور دن سے اجالا چھن گیا ہو.” پلیزمیرے بھائی اب اس کمزور عورت پہ ہاتھ نہ اٹھانا ۔” اس نے شبیر کا ہاتھ پکڑ کر ملتجیانہ لہجے میں اسے مخاطب کیا ۔” اس نے امانت میں خیانت کی ہے اسے اس کی سزا ان چوٹوں کی صورت میں ملے گی تاکہ اسے سبق یاد رہے اعظم نے غور کیا تو سونیا کے روشن چہرے کی اجلی پیشانی پہ ایک گہرا نیلا نشان نظر آ رہا تھا اعظم نے بھیگی آنکھوں والی اس معصوم عورت کا درد اپنے دل میں شدت سے محسوس کیا اور بمشکل اندر اٹھتی ٹیسوں پہ قابو پایا ۔” چلو اٹھو ٹسوے نہ بہاؤ ۔“ شبیر نے اسے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا وہ اس کے قدموں میں جھکی معافی مانگ رہی تھی ۔” , اللہ کے واسطے مجھے معاف کر دیں پھر شکایت کا موقع نہیں دوں گی ۔“ شبیر نے حقارت بھرے لہجے میں کہا ۔” بھائی اس نے میرے بٹوے سے تین ہزار روپیہ نکالے ہیں بلکہ چوری کیے ہیں بغیر اجازت کے پیسے نکالنے والے کو چور ہی کہتے ہیں نا؟ اسے پاؤں کی ٹھوکر سے ہلاتے ہوئے وہ طنزیہ انداز میں پوچھ رہا تھا ۔ ” کب نکالے پیسے اور کیوں ؟“ اعظم بڑی مشکل سے خود پہ ضبط کیے کھڑا تھا ورنہ اس کا جی چاہ رہا تھا اس معصوم کو شبیر کے قدموں سے اٹھا کر سینے سے لگا لے اور تھپک تھپک کر تسلی دے اور کہے کہ ”اچھی پری ! تم فکر نہ کرو میں تمہیں اس ظالم دیو کی قید سے رہائی دلواوں گا ۔“ جیب سے بٹوا نکال کر اس کے شفاف ناخنوں والے خوبصورت اور اجلے پاوں میں رکھ دے اور کہے ” لو اس بٹوے میں ہزاروں روپے ہیں لیکن یہ تمہارے سر پر سے وار دوں مجھے اس کی اجازت دے دو۔’ لیکن وہ چپ چاپ کھڑا اسے دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہا تھا ۔ ” میں ابھی ناشتے کی میز پہ بیٹھا کوئی بات کر رہا تھا کہ اس سے پوچھ لیا ” سونیا تم نے کبھی مجھے بتائے بغیر بنا اجازت کے میرے بٹوے سے پیسے نکالے ہیں؟ میرے بٹوے میں ہر وقت اتنے پیسے ہوتے ہیں اعظم کہ دس پندرہ ہزار کوئی نکال لے تو مجھے پتہ بھی نہیں چلتا ۔” تو بھائی انھوں نے کیا کہا ؟ وہ حیرت بھری نظروں سے باری باری دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا “کہنا کیا تھا کچھ سوچا مجھے پتہ تھا کہ یہ جھوٹ نہیں بولتی اور بولی پانچ چھ مہینے پہلے آپ گہری نیند سو چکے تھے اور زلیخا کا بچہ بخار میں تپ رہا تھا وہ بار بار مجھ سے ایڈوانس تنخواہ مانگ رہی تھی کہ بچے کو ہاسپٹل لے جائے آپکا آرام اور سکون خراب ہو جاتا اگر نیند میں خلل پڑ جاتا سو میں نے تین ہزار بٹوے سے نکال کر زلیخا کو دے دئیے ۔اور آپ کو بتانا بھول گئی ۔“ اعظم حیرت بھری نظروں سے اس عظیم عورت کو دیکھنے لگا کبھی اپنے کم ظرف اور ناشکرے بھائی کو ۔”بھیا ! یہ تو قطعی بےقصور ہیں بجائے اس کے کہ یہ جھوٹ بول کر آپ سے بات چھپا لیتں انھوں نے خود ہی سب سب سچ بتا دیا ۔۔۔ کام بھی تو بہت ثواب کا کیا ہے انھوں نے ایک بیمار بچے کی جان بچانے کے لیے یہ قدم اٹھایا اور یہ بھی تو سوچیں کہ آپ کا مال اور آپکی بیوی کا مال ایک ہی ہے ۔“ وہ شکر گزار نظروں سے ایک ٹک اعظم کو گھورے جا رہی تھی لیکن شبیر ان سنی کرتا اسکی طرف بڑھا اور ہاتھ سے کھینچتے ہوئے کمرے کے دروازے تک گھسیٹا ہوا لے آیا اس کے چہرے کے تاثرات سے اعظم نے اندازہ لگایا کہ یہ سب پہلی بار نہیں ہورہا تھا ۔” چلو نکلو دفعہ ہوجاو کمرے سے “ ایک دھکے سے اس کا سر لکڑی کے دروازے سے ٹکرایا اور اس کے منہ سے درد میں ڈوبی ایک چیخ نکل گئی اعظم نے دیکھا پہلا نیل اب ایک بڑے سے گومڑ کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ اس کی ایسی حالت پہ بھی شبیر کا دل نہ پسیجا اور وہ ایک بار پھر سینہ تان کر اس کمزور اور نازک سی عورت کی طرف بڑھنے لگا اب کے سہمی ہوئی اس عورت کی مزید توہین اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ضبط جواب دے چکا تھا ۔۔۔ وہ غصے سے بھائی کا ہاتھ پکڑے ان دونوں کے بیچ کھڑا ہوگیا شبیر نے غصیلے انداز میں اسے گھورا ۔” بس بھائی اب مزید زیادتی برداشت نہیں کروں گا ۔” شبیر نے اسے دھکا دے کر ہٹانے کی کوشش کی تو وہ بھی ہاتھا پائی کرنے لگا ۔” تم کون ہو اس کے ؟ ماں لگتی ہے تمہاری یا بہن ؟ وہ چپ رہا ۔” بولو نا ؟ چپ کیوں ہو ؟ شبیر نے بھی اس کا گریبان پکڑ لیا. ” لگتا ہے اس کے سحر میں گرفتار ہوچکے ہو شبیر کی اس بات پہ اعظم کی گرفت بھائی کے بازو پہ ڈھیلی پڑنے لگی ۔” اعظم باقاعدہ ورزش اور دیگر جسمانی مشقتوں کے باعث بہت زور اور طاقت میں تھا اس نے غصے میں دھکا دے کر بھائی کو بیڈ پہ گرا دیا اور زمین پہ گری اوڑھنی اٹھا کر سونیا کے سر پہ ڈال دی اور اسے کندھے سے پکڑ کر صوفے پہ بیٹھا دیا شبیر جو کچھ دیر پہلے ایک عورت پہ اپنی طاقت کا رعب جمانے کھڑا تھا اب کھسیانا سا اپنی کمزوری پہ نظریں چرا رہا تھا ۔” تم اس کی ہمدردیاں سمیٹ کر کیا کر لوگی ؟ میں تو تمہیں چھوڑنے والا نہیں ہوں جتنا جی چاہا اسے پھنسا کر فایدے اٹھا لو اپنا تو نہیں سکتا یہ تمہیں ۔“ وہ مشکوک انداز میں زہر ہی اگل رہا تھا ۔ وہ اپنے زخموں کو بھول کرگھبرائے ہوئے انداز میں نفی میں سر ہلاتے ہوئے کبھی اعظم کی طرف دیکھنے لگی کبھی شوہر کی طرف ” میری آنکھوں کے سامنے تم لوگ یہ کھیل کھیلتے رہے اور میں جان نہ پایا ۔“ وہ نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے دونوں کو مخاطب کررہا تھا ۔” میں قسم کھاتا ہوں کہ یہ ایک با حیا اور با عفت نیک کردار خاتون ہیں ان کی پا کدامنی پہ شک کرنے والا گناہگار ہوگا یہ تہمت نہ لگائیں بھیا ۔“ وہ رونے لگا ۔” میں جا رہا ہوں کسی ہاسٹل یا کرائے کے گھر میں رہ لوں گا۔لیکن خدارا اس بے گناہ کو بخش دو اس کی اتنی تو ہین نہ کرو ۔ “ وہ ہاتھ جوڑے بھائی کے سامنے کھڑا اس کے لیے آسانی مانگ رہا تھا۔ ”ٹھیک ہے سبھی جانتے ہیں کہ بچپن سے لے کر آج تک اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تو یہ چپ کیوں ہے اسے کہو کہ قسم کھائے اور مجھے یقین دلائے .” وہ اٹھا اور ساکت بیٹھی ٹک ٹک گھورتی بیوی کے سامنے الماری سے خوبصورت ریشمی غلاف میں لپٹا قرآن نکال کر رکھ دیا ۔” قرآن پہ ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ کہ تمہیں اس سے کوئی لگاؤ کوئی انسیئت نہیں ہے اس نے اعظم کا نام لینا بھی گوارا نہیں کیا۔“سونیا نے دونوں ہاتھوں میں قرآن پکڑا ہوا تھا اور وہ روتے ہوئے شوہر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔” بولو تمہارے دل میں کیا ہے … بولو ؟“ __ وہ زور سے چلایا .”کچھ بھی نہیں ہے ۔“ وہ سسکنے لگی اعظم کی ہر حس اس کے جواب کی منتظر تھی ۔” میں قسم اٹھاتی ہوں کہ میرے دل میں ان کے لیے کوئی ایسا جذبہ نہیں ہے جس کا ذکر آپ کر رہے ہیں میں آپ کے سوا کسی اور مرد کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی اس گناہ سے اللہ ہر مومنہ بیوی کو بچائے ۔“ اس نے قرآن کو سینے سے لگا کر روتے ہوئے کہا تو اعظم کے اندر چھن سے کچھ ٹوٹ سا گیا وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ ایک باوفا اور باحیا عورت ہے لیکن اس کے دل میں کھلے محبت کے شگوفوں کی ہلکی سی خوشبو بھی سونیا کے دل کی دھلیز پہ دستک نہ دے سکی تھی یہ اسے اب معلوم ہوا تھا اعظم نے آنکھیں جھکا لی تھیں اس ڈر سے کہ اس کی آنکھوں کی نمی کوئی اور نہ دیکھ سکے ۔ پہلے اعظم ہارے ہوئے انداز میں تیز قدموں سے کمرے سے نکلا اور اس کے پیچھے سر جھکائے شبیر بھی نکل گیا ۔سونیا تیزی سے اٹھی اور واش روم کے آئینے میں اپنے سرخ و سفید چہرے کو دیکھتے ہوئے صابن مل مل کر یوں دھونے لگی جیسے کچھ لگا ہوا ہو بہت دیر تک منہ دھونے کے بعد وہ غسل خانے سے باہر آئی اور کانپتے ہاتھوں سے موبایل پکڑے کچھ سوچتی رہی اس کے چہرے پہ تفکر کے سائے پھیلے ہوئے تھے بلاآخر کسی فیصلے پہ پہنچ کر اس نے فون ملایا ۔ دوسری طرف اس کی استانی جی تھیں ___” استانی جی ! وہ بات کرتے ہوئے اٹکنے لگی ” استانی جی ! اک بات پوچھنی تھی ۔“ سونیا نے بمشکل تمام ہمت مجتمع کی۔۔۔ اعظم کپڑوں کا بیگ ہاتھ میں پکڑے جانے کی اجازت مانگنے آیا تھا ۔ابھی اس کے قدم چوکھٹ کو چھونے لگے تھے کہ سماعتیں سیراب ہونے لگیں دھڑکنیں دیوانہ وار رقص کرنے لگیں اس لمحے اسے لگا کہ جیسے ساری کائینات خاموشی کی چادر اوڑھ کر سو گئی ہو بس جاگ رہی تھی تو ایک آواز ۔۔۔اور اسی آواز کا ایک سوال “استانی جی ! ایک مسلہ پوچھنا تھا۔۔۔ وہ ایک پل رکی۔” مجھے اتنا بتا دیں کہ — کہ ۔۔۔جھوٹی قسم کا کفارہ کیا ہے ؟اعظم کے ہاتھ سے بیگ نیچے گر گیا تھا وہ دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا تھا اس کی بند آنکھوں سے اک قطرہ آنسو کا ٹپکا اور کانوں میں پھر سے اس کی آواز رس ٹپکانے لگی ۔” استانی جی ۔ جھوٹی قسم کا کفارہ کیا ہے ؟“

یہ افسانہ بھی پڑھیں
باپ کی اولاد–ناہید اختر بلوچ (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)

جھوٹی–گل ارباب پشاور (ریاست نامہ افسانوی مقابلہ 2018)” ایک تبصرہ

  1. بڑی غیر ضروری تفاصیل کا حامل بیانیہ افسانہ جیسی اختصارو مقصدیت کی حامل صنفِ ادب کا متحمل نہیں ہو سکتا ، متن کا تمام تر رنگ و آہنگ اور نصائح ہمارے پاپولر ادب کی کہانی کی چغلی کھا رہا ہے ، مجھے یہ تحریر پسند نہیں آئی ، معذرت !

اپنا تبصرہ بھیجیں