عشق سترنگی (ناول) فاطمہ عمران (قسط نمبر 17)

پین ہاتھ میں لے کر اس آدمی نے جلدی جلدی ایک صحفے پر کچھ لکھنا شروع کیا۔ چند منٹ بعد اس نے صحفہ سبیکا کے آگے رکھ دیا۔ سبیکا تقریبا خوشی سے چلائی۔ “واؤ سر۔ مجھے آپ پر پورا بھروسہ تھا۔ مجھے آپ کی اسٹوڈنٹ ہونے پر فخر ہے”.
صحفے پر ہر آدمی جس کے نام کے آگے سبز ستارہ بنا ہوا تھا اس کے نام کے پہلے حروف لکھے ہوئے تھے۔ اگر کسی کے نام میں دو الفاظ تھے تو دونوں کاپہلا حرف اور اگر کسی کے نام میں تین الفاظ تھے تو تینوں ناموں کا پہلا لفظ لکھا ہوا تھا۔
اب صحفے پر انگریزی کے مختلف حروف تہجی لکھے ہوئے نظر آ رہے تھے۔
DLSREUIBOCO
اس کے بعد اس آدمی نے کاغذ سبیکا کے آگے کر دیا۔سبیکا نے پینسل پکڑی اور مختلف الفاظ کے جوڑ توڑ کرنے شروع کیے۔
Cool
Sold
Rude
Blood
سبیکا کے چہرے پر تناؤ صاف نظر آ رہا تھا اور پھر تھوڑا سا دھیان دینے کے بعد سبیکا نے دیے گئے الفاظ کو ترتیب دے کر ایک جملہ بنا لیا
“Blood is cure”
****** ***** ******
کمرے میں موجود سب افراد اس جملے پر حیران سے ہوئے۔ اس کا کیا مطلب ہو سکتا تھا۔ کسی کے خون سے کسی شفاء کا کیا تعلق ہو سکتا تھا؟
اچانک احمد نے کہا “مجھے لگتا ہے کہ اس بات کا سرا حیدر سے جا ملتا ہے۔ شاید اسی کے خون میں کوئی ایسی بات ہے یا پھر اس نے کسی اور کے خون کے متعلق کوئی ایسی بات لکھی ہے ۔ معاملہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ لہذا ہمیں صرف ایک جملے پر سارا فوکس رکھنے کے ساتھ ساتھ اس صحفے پر بھی دھیان دینا چاہیے۔ ہمیں اس پیغام کو مزید ڈی کوڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ ”
“بے شک۔ یہ جملہ تو صرف ایک کڑی ہے۔ اگر ہم اسی میں الجھ گئے تو شاید دیر کر دیں گے۔ اس صحفے پر موجود یہ نقشہ ہمیں ڈھونڈ نکالنا ہو گا۔ تاکہ ہم اس جگہ کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر کے کوئی پلان ترتیب دے سکیں۔ ”
کمرے میں موجود ایک آفیسر نے احمد کی بات سن کر جواب دیا۔
احمد اٹھا اور ایک کیلنڈر نما دستاویز اٹھا لایا۔ یہ مختلف زاویے سے دنیا بھر کے نقشہ جات کا مجموعہ تھا۔ جیسے سبیکا کو چھپے ہوئے پیغام ڈی کوڈ کرنے کی ٹریننگ دی گئی تھی۔۔ویسے ہی احمد بھی نقشہ پڑھنے میں ماہر سمجھا جاتا تھا۔
یہ دونوں اسپیشل اسکواڈ کا حصہ تھے اور خداداد صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انکی ٹریننگ کی گئی تھی۔
احمد تھوڑی دیر مختلف نقشہ جات کو دیکھتا رہا۔ پھر ایک مقام پر اس نے دائرہ لگایا۔ اور کہنے لگا
“یہ تین تکونیں اس جگہ کا نقشہ ہیں۔ ”
باقی افراد بھی جھک کر دیکھنے لگے۔ نقشے پر یہ علاقہ کسی ملک کی حدود میں نہیں آتا تھا۔ تین پہاڑ بالکل اسی طرح دکھائی دے رہے تھے جیسے اس صحفے پر تین تکونیں بنی ہوئی تھیں۔ یہ تین تکونیں بھی مل کر ایک تکون بنا رہی تھیں۔ اور نقشے پر پہاڑ بھی تکون کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔
“مگر یہ پرانا نقشہ ہے۔ اب اس جگہ یہ پہاڑ نہیں ہیں۔ اور لینڈ سلائڈنگ کے باعث یہ جگہ کافی حد تک چپٹی ہو چکی ہے۔ ہماری انٹیلیجنس کی معلومات کے مطابق اب یہاں ایک غیر قانونی بازار قائم ہے جہاں سے دنیا بھر میں دہشتگردی کے لیے اسلحے کی سپلائی کی جاتی ہے۔
*** **** **** ****
“یعنی ہمارا مقابلہ بیرونی قوتوں سے ہے۔ اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ حیدر اس معاملے میں قصور وار ہے یا بالکل بےقصور۔ حیدر کو بے قصور سمجھنے کی صرف ایک وجہ ہے ہمارے پاس اور وہ یہ کہ تمام کڑیاں ہمیں اس کے گھر سے ملی ہیں اور ہو سکتا ہے کہ یہ پرنٹس اسی نے چھوڑے ہوں ٹریک کرنے کیلیے تاکہ اس تک پہنچا جا سکے۔ مگر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سب کے پیچھے کوئی اور ہو اور ایسے میں حیدر کی حیثیت انتہائی مشکوک ہو جاتی ہے۔ ہمیں سب سے پہلے مالا کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ تاکہ حیدر کی محبت میں وہ ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ کھڑی کر دے”
آفیسر نے بات ختم کی تو احمد بول اٹھا “یہ سب آپ مجھ پر چھوڑ دیں۔ اس کی طرف سے آپکو کوئی پریشانی نہیں ہو گی”
“ہمم۔۔میک اٹ شیور احمد۔ ہم کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے۔ اور ہاں اس کمرے سے کوئی بات باہر نہیں جانی چاہیے۔ میرا مطلب کہ تم یہ ساری بات چیت اور ہماری جملہ ڈی کوڈ کرنے کی کامیابی کے بارے میں تم مالا کو بھی کچھ نہیں بتاؤ گے”
اس کے بعد آفیسر نے آخری ہدایات دیں اور میٹنگ ختم کر دی۔
**** **** **** ***
احمد شام کو مالا سے ملنے اکیلا ہی اس کے کمرے میں گیا۔مالابیٹھی موبائل میں حیدر کی تصاویر ہی دیکھ رہی تھی۔ احمد اندر آیا تو وہ موبائل رکھ کر احمد سے مخاطب ہو گئی.” کچھ پتہ چلا؟”
“نہیں۔ مگر امید ہے کہ جلد ہی پتہ چل جائے گا۔”
احمد نے اس سے ساری بات چھپا لی اور اچانک پوچھا
“کیا تم حیدر سے بہت محبت کرتی ہو؟”
اس سوال پر مالا حیران ہو گئی۔ “یہ کیسا سوال ہے احمد؟ اگر تم مجھ سے کوئی فضول بات کرنے آئے ہو تو پلیز واپس چلے جاؤ۔ ”
مالا کو یک دم غصہ آنے لگا۔
“ارے نہیں۔ تم غلط مطلب مت نکالنا۔ میں صرف ایک دوست کی حیثیت سے تم سے پوچھ رہا ہوں۔ تم نے اتنا سہا ہے اور آج بھی تمہاری آنکھوں میں حیدر کیلیے محبت صاف نظر آتی ہے”
“ہاں میں حیدر سے بہت محبت کرتی ہوں۔ اور شاید تم نہیں سمجھو گے کہ جب دو لوگوں کی محبت ایک رشتے سے جڑی ہوتی ہے تو اسکی مضبوطی اور پائیداری اس رشتے کو کتنا گہرا کرتی جاتی ہے۔”
احمد کو لگا جیسے مالا نے اس پر طنز کیا ہو۔
“تم پھر غلط سمجھ رہی ہو۔ میں اچھے سے سمجھتا ہوں کہ تم دونوں نے اتنے سال ایک دوسرے کے ساتھی کی حیثیت سے گزارے ہیں۔ میرا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ تم حیدر کو کتنا جانتی ہو۔ کبھی کبھی ہم ساتھ ہونے کے باوجود بھی اپنے ساتھی کی کسی بات سے اتنا انجان ہوتے ہیں کہ ہمیں خبر ہی نہیں ہوتی۔ یا کبھی کبھی زندگی ایسا موقع ہی نہیں دیتی کہ ہم انکے بارے میں جان سکیں”
“صاف صاف کہو تم کہنا کیا چاہتے ہو؟”
“مالا میں حیدر کے متعلق جاننا چاہتا ہوں اور یہ سب مجھے تم ہی بتا سکتی ہو۔ اس لیے ضروری سمجھا کہ پہلے یہ جان لوں کہ تم خود حیدر کے بارے میں کتنا جانتی ہو۔؟”
” تم سبیکا سے محبت کرتے ہو؟”
اس اچانک سوال پر احمد گڑبڑا گیا۔ “یہ کیسا سوال ہے؟”
“کیوں کیا صرف تم پوچھ سکتے ہو اور میں نہیں۔ آخر ہم دوست ہیں؟”
مالا نے احمد کی بات واپس لوٹائی تو احمد نے جواب دیا “نہیں۔ اور شاید تم بھی نہیں سمجھ سکتی کہ کبھی کبھی رشتہ بھی محبت کی ضمانت نہیں ہو سکتا”
“ہم سب اپنی اپنی زندگی کو اپنی قسمت اور ہمت کے مطابق جیتے ہیں۔”
احمد کی بات سن کر مالا چپ ہو گئی
۔اسے احمد سے اس جواب کی بالکل توقع نہیں تھی۔احمد نے اس کے اس ردعمل کو نظر انداز کر کے پوچھا
“خیر ہم بات کی طرف آتے ہیں۔ مجھے تم سے حیدر کے متعلق جاننا ہے۔ وہ کس قسم کی طبعیت کا آدمی تھا؟ اس کے دوست اور حلقہ احباب کیسا تھا۔ وہ کن چیزوں کو شدید پسند یا ناپسند کرتا تھا اور کیوں۔ اسکے مشاغل کیا تھے وغیرہ وغیرہ۔۔۔”
مالا دو لمحے کو چپ رہی اور پھر بولی ” شاید تم اسے ایک پاگل عورت کی محبت سمجھو یا ایک بیوی کی جدائی کا غم مگر حقیقت نہیں بدلے گی۔ حیدر جیسا نفیس اور مکمل انسان بہت کم عورتوں کا نصیب ہوتا ہے۔ ہاں اسکا بچپن محرومیوں میں گزرا لیکن ان محرومیوں کا ازالہ اس نے اپنے گرد افراد کی ہر خواہش کا مان رکھ کر کیا۔ جو زندگی نے خود اسے نہیں دیا وہ اس نے دوسروں میں بانٹ کر زندگی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔ وہ فاتح تھا۔ دلوں کو فتح کرنے والا۔ اس سے جڑے کسی انسان کو اس سے شکایت ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ اس کے دوست بہت ہی کم تھے۔ وہ صرف لائق اور پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت پسند کرتا تھا۔ اس کا پسندیدہ مشغلہ کتابیں پڑھنا تھا۔ وہ ایک انتہائی فرض شناس ڈاکٹر تھا اور اس کے علاوہ ایک محب وطن انسان۔ اپنے وطن کے لیے وہ جان بھی خوشی خوشی قربان کر دینے والوں میں سے تھا۔ یاد ہے جب راولپنڈی میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا تھا۔ تب وہ وہیں تھا اور اس نے اپنا خون دیا تھا۔۔۔ آرمی کے ان جوانوں کو جو اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔وہ اپنے وطن سے۔۔۔؟”
“ایک منٹ۔۔ابھی تم نے کہا کہ اس نے خون دیا تھا۔ آرمی نوجوانوں کو؟”
احمد نے مالا کو ٹوکا تو مالا جو اپنی ہی دھن میں ڈوبی بولے جا رہی تھی رک کر بولی “ہاں وہ اکثر نہ صرف خون دیتا تھا بلکہ بلڈ ڈونیشن کی ترغیب بھی دیا کرتا تھا۔ اسکے علاوہ وہ باقاعدہ ایک مہم بھی چلا رہا تھا تاکہ لوگوں کو خون دینے کے بارے میں آگاہی دے سکے”
احمد مالا کی بات سن کر گہری سوچ میں پڑ گیا۔
“کیا تم بتا سکتی ہو کہ وہ خون کہاں جمع کرواتا تھا۔ میرا مطلب کس بلڈ بنک میں؟ ”
“وہ کسی ایک مخصوص جگہ تو خون نہیں دیا کرتا تھا۔ ہاں جس جگہ ضرورت پڑتی وہاں وہ اپنا آپ پیش کر دینے سے بالکل نہیں گھبراتا تھا۔ ایک دفعہ اس نے محض تین مہینے کے عرصے میں چار بار خون عطیہ کر دیا۔ میں اس سے کافی ناراض بھی ہوئی۔ مگر اس نے مجھے منا لیا اور وعدہ کیا کہ وہ سال میں صرف دو بار خون دیا کرے گا۔”
مالا کے انکشافات پر احمد اپنے ذہن میں تانے بانے ملانے لگا۔
پھر احمد نے اس سے مزید چند باتیں پوچھیں اور اس سے اجازت لے کر واپس چلا گیا۔
*** **** ****
“سر مالا سے بات کر کے ایک بات پتہ چلی ہے۔ اور وہ یہ کہ حیدر خون کا عطیہ دیا کرتا تھا۔ ”
“کہیں تم نے اسے کسی بات کے بارے میں بتایا تو نہیں۔؟”
سوال آنے پر احمد نے بلاججھک کہا “نو سر۔ بالکل نہیں۔ اس نے باتوں باتوں میں ہی بتایا کہ حیدر محب وطن اور سماج کی خدمت پر یقین رکھنے والا انسان تھا”
“مگر ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ حیدر اسے کامیابی سے دھوکہ دے رہا ہو۔ ایک سیدھی سادی گھریلو عورت سے بات چھپانا بھلا کیا مشکل ہو گا۔؟”
” مگر سر ہم ایک بات تو جان گئے ہیں کہ اس جملے کا تعلق حیدر سے ہونے کے امکانات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اور اگر یہ سچ مان لیا جائے تو اس کا مطلب کہ ہمیں ان کڑیوں کی طرف لے جانے والا بھی حیدر ہی ہے۔ حیدر چاہتا تھا کہ ہم اسے ڈھونڈ نکالیں۔ اسی نے ہمیں یہاں تک پہنچایا یعنی وہ جان گیا تھا کہ اسے غائب کر دیا جائے گا۔ تبھی اس نے اسطرح پلاننگ کی کہ ہم اس تک پہنچ جائیں مگر کسی اور کو خبر بھی نہ ہو”
“ہمم کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو۔ مگر حیدر نے جس طرح ہمیں اس راز تک پہنچایا ہے وہ بھی ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ یعنی حیدر اتنا بھی عام سیدھا سادھا آدمی نہیں تھا۔ یا تو وہ اتفاقاً بہت زیادہ انٹیلجنٹ تھا۔ یا پھر اسے اس طرح پیغام چھپا کر ارسال کرنے میں مہارت حاصل تھی۔ بہرحال ہم سب دیکھ لیں گے۔ تم لوگ فی الحال اس جگہ جانے کی پلاننگ کرو۔ یہاں تک جائے بغیر قیاس آرائیاں کرنا فضول ہو گا”
“مگر سر یہ جگہ کوئی عام جگہ نہیں۔ اور نہ ہی ہم ایک دو لوگوں کا سامنا کرنے جا رہے ہیں۔ وہاں سینکڑوں کی تعداد میں اسلحہ ڈیلرز ہیں اور ہمیں ان سے نپٹنے کے لیے بہت زیادہ آرمی کی ضرورت ہے۔”
“نپٹنا تو تب پڑے گا جب ہم ان سے مقابلہ کریں گے۔ اور ہم ان سے کوئی مقابلہ نہیں کریں گے۔ بلکہ تم اور سبیکا وہاں جاؤ گے اسلحہ کے تاجر بن کر۔”
“یس سر۔ ”
احمد نے کہا اور مزید باتیں کرنے کے بعد کمرے سے باہر آ گیا۔
اب انہیں وہاں جانا تھا جہاں حیدر سے ان کا ممکنہ سامنا ہو سکتا تھا۔
***- ***** *****
یہ قسط بھی پڑھیں
عشق سترنگی (ناول) فاطمہ عمران (قسط نمبر 16)
قسط نمبر 1 یہاں پڑھیں
عشق سترنگی (ناول) فاطمہ عمران

اپنا تبصرہ بھیجیں