مائے نی—زویا ممتازملتان (ریاست نامہ افسانوی مقابہ 2018)

کانپتے ہاتھوں سے میں نے پیلے بوسیدہ اوراق کھولے، آج جانے کیا ہوا تھا جو عرصے بعد یہ کتاب میں نے زنگ آلود ٹرنک سے نکالی، نم ہوتی ہوئی آنکھوں کے
آگے لفظ دھندلانے لگے، عرصے بعد بھی اندر سے ہوک نکلی، مصنف سے ایک بار پھر گلہ ہوا، اس نے وہ لکھا ہی نہیں جو اسے لکھنا چاہیے تھا، کیسا مصنف تھا “مرکزی کردار” کو ہی انصاف سے نہیں لکھ پایا، کہانی لکھی، مگر آخری “سین” تو وہ لکھنا بھول گیا، اصل سین تو آخری تھا، جو اسے لکھنا چاہیے تھا، پر جانے کیسے وہ اتنی بڑی غلطی کر گیا، اس ایک “آخری منظر” کے بغیر تو یہ کہانی بالکل ہی ادھوری ہے۔
ایک منٹ میں آپ کو بتاتی ہوں، نہیں بلکہ بتاتا ہوں، اب پتہ نہیں کہ بتاتی ہوں یا بتاتا ہوں سارا مسئلہ ہے ہی اسی بات کا، یہی بات پتہ ہی نہیں چل سکی اور ساری کہانی شروع ہی یہیں سے ہوئی، ایک منٹ آپ پہلے صفحے سے دیکھیں، یہ ایک مڈل کلاس گھر ہے، دیواروں پر تازہ کرائی گئی قلعی دھوپ سے چمک رہی ہے، لیکن بس منڈیر کا شمالی حصہ ‘بے رنگ’ رہ گیا ، بالکل میری طرح جبکہ باقی کے سارے لوگ اور گھر رنگ دار ہے، خیر میں منڈیر دکھا رہا تھا جو تیز دھوپ ، بارشوں اور آندھیوں کی مار کھا کھا کر گہری سبز سے اب بھوری دکھنے لگی تھی، اسی منڈیر پر بنی سیمنٹ کی جالیوں سے جھانکو تو نگاہ سیڑھیوں سے جا ٹکراتی ہے، وہاں سے اترو تو دائیں ہاتھ جو پہلا بڑا کمرہ آئے گا وہ وہی ہے جس میں سارا دن شور و غل رہتا ہے، ابا میاں کے پاس ہر وقت کوئی نا کوئی بیٹھا رہتا ہے، قدرے سخت گیر سے رعب داب والے ابا جن کے آگے کسی کی بھی نہیں چلتی ، جیسے ۔ ۔ ۔ تب اماں کی بھی نہیں چلی تھی، وہ روتی ہی رہیں تھیں اور میں در بدر ہو گئی تھی یا پھر ہو گیا تھا، لیکن یہ تو میں بہت پیچھے چلا گیا اف! بہت خبطی ہو گئی ہوں اتنا کہ کبھی خود کو مرد سے ملاتا ہوں اور اگلی بات میں عورت سے ۔ ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ ابا میاں تو رہے ہی نہیں، وہ تو اچانک میرے ذہن میں بہت پرانا منظر گھوم گیا ، اب تو وہاں اس کمرے میں گہری خاموشی چھائی رہتی ہے، ہسپتالوں میں رچی ‘بو’ ادھر گھومتی رہتی ہے، وہ جو سامنے رنگین پایوں والا پلنگ دھرا ہے جس پر ‘چار خانے والے رومال’ کے پرنٹ کا جو کمبل ہے اس میں نحیف و نزار اماں بھی لیٹی ہیں،
بائیں ہاتھ پر جو قطار میں کمرے ہیں ، وہ سب فیاض بھائی کے ہیں، اور یہ جو سامنے مشرقی رخ پر کمرے ہیں، وہ ریاض بھائی کے ہیں، جی ہاں! میرے دو ہی بھائی ہیں، مگر ریاض اور فیاض کی ایک بہن ہے یا دو، یہ ‘گتھی’ نہیں سلجھتی ، میں نے بتایا تو ہے میں بھی کچھ زیادہ ہی ‘خبطی’ ہو گیا ہوں، پھر بات بھی تو کتنی پرانی ہو گئی اب۔ ۔ ۔ ہاں تو ریاض فیاض کی ایک بہن کا نام تو ‘زہرہ فاطمہ’ ہے ، خوب گوری سی، پیاری سی جس پر دیکھتے ہی پیار آجائے، مجھے بھی اس کی صورت دیکھتے ہی ڈھیروں پیار آ جاتا تھا، پر وہ مجھے دیکھنے نہیں دیتی تھی، فورا ہی اماں پر برسنا شروع ہو جاتی اور پھر میں مارے ڈر کے نظریں ہی پھیرے رکھتی،
نہیں نہیں! وہ مغرور تھوڑی تھی، وہ تو بس میں ہی ایسا تھا جو وہ غصہ ہو جاتی،
مگر یہ سب مجھے پھر بھی بہت اچھے لگتے تھے اور ان کے بچے تو میرا دل چاہتا گود میں لے کر ‘ناچنے’ لگ جاؤں ، مگر پھر یاد آجاتا کہ جب ایک بار میں نے اس کے بیٹے کو دیکھ کر خوشی میں ٹیڑھی سی تالی بجائی تھی تو زہرہ فاطمہ کیسے بیٹھے بیٹھے تڑپ گئی تھی، اتنا زور سے ہاتھ میں پکڑا کپ دیوار پر مارا تھا کہ اگلے کئی دن تک دیوار پر پھینکی گئی گرم چائے اماں اور میری آنکھوں کو ‘جلاتی’ رہی تھی، ادھر بس اماں ہی تھیں، جو مجھے بے حد پیار کرتی تھیں شاید ان سب سے زیادہ، سالوں کا پیار جمع تھا جو وہ بوڑھے ہاتھوں میں میرا ہاتھ لیے بیٹھی جتاتی رہتیں تھیں ، ان کا وہ ‘لمس’ اب بھی میرے ہاتھوں میں سلگتا ہے، مگر باوجود بہت کوشش کے بھی میں ایک عرصے سے اماں کے بعد اس کمرے میں جا نہیں سکا، سیڑھیوں سے اتر کر بجائے پہلے کمرے میں جانے کے، دروازے پر کھڑا راکھ کریدتا رہتا ہوں یا پھر باقی گھر میں گھومتا رہتا ہوں،
کچن کے قریب جاؤں تو بھابھی کی آواز آتی ہے “ارے اس کے برتن الگ ہی رکھنا ، توبہ میرا تو سوچ کر ہی دل خراب ہونے لگتا ہے وہ ایک ہی چھت کے نیچے رہ رہا ہے”،
ہاں بھئی! “میں نے تو بچوں کو صاف منع کر دیا کہ اماں کے کمرے میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں ، اللہ جانے اتنے سال کہاں کن کے ساتھ رہی ہے؟ پھر ان کا تو ماحول ہی توبہ!”
“اماں کو بھی پتہ نہیں کیا سوجھی جو گڑے مردے اکھاڑنے لگیں ، مرے ہوؤں کو بھی بندہ یاد کر لے ٹھیک ہے مگر ایسوں کو۔ ۔ ۔”
“اور ایک بیٹے ہیں! ماں کے آنسوؤں کے سامنے “پگھل” گئے، بجائے انھیں سمجھاتے ، کہ اب جانے کا وقت قریب ہے، اتنی بیماری میں خدا کو یاد کریں ، نہیں ! الٹا اپنے سر اس کو لیے بیٹھ گئیں”
ان سے نظریں چراؤں تو زہرہ فاطمہ کی میٹھی آواز میں لپٹی کڑوی باتیں سنائی دیتی ہیں ، جن کی “تلخی” آج بھی مجھے زندہ گاڑ دیتی ہے، اماں کے سرہانے بیٹھی سپاٹ سے چہرے والی ان کی خالہ زاد کے سامنے جاتے ہوئے میں نے کس زور سے بکل مارا تھا اور کتنی کوشش کی تھی کہ میری چال سے انھیں شک نہ ہو، بھلے زہرہ فاطمہ ‘نوکرانی’ کہہ کر میرا تعارف کرا دے ، لیکن انھیں میرے وجود کی اس “دو رخی” کا علم نہ ہونے پائے ، مگر پائل صحیح کہتی تھی، “اری پاگل! تیری عقل پر تو ‘پردے’ پڑ گئے ہیں ، بھلے تو لاکھ کمرہ بند کر کے شیشے میں دیکھ دیکھ کر چل لے ، وہ کیا کہتے ہیں “پرے ایکٹس” کر لے، مگر تیری چال میں خالص نسوانی پن آ ہی نہیں سکتا نہ ہی مردانہ پن،
جھلی! جب رب نے ہی ہمیں خالص نہیں بنایا تو ہم جتنا کوشش کر لیں ہماری چال ڈھال ہی ہماری ‘دوہرے پن’ کا بھانڈہ پھوڑ دیتی ہے، یہ دیکھ ہم سے تو تالی بھی ٹھیک سے نہیں بجتی”
بے ڈھنگے پن سے تالیاں پیٹتے ہوئے وہ زور زور سے ہنسنے لگی ، مگر اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو جانے کیوں امڈ رہے تھے، ویسے ہی بہتے آنسو صاف کرتے میں نے “ہنسنا” شروع کر دیا، میں تو بہت سہج سہج کر چلتے ہوئے کمرے میں آئی تھی ، پر اماں کی خالہ زاد کو جانے کیسے علم ہوا تھا ،کہ میں “آئی نہیں میں آیا ہوں۔ ۔ ۔ یا پھر دونوں ہی نہیں۔ ۔ ۔ ” میرے سلام کا جواب دینا تو دور، انھیں تو چائے پیتے ہوئے اتھو لگ گیا ، چائے کا کپ تپائی پر پٹخ کر، انگلی ناک پر جما کر وہ جیسے کراہی تھیں ، “نا یہ ……. ادھر کیا کر رہا ہے؟” زہرہ فاطمہ نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھا ، “وہ خالہ اصل میں اماں نے منت مانی ہے کہ وہ ٹھیک ہو جانے تک ‘ہیجڑہ’ گھر رکھیں گی، آپ کو تو پتہ ہے ان لوگوں کی دعا قبول ہوتی ہے تو اس لیے۔ ۔ ۔”
اپنی ‘ماں جائی’ کے منہ سے یہ لفظ سن کر میرا تو کلیجہ پھٹ گیا تھا،
“اچھا اچھا مگر ابھی تو اسے ادھر سے ہٹاؤ ، مجھ سے نہیں بیٹھا جا رہا” ، ان کے جانے تک اماں تو دوا کے زیر اثر سوئی رہیں ، میرا بھی ‘دل’ چاہا کاش! مجھے بھی کوئی کچھ دیر کے لیے نیند کی گولیاں لا دے،
“دل” ہاں میرا بھی دل ہے جیسے زہرہ کا دل ہے، ریاض بھائی اور فیاض بھائی کا دل ہے، ویسے ہی میرا بھی تو دل ہے ، مگر پائل کہتی تھی، ” ‘ ہیجڑوں’ کی آنکھیں ہوتی ہیں، کان ہوتے ہیں ، ہاتھ پاؤں بھی ہوتے ہیں مگر ‘دل’ نہیں ہوتا ،”جو لوگ اور جو معاشرہ اپنے جیسے ہی آنکھیں، ہاتھ اور پاؤں رکھنے والوں سے گھن کھاتا ہے، “انھیں انسان ہی نہیں سمجھتا” ، وہاں ان کے معاشرے میں رہتے ہوئے ہیجڑے کا دل نہیں ہونا چاہیے ، بس “پیٹ کا دوزخ ہو، جسے وہ بھرتا رہے اور پھر بھرتے بھرتے مر جائے۔”
شاید ان کا بھی قصور نہیں ، میرے بھائی مجھے کیا کہیں بھائی یا پھر بہن؟ زہرہ فاطمہ کیا بتائے اپنے بچوں کو، میں ان کی خالہ ہوں یا ماموں؟ اماں کہتی تھیں ، یہ مجھ سے نفرت نہیں کرتے مگر کیا کریں دنیا میں رہتے ہیں نا، تو یہ دنیا بہت ظالم ہے ، بس اس لیے ڈرتے ہیں۔
لیکن اگر یہ نفرت نہیں کرتے تھے ، تو اس سرد رات میں اماں کی پائنتی سے لگے یہ سب لوگ کیوں چلا رہے تھے، ڈر کے مارے میں صحن میں آگیا تھا ، ان سب کی آوازیں میرے کانوں میں “سوراخ” کرنے لگیں تو اپنے خالی ہاتھ میں نے کانوں میں ٹھونس لیے، دفعتاً سارے کمروں کی دیواروں پر آنکھیں ‘اگ’ آئی تھیں، تمسخر اڑاتی ، اندر تک پرکھنے والی ، پردے فاش کرنے والی ، لرزتے ہوئے الٹے قدموں سے میں ان نظروں سے بچتا ہوا سیڑھیوں کی طرف بڑھا ، اماں کے کمرے کے بعد وہ رنگ اڑی منڈیر کا حصہ ہی میری جائے پناہ تھا، اکڑوں بیٹھے اپنے ناکارہ جسم اور کرچی کرچی دل سے میں ہچکیاں لیتا رہا تھا، اور پھر
منڈیر میں سے ‘ماں سی’ شفیق بانہیں نکل آئیں ، مجھے تھپکنا شروع کر دیا ، سیمنٹ کی جالیوں نے بولنا شروع کر دیا وہی سب جو اماں بولتی تھیں، میرے لعل! تجھے پتہ ہے، جب سے تو اس گھر سے گیا میں نے منڈیر کے اس حصے پر کبھی روغن نہیں کرانے دیا، یہ حصہ بالکل ‘میری اور تیری طرح’ کا ہے ۔
کوئی دن ایسا نہیں گزرا ، جب میرا اندر خشک ہوا ہو، ‘گیلا’ ہی رہ گیا، تو میری آخری اولاد تھی ، تو اندھا لولا لنگڑا ہوتا ، تب بھی میں تجھے سینے سے لگاتی، پر تو تو دنیا کے لیے ان سے بھی بدتر تھا، تو ‘بیچ’ کی چیز تھا، اور “بیچ کی چیز” گالی ہوتی ہے-
تجھ پر تو تیرے ‘اپنوں’ نے بھی ترس نہیں کھایا، مجھ سے چھین کر تجھے کنوئیں میں دھکیل دیا ، میں چلاتی رہی ، میری مامتا پر رحم کرو، “کتے بلیاں بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا نہیں کرتے،اپنے بچے تو جانور بھی نہیں پھینکتے”، مگر مجھ عورت ذات کی کسی نے نہیں سنی، کوئی میری بات سمجھا ہی نہیں، سب کو تیرا ‘ادھورا پن’ نظر آتا رہا ، لیکن میں ماں تھی نا اس ادھورے پن کے ساتھ بھی تو مجھے اتنا ہی پیارا تھا جیسے وہ تینوں،
پر تیری ماں بہت مجبور تھی، تیرے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ تین جانیں اور بھی جڑیں تھیں، اس نے تین جانیں بچا لیں اور تجھے کنوئیں میں دھکیل دیا، پر میں خود بھی پھر ساری عمر ‘پاتال’ میں رہی، تو “مردہ” پیدا ہوتا، تجھے ایک ہی بار قبر میں لٹا آتے، مجھے صبر آجاتا، اپنے زندہ بچے کو مردہ کہنے سے صبر نہیں آتا، تو وہاں پر تکلیف میں ہوتا تھا تو آنسو میرے نکلتے تھے،
جو اب تجھے گھر لے آئیں ہیں ، یہ میرے اب کے آنسوؤں سے نہیں پسیجے ہیں ، “یہ میرے اتنے سالوں کے ‘غم آشنا’ ہیں، انھیں پتہ تھا میری آنکھیں اس منڈیر کی جالیوں میں سے جھانکتی تھیں ، تو ‘کسے’ ڈھونڈتی تھیں”،
لیکن یہ بھی جانتی ہوں یہ غم آشنا ہیں، غم کے شریک نہیں ہیں۔
مگر “میں تو اماں کے غم کا شریک تھا”، میں نے اماں کی سزا مختصر کر کے اپنی سزا طویل کر دی، اتنی طویل کہ اب تک ‘کاٹ’ رہا ہوں، پر مصنف نے اچھا نہیں کیا ، وہ اچھا کر بھی نہیں سکتا تھا، وہ بھی تو ‘لوگوں’ میں سے تھا، اس نے بھی کہانی میں یہی دکھایا تھا ، ماں کی محبت میں بھائی عرصے سے ہیجڑوں میں مقیم ماں کی ‘اولاد’ کو ڈھونڈ لائے، لیکن وہ ناچنے والا کردار اسے گھر کہاں راس آنا تھا، مرتی ماں کو طعنے سننے کے لیے چھوڑ کر رات کو بھاگ گئی، آوارہ!!
“ماں کو قبر میں اتار گئی” ، اور پھر قارئین کی نفرت ، گھن اور کوسنے مجھے بھی اماں کے ساتھ قبر میں اتارتے رہے، وہ آخری ‘سین’ کیا تھا بھلا، اتنے برس آ گئے درمیان میں، سب دھندلا سا ہے مگر غور سے دیکھنے پر کچھ کچھ نظر آرہا ہے، قبرستان سے جب آخری بندہ بھی چلا گیا تھا، تو عقبی حصے میں اگی جھاڑیوں میں سے کوئی منہ چھپا کر نکلا، شوخ گلابی رنگ کا سوٹ پہنے ، اس کی کلائیوں میں درجن بھر چوڑیاں تھیں ، مگر اس کے ہاتھ مردانہ دکھتے تھے، وہ چپ چاپ قبر کے سرہانے بیٹھی رہی پھر جب سورج آخری کنارے پر پہنچا تو پتہ نہیں اسے کیا ہوا قبر کے پاس پڑی مٹی اٹھا اٹھا کر اپنے سر پر ڈالنے لگی، ساری چوڑیاں اس نے پاس پڑے پتھر پر مار کر توڑ ڈالیں ، اور پھر اچانک اٹھ کر ناچنے لگی، ٹوٹی چوڑیاں چبھنے سے اس کے ہاتھوں سے لہو رس رہا تھا، ناچتے ناچتے وہ زور زور سے رونا شروع ہو گئی ، وہ کچھ بڑبڑا بھی رہی تھی ، اس کے الفاظ بے ربط تھے.
مائے! کاش میں “کتا” ہوتا ، “جناور” ہوتا پر ساری زندگی اپنی “ماں” کے ساتھ ہی رہتا، اندھا ہوتا تجھے دیکھ نہ سکتا، محسوس تو کرتا، دیوانہ ہوتا تو مجھے کوستی، زنجیروں سے باندھ کر رکھتی مگر ہیجڑوں کے اڈے پر نہ چھوڑ آتی، “بیچ کی چیز” بالکل کوڑھی کے مریض کی طرح ہوتے ہیں جن کا ٹھکانہ شہر کے باہر ہے. مگر کچھ بھی ہو، “اماں ایک میں ہی تیرے غم کا شریک تھا”، سستے قسم کا کاجل، تھوپا ہوا غازہ ،گہری گلابی سرخی اور مٹی آنسوؤں سے بہہ کر اسے مزید پر اسرار بنا رہے تھے ، قبرستان کی وحشت اس منظر کے سامنے ماند پڑ گئی تھی۔
پیلے اوراق کی کتاب پر پہلا آنسو ٹپکا تو میں چونکا، آخری سین کی تکلیف میرے پور پور میں اتر گئی ، مصنف کو بھلا کر میں نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر ساری چوڑیاں توڑ دیں، “ہتھیلی سے سرخی ، غازے اور کاجل کو آپس میں گڈ مڈ کر کے بہتی آنکھوں ، مگر اونچے قہقوں سے میں ناچنے لگی یا پتہ نہیں ناچنے لگا”، ریڈیو پر مغنیہ کی گونجتی آواز سارے منظر پر حاوی ہونے لگی
“مائے نی! میں کنوں آکھاں…درد وچھوڑے دا ،حال نی…
مائے نی!! ”
ٹوٹی چوڑیوں کے زخموں سے لہو اب تک رس رہا ہے پر ناچتے ہوئے پروا کسے ہے؟ قبرستان کی وحشت ، زہرہ فاطمہ کی باتیں، سگنل پر کھڑے ہو کر ملنے والی پھٹکار، حالات کی مار کھا کھا کر بھوری پڑ جانے والی منڈیر ، ہیجڑہ ہیجڑہ کی پکار، ریڈیو سے گونجتے جملے
“دکھاں دی روٹی، سولاں دا سالن، آہیں دا بالن…بال نی”
اچانک یہ سارے مناظر اور آوازیں میرے ساتھ مل کر گول گول دائرے میں ناچنے لگے ۔
آخر آج برسوں بعد کہانی مکمل ہو ہی گئی، عجیب ہے نا!
ادھورے لوگوں کی مکمل کہانی!

مائے نی—زویا ممتازملتان (ریاست نامہ افسانوی مقابہ 2018)” ایک تبصرہ

  1. آہ ! بڑی دردناک کہانی ہے ، معاشرے کے ایک ایسے کردار کی کہانی کہ جسے تمام تر معاشرتی اخلاقیات اور انسانی دروس کے باوجود کوئی بھی عزت دینے ، سنبھالنے ، تسلیم کرنے کے لئے قطعی تیار نہیں، ایک ایسی جسمانی کمی اورمجبوری کہ جو خالصتا قدرتی ہے اور جس میں اُس کا کوئی دخل اور اختیار بھی نہیں ، ایسے میں ماں اور ہیجڑے کی ازلی محبت کے متون بڑے دردناک اور مبنی برحقیقت ہیں ، مصنفہ کو افسانہ مقابلہ میں شرکت پر مبارکباد –

اپنا تبصرہ بھیجیں