بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کی خواہش مند باہمت پاکستانی خاتون ٹیکسی ڈرائیور زاہدہ کاظمی کا انٹرویو

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) شوہر کے انتقال کے بعد گزربسر اور بیٹی کی پرورش کے لیے ٹیکسی چلانے پر مجبور ہونے والی پاکستانی خاتون زاہدہ کاظمی کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی بیٹی ڈاکٹر نہیں بن جاتی وہ ٹیکسی چلانا نہیں چھوڑیں گی۔
نجی ٹی وہ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی 60 سالہ خاتون ٹیکسی ڈرائیور زاہدہ کاظمی نے بتایا کہ شوہر کی وفات کے بعد بچوں کی پرورش کے لیے ٹیکسی چلانا شروع کی تو اس وقت ان کی عمر بمشکل 33 سال تھی۔
جدوجہد سے بھرپور اپنے سفر کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ڈرائیونگ کا سلسلہ ایئر پورٹ سے سواریاں اٹھا کر شروع کیا۔ پہلے تین دن مرد ڈرائیوروں نے کوئی سواری نہیں اٹھانے دی اور کہا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی خاتون یہ کام کرے لیکن میں نے ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کیا اور پیچھے نہیں ہٹی۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے زاہدہ کاظمی نے بتایا کہ آج کل وہ اپنے گزربسر کے لیے کیری ڈبہ (سوزوکی ہائی روف) چلا رہی ہیں مگر چھٹیوں کے تین مہینوں میں انہیں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
زاہدہ کاظمی نے بتایا کہ اسکول کی چھٹیوں کے دوران معاش کا انتظام کرنے کے لیے وہ گھر میں کھانا بنا کر فروخت کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ سوات، دیر اور چترال تک سواریاں لے جاتی رہی ہیں اور ایک دن میں پشاور کے چار چار چکر بھی لگاتی رہی ہیں۔
زاہدہ کاظمی نے بتایا کہ ڈرائیونگ کے پیشے سے منسلک ہونے کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑا مگر لوگوں نے ان کی بہت مدد کی، مشکل وقت میں ساتھ دیا۔
ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ اٹک پل پر ان کی گاڑی یہ کہہ کر روک لی گئی کہ وہ ہیروئن لے کے جا رہی ہیں مگر گاڑی کی تلاشی کے باوجود کچھ برآمد نہ کیا جا سکا۔ اس وقت انہوں نے خود کو بہت پریشان اور بے بس محسوس کیا مگر اس موقع پر اس وقت کے ڈی آئی جی راولپنڈی نے ان کی بہت مدد کی۔
ماضی میں جھانکتے ہوئے معمر خاتون ٹیکسی ڈرائیور نے بتایا کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک انگلینڈ پلٹ پروفیسر کے 37 ہزار پاؤنڈ ان تک بحفاظت پہنچائے جس کے لیے وہ پروفیسر ان کے بہت مشکور تھے۔
پروگرام میں گفتگو کے دوران انہوں نے ایک معروف صحافی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے میری بہت مدد کی ہے اور میں ہمیشہ ان کے لیے دعاگو رہتی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے مجھے بہت عزت دی ہے اور ہمیشہ میرا بہت احساس کیا ہے۔ زاہدہ کاظمی نے بتایا کہ وہ ایک بار برین ہیمرج کا شکار بھی ہو چکی ہیں اور اب بلڈ پریشر اور ذیابیطس کی مریضہ بھی ہیں تاہم اب بھی وہ گھر کے سب کام کاج خود کرتی ہیں اور سارا دن گاڑی چلاتی ہیں تاکہ اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا خواب پورا کر سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں