میں اکیلا ہی چلا تھا—فہیم اختر (لندن)

بدھ 25جولائی کو پوری دنیا کی نظر پاکستان کے عام انتخاب پر تھی۔ اس کی ایک وجہ پاکستان کا دم توڑتا سیاسی ماحول تھا لیکن اس کی ایک اور اہم وجہ سابق کرکٹر عمران خان تھے۔پچھلے کچھ برسوں سے لگاتار پاکستان کی سیاست میں ایک بھونچال سا آیا ہوا تھا۔جہاں دو معروف سیاسی خاندان کے بیچ حکومت بنتی اور بگڑتی تھی تووہیں عمران خان مسلسل ان دونوں خاندانوں کو نشانہ بنائے ہوئے تھے۔عمران خان نے ان دونوں خاندانوں کی دھاندلیوں اور ان کی ناکامیوں کا پردہ فاش کرنے میں کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیا۔تاہم کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ پاکستانی عوام نے عمران خان کی اپیل کو ٹھکرا دیا ہے۔لیکن اس بار کے الیکشن میں عمران خان کی جیت سے تمام قیاس آرائیاں غلط ثابت ہوگئیں۔
برطانیہ کے پاکستانیوں نے بھی عمران خان کی جیت پر جشن منایا اور ان کی پارٹی کی شاندار کارگردگی پر اپنی خوشی کا دل کھول کر اظہار کیا۔یوں بھی برطانیہ سمیت دنیا بھر میں بسے پاکستانی اس دن کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔کیونکہ برطانیہ میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو عمران خان کی حمایت میں کئی برسوں سے تحریک چلا رہے تھے۔ویسے بھی عمران خان کو برطانیہ سے مزید حمایت کی ایک وجہ ان کی جمائیمہ سے شادی ہونا تھا۔ اس کے علاوہ عمران خان نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے پڑھائی بھی کی تھی۔
میں نے عمران خان کو سب سے پہلی بار بطور کرکٹر کلکتہ کے معروف اسٹیڈیم ایڈن گارڈن میں دیکھا تھا۔ یہ بات 1978-79کی ہے جب ٹیسٹ کرکٹ کا فی مقبول ہو تا تھا۔ پاکستان اور ہندوستان کے بیچ ٹیسٹ میچ کھیلا جارہا تھا اور مجھے یاد نہیں کیوں کر مجھے ایک دن میچ دیکھنے جانے کا موقع ملا۔ میری عمر 13سال کی تھی اورمیری کرکٹ کی جانکاری بہت زیادہ نہیں تھی۔لیکن مجھے آج بھی عمران خان کی بالنگ اور اس کا خدو خال اچھی طرح یاد ہے۔مجھے یاد ہے جب عمران خان پویلین کی طرف سے لمبی دوڑ لگا کر بال پھینکنے کے لئے چلتے تو میرے ساتھ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں لوگ دم بخود ہوجاتے تھے۔میں نے عمران خان کو بطور کھلاڑی ایک خوبصورت ، نوجوان اور پر کشش شخص پایا تھا۔تبھی تو انہیں آج بھی انگریزی میڈیا “پلے بوائے”کے نام سے پکارتی ہے۔
عمران خان بطور کھلاڑی کافی مقبول اور کامیاب رہے ۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ 1992میں پاکستان کو ورلڈ کپ جیتانا تھا۔جسے کروڑوں پاکستانی آج بھی یاد رکھے ہوئے ہیں۔ جس کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم نے دنیائے کرکٹ میں اپنا لوہا منوا لیا تھا۔ اس کے بعد عمران خان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پاکستان نے کئی نامور کھلاڑی دنیا کے سامنے پیش کیا ۔تاہم عمران خان ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس کے سلیکٹر کو مسلسل نشانہ بناتے رہے ہیں۔ عمران خان پچھلے کئی برسوں سے اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ پاکستان میں دوبارہ کرکٹ کھیل کا آغاز کیا جائے جس پر انتہا پسندوں کے حملے کے بعد پابندی لگا دی گئی ہے۔
عمران خان کو زندگی میں ہمیشہ پریشانیوں نے گھیر رکھا تھا۔ بطور کرکٹ کھلاڑی وہ کئی بار تنازعہ میں گھرے رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے اس بات کا عتراف کیا تھا کہ ایک میچ میں بال کو خراب کیا تھا اور ایان بوتھم اور ایلن لیمب پر نسل پرستی کا الزام بھی لگایا تھا۔عمران خان اپنی نجی زندگی میں بھی کافی پریشانیوں کو جھیلا تھا۔ عمران خان کی تین شادی اور دوبار طلاق نے بھی انہیں کافی پریشان رکھا تھا۔ لیکن عمران خان کو سب سے بڑا دکھ ان کی والدہ کی کینسر سے موت تھی۔ جس کے بعد انہوں نے یہ طے کیا کہ وہ پاکستان میں کینسر کے لئے اعلیٰ ہسپتال بنوائیں گے۔ 1994میں عمران خان کا یہ خواب پورا ہوا اور انہوں نے پاکستان کو ایک معیاری اور اعلیٰ ہسپتال عام لوگوں کے لئے تحفے میں پیش کیا۔ اس ہسپتال کی عطیات میں راقم نے بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ لیا اور اب اس ہسپتال کو اپنی بساط کے مطابق عطیات و امداد پہنچانے کا سلسلہ جاری ہے۔
عمران خان ریٹائرمنٹ کے بعد پاکسات کے سیاسی اور گرتے ہوئے معیار سے پریشان رہنے لگے۔انہیں پتہ تھا کہ ملک کی صورتِ حال کو بدلنے کے لئے انہیں سیاست جوائن کرنا پڑیگا۔لیکن وہ نہ تو بھٹّو فیملی اور نہ ہی نواز شریف فیملی کے ساتھ اپنے سیاسی کیرئر کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ اسی لئے 1996میں پاکستان تحریکِ انصاف پارٹی کی بنیاد ڈالی اور2002 کے عام انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کو محض ایک سیٹ نصیب ہوئی اور وہ بھی عمران خان تھے۔لیکن اب 22 سال کی محنت اور پریشانیوں کے بعد عمران خان پاکستان کے نئے وزیر اعظم بننے والے ہیں۔تاہم عمران خان کی کامیابی کے پیچھے ان کی تحریک کے علاوہ نواز شریف کی دھاندلی اور بھٹّو فیملی کی کمزوری بھی شامل ہے۔
عمران خان نے اپنی ابتدائی تقریر میں پاکستان کی ترقّی اور فلاح و بہبو دپر زور دیا ہے۔ عمران خان ملک کی تعلیم کے معیار کو بہتر اور صحت کے شعبوں کو اعلیٰ بنانے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک سے دوستی کے راستے ہموار کرنے کا بھی ارادہ جتایاہے۔غریب اور پچھڑے ہوئے لوگوں کے لئے کئی پروگرام کو شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔انہوں نے ملک سے کرپشن ختم کرنے کا بھی بھروسہ دلایا ہے۔نوجوانوں میں بے روزگاری کو کم کرنے کی بھی بات کہی ہے۔
مجھے ان باتوں سے اس بات کی حیرانی نہیں ہو رہی ہے کیونکہ ہر سیاستداں اپنی جیت کے بعد ایسی ہی باتوں سے اپنی اننگز کا آغازکرتا ہے۔ لیکن چونکہ عمران خان نے ان باتوں کو کہا ہے تو زیادہ تر لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ اس بار پاکستان کی قسمت بدلے گی اور ان کا ملک پچھلی بدنامیوں اور پریشانیوں سے نجات پائے گا۔تاہم اس بات کا پتہ آنے والے دنوں میں چل جائے گا ۔
میں عمران خان سے کافی متاثر اور امید افزا ہوں کہ وہ پاکستان کا کھویا ہوا وقار دوبارہ واپس لائیں گے۔ اس کی ایک وجہ عمران خان کا تجربہ ، لیاقت اور ان کی ایمانداری ہے۔لیکن کسی بھی ملک کو ترقّی کی راہ پر چلانے کے لئے عوام سے لے کر تمام سیاستدانوں کو مل کر اہم رول نبھانا ہوتا ہے۔ جس میں ملک کاعدلیہ نظام ، جمہوری ڈھانچہ، انصاف اور مساوات،تعلیمی نظام ، بیوروکریٹ،فوج، صنعت کار اور معیشت اہم رول نبھاتے ہیں۔لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل، فوج کی مداخلت اور انتہا پسندی کی وجہ سے ملک کی حالت گونا گو ں ہو گئی تھی۔ جس سے برطانیہ میں بسے پاکستا نیوں کے علاوہ دنیا بھر کے پاکستانیوں میں بے چینی کی لہر پائی جا رہی تھی۔
میں عمران خان کو دلی مبار باد پیش کرتا ہوں اور ان پاکستانیوں کو بھی مبار باد پیش کروں گا جنہوں نے پچھلے چند برسوں سے عمران خان کی تحریک کی حمایت کر رہے تھے بلکہ حق کا بھی ساتھ دے رہے تھے۔عمران خان تن تنہا تمام تر مشکلاتوں کا سامنا کرتے ہوئے بھی کبھی مایوس نہ ہوئے اور انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ جیت حق کی ہی ہوتی ہے۔عمران خان اب تنہا نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ کروڑوں لوگ شامل ہو چکے ہیں۔میں عمران خان سے امید افزا ہوں کے آنے والے دنوں میں پاکستان ایک بار پھر اپنا وقار دوبارہ حاصل کرے گا اور برصغیر میں امن و امان بھی قائم ہوگا۔
یہ کالم بھی پڑھیں
ستوں دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ—-فہیم اختر (لندن)

اپنا تبصرہ بھیجیں