خان کی ٹیم—پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

طویل صبر آزما جدو جہد کے بعد آخر کار تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اقتدار کے چوبارے پر چڑھتے نظر آرہے ہیں ۔مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہو نے کے لیے عمران خان نے کتنے پاپڑ بیلے ‘ کتنے یو ٹرن لئے‘ کہاں کہاں جا کر ماتھا رگڑا ‘ کس کس در پر دامن مراد پھیلا یا ‘ اچھا ئی برائی کے تمام اصول و ضوابط ‘ مذہبی اخلاقی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہو ئے عوام کی آنکھوں میں سہا نے مستقبل کے خواب سجا کر اُن خوا بوں کی تعبیر اورسہا نے درخشاں مستقبل کے خواب دکھا کر عوام کو اپنے سا تھ لگا کر ‘ مقتدر قوتوں کے ساتھ مک مکا کر کے اپنی خواہش یا ضد پو ری کر لی اِس میں کوئی شک نہیں کہ اقتدار کی راہداریوں کے جھو لے جھولنے کے لیے عمران خان کو پل صراط سے گزرنا پڑا ‘ اپنی ہی کہی ہو ئی باتوں سے مُکر نا پڑا ‘ دھرنے کے صحرا کی صحرا نو ردی کر نا پڑی ملک کے طول و عرض میں عوام کو جگانے کے لیے طوفانی دورے کر نا پڑے ‘ بڑھکیں ‘ نعرے ‘ وعدے ‘ گالی گلوچ سب کچھ ہو گیا اور عمران خان الیکشن جیت کر سب سے بڑی اکثریتی پارٹی بن کر اِس پوزیشن میںآگئے ہیں کہ اب اپنے منشور کو عملی جامہ پہنا سکیں ‘ عوام کو جو خواب دکھا ئے ہیں اُن کی تعبیر پا سکیں ‘ کرپشن فری ریا ست بنا سکیں ‘ اقتدار کے تخت پر براجمان ہو نے کے بعد ہر حکمران کا اولین مسئلہ یہ ہو تا ہے کہ اپنے ساتھ ایسی ٹیم کا انتخاب کر ے جو ملک کے انتظام کو احسن طریقے سے چلا نے کے لیے اُس کا بھر پور ایمانداری سے ساتھ دے کیونکہ اگر تو حکمران اپنی ٹیم میں دیانتدار نیک لو گ لیتے ہیں تو اُن لوگوں کی نیکی کی وجہ سے خدا ئی برکت بھی حکمرانی میں شامل ہو جاتی ہے ‘ یقیناایسے اچھے ساتھی خدا کی نعمت ہو تے ہیں جو جہاں بھی ہوں خدا کی مدد سے احسن معا شرہ اور ریا ست تشکیل دیتے ہیں اور اگر یہ ٹیم نیک ، ایماندار ‘ با کردار لوگوں کی بجا ئے کرپشن کی راہداریوں میں پلے ہو ئے ہوں نیکی پارسائی سے جن کا دور کا بھی واسطہ نہ ہو تو خدا کی مدد کی بجا ئے بے بر کتی نظر آتی ہے ‘ ایسے لوگ لوگوں کی زندگیاں سنوارنے کی بجائے اپنی زندگیوں پر زور دیتے ہیں اپنے کاروباری معاملات کو ترجیح دیتے ہیں ایسے موقع پر ست ہر جائی جا ہ پر ست وزیر اپنے ساتھ ساتھ حکمران کو بھی لے ڈوبتے ہیں ان مشیروں کی بھی قسمیں ہو تی ہیں ایک تو مشیروں وزیروں کا وہ گروپ ہو تا ہے جو لوگوں کو نظر آتا ہے جن کے عہدوں کے نو ٹیفیکیشن جا ری ہو تے ہیں جبکہ ایک اور ٹو لا بھی ہو تا ہے جو بظا ہر تو نظر نہیں آتا لیکن فیصلہ کن مقام رکھتا ہے ‘ اِن کو عرف عام میں کچن کیبنٹ کہا جاتا ہے یہی وہ لو گ ہو تے ہیں جو حکمرانوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہو تے ہیں یہی لو گ حکمرانوں کے کان آنکھ اور زبان ہو تے ہیں حکمران انہی لوگوں پر بھروسہ کر تے ہیں انہی کے مشوروں پر فیصلے کر تے ہیں ویسے تو دنیا کو دکھا نے کے لیے با قاعدہ مشیر وزیر پرنسپل سیکرٹری مقرر ہو تے ہیں لیکن اصل فیصلے وہی کچن کیبنٹ کے لو گ کر تے ہیں جن پر حکمران بھروسہ کر تے ہیں ایسے نااہل ممبران کے ساتھ وہ حکومت جو عوامی پذیرائی اور محبوبیت سے بر سرا قتدار آتی ہے چند ہی مہینوں میں عوام کا اعتماد کھو دیتی ہے پھر زندہ باد کی جگہ مر دہ با د کے نعرے لے لیتے ہیں جب اِن عقل کے اندھوں کی وجہ سے حکمران پارٹی مقبو لیت کھو نا شروع کر تی ہے تو یہ لو گ حکمرانوں کو نیا آئینہ دکھا تے ہیں کہ عوام بے صبرے ہیں مخالفین کے غلط پروپیگنڈا سے یعنی اپو زیشن نے عارضی مصنو عی بحران پیدا کیاہوا ہے ‘ عوام کی اکثریت تو آج ہما رے ساتھ ہے اگر چہ اِن جاہل مشیروں کی وجہ سے اگر احتجاج ہو تو انہیں حقیقی بنیا دوں پر دیکھنے کی بجا ئے لفظوں کی جا دوگری سے دوسرا رنگ دیا جا تا ہے اِس سے پہلے کہ عمران خان صاحب بھی نا تجربہ کار بد کر دار مشیروں کی وجہ سے ٹھو کر کھالیں اُنہیں شروع سے ہی ایسے مشیروں وزیروں کا انتخاب کرنا چاہیے جو اُس کی تبدیلی کے منشور پر پورا اترتے ہوں اور جو کر پشن میں غرق پاکستان کو دلدل سے نکالنا چاہتے ہیں جو غریب عوام کے مسائل کا ادراک رکھتے ہیں جو عوام کے درد سے آشناہوں جو عوام میں سے اُٹھے ہوں جنہیں عوام کے مسا ئل کا پتہ ہو اگر عوام کے نورتنوں میں جہانگیر ترین ‘زلفی بخاری ‘علیم خان جیسے دولت کے پجا ری شامل ہو نگے تو اِس قوم اور عمران خان کا اللہ ہی حافظ ‘ بلا شبہ عمران کو اقتدار کے کو ٹھے پر چڑھنے کے لیے ایسے دولت مند لوٹو ں کی ضرورت تھی لیکن جب اللہ کے کر م اور عوام کی بے پنا ہ محبت اور اعتماد سے وہ مسند شاہی پر بیٹھ رہے ہیں تو خدارا مطلب پرستوں نسل در نسل اقتدار کے مزے لوٹنے والوں سے اپنی جان چھڑائیں ‘ عمران خان صاحب سادگی کے دعوے دار ہیں پرو ٹوکول فری معا شرے اور حکومت کے دعوے دار نہیں‘ اب جنہوں نے ذاتی استعمال کے لیے پر تعیش مہنگے ذاتی جہاز رکھے ہو ئے ہیں وہ کچی آبادیوں کے غریب لوگوں کے مسائل سے کیسے آگاہ ہو سکتے ہیں ‘ عمران خان کو یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان ایک حساس ماضی رکھتا ہے اُس نے شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ زنی ‘الزامات ‘ طو فان بدتمیزی کیا ہے اب مخالفین بھی ہاتھوں میں سنگ اٹھائے مو قع کی تلا ش میں ہیں پچھلی حکومتوں اور حکمرانوں کے بارے میں تو کہا جا تا ہے کہ وہ کر پشن کے سرخیل ہیں جو بنکوں کے بنک اور کمیشن کے اربوں روپے کھا گئے ہیں اب انہیں موقع مل رہا ہے عوام کو بتا نے کے لیے کہ ہم تو کر پٹ تھے عمران خان کے گر د کو نسے فرشتے کام کر رہے ہیں کیونکہ کسی بھی پار ٹی کی حکومت کی کامیابی اور ناکامی میں سب سے بڑا دخل اُن مشیروں کا ہو تا ہے جو حکو مت چلانے میں حکمران کی مدد کر تے ہیں موجودہ دور بلا شبہ آگاہی کا دور ہے میڈیا کی آزادی اور سوشل میڈیا کے بعد اب عوام ہر انسان سے آگا ہی رکھتے ہیں ایک بٹن دبا نے سے ہر مشہور بندے کا سارا ڈیٹا سیکنڈوں میں آپ کے سامنے آجا تا ہے اور پھر جس طرح عمران خان اور اُس کے حواریوں نے انصاف کرپشن فری پاکستان نئے پاکستان کے نعرے اور ڈھول بجا ئے ہیں مخالفین اور غیر جانبدار طبقہ اب مائیکرو لیول پر عمران خان اور اُس کے مشیروں کی کا رکردگی کو دیکھیں گے دوسروں پر الزام لگا نا بہت آسان کام ہے پر فارم کر نا مشکل ہو تا ہے اب جب عوام نے عمران خان کی پا رٹی کو اکثریت کی سوغات سے نواز دیا ہے تو عمران خان کو اِس نعمت اور موقع کو غنیمت جانتے ہو ئے ہر ادارے کا سر براہ نیک با کر دار اور با صلا حیت لگا نا چاہیے کیونکہ اگر ادارے کا سربراہ ہی ٹھیک نہیں ہو گا تو وہ ادارہ کیسے ترقی کی منزلیں طے کرے گا ‘ دوسرا عمران خان صاحب کو خو د احتسابی کے عمل کو اپنی ذات اور جما عت پر بھی لا گو کر نا ہو گا اگر آپ صرف اپو زیشن کا ہی احتساب کر تے ہیں تو اِسے انتقامی سیاست سے تعبیر کیا جا ئے گا عمران خان کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ کو چہ سیاست وہ خار دار وادی ہے کہ یہاں پر آتے ہو ئے پھولوں کے ہار پہنا ئے جا تے ہیں اور جا تے ہو ئے دھکے دے کر نکالا جاتا ہے ‘ اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہو تا کو چہ سیاست اگر کسی کو آنکھوں پر بٹھا تی ہے تو گر دش ایام اور ناکام طرزِ حکومت سے آنکھوں سے گرا دیتی ہے یہ وہ کو چہ ہے جہاں کروڑوں دلوں پر راج کر نے والے آئے لیکن جب عوام نے آنکھیں پھیریں تو یا تو جیل کی سلاخیں تھیں یا پھر کو چہ تنہائی اگر تو عمران خان ایک با کردار نیک دیانتدار ٹیم تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ آسانی سے تبدیلی کے منشور پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں ورنہ اِس کو چہ خاردار نے بہت سوں کو رسوا کر کے نکالا ہے کہیں اگلی باری خان صاحب آپ کی نہ ہو ‘ کسی نے عقل و دانش کے ہما لیہ جناب حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کا دور حکو مت مسلسل بحران انتشار کا شکا ر ہے جبکہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کا دورِ حکو مت استحکام کا آئینہ دار تھا آپؓ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا ان حضرات کے مشیر میرے جیسے لو گ تھے اور میرے مشیر آپ جیسے لو گ ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں