لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے—فہیم اختر (لندن)

عالمی سطح پر اشرف المخلوقات کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ پوری دنیا میں انسان پریشانِ حال ہے ۔ کہیں غریبوں پر ظلم ہو رہا ہے تو کہیں عورتوں کی عزّت لوٹی جارہی ہے۔ دولت مند امیر سے امیر ترین بنتے جارہے ہیں تو کہیں لوگوں کو شکم سیر ہونے کی بات تو درکنار انہیں زندہ رہنے کے لیے اناج بھی نصیب نہیں ہورہا ہے۔ناہل حکمراں بن گیے ہیں اور عوام گمراہ ہو چکی ہے۔مذہب کے نام پر لوگوں میں گمراہ کن باتیں پھیلائی جا رہی ہے۔لوگ سچ کو جھوٹ کی مانند استعمال کرنے لگے ہیں۔ گویا ہر طرف افراتفری کا ماحول بنتاجارہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہر کوئی خوف و ہراس کی زندگی گزار نے پر مجبور ہے۔
اقوام عالم کی تاریخ کا مطالعہ اورعالمی جغرافیائی خد و خال ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ جب سے حضرت آدم کی تخلیق ہوئی یعنی جب سے یہ دنیا قائم ہے، لوگ چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے ذریعے اپنی جگہ اور محل وقوع کا انتخاب کرکے رہا کرتے تھے۔ ان دنوں بھی اگر کوئی ظالم حکمراں ہوتا تھا تو وہ ایسے لوگوں کو سخت سزا دیتا تھا جو ان کے علاقے میں گھس آتے تھے۔ لیکن جوں جوں دنیا ترقی کرتی گئی اور لوگ تعلیم یافتہ ہوتے گیے، سرحدوں کی اہمیت کم ہوتی گئی اور لوگ سرحدوں کو پار کر کے ایک نئی زندگی کی شروعات کرنے لگے ۔ تاہم پچھلے کئی برسوں سے سرحدوں پر سختی اور لوگوں کی آمد و رفت پر ایک بار پھر سخت پابندی لگائی جارہی ہے۔ مسلم آبادی والے ممالک کے مسائل سے دوچار لوگ اپنی جان بچانے کے لئے قریبی ممالک میں پناہ لینے کے لئے کسی طرح سرحد کو پار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ افریقی ممالک کے لاکھوں بے روزگار مرد اور عورت مسلسل کشتی پر سوار ہو کر کسی طرح یورپ پہنچ رہے ہیں تاکہ وہ ایک اچھی زندگی گزار سکے۔
اگر دیکھا جائے تو سرحد سے منسلک جتنے بھی ممالک ہیں وہاں کے لوگوں میں ثقافتی اور رکھ رکھاؤ یکساں پائے جاتے ہیں۔مثلاّ انگلینڈ کی سرحد سے لگے ویلس ، اسکاٹ لینڈ اور آئیرلینڈجیسے ممالک ہیں۔ ترکی کی سرحد سے متصل ایران، شام اور دیگر ممالک ہیں۔ امریکہ کی سرحدسے متصل میکسیکو اور کینیڈا ہیں۔ اسی طرح ہندوستانی سرحد سے متصل نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان ہیں۔عموماً ان ممالک کی سرحدوں پر زبان سے لے کر ثقافت اور کئی چیزوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔جس سے اس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ کون کس ملک کا باشندہ ہے۔
میرا ماننا ہے کہ انسان جہاں پیدا ہوتا ہے وہی اس کی جائے پیدائش ہوتی ہے ۔ اسی بنا پر اس انسان کو اس جگہ پر رہنے کا حق حاصل ہونا چاہئے۔ تاہم عام طور پر ایسا نہیں پایا جاتا ہے اور پچھلے کچھ برسوں میں قومیت اور نفرت کی سوچ نے انسان کو حیوان بنا کر رکھ دیا ہے۔اب تو کئی ممالک اونچی اونچی دیواریں کھڑی کر رہے ہیں تو کہیں کھار دار تاروں سے سرحدوں کو بانٹا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ملک سے دوسرے ملک جانے کے لئے اتنے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں کہ انسان ہار مان کر مایوس ہوجاتا ہے یا کوئی غلط قدم اٹھانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔
ہندوستانی حکومت نے پچھلے دنوں 40لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جو صوبہ آسام میں رہتے ہیں، اس بنا پر ان کی شہریت ختم کر دی کہ ان کے پاس National Register of Citizens (NRC) ثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویز نہیں ہے۔اس خبر کو پڑھ کر برطانیہ سمیت بیشتر ممالک کے لوگ دنگ رہ گیے۔سمجھ میں یہ نہیں آرہا ہے کہ ہندوستانی حکومت نے کن بنا پر ایسا قدم اٹھایا ہے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس مسئلے میں اکثریت مسلمانوں کی ہی ہے۔چونکہ آسام بنگلہ دیش کی سرحد سے ملا ہوا ہے اس لیے بھارتیہ جنتا پارٹی ایک عرصے سے اس بات کی مانگ کر رہی ہے کہ جب وہ حکومت میں آئیں گے تو بنگلہ دیشیوں کو آسام سے نکال دیا جائے گا۔بدقسمتی سے آسام کے معصوم لوگ بھارتیہ جنتا پارٹی کے جھانسے میں آکر حکومت بنوا دی اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس لاکھ سے زیادہ ہندوستانی اچانک شہریت سے محروم ہو گئے۔اب آپ سوچیے کہ اگر ایسی بات ہمارے اور آپ کے ساتھ ہو تو ہم پر کیا گزرے گی۔تاہم اس مسئلے پر بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پر زور طریقے سے اپنی آواز بلند کر رکھی ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ مسئلہ محض ممتا بنرجی کا نجی معاملہ ہے کیونکہ دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے چپّی سادھ رکھی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ جس دن بنگال میں ان کی سرکار بنے گی وہ بنگلہ دیشیوں کو وہاں سے بھی بھگائیں گے۔ اب جب لوگوں میں اس قدر نفرت بھر دی جائے اور لوگوں کو گمراہ کر دیا جائے تو ممکن ہے یہ کام بنگال میں بھی ہوسکتا ہے۔ تاہم بنگال کا تعلیم یافتہ طبقہ اتنی آسانی سے بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی متشدد اور انتہا پسند سیاسی جماعت کو حکومت بنانے نہیں دے گی۔تاہم اس کے لئے عام لوگوں کے بیچ سیاست سے ہٹ کر ایک اہم پیغام پہچانا ہوگا ۔ جس سے ملک و سماج میں سیاسی شعور اور سمجھداری کی شمع روشن ہو۔اس سلسلے میں ایک خوش آئند قدم یہ ہے کہ ریاستی حکومت اور ذی شعور افراد مل جل کر کوشش کر رہے ہیں۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوستان کے دوممالک بنگلہ دیش اور پاکستان کی سرحدوں پر ہی یہ مسئلہ دِکھ رہا ہے ۔ اگر میں آپ کی توجہ تامل ناڈو اور جمّوں کی طرف کراؤں تو آپ کو حیرانی ہوگی کہ ان دونوں صوبوں میں سری لنکا اور پاکستان کے لاکھوں ہندو آکر بسے ہیں اور جنہیں رہائش سے لے کر ہندوستانی شہریت کی تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہیں۔ جو کہ ایک اچھی بات ہے اور اسی طرح سے دنیا بھر کے ممالک ایسے اقدام اٹھاتے ہیں۔ کبھی انہیں رفیوجی کہہ کر بلایا جاتا ہے تو کبھی انہیں اپنے ملک کا مہمان کہہ کر عزت دی جاتی ہے۔
برطانیہ کی کئی انجمنوں نے آسام کے لوگوں کو شہریت سے محروم کئے جانے کے مسئلے پر ایک دستخطی مہم کی شروعات کی ہے۔تاکہ اس مسئلے کو برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھا یا جائے اور ہندوستانی حکومت پر دباؤ بنا یا جاسکے۔وہیں ہندوستان کی کئی تنظیموں نے اس معاملے کو کورٹ لے جانے کی بھی دھمکی دی ہے۔
آسام مسئلے میں قوم مسلم کے ساتھ ناروا سلوک ،ہر حساس شخص کے لیے تکلیف کا باعث ہے۔پوری دنیا میں موجود ذی شعورافراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کہیں نہ کہیں ایک خاص قوم ،ایک خاص مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم ہو رہا ہے۔مسلمانوں کی تعلیمی، سیاسی،اور سماجی کمزوری سے ہم اور آپ اچھی طرح واقف ہیں۔ جس کے ذمّہ دار ہم خود ہیں۔ ہماری لاپرواہی، ایمان کی کمزوری،حسد، آپسی رنجش ، ذاتی مفاداور ایک سیاسی پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے ہم پوری دنیا میں نسل، فرقے،علاقے اور زبانوں میں بٹ کر رہ گیے ہیں۔ آج ہم اتنے بے حس ہوگئے ہیں کہ ایسے معاملات میں احتجاج بھی نہیں کر پا رہے ہیں۔ ہمیں اپنی بے بسی اور کمزوری کا احساس آئے دن ان خبروں سے ہوتا ہے جہاں ہم پر ظلم کیا جاتا ہے اور ہم’ اُف‘ بھی نہیں کہہ پارہے ہیں۔ہماری لہجے میں خودغرضی اور مجبوری صاف جھلکتی ہے۔ ہم چھوٹے چھوٹے گروہوں میں اس طرح بٹ گئے ہیں کے ہمیں ایک پلیٹ فارم پر آنا ناممکن لگتا ہے۔
تاہم اب بھی چند رہنماؤں نے کوشش شروع کی ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اللہ ہماری حالت بدلے گا اور ہم چین و سکون سے جی سکے گیں۔لیکن اس کے لئے ہم سب کو آپس میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔ گمراہ کن باتوں سے گریز کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے کے دکھ سکھ کو سمجھنا اور محسوس کرنا ہوگا۔ذاتی مفاد کو درکنار رکھ کر ہمیں قوم و ملّت کی بھلائی اورفروغ پر زور دینا ہوگا۔ ذاتیات سے اوپر اٹھ کر ہمیں لوگوں کو گلے لگانا
ہوگا۔تبھی ہم ایک بار پھر دنیا کو یہ بتا پائے گیں کہ ہم مجبور اور پریشان ضرور ہیں لیکن خدا کی ذات سے نا امید نہیں ہیں ۔ بقول فیض احمد فیض:
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے
یہ کالم بھی پڑھیں
میں اکیلا ہی چلا تھا—فہیم اختر (لندن)

اپنا تبصرہ بھیجیں