نمک حرام—ابصار فاطمہ

فہمیدہ دکان میں داخل ہوئی تو سلائی مشینوں کی مخصوص گڑ گڑ کا شور گونج رہا تھا۔
’’ اسلام علیکم حاجی صاحب! منیر کو بلوائیے گا پلیز۔‘‘
فہمیدہ نے کپڑوں کا تھیلا حاجی صاحب کے سامنے کاونٹر پہ رکھ دیا مگر نظریں دکان میں ادھر ادھر گردش کر رہی تھیں۔ اس نے زمین پہ بکھری کترنوں کو پیر سے ذرا سائیڈ پہ کیا اور قدم رکھنے کی جگہ بنائی۔ کافی کوشش کے باوجود سلائی مشین پہ جھکے کئی سروں میں منیر کا سر نظر نہیں آیا۔ آج دکان پہ گاہک خواتین بھی کم تھیں اور ہینگر پہ کپڑے بھی چند ہی ٹنگے تھے۔
’’آؤ آؤ باجی! اس بار بہت دن بعد آئیں۔آپ کپڑوں کی فکر نہ کرو ایک دم فٹ سلو کے دوں گا۔‘‘ حاجی صاحب منیر والی بات گول کر گئے۔
’’نہیں حاجی صاحب! منیر کو ہی بلوا دیں اس سے کہیں میرے کپڑے سی کر دے۔ سچ کہوں، آپ کے باقی لڑکے تو ہڈ حرام ہیں۔ ان کے ہاتھ میں سوٹ چلا گیا تو سمجھو برباد ہوگیا۔ نہ صحیح کٹائی آتی ہے نہ سلائی میں صفائی ہے۔ ڈیزائن بتاو کچھ بنا کچھ دیتے ہیں۔‘‘ فہمیدہ کے لہجے میں قطیعت تھی۔
’’ باجی آپ فکر نہ کرو۔ میں آپ کا سوٹ سب سے بہترین کاریگر سے سلوا کر دوں گا۔ اس دفعہ آپ بھلے پیسے بھی کم دینا۔ ایک دم ٹاپ کلاس ڈیزائن بنوا دوں گا۔ کرینہ کپور لگو گی۔ دوسری عورتیں دیکھتے ہی گر جائیں گی۔ اے گڈو! باجی کے لیے بھاگ کے ٹھنڈی بوتل تو لا۔‘‘
حاجی صاحب جو پہلے عموما نو لفٹ کی تفسیر بنے بیٹھے ہوتے تھے آج بچھے بچھے جارہے تھے۔
’’حاجی صاحب نہ مجھے کرینہ کپور لگنا ہے نہ عورتوں کو گرانا ہے۔ مگر کپڑے میں منیر سے ہی سلواؤں گی صاف بات ہے مجھے اسی کے ہاتھ کی سلائی پسند ہے۔‘‘
فہمیدہ کو حاجی صاحب کی غیر متعلق گفتگو نے جھنجھلا دیا۔
’’چھوڑو باجی اس نمک حرام کی بات ہی نہ کرو۔‘‘ حاجی صاحب کے ماتھے پہ بل آگئے۔
’’کیوں حاجی صاحب ایسا کیا کر دیا اس نے؟‘‘ فہمیدہ کو منیر جیسے محنتی کاریگر کے بارے میں یہ رائے سن کر تھوڑی حیرت ہوئیَ۔
’’سانپ تھا باجی سانپ۔اپنے مالک کو ڈس گیا۔اتنے سال ہنر سکھایا۔ ساتھ دہاڑی بھی دی۔ بیٹوں کی طرح خیال رکھا۔اور ذرا ہاتھ صاف ہوا کام پہ، تو اپنی الگ دکان کھول کے بیٹھ گیااور ہمارے گراہک بھی توڑ کے لے گیا۔عاقبت خراب کر رہا ہے اپنی، یہ کوئی حلال ہوگا جو بھی کمائے گا اب۔‘‘انہوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر ناک چھوئی۔ حاجی صاحب کی بلی آخر کار تھیلے سے باہر آہی گئی تھی۔ فہمیدہ کو بھی سن کر عجیب لگا۔ واقعی کتنی احسان فراموشی کی بات ہے۔ اسے یاد آیا پچھلی دفعہ جب وہ کپڑے سلوانے آئی تھی تو منیر تھوڑا غصے میں تھا. اور اس کی حاجی صاحب سے پیسوں کی کسی بات پہ منہ ماری ہورہی تھی۔ حاجی صاحب خود ہر سوٹ کی 700 سلائی وصول کرتے تھے جبکہ منیر جیسے پرانے کاریگر کو بھی اس میں سے 200 ملتا۔ مگر پھر بھی جو شخص آپ کو ہنر سکھائے اس کو ایسی چوٹ دے جانا واقعی نمک حرامی ہی ہے۔ فہمیدہ نے تو تب بھی منیر کو ایمان داری سے کام کرنے کے لیے کافی سمجھایا تھا۔ وہ خود کاروباری گھرانے سے تھی اور یہ مسائل سنتی رہتی تھی جیسے ہی
لڑکے دکان داری کے گر سیکھ لیتے فورا اپنی دکان کھولنے کی تاک میں ہوتے۔ فہمیدہ کا شوہر اسی لیے کوشش کرتا تھا کہ ان کی دہاڑی بس اتنی ہو کہ نہ وہ تنگ ہو کر بھاگیں نہ اپنی دکان کھولنے کے قابل ہوں۔ ورنہ ان کام کرنے والے لڑکوں کی تو ذات ہی نیچ تھی وفاداری آتی ہی نہیں تھی۔ فہمیدہ افسوس سے سر ہلاتی دکان سے باہر آگئی۔ اس کا دل منیر کی طرف سے خراب ہو گیا۔ وہ اسے کتنا ایمان دار اور ماہر کاریگر سمجھتی تھی مگر وہ بھی دوسروں کی طرح بے ایمان نکلا۔
کچھ ہی دیر بعد وہ منیر کی چھوٹی سی نئی دکان میں بیٹھی اسے سوٹ کا ڈیزائن بتا رہی تھیں۔ آخر کو کاریگر تو وہ بہترین تھا نا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں