تہ سنگ (افسانہ)–خاقان ساجد

اسکول یونیفارم میں ملبوس مغموم اور اداس پپو خاصی دیر سے سیڑھیوں والے پُل پر کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں رو رو کر سوج گئی تھیں اور ناک سے پانی بہہ رہا تھا ۔بائیں رخسار پر تھپڑ کا نشان تھا جسے وہ بار بار سہلاتا ۔گاہے دائیں ہاتھ کی پشت سے اپنی ناک رگڑتا اور آنکھوں میں اُمنڈنے والے آنسو پونچھنے لگتا ۔ اُس کی پشت پر بھاری بستہ جھول رہا تھا جس میں تیسری جماعت کی کتابیں اور کاپیاں ٹھنسی ہوئی تھیں۔
جاڑوں کے دن تھے اور صبح کا وقت۔ اردگرد کی ہر چیز ٹھٹھری ہوئی تھی ۔ اسٹیشن کی عمارت ، کالونی کے کوارٹر ، شیشم کے درخت، بجلی کے کھمبے ، ریل کے سگنل ، وہ بے شمار پٹڑیاں جو پُل کے نیچے کھلے میدان میں بچھی ہوئی تھیں، اور ان پر خاموش کھڑے ڈبے، سب سکڑے سکڑے دکھائی دے رہے تھے۔ مشرقی کیبن کے قریب بھاپ سے چلنے والا ایک مہیب کالا انجن ، جو غالباً شنٹنگ کیلئے آیا تھا، اپنی چمنی سے گاڑھا گاڑھا دھواں اُگل رہا تھا۔ یہ دھواں عجیب عجیب شکلیں بناتا ہوا آہستہ آہستہ کہر کا حصہ بنتا جا رہا تھا۔ ماحول میں بے نام سی اُداسی گھلی ہوئی تھی۔
یہ ایک بڑا ریلوے جنگشن تھا، جہاں سے چھ سات لائینیں مختلف سمتوں میں نکلتی تھیں۔ دن رات کے مختلف اوقات میں بیسیوں مسافر گاڑیاں اور ایکسپریس ٹرینیں اس کے کشادہ اور طویل پلیٹ فارموں پر رُکتیں اور سینکڑوں مسافروں کو اگلتی اور نگلتی ہوئی نئی منزلوں کی طرف رواں دواں ہو جاتیں۔ مال گودام کے آہنی شیڈ کے نیچے غلے کی بوریوں ، کپاس کی گانٹھوں، فروٹ کی پیٹیوں اور نوع بہ نوع مال اسباب کے انبار لگے رہتے۔ لوکو شیڈ سے لے کر ریلوے یارڈ تک اور مال گودام کے اطراف سارا دن شنٹنگ میں مصروف انجنوں کی چھک چھک سنائی دیتی۔ آتشی اینٹیں بنانے والی فیکٹری کی چمنیوں سے ہمہ وقت سیاہ دھواں نکلتا رہتا۔
جنکشن پر کام کرنے والے ملازمین کی تعداد سینکڑوں میں تھی۔ اُن کی رہائش کیلئے اسٹیشن کے شمال اور جنوب میں دو بڑی کالونیاں تعمیر کی گئی تھیں جنہیں سیڑھیوں والا ایک آہنی پُل آپس میں ملاتا تھا۔
پپو اُسی پل پر کھڑا تھا ۔ وہ اپنے کتے کے غم میں آنسو بہا رہا تھا جسے اُس کے باپ نے، جو مال گودام کی واچ اینڈ وارڈ فورس میں وارڈن تھا ، نجس گردانتے ہوئے غائب کر دیا تھا۔ یہ کتااُسے پلیٹئر صاحب نے دیا تھا ۔وہ اُس کے دوست اور ہم جماعت شیری کے ابو تھے۔
اسٹیل گرے کلر کے سوٹ ، نکٹائی اور ہیٹ میں ملبوس گورے چٹے اور قد آور پلیٹئر صاحب پپو کو بہت اچھے لگتے تھے۔ ان کی پتلی کمانی والی گول شیشوں کی عینک ، اُس کے عقب سے جھانکتی ہوئی چمکدار آنکھیں، کرسٹل کے دستے والی خوشنما چھڑی، جسے وہ فٹ پاتھ پر آہستہ بجاتے بجاتے ہوئے پیدل دفتر جاتے اور بچوں کی طرح معصوم اور گول مٹول چہرے پر رونق افروز دوستانہ مسکراہٹ ، اس کے دل کو بھا گئی تھی۔ وہ جب انہیں سڑک سے گزرتے دیکھتا تو کھیل کود چھوڑ کر ادب سے سلام کرتا۔ جواباً وہ شفقت آمیز گرم جوشی سے قدرے بلند
آہنگ میں‘ الفاظ کو کھینچ کر ’’بیٹا وعلیکم اسلام ‘‘ کہتے۔ اکثر وہ اس سے ہاتھ بھی ملاتے۔ وہ ایک شفیق اور مہربان انسان تھے۔ افسرانہ
اکڑفوں ان میں نام کو نہیں تھی۔ پپو حسرت سے سوچتا ۔کاش! پلیٹئر صاحب ہی اس کے ابو ہوتے۔
اپنا لڑاک اور ہتھ چھٹ ابا اسے قطعاً پسند نہیں تھا۔ وہ بیوی اور بچوں سے نہایت درشتی سے پیش آتا اور ذرا سی بات پر تھپڑ جڑ دیتا۔ نرمی اور گدازپن اسے چھو کر نہیں گزرا تھا۔جب سے اس نے ایک متشدد مذہبی تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی ، گھر والوں پر ایک نئی قسم کا قہر ٹوٹنے لگا تھا۔ یہ غلط ہے، وہ ممنوع ہے، یہ حرام ہے، وہ ناجائز ہے۔ گھر میں ہر وقت یہی لیکچر چلا کرتا۔ بیوی شاہ پور کے ایک پیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ دبی زبان میں شریعت میں دی گئی آسانیوں اور رخصتوں کا ذکر کرتی تو اسے بُری طرح جھڑک دیتا۔ زور دے کر کہتا کہ شریعت میں کوئی چیز یا تو غلط ہوتی ہے یا صحیح۔ درمیانی راستہ کوئی نہیں ہوتا۔ اٹھتے بیٹھتے اسے یاد دلاتا کہ وہ غیرت مند نیازی گھرانے میں بیاہی ہوئی ہے جس کی عورتیں آواز کا بھی پردہ کرتی ہیں۔ انہیں بخار چڑھے تو مرد ڈاکٹر کو اپنی نبض پر ہاتھ رکھنے کی اجازت نہیں دیتیں۔ کالا فیشنی برقعہ پہننا نری بے غیرتی ہے۔ اصل پردہ ٹوپی والاسفید برقعہ ہے۔ لیکن خبردار! اس پر بھی کوئی بیل، بوٹا یا گل کاری نہیں ہونی چاہیئے۔ یہ سب مردوں کو لبھانے کے حیلے ہیں۔ ویسے بھی جب کپڑا ،لتہ اور جوتی گھر بیٹھے مل رہی ہو تو عورت کو گھر سے باہر قدم رکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟
دو کمروں کے چھوٹے سے کوارٹر میں بیوی عملاً ایک قیدی کی سی زندگی بسر کر رہی تھی۔ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں۔ اس کے سرے سے کوئی حقوق نہیں تھے۔ حق زوجیت البتہ وہ باقاعدگی سے ادا کرتا۔ قدرت اس فرض شناسی پر ہر سال مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اسے ایک اور فرزند بطور انعام عطا کر دیتی۔ پپو کو ملا کر سات بیٹے کوارٹر کی رونق بڑھا رہے تھے۔ سوائے پپو کے، سب کے سب باپ کی ڈٹو کاپی تھے۔
عید کی آمد آمد تھی۔ پانچوں بڑے بچے ساتھ لئے وہ جوتوں کی دکان پر گیا۔ دکاندار سے اچھی بھلی شناسائی تھی۔ وہ جوتے پہناتے ہوئے سادگی اور بھولپن میں یہ کہہ بیٹھا کہ نیازی صاحب! باقی بچے تو ہوبہو آپ کی تصویر ہیں۔ مگر یہ بچہ (پپو) آپ پر نہیں ہے۔ اپنی ماں پر گیا ہو گا؟ یہ سننا تھا کہ موصوف کا پارہ چڑھ گیا۔ حالتِ غضب میں اسے فرش پر پٹخا اور سینے پر چڑھ کر گلا دبوچ لیا ۔
’’سچ سچ بتا بے غیرت انسان! تم نے اس کی ماں کو کب اور کہاں دیکھا ہے؟‘‘
اپنے مخصوص علاقائی اور سماجی پسِ منظر کی بدولت بہت انا پرست واقع ہوا تھا ۔ بغیر مطلب کے کسی سے سلام بھی نہ لیتا ۔ ایک دفعہ ٹرین پر سفر کرنا مقصود تھا۔ گاڑی کے قریب پلیٹ فارم پر ایس۔ ٹی۔ای (اسپیشل ٹکٹ ایگزیمینر) کو کھڑے دیکھا تو اس کے پاس چلا گیا۔
’’اسلام علیکم۔ باؤ ایس گڈی نال تُوہیں؟‘‘ (باؤ صاحب! اس گاڑی کے ساتھ آپ ہیں؟)
جب اس نے نفی میں جواب دیا تو تاسف سے بولا:
’’وت میں تن ہنجے پیا سلام کریناں!‘‘ (پھر میں تجھے بلاوجہ سلام کر رہا ہوں!)
ٹرین پر چڑھا تو ایک ہی سیٹ خالی نظر آئی۔ اس پر کسی مسافر کا رومال پڑا تھا۔ اسے ہٹا کر بیٹھنے لگا تو ساتھ والے مسافر نے کہا:
’’جناب! یہاں ایک بندہ بیٹھا ہے۔‘‘
’’تا میں بندہ ناں؟‘‘ اسے گھورتے ہوئے الٹا سوال کر دیا۔
وہ بے چارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔
ہر شخص اس سے کنی کتراتا ۔ گھر میں داخل ہوتا تو بچے اِدھر اُدھر چھپ جاتے۔ پپو گھر کے ماحول سے اس قدر بددل تھا کہ زیادہ وقت گھر سے باہر ہی گزاردیتا۔
کوارٹروں سے تھوڑے فاصلے پر ریلوے کے افسروں کی کوٹھیاں تھیں۔ پلیٹئر صاحب اپنی فیملی کے ساتھ وہیں مقیم تھے۔ درختوں، پھولوں، پنجروں اور جھولوں سے سجی ان کی خوبصورت کوٹھی اسے جنت سے کم نہ لگتی۔ وہ شیری کے ساتھ اس کے سبزہ زاروں میں کھیلتا۔ کھانے کے لئے اسے اچھی اچھی چیزیں مل جاتیں۔ شیری کی دونوں بہنیں اس سے بہت پیار کرتیں۔ شیری کی امی بھی محبت سے پیش آتیں۔ اس کی دادی جان سے وہ مزیدار کہانیاں سنتا۔ کوٹھی کے سبھی مکین اس کی نظروں میں طلسم ہو شربا کی کہانیوں کے جادوئی کردار تھے۔ ہر ایک کا اپنا منفرد شوق تھا۔ پلیٹئر صاحب نے پنجروں میں طرح طرح کے خوبصورت پرندے پال رکھے تھے۔ ایک بڑے تالاب میں بطخیں‘ راج ہنس اور پیلیکان تیرتے رہتے۔ ان کی ایک پالتو کتیا بھی تھی جس کا نام ایلس تھا۔ روسی نسل کی لمبے سفید بالوں والی کتیا حیرت انگیز کرتب دکھاتی ۔ پھینکا ہوا گیند بھاگ کر اُٹھا لانا، جمپ لگا کر رِنگ کے اندر سے گزر جانا، ناک پر رکھا ہوا روٹی کا ٹکڑا اوپر کو اچھالنا اور چٹاخ کی آواز سے منہ میں پکڑ لینا، کرسی پر انسان کی طرح بیٹھ جانا۔ نجمہ باجی کی ایک بہت حسین سیامی بلی تھی جس کانام سونو تھا ۔ اس کا رنگ سلور گرے اور آنکھیں پیلی تھیں جن کے گرد کالے ڈورے غضب ڈھاتے۔چہرہ بے حدمعصوم ‘ چال دل نشیں اور ادائیں ایسی کہ دیکھنے والا قربان ہوجائے۔مگرتھی بہت نخریلی اورنک چڑھی ۔ٹھنڈے کمرے میں سبز ساٹن کے جھالردار غلاف والی ٹوکری میں آرام دہ گدیلوں پر سوتی ‘ عمدہ غذا کھاتی اورہرمعاملے میں خصوصی توجہ کی طلب گاررہتی۔اس معاملے میں ذراسی کوتاہی بھی سرزد ہوتی توبی مانو کے مزاج بگڑنے میں دیرنہ لگتی۔ہرایک کو بے زاری سے دیکھتی اور سخت چڑچڑی ہو جاتی ۔ ۔نجمہ باجی مصورہ بھی تھیں۔ ڈرائنگ روم، بیڈ رومز اور کوٹھی کے برآمدوں میں جگہ جگہ ان کی بنائی ہوئی پینٹنگز آویزاں تھیں۔ جب وہ لان میں رکھے ایزل پر کینوس چڑھائے رنگوں اور برشوں سے تصویر بنانے میں مشغول ہوتیں تو وہ پاس کھڑا ہو کر بڑے غور سے سارے عمل کا جائزہ لیتا ۔ انہیں دیکھ دیکھ کر وہ بھی تصویریں بنانا سیکھ گیا تھا۔ صلاحیت تو اس میں پہلے سے تھی ۔کوارٹروں کی دیواروں پر کوئلے اور چاک سے تصویریں بنایا کرتا۔ باجی نے حوصلہ افزائی کی تو اس میں نکھار پیدا ہو گیا۔ ایک روز اس نے باجی کو بہت اچھی تصویر بنا کر دکھائی تو انہوں نے شاباش دی اور انعام میں رنگوں کی ڈبیا اور پنسلیں دیں۔ وہ چہکتا ہوا گھر میں داخل ہوا اور ماں کو دکھائیں۔ وہ خوش تو ہوئی مگر اسے منع کیا کہ باپ کو ہرگز نہ دکھائے۔ وہ تصویر کشی کے سخت خلاف تھا۔
نجمیٰ باجی سے چھوٹی سلمیٰ باجی کو موسیقی سے لگاؤ تھا۔ وہ سارادن ڈیک پر گانے سنا کرتیں۔ وہ ستار بجانا بھی سیکھ رہی تھیں۔ آبنوسی رنگت کا ایک ادھیڑ عمر استاد ہفتے میں تین بار سبق دینے آتا۔لان میں بچھے تخت پوش پر ستار کندھے سے لگائے‘ غلافی آنکھیں موندے‘ اپنی مخروطی انگلیوں سے تاریں چھیڑتی ہوئیں سلمیٰ باجی پپو کو بہت پیاری لگتیں۔ ایک دفعہ اس نے یونہی گھر میں کہہ دیا کہ وہ سلمیٰ باجی سے ستار بجانا سیکھ رہا ہے۔ اس پر ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔
’’بھوتنی دا! اب یہ میراثی بنے گا۔‘‘ باپ پپو کی ماں سے مخاطب ہوا’’اس کا قصور نہیں۔جب شکل نانکوں پر ہے تو کام بھی انہی جیسے کرے گا۔ کہلاتے تم لوگ بھی نیازی ہو مگر مجھے یقین ہے کہیں نہ کہیں پیوند کاری ضرور ہوئی ہے۔۔۔۔‘‘
بیوی کا چہرہ غیرت سے سُرخ ہو گیا۔ کہنے لگی:
’’وہ لوک فنکار جس کی کیسٹیں تم بڑے شوق سے سنتے تھے‘ تمہار ا رشتہ دار ہے میرا نہیں۔ تم نے ایک بار مجھے خود بتایا تھا!‘‘
’’وہ تو میں نے یونہی کہا تھا۔ ٹہور بنانے کے لئے۔‘‘ وہ کھسیانا ہوگیا ’’خیر چھوڑو۔ وہ میرا زمانہ جاہلیت تھا۔ تم اس اُلو کے پٹھے کو سمجھاؤ کہ موسیقی ہمارے مذہب میں حرام ہے۔‘‘
’’اچھا ! جن ولیوں اور صوفیوں نے قوالی ایجاد کی ،اسے دین کی تبلیغ کے لئے استعمال کیا، انہوں نے حرام فعل کیا؟ بتاؤ اللہ نے اپنے پیغمبر حضرت داؤد ؑ کو سریلی آواز کیوں عطا کی تھی۔۔؟‘‘
’’بس بس ! زیادہ بقراطیاں نہ جھاڑ۔ یہ دین شریعت کے معاملے ہیں جو تیری عقل میں نہیں آسکتے ۔بجائے اُسے سمجھانے کے فضول بحث کر رہی ہے‘‘۔
’’چلو میں ہی فضول بحث کر رہی ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جو بات تم خود تیس پینتیس سال میں سمجھے، وہ اس معصوم کوسات آٹھ سال کی عمر میں سمجھانا چاہتے ہو؟ ‘‘
جب اس سے کوئی جواب نہ بن پڑا تو پپو کو جھاڑنے لگا۔
’’مت جایا کر ،ان دوزخیوں کی کوٹھی میں ۔ وہ خود تو گمراہ ہیں‘ تمہیں بھی کر دیں گے۔ کان کھول کر سن لے‘ دوبارہ اُدھر گیا تو ٹانگیں توڑ دوں گا۔‘‘
پپو جانتا تھا کہ با پ یونہی بولتا رہتا ہے۔ اس نے اس کی بات ایک کان سے سنی اور دوسرے سے اُڑا دی۔
پلیٹئر صاحب کی کتیا پورے دنوں پر آئی تھی۔ اس لئے اس کی خوب خدمت ہو رہی تھی۔ کوٹھی کے پچھواڑے ڈربے میں فورسڈ ریسٹ (Forced Rest ) پر تھی۔ اس کے چیک اَپ کیلئے ایک نوجوان ویٹنری ڈاکٹر باقاعدگی سے آتا تھا۔ چند روز بعد اس نے چھ بچوں کو جنم دیا ۔ ماں کے وجود سے لپٹے تھنوں سے لپر لپر دودھ پی رہے تھے۔ کچھ ہی عرصے میں بڑے ہو گئے اور لان میں دوڑنے لگے۔ ان کے جسم پر پشم جیسے سفید لمبے بال اُگ آئے۔ جب پلیٹئر صاحب ان پلوں کو دوست احباب میں بانٹنے لگے تو پپو نے بھی ایک پلے کی فرمائش کر دی ۔پلیٹئرصاحب نے اسے دے دیا۔
چونکہ پپو نے دادی جان سے اصحاب کہف کا قصہ سُن رکھا تھا اس لئے اُس نے کُتے کا نام قطمیر رکھا۔ وہ اسے کاندھے پر اُٹھائے اُٹھائے
پھرتا ۔ اپنے ہاتھ سے اُسے دودھ پلاتا اور اس سے بہت پیار کرتا۔
اس کا باپ ایک ماہ کی پیشہ ورانہ تربیت حاصل کرنے والٹن چلاگیا تھا۔ جب وہ لوٹا تو اُس نے صحن کے کونے میں مٹی اور اینٹوں سے بنا کھُڈا دیکھا۔ اس میں ایک پلا سو رہا تھا۔ ۔
’’یہ کتورا گھر میں کون لایا ہے؟‘‘اُس نے درشت لہجے میں سوال کیا
’’پپو کو پلیٹئر صاحب نے دیا ہے۔‘‘بیوی نے ڈرتے ڈرتے جواب دیا۔
’’کدھر ہے وہ خبیث؟‘‘
’’ذرا باہر نکلا ہے‘‘۔
’’تم نے اسے یہ نجس جانور رکھنے کی اجازت کیوں دی؟ جانتی نہیں ہو جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا۔‘‘
’’رحمت کا فرشتہ تو پہلے بھی اس گھر میں کبھی نہیں آیا ۔۔۔‘‘ وہ بُڑ بڑائی ۔ پھر کسی موہوم امید پر لجاجت آمیز لہجے میں کہنے لگی:
’’پپو دے پیو! کبھی تو بچوں کا دل رکھنے کے لئے تھوڑی سی نرمی دکھا دیا کرو۔دین میں بڑی گنجائش ہے ۔ شکار اور رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی اجازت ہے‘‘
’’تم اپنی بک بک بند کرو۔یہاں کونسا خزانہ ہے جس کی رکھوالی کرے گا؟‘‘
وہ اسے جھاڑ پلا کر بڑے بیٹے کی طرف مڑا۔
’’ طاہری! یہ کتا غائب کر دو۔ دو منٹ کے اندر۔ دوبارہ مجھے یہ پلید یہاں نظر نہ آئے۔‘‘
پھر اسے قریب بلا کر کان میں کچھ کہا۔ اس نے سعادت مندی سے سر ہلایا اور پلے کو اُٹھا کر کوارٹر سے باہر نکل گیا۔
کتا کل سے غائب تھا۔ پپو اسے دیوانوں کی طرح تلاش کر رہا تھا۔ کل سے اُس نے کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔ آج صبح جب وہ ا سکول جانے سے بھی انکاری ہو گیا تو باپ بپھر گیا ۔ اس کے منہ پر ایک زناٹے کاتھپڑ ما رکر اُسے اسکول کے راستے پر چھوڑا اور خود بکتا جھکتا ڈیوٹی پر چلا گیا۔
مشرقی سمت سے اسٹیشن کی حدود میں ایک ایکسپریس ٹرین داخل ہو رہی تھی۔ پلیٹ فارم پر ایک عجیب سی افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ بھاگتے ہوئے قلی، بولائے ہوئے خوانچہ فروش، گھبرائے ہوئے مسافر ۔ مرد ، عورتیں اور بچے۔ پُل کے اوپر بھی لوگوں کی آمدورفت بڑھ گئی تھی۔
پڑوسیوں کا بچہ ٹیڈی ادھر سے گزرا تو پپو کو دیکھ کر رُک گیا:
’’میں بتاؤں تمہارے ابے نے کتا کدھر کیا ہے؟ مال گاڑی کے ڈبے میں ڈلوایا ہے جو کراچی جا رہی تھی!‘‘ اس نے پپو پر جیسے کوئی بم گرا دیا۔
’’جھوٹ مت بولو‘‘ پپو نے بے یقینی سے کہا۔
’’سچ کہہ رہا ہوں۔ اللہ کی قسم ۔ قرآن کی قسم!‘‘
یہ سن کر پپو نے اسٹیشن کی طرف دوڑ لگا دی۔ دو منٹ بعد وہ اس پلیٹ فارم پر تھا جہاں کراچی جانے والی ایکسپریس ٹرین کھڑی تھی۔
اب پپو کا باپ مدت سے عبداللہ شاہ غازی ؒ کے مزار پر بیٹھا دھاڑیں مار مار کر ایک ہی دُعا مانگتا ہے:
’’میکو ہک واری مینڈا پپو ملاؤ ہا۔ میں اُس کوں داہ کتے گھن دیساں!‘‘
(مجھے ایک بار میرے پپو سے ملا دو۔ میں اسے دس کتے لے دوں گا)
***
یہ افسانہ بھی پڑھیں
افسانہ: کباڑیا—-افسانہ نگار: خاقان ساجد

اپنا تبصرہ بھیجیں