نواز شریف کے لیے اچھی خبر،واجد ضیاء نے اپنی کئی غلطیاں مان لیں

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران پانامہ جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیا نے عدالتی اجازت کے بعد سربمہر والیم ٹین سے ایم ایل ایز پڑھ کر جواب د دیتے ہوئے بتایا کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز کی طرف سے فراہم کی گئی اضافی معلومات کی تصدیق کے لیے سعودی حکومت کوخط نہیں لکھااور نہ ہی ان کی طرف سے دیئے گئے کمپنی کے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق کرائی گئی، حسین نواز کی طرف سے دی گئی قرض کی دستاویزات بھی تصدیق کے
لیے سعودی عرب نہیں بھجوائیں،نہ ہی جے آئی ٹی نے حسین نواز سے تفتیش میں پوچھا کہ کمپنی ان کی ذاتی ملکیت ہے یا کسی کے ساتھ پارٹنرشپ پر،احتساب عدالت نے کیس کی سماعت پیر 10 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ جمعہ کو احتساب عدالت نمبر 2 کے جج ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کی۔سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی اڈیالہ جیل سے احتساب عدالت میں پیشی کے لیے لایا گیا۔ سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے واجد ضیا پر جرح کی ۔دوران سماعت واجد ضیا نے عدالتی اجازت کے بعد سپریم کورٹ سے حاصل کیے گئے سربمہر والیم ٹین سے ایم ایل ایز پڑھ کر جواب دیئے۔ واجد ضیا نے بتایا کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کا مکمل نام ہل ماڈرن انڈسٹری فارمیٹل اسٹیبلشمنٹ ہے، تاہم 31 مئی 2017 کو سعودی عرب کو ایم ایل اے بھجواتے وقت انہیں کمپنی کا مکمل نام معلوم نہیں تھا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایم ایل اے ‘ایچ ایم ای’ سے متعلق لکھا، ہل ماڈرن انڈسٹری فار میٹل اسٹیبلشمنٹ سے متعلق نہیں۔واجد ضیا نے بتایا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل بزنس سے متعلق ہے۔انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کو بھجوائے گئے ایم ایل اے میں ہل میٹل اسٹیبلشمنٹکا کوئی بزنس ایڈریس نہیں لکھا گیا اور ایڈریس کے طور پر صرف جدہ لکھا گیا۔سربراہ پاناما جے آئی ٹی نے بتایا کہ 3 جون کو سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے، جنہیں شامل تفتیش کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے حسین نواز کی طرف سے فراہم کی گئی اضافی معلومات کی تصدیق کے لیے سعودی حکومت کوخط نہیں لکھااور نہ ہی ان کی طرف سے دیئے گئے کمپنی کے رجسٹریشن نمبر کی تصدیق کرائی گئی۔واجد ضیا کے مطابق حسین نواز کی طرف سے پیش کردہ بعض دستاویزات عربی زبان میں بھی تھیں۔خواجہ حارث نے واجد ضیا سے سوال کیا کہ آپ عربی سمجھ لیتے ہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ‘میں نے وہاں کچھ وقت گزارا ہے، اس لیے تھوڑی بہت سمجھ لیتا ہوں’۔واجد ضیا نے مزید بتایاکہ تحقیقات میں یہ بات اہم تھی کہ ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ فرد واحد کی ملکیت ہے یا پارٹنر شپ پر چلنے والی کمپنی ہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایم ایل اے میں اس مخصوص سوال کا جواب نہیں مانگا گیا۔خواجہ حارث نے سوال کیا کہ آپ نے ایم ایل اے میں سعودی حکام سے کمپنی سے متعلق کیا معلومات مانگیں؟اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایم ایل اے کا جواب نہیں آیا اور ایم ایل اے بھی سربمہر فولڈر میں ہے،یہ سوال نہیں پوچھا جاسکتا۔واجد ضیا نے مزید کہا کہ دستاویزات کے مطابق یہ کمپنی اسٹیل کے کاروبار سے منسلک ہے۔واجد ضیا نے مزید بتایا کہ حسین نواز کی طرف سے دی گئی قرض کی دستاویزات بھی تصدیق کے لیے سعودی عرب نہیں بھجوائیں اور نہ ہی جے آئی ٹی نے حسین نواز سے تفتیش میں پوچھا کہ کمپنی ان کی ذاتی ملکیت ہے یا کسی کے ساتھ پارٹنرشپ پر۔خواجہ حارث نےسوال کیا کہ کیا جے آئی ٹی نے حسین نواز کے ریکارڈ کیے گئے بیان کا درست ریکارڈ عدالت میں پیش کیا؟ جس پر واجد ضیا نے جواب دیا کہ حسین نواز کی تمام 5 پیشیوں کا مکمل درست ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ حد ہے کہ واجد ضیا ہر بات پر رضاکارانہ بیان دینا شروع کر دیتے ہیں، خود ہی سوال بناتے اور خود ہی جواب دیتے ہیں۔سماعت کے دوران نواز شریفکے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل محمد زبیر خالد کے بار بار گھڑی دیکھنے پر جج احتساب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اب زبیر صاحب نے کلاک کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے ۔جس پر محمد زبیر خالد ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ اب تو دوسری سائیڈ بھی گھڑی کی طرف دیکھ رہی ہے۔انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ جمعے کی وجہ سے سماعت جلد ختم کی جائے۔جس پر جج احتساب عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں تو سوچ رہا تھا کہ نماز جمعہ کے بعد شام پانچ بجے تک سماعت کی جائے۔بعدازاں احتساب عدالت نے کیس کی سماعت پیر 10 ستمبر تک کے لیے ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں