نامحرم محبت (کہانی) قسط نمبر1، محاسن عبداللہ

وہ پچھلے ایک گھنٹے سے اس کے نمبر پر کالز کررہی تھی لیکن دوسری جانب سے مسلسل کال بزی کردی جاتی..
انابیہ عرف انابی بیچاری اب اس وقت کو کوس رہی تھی جب اس نے سعد کے ہزار دفعہ کہنے پر اس کی بات نہیں مانی..
*حریم اور انابیہ* اوپر تلے دو بہنیں تھی.
باپ ایک گورنمنٹ سکول میں بطور لائبریرین تعینات ہونے کے ساتھ ساتھ گھر کے قریب ہی ایک مسجد میں امام بھی تھے..
ماں گھریلو خاتون تھی.عارفہ بیگم کو تو پھر بھی کبھی کبھار اولاد نرینہ کی کمی اداس کردیتی تھی،مگر مولوی صاحب ہر حال میں صابر و شاکر تھے.انھوں نے کبھی بیٹیوں کو اس بات کی کمی محسوس ہونے ہی نہیں دی،یوں چار بندوں پر مشتمل یہ گھرانہ کافی خوشحال زندگی بسر کر رہا تھاانابی اس چھوٹے سے گھرانے کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی تھی.عارفہ بیگم اور مولوی صاحب نے اپنے تمام تر محبت اور تربیت کا مرکز اپنی بیٹیوں کو بنادیا.اور یوں دونوں میاں بیوی نے بیٹیوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی..
اللہ کا کرم تھا اور ماں باپ کی خلوص ، محبت اور تربیت کہ دونوں بہنیں کم عمری میں دنیاوی اور دینی علوم سے آراستہ ہوگئں..
اور کم عمری میں ہی قرآن جیسی مقدس اور عظیم کتاب کی حافظہ بن گئی تھیں
ماں باپ کی دعائیں تھیں اور اللہ تعالی کی خاص عطاء کہ دونوں بہنیں حسن صورت کے ساتھ ساتھ حسن سیرت جیسی زینت سے بھی مالا مال تھیں.ایف.ایس سی کرنے کے بعد حریم گھر میں بیٹھ کر ماں کا ہاتھ بٹانے لگی اور ساتھ ساتھ بچوں کو قرآن کریم بمع تجوید پڑھانے لگی.
جبکہ انابی نے آگے پڑھنے کیلیے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا.
عارفہ بیگم نے بچپن ہی سےدونوں بہنوں کو غیر محرم کی نظروں سے مکمل طور پر خود کو ڈھانپنے کی عادت ڈال دی تھی..
لہذا انابی یونیورسٹی بھی مکمل پردہ کرکے جاتی تھی..
یہ تب کی بات ہے جب انابی نے اپنے ہی ڈیپارٹمنٹ کے لڑکے ارحم کو تپھڑ مارا اور خوب عزت افزائی بھی کی تھی..
ہوا کچھ یوں کہ انابی اور اس کی اکلوتی دوست رمیلہ دونوں کیفے سے نکل رہی تھیں کہ ارحم اور اس کے گینگ نے ان کا راستہ روک لیا تھا.
چونکہ انابی ڈیپارٹمنٹ کی ٹاپ لڑکی ہونے کے ساتھ ساتھ حیاء اور عزت و وقار کی بھی بھرپور مثال تھی.اسی لیے یونیورسٹی کا کوئی بھی لڑکا اسے آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا تھا ٹیچرز سمیت سب اس کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے.
رمیلہ اس کی دوست اپر کلاس کی ایک شوخ و چنچل لڑکی تھی.وہ انابی کی طرح حجاب نہیں پہنتی تھی نہ ہی اس کی عادات انابی کی طرح تھیں یہ الگ بات تھی کہ وہ لبرل ازم کے نام پے بے حیائی اور خرافات سے دور تھی.اور یہی وجہ تھی کے انابی جیسی لڑکی دو سال سے اس کی دوست تھی. وہ اللہ تعالی کی اتنی مہربانی پر حیران رہ جاتی تھی کیونکہ اللہ تعالی نے ہر جگہ ان دونوں بہنوں کو ہمیشہ عزت و اکرام سے نوازا تھا..
کبھی کبھار وہ جب مولوی صاحب سے اس بات کا ذکر کرتی تو مولوی صاحب اسے اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے کہتے اور اسے سمجھاتے کہ “ا نابی بچے یہ جو لوگ ہماری اتنی عزت کرتے ہیں یہ دراصل اس علم کی کرتے ہیں جو ہم نے حاصل کرتے ہیں، اس کلام کی کرتے ہیں جو تمھارے سینے میں ہے..
تم نے پڑھا ہے ںا؟ قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ
*يرفع الله الذين امنوا والذين اوتوالعلم درجات…*
بس بیٹا یہی بات ہے.اللہ تعالی مومینین کی اسی طرح ہی تو درجے بلند فرماتے ہیں.اور تب انابی اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتی کہ اللہ نے اسے اپنے مومن بندوں میں شمار کر رکھا ہے..
یونیورسٹی میں وہ ہر دل عزیز تھی لیکن ارحم چونکہ ایک بگڑا ہوا امیرزادہ تھا جس کے لیے عورت ذات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی..
وہ ان لوگوں میں سے تھا جو یونیورسٹی پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ آئے دن نت نئے افیئرز اور کھیل تماشوں کی لیے آتے تھے..
انابی بھی ارحم کے لیے ایک ٹاسک ہی تھی جو اس نے دوستوں کے کہنے پر پورا کرنا تھا.اور یہی وجہ تھی کہ آج اس نے انابی اور رمی کا راستہ روک لیا تھا.انابی کو اس طرح کے لڑکے، لڑکیوں سے سخت نفرت تھی جو والدین کی عزت اور دولت دونوں سے کھیلتے تھے..
” راستہ چھوڑ…!!! ”
انابیہ نے غصہ سے بھرپور لہجے میں کہا..
ایسے کیسے چھوڑ دیں،مس انابیہ عبید!کبھی ہمیں بھی تو لفٹ کرادیا کریں آخر کب تک ہمیں یوں تڑپائیں گی
ارحم کا یہ لوفرانہ انداز انابیہ کا مزاج برھم کرنے کے لیے کافی تھا..
انابی کو پہلے ہی ارحم ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا اسی لیے اسنے اس کے منہ لگنے کے بجائے رمی کا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے جانے ہی لگی تھی کہ ارحم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا،انابی کو تو جیسے انگارہ چھو گیا اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی اور پھر اس کا ہاتھ اٹھنے میں لمحہ بھی نہیں لگا،اور پھر انابی کا ہاتھ اٹھا..
” تمھاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپ کو ہونہہ. کیا چیز ہو تم، میں تمھاری گرل فرینڈ نہیں ہوں جسے تم چھوؤو گے اور وہ تمھاری دولت کے چکاچوند سے بہل جائیگی،انابیہ عبید ہوں، تم جیسے بھیڑیوں کی نظروں سے اپنی حفاظت کرنا سکھایا گیا ہے مجھے،ایک نمبر کے فضول انسان ہو تم،تمھیں تو لگتا ہے کسی عورت کی عزت کرنا آتا ہی نہیں،لیکن خیر تمھارا بھی کیا قصور سارا قصور تو تمھاری تربیت کا ہے.. ”
انابیہ کا بس نہیں چل رہا تھا کے ارحم کا چہرہ نوچ لے..
” انابی چھوڑو یار دفعہ کرو آو جاتے ہیں یہاں سے ”
رمیلہ نہیں چاہتی تھی کہ معاملہ مزید بڑھے بالا آخر بول پڑی.
اردگرد کافی سٹوڈنٹس جمع ہو گئے تھے اور معاملے کی نوعیت سمجھنے لگے تھے
رحم تو مارے بے عزتی کے جیسے پاگل ہی ہوگیا تھا..
” تم دو ٹکے کی لڑکی تم نے مجھے یعنی ارحم میر کو تھپڑ مارا چھوڑوں گا نہیں میں تمھیں،
ارحم انابی کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا کے پیچھے سے سر قاسم اور سر عبداللہ نے اسے روکا..
کیا مسئلہ ہے یہاں انابیہ ،ارحم آپ دونوں آئیں آفس میں.
” ارحم کیا یہی بات تھی جو انابیہ نے بتائی..”
پرنسپل نے پوچھا..
” جی سر… ”
ارحم جانتا تھا کہ اگر میں جھوٹ بول بھی دوں تو بھی فائدہ کیونکہ زیادہ سٹوڈنٹس وہ تماشہ دیکھ چکے تھے..
ٹھیک ہے انابیہ بیٹا آپ جائیں کلاس میں باقی ہم دیکھتے ہیں..
انابی روتے ںوئے باہر نکلی..
رمیلہ آفس کے باہر ہی کھڑی دکھائی دی..
” ارحم آپکو پتہ ہے پچھلی دفعہ آپکو لاسٹ وارننگ دی گئی تھی لیکن آپ پھر بھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے..
ہم یونیورسٹی میں مذید ڈسٹربینس افورڈ نہیں کرسکتے،یونیورسٹی کی عزت کا معاملہ ہے اسی لیے سر عبداللہ اکاونٹینٹ سے اس کا سب کچھ کلیئر کر دیں اور کل سے ارحم میر کا یونیورسٹی آنا بند… ”
یہ پرنسپل کا فیصلہ تھا جس پر بالا آخر عمل ہو ہی گیا…
” کیا ہوا ہے انابی تم…. تم رو کیوں رہی ہںو سر نے کیا کہا اور ارحم کہاں ہیں…؟
انابیہ یار کیا ہوا تم کیوں رو رہی ہو کچھ بتاؤ تو سہی..
رمیلہ سے زیادہ دیر انابیہ کا رونا دیکھا نہیں گیا تو پوچھ بیٹھی…
” کچھ نہیں یار تم پلیز مجھے گھر ڈراپ کردو.. ”
انابیہ جلد از جلد یونیورسٹی سے نکلنا چاہتی تھی..
” ہاں ٹھیک ہے آو جاتے ہیں ویسے بھی تمھاری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی..”
انابیہ کی طبیعت کے پیشے نظر رمیلہ کو اسکی بات ماننا ہی پڑی..
دوسری طرف یونیورسٹی آفس سے نکلتے ہوئے ارحم اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا..
اس قدر بے عزتی،امیر سے امیر اور حسین سے حسین لڑکی ارحم کی شاندار پرسنیلٹی اور دولت کے آگے ہار جاتی تھی..
اور آج انابیہ ایک دو ٹکے کی لڑکی نے اسے پوری یونیورسٹی میں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا..
انابیہ میڈم جسٹ ویٹ اینڈ واچ دیکھنا کیا کرتا ہوں میں تمھارے ساتھ..
تمھاری اس نام نھاد عزت کو خاک میں نہ ملادیا تو میرا نام بھی ارحم میر نہیں…
ارحم نے انابیہ کو غائبانہ مخاطب کرتے ہوئے کہا…
ادھر انابی اور رمیلہ جونہی انابی کے گھر میں داخل ہوئیں تو حریم کی اس پر نظر پڑی..
” نابی کیا ہوا ہے تمھیں یہ تمھارا رنگ کیوں اتنا اڑا ہوا ہے خیریت تو ہے.. ”
حریم لپک کر انابیہ کی طرف آئی..
جی آپی وہ تھوڑا سا بس بی-پی لو ہںو گیا تھا.. ”
انابیہ حریم کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی اس لیے جھوٹ بول کر انھیں مطمئن کیا..
” ناشتہ کر کہ جاتی تو یہ حال نہ ہوتا لیکن مجال ہے جو تم کسی کی سنو…
چلو تم دونوں جاؤ کمرے میں..
میں تم دونوں کیلیے ملک شیک بناتی ہوں.. ”
حریم ان دونوں کو کمرے میں بجھوا کر خود کچن میں گھس گئی..
” نابی تم نے حریم آپی سے جھوٹ کیوں بولا..”
رمیلہ جو اتنی دیر سے خاموش تھی بول پڑی
” یار میں انھیں پریشان نہیں کرنا چاھتی تھی اس لیئے…”
تم جانتی تو ہںو آپی کتنی حساس ہے اور پھر وہ جاکر امی اور ابا کو بتائے گی اور پھر ابا ضرور یونیورسٹی جائیں گے اور میں ایسا بالکل بھی نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے ابا کو کسی دشواری کا سامنا ہو…
اور سب سے بڑھ کر اس طرح کے حالات میں بابا مجھے بالکل بھی یونیورسٹی جانے نہیں دینگے..
جو کہ میں بالکل بھی پسند نہیں کروں گی…
ور ڈھیر سارا پڑھ کر لائیر بننا میرا خواب ہے..
انابیہ بچوں کی سے انداز میں بولی…”
جوس لاتے ہوئے حریم دروازے میں کھڑی بے یقینی سے یہ سب سن رہی تھی..
اور ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کے انابیہ نے حریم سے جھوٹ بولا تھا….
—————————————————————————————————————————————–
قسط نمبر 2 پڑھیں
نامحرم محبت (کہانی) قسط نمبر1، محاسن عبدالل

اپنا تبصرہ بھیجیں