شعری شاخ سار پر پھول اٹھاتی شاعری (ثمینہ گل)—اکرم کنجاہی

ایک ایسا معاشرہ جہاں عورت کا وجود ’’ہونے‘‘ اور ’’نہ ہونے‘‘ کے دو قطبین کے درمیان پینڈولم کی طرح جھول رہا ہو۔ بے سمت، بے بضاعت اور مرد اساس معاشرے میں ، جہاں نصف آبادی کی تہذیبی اور سماجی اقدار کا تعین ہی نہ ہو سکا ہو، جہاں مذہبی عوامل، سماجی و معاشرتی ضوابط ، رشتوں کی غیر مرئی زنجیریں مزاحم ہوں،جہاں دہن بستگی، خوئے تسلیم اور فرماں برداری اوصافِ حمیدہ بلکہ صنفِ نازک کا زیور مانے جاتے ہوں۔ہندوستان جہاں مرد کے بعد وفا میں عورت کے ستی ہو جانے کی رسم تو مروج تھی، بیوی کا جل مرنا قابلِ عزت تھا مگر بیوی کے مرنے کے بعد وفا دار مرد سے ستا ہونے کی کبھی توقع نہ کی گئی۔ وہاں ایک شاعرہ کی حیثیت سے تخلیقی منظر نامے میں جگہ پا لینا، تشخص قائم کرنا کم تر ذہنوں کا کام نہیں۔ادا جعفری ، زہرہ نگاہ،کشور ناہید، فہمیدہ ریاض ، شبنم شکیل وغیرہ سے پہلے تو اکثر شاعرات نے مخصوص نسوانی جذبات اور احساسات کی ترجمانی کے برعکس مردانہ لب و لہجہ اپنایا۔ مگر اِن شاعرات نے اظہار کے نئے سانچے تلاش کیے۔ مردانہ جبر کے خلاف اپنے اپنے اسلوب اور لہجے میں بے زاری کا اظہار کیا ہے۔ سائمون دبوار نے ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا آغاز اِس عمدہ انداز میں کیا تھا:۔ عورت اِس طرح پیدا نہیں ہوتی جس طرح بنا دی جاتی ہے۔ خدا کا شکر ہے آج دنیا میں کسی میری این ایونز کو جارج ایلیٹ بن کر نہیں لکھناپڑتا۔آج حالات کا ایسا جبر نہیں کہ کوئی سلویا پلاتھ یا سارہ شگفتہ بنے۔اب تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ وہ سمجھ میں نہ آنے والی بھول بھلیاں ، چیستان یا پہیلی نہیں ہے، وہ عقل و شعور ، اپنے حسی اور جمالیاتی تجربات رکھنے والا سانس لیتا وجود ہے۔
رہائی مشرقی عورت کی رہائی کیا
یہاں قفس سے قفس تک اُڑان اور بس (ریحانہ روحی’’عشق زاد‘‘)
ثمینہ گُل بھی شمار بھی معاصر شاعرات میں ایک ایسا نام ہے جس نے لب کشائی کا ہُنر سیکھ لیا ہے،اُس کو اسلوب بدل کر اظہار کی کبھی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔اُس کی خام فکر پختگی کی جانب رواں دواں ہے۔ایک جگہ اُس نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ غالب، اقبال،فیض اور ناصر اُس کے پسندیدہ شعرأ ہیں۔لازمی بات ہے کہ ایک تخلیق کار کسی دوسرے تخلیق کار کا مطالعہ کرنے کے بعد جب اُسے اپنا پسندیدہ شاعر قرار دیتا ہے تو شعوری یا لا شعوری طور پر اُس کی اپنی نگارشات پر بھی کہیں نہ کہیں پسندیدہ شعرأ کے اثرات ضرور مرتب ہوتے ہیں۔غالب فکر کی تنوع اور رفعت خیال کا پہلا عظیم شاعر ہے،اقبال باقاعدہ ایک فلسفی ہے، فیض ترقی پسندوں کے ابتدائی قافلہ سالاروں میں سے ہے۔اُس کی شعری جمالیات اور ترقی پسندی سے ادب کے عام قارئین بھی خوب واقف ہیں۔ناصر کاظمی کا کلام تصنع اور بناوٹ سے مبرا ، سادگی اور روانی سے مملو ہے۔اِن مشاہیر کے فنی و فکری اختصاص کی روشنی میں اگر ثمینہ گُل کے کلام کا جائزہ لوں تو اُس کی شاعری پر متقدمین کے اثرات کی ترتیب یوں بنے گی۔ناصر، اقبال، فیض اور غالب۔اسلوبِ بیاں کے اعتبار سے اگرچہ اقبال اور ناصر دو قطبین ہیں مگر ثمینہ گُل نے اپنے دونوں مرغوب شعرأ کا اثر لیا ہے۔ناصر نے سادہ رواں اسلوبِ بیاں سے جو اُداس فضائیں تشکیل دی تھیں ، محترمہ ثمینہ گُل کی مختصر بحور میں اُس کا اظہار خوب خوب ملتا ہے۔غزلوں کی لے پراُداسی ہر سو بول رہی ہے ۔اقبال کا اسلوبِ بیاں جو اُن کی منفردلفظیات، تلمیحات اور استعارات سے عبارت ہے، غالباََ اُس کا اتباع اُردو شاعری میں مشکل ترین کام ہے۔ثمینہ گُل نے اپنے انداز میں اقبال کی قومی اور ملی فکر کو اپنایا ہے۔موصوفہ کے کلام کا خاصا ضخیم حصہ قومی و ملی شاعری پر مبنی ہے۔مزید براں اُس کے اشعارفیض کے جمالیاتی رنگ میں ڈوبے ہوئے تو ہیں، اِس کے ساتھ کم کم مگر معاشی و سماجی عدم مساوات پر بھی درد مندی کا اظہار ترقی پسند سوچ کا بھی عکاس ہے۔بہر حال متنوع فکریات اور عصری شعور اُس کے کلام میں اساسی خصوصیت نہیں رکھتے۔
۔۔۔
اُس کے استعارے مروجہ اور عام فہم ہیں، علامات قدیم ہیں۔اُس کے استعارے بہت معانی خیز نہ سہی مگر وہ سپاٹ یا ملائمت، ایمائیت اور شعریت سے عاری ہر گز نہیں مگر اُس نے اُن کو معنی خیز بنانے کی کوشش ضرور کی ہے۔اُس نے جذباتی ہیجانات کے اظہار کے لیے یہی مخصوص الفاظ اور استعارے استعمال کیے ہیں۔ثمینہ گُل نے تمام تر شعری استعارے مثلاََ پھول، گلشن،بہار، گھٹا، ساون،دیپ، چراغ، زرد چادر، دھوپ، صحرا، صبا، چاند، سورج وغیرہ مناظرِ فطرت، موسموں اور بہاروں سے کشید کیے،اُس کے ہاں کاغذی پھولوں سے شعری کینوس کی سجاوٹ نہیں بلکہ اُس کے ماحول، مٹی اور گردو پیش میں کھلتے پھولوں اور ترو تازہ شاداب منظروں کی بو باس ۔الغرض اُس نے قدرتی اور فطری رنگِ کائنات کو اپنے کلام میں سمویا ہے۔یہ اُس کا حسنِ سلیقہ ہے کہ اِن مخصوص لفظیات کی وجہ سے ثمینہ کا اسلوب بھی نکھرا نکھرا محسوس ہوتا ہے۔ایسی لفظیات کے انتخاب و استعمال سے نہ صرف اُن کی تخلیقات عمدہ اور دل کش ہوئی ہیں بلکہ اس سے اُس کی شعری ڈکشن کا بھی پتا چلتا ہے۔
اُردو کی بیشتر اصنافِ ادب میں حسن و عشق کا موضوع عورت ہی رہی ہے، ہماری شاعری بالخصوص غزل نے عورت سے محبت کے اظہار ہی سے جنم لیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ایک عرصہ تک شعری اظہار اُس کے لیے شجرِ ممنوعہ رہا۔شبنم شکیل نے کیا خوب کہا تھا کہ
شعر کہتی ہوں مگر یہ شرم دامن گیر ہے
کیا کہوں کیسے کہوں مجھ پہ جو گزرا حادثہ
حقیقت یہ ہے کہ اظہار کی کشمکش ایک مدت تک اُردو کی اکثر شاعرات کا سب سے بڑا مسئلہ رہا مگر ہندی شاعری خصوصاََ گیتوں میں ایسا نہیں ہے، وہاں اظہار صنفِ نازک کی طرف بھی دکھائی دیتا ہے۔ ثمینہ نے ہندی، سنسکرت اور قدیم اُردو الفاظ کا استعمال بھی خوبصورتی سے کیا ہے۔’’دیپک‘‘ کی علامت اُن کے ہاں معنوی اعتبار سے بہت زرخیزی پیدا کر رہی ہے:۔
جل میں نیر بہاتا جاوے تیری یاد میں روتا دیپک
گیت برہ کے گاتا جاوے تیری یاد میں روتا دیپک
کاہے آ کے بے کل کر دے پورب کی یہ پاگل پروا
کاہے پھول رلاتا جاوے تیری یاد میں روتا دیپک
برساؤ آسمان سے نیرنگئ بہار
ساون کی اے گھٹاؤ مرا دل اُداس ہے
زرد چادر اُوڑھ لی ہر پھول نے
آج صبح پر گماں ہے شام کا
جنگل سا اُگ رہا ہے ہمارے وجود میں
کانٹوں میں ڈال کر نہ تو اس کا زوال کر
۔۔۔۔
ثمینہ گُل اپنے طرزِ فکرو احساس ، اسلوبِ بیاں، جذبات و احساسات کی کوملتا یا سلگنے کی کیفیات، اُداسی، تنہائی، احساسِ محرومی اور فرسٹریشن میں الگ نہیں ہے۔اِس کی جذباتی دنیا ، ذاتی ماحول، محسوسات اور تجربات ایک فرد سے متعلق ہیں ۔جن کی عکاسی ایک شاعرہ کی حیثیت سے اُس نے فنی و فکری شائستگی اور لطافت کے ساتھ کی ہے۔اُس کے ہاں سپردگی اور سپردگی کا بے ثمر ہونا، اُداسی اور کبھی کبھی تلخ نوائی یا احتجاج میں تو ضرور ڈھل جاتا ہے مگر بغاوت کا روپ اختیار نہیں کرتا۔اُ س کے کلام کا طائرانہ نظر سے جائزہ بھی یہ واضح کر دیتا ہے کہ اُس کے ہاں سپردگی ہے ، کہیں یقین اور اعتماد کی روشن صبح ہے اور کہیں گمان کی گرد اُڑ رہی ہے ۔البتہ کہیں کہیں شکستہ جذبوں پر،پروین شاکر کے انداز میں بے وفائیوں کا شکوہ و شکایت یہ ضرور ثابت کرتا ہے کہ تخلیقی اظہار میں مرد اُس کا اساسی حوالہ ضرور ہے جو اُس کی شاعرانہ حسیات کے لیے محرک کا کام کرتا ۔جذبوں کی حدت اور شدت کا اندازہ تو نہیں کیا جا سکتا لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ شعری افکار اس کے گنبدِ ذات کی باز گشت ہیں۔اُس کے نزدیک تذکیرو تانیث کی اہمیت نہیں محسوسات کے فنی چابک دستی سے اظہار کا نام شعر گوئی ہے۔ اُس کی شاعری نسوانی شاعری نہیں بلکہ ایک عورت کی شاعری ہے جس کے بغیر سماج اور معاشرے کا تصور ممکن نہیں۔ہاں اس حد تک نسائی جذبات کا اظہار ضرور ہے کہ شاعری کو اعترافی شاعری کہا جاسکتا ہے جس میں اُس نے معصوم خواہشات کو شاعرانہ حسنِ صداقت سے پیش کیا ہے۔ اُس کا اسلوب مروجہ، بے ساختہ اور سادہ ہے۔یوں ژولنگ کا نقطۂ نظر قابلِ توجہ ہے کہ ہر مرد میں نسوانی روح Animaاور ہر عورت میں مردانہ روحAnimus پائی جاتی ہے.دوسری طرف موصوفہ نے توجہ حاصل کرنے کے لیے جنس کا کہیں واشگاف اظہار بھی نہیں کیا۔لفظیات ہوں یا استعارات، اسلوبِ بیاں ہو یا طرزِ احساس اُس کے ہاں مردانہ تیورنمایاں ہیں نہ ہی اُس نے ’’زنان خانے‘‘ میں بیٹھ کر شاعری کی۔اُس نے جنسی بنیاد پر قائم کسی تفریق پر احتجاج کیا ہے اور نہ ہی اُسے قابلِ اعتنا سمجھا ہے۔اُس کی زندگی کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی مشرقیت ہے۔اب اِس بات کی وضاحت وہ خود کر سکتی ہے یا اُس کا قاری اندازہ کر سکتا ہے کہ اظہار میں عدم تسکین تو نہیں اور اِس وجہ سے کہیں اضطراب ، بے چینی یا جھنجلاہٹ تو نہیں۔
بنایا ہے جنہیں میں نے محبت کے گلابوں سے
ترو تازہ وہ گلدستے تمہارے نام کرتی ہوں
انہیں میری محبت کی نشانی تم سمجھ لینا
لکھے ہیں میں نے جو نغمے تمہارے نام کرتی ہوں
اُس نے جو پہلے پیار کی توقیر بیچ دی
ہم نے بھی اپنے خواب کی تعبیر بیچ دی
یہ شوخ سا لہجہ ترا اوروں کے لیے ہے
ہم کو تو ملے بس ترے یہ خار شگفتہ
غیروں نے دئیے پھول جو کالر میں سجائے
اشکوں سے پروتے گئے ہم ہار شگفتہ
ہم کہ ٹھہرے سفیرانِ محبت
غبارِ راہ میں خوشبو ہماری
آسماں سے دیکھو اُتریں پُر نم اور شمائل کرنیں
پیار میں تیرے بنتی جائیں میرے پاؤں کی پائل کرنیں
آنے والے کب تک آخر تیرا رستہ دیکھوں
میری ساری الجھن کی ہے سلجھن تیرے پاس
اُس نے کہا تھا سانس سے لپٹی رہو مرے
میں نے کہا کہ سانس تو جانے کی چیز ہے
۔۔۔
اسے اسلوبِ بیاں کی تہہ داری کہہ لیجیے یا مرصع سازی ، کئی مقامات پر ثمینہ گُل کی ہاں تھوڑا ابہام محسوس ہوتا ہے۔مگر اس کا ایک کمال یہ ضرور ہوتا ہے کہ شعر محض بیانیہ نہیں رہتا۔علامہ اقبال نے Stray Reflections میں لکھا تھاکہ میتھیو آرنلڈ دو ٹوک قسم کا شاعر ہے مگر میں تو شاعری میں کسی حد تک ابہام کو پسند کرتا ہوں ، اس لیے کہ ابہام ہمارے ہیجانات کو گھمبیر کرتا ہے‘‘
ٓجہاں ضروری ہو وہاں علامت کا کام کیمو جلاج کرنا تو ہے مگر ابہام تہہ داری کی حد تک ہی مناسب لگتا ہے ۔ غیر متعین علامتوں کی وجہ سے اہم نقاط پسِ ابلاغ رہ جاتے ہیں تو تخلیق بے معنویت کا شکار ہو جاتی ہے۔
علامتیں بھی وقت کے ساتھ ساتھ کئی معنوی چولے بدلتی ہیں۔ مثال کے طور پر ابتدا میں آئینہ صرف حسن کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ بعد ازاں کن کن تلازمات میں استعمال ہوا ادب کے پڑھے لکھے قارئین خوب واقف ہیں۔علامت تہہ داری اور تاثیر پیدا کرتی ہے۔ جوں جوں اُس کی پرتیں کھلتی چلی جاتی ہیں،جیسے جیسے اُس کی نئی نئی معنوی جہتیں آشکار ہوتی جاتی ہیں، اُس کے پس منظر ، سامنے کے واضح منظروں کی شکل اختیار کرنے لگتے ہیں، علامت کی قوتِ اظہار بڑھتی چلی جاتی ہے۔علامت تفصیل کو اجمال میں سمیٹ لیتی ہے۔ محترمہ ثمینہ گُل نے جہاں مناظرِ فطرت سے علامتیں کشید کی ہیں وہاں تو معنویت کی رنگ رنگ جہتیں واجح ہوئی ہیں مگر جہاں جہاں کچھ علامتیں غیر مانوس ہوئی ہیں وہاں پیچیدگی اور گنجلک پیدا ہوئی ہے۔ابلاغ کے مسائل نے جنم لیا ہے۔
رازِ ہستی میں زمیں ساری تصور نکلی
آسماں اپنے تخیل کا صحیفہ دیکھا
صبح روشن نے اُتاری ہیں ستارہ آنکھیں
شاخِ شمشاد نے گلشن کا دریچہ دیکھا
یہ زمیں بھی گھومتی ہے دائروں کے درمیاں
آسماں سے پھوٹتے ہیں بار بار دائرے
چاک پہ یوں گھومتی ہے زندگی کی داستاں
زندگی کو ڈھونڈتے ہیں داغ دار دائرے
شام کی سرخی پہن کر میں ہوا کے دوش پر
بادلوں کی گود میں دیکھا جہاں دیکھا ہوا
۔۔۔
کبھی جب شاعر غزل کی گفتگو میں دوسرے فریق کو بھی شامل کر لیتا ہے تو یہ گفتگو یک طرفہ نہیں رہتی مکالماتی ہو جاتی ہے۔ہر شاعر کے ہاں غزلیات میں کوئی نہ کوئی شعر مکالماتی رنگ میں ضرور ہوتا ہے، یہ الگ بات کہ ایسے اشعار کبھی بھی یہ سوچ کر نہیں کہے جاتے کہ میں مکالماتی شعر یا غزل لکھ رہا ہوں۔اگر ایسا ہو تو غزل تاثیر سے خالی، بے جان اور بے روح لکڑی کا ٹکڑا بن جاتی ہے۔اُردو ادب میں مکالماتی غزل کا رواج نیا نہیں ہے۔محترمہ ثمینہ گُل نے بھی ایسی غزلیات کہی ہیں کہ جن میں دو افراد کے درمیان مکالمہ ہے۔مکالماتی اُردو غزل کے غالب رجحان کی طرح اُس کے ہاں بھی مکالماتی غزل کا بنیادی موضوع محبت ہی ہے۔ ایک شخص مصرعہ اولیٰ میں سوال کر رہا ہے اور دوسرا مصرعہ ثانی میں جواب دے رہا ہے۔ اُس کی ایک مکالماتی غزل ملاحظہ فرمائیے:۔
میں نے کہا کے چاند کی روشن مثال دو
اس نے کہا کے آنکھ سے چلمن ہٹا کے دیکھ
میں نے کہا کے رات کے آنچل میں کون تھا
اس نے کہا کے زلف پہ شبنم گرا کے دیکھ
میں نے کہا کے ہجر کی شاخوں پہ پھول کیوں
اُس نے کہا کے دید کی خوشبو ملا کے دیکھ
میں نے کہا!کے ریت کے پہلو میں کیا چھپا
کہنے لگے کے دھوپ کی چادر بچھا کے دیکھ
میں نے کہا!یہ موج سے دریا کا کیا ہوا
کہنے لگی کے سیپ کے موتی میں آکے دیکھ
میں نے کہا!کے دیپ کے دامن میں کیا جلا
اس نے کہا کے آہ کو دل میں دبا کے دیکھ
۔۔۔
موصوفہ نے اپنے بنیادی موضوعات کے ساتھ کئی مقامات پر کلام کو ایسی صداقتوں سے بھی آشنا کیا ہے جن کا تعلق ہمارے سماجی اورمعاشرتی رویوں سے ہے۔اُس نے کربِ ذات کے بین بین جدید رجحانات پر بھی کم ہی سہی مگر اشعار ضرور کہے ہیں۔عصری رجحانات کی نقش گری کے بغیر فن پاروں کی سماجی قدر و قیمت متعین نہیں کی جا سکتی۔ ثمینہ کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ جگ بیتی کی پرچھائیاں بھی سفرِ زیست کا حصہ ہیں۔لہذا اُس نے عصر موجود سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا۔یوں اُن کے ہاں زندگی اور زندگی کے سارے نہ سہی کچھ نہ کچھ حوالے ضرور ملتے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ بطور تخلیق کار اُس نے عصر سے اپنا رشتہ ٹوٹنے نہیں دیا۔
مکرو فریب لے کر ہر شخص دیکھتا ہے
دل سب سے بھر گیا ہے تنہائی چاہتا ہے
تہمتیں دوسروں پہ دھرتے ہیں
بات کرتے ہیں پارسائی کی
نوچ ڈالے ہیں تتلیوں کے پر
وحشتوں کا یہ سلسلہ دیکھا
ہائے کیسے زندگی کو وہ ترستا رہ گیا
خاک پر اُترا مجسمہ خاک داں جیسا لگا
یہ کیسی دھوپ اُتری آسماں سے
کہ سایہ بھی جدا ہونے لگا ہے
۔۔۔
ثمینہ گُل نے غزل اور نظم دونوں میدانوں میں طبع آزمائی کی ہے مگر وہ بنیادی طور پر غزل کی شاعرہ ہیں ۔اُن کی غزل و نظم میں فکری ہم آہنگی ہے۔اُن کی غزلیں عمومی طور پر داخلیت کی ترجمان ہیں اور اس میں لطافت، شعریت اور حسنِ بیاں موجود ہے۔عمومی طور پر اُس نے آج کے مروجہ فکری رجحانات سے پہلو تہی کی ہے لیکن کلام میں ایسے اشعار ملتے ہیں جو ترقی پسندانہ سوچ کا مظہر ہیں۔اُس کے ہاں واضح عصری رجحانات زیادہ نہیں ہیں مگر اُس کا کلام روحِ عصر سے یکسر تہی بھی نہیں ہے۔
ایک انسان دوست شاعر کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اُس کے ہاں سیاسی، سماجی اور معاشی شعور بھی جلوہ ریز ہوتا ہے۔وہ اپنے کلام کے ذریعے سماجی بے چینیوں کو زبان دیتا ہے۔’’مرقع چغتائی ‘‘ کے انگریزی پیش لفظ میں علامہ اقبال ؒ نے لکھا تھا’’انسانیت کے لیے موجبِ خیر و برکت بننے والا فنکار زندگی سے مزاحم رہتا ہے اور اپنی روح میں زمان و کونین محسوس کرتا ہے‘‘
۱۹۳۶ ؁ء میں ترقی پسند تحریک نے منجمد معاشرے میں تموج پیدا کیا۔سماجی، معاشی اور جنسی عدم مساوات کے خلاف قلمی جہاد کیا۔اس تحریک کے ذریعے مرد ہی نہیں خواتین اہلِ قلم نے بھی اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم کروایا۔انہوں نے اظہارِ ذات کے ساتھ ساتھ سماجی قدغنوں اور فرسودہ رسم و رواج کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔معاشرے اور سماج میں جب تک بے انصافی ، ظلم اور جبر ہے۔وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، ترقی پسند تحریک رہے یا نہ رہے مگر صدائے احتجاج کسی نہ کسی رنگ میں بلند ہوتی رہے گی۔اِ س کا آغاز حقیقتاََ ادا جعفری سے ہی ہو گیا تھا ۔ شعرا و ادبا نے کوشش کی تھی کہ ادب علامتوں اور استعاروں کا پیچیدہ کھیل نہ بن کر رہ جائے بلکہ اعلیٰ مقصدی اقدار کے استحکام کیں کردار ادا کرے۔انسانیت سے پیار کرنے والے چاہتے ہیں کہ دنیا امن و امان کا گھر ہو، کہیں عدم مساوات، ڈر ، خوف اور دہشت نہ ہو۔دنیا جنگوں سے محفوظ ہو۔میرے گھر میں چراغاں ہے تو سامنے والے مکان میں بھی قمقمے روشن ہوں۔
یہاں بھی ثمینہ گُل نے عورت پر ڈھائے گئے ظلم کی بجائے انسان پر جبرِ ناروا اور معاشرتی و سماجی عدم مساوات کی بات کی ہے۔وہ گھر گھر دیا روشن دیکھنے کی آرزو مند ہے۔وہ پسماندہ انسانوں کے دکھ درد بانٹنا چاہتی ہے۔ زندگی کے کڑی دھوپ میں اُن کے سر پہ خنک سائبان دیکھنا چاہتی ہے۔ دیگر بہت سے شعرا کی طرح اُن کے ہاں بھی دیا آسودگی، اطمینان ، خوشی اور زندگی کی سہولتوں کی علامت کے طور پر آیا ہے ۔
چنتی رہی ہے رزق جو بچوں کے واسطے
کل وہ گلہری مر گئی گھر لوٹتے ہوئے
تاریک راستوں میں کوئی تو چراغ ہو
تیرہ شبی میں کوئی تو روشن مثال کر
۔۔۔
قومی درد، احساس اور سوچ یعنی قومیت کا احساس بھی ہمارے تخلیقی شعور کا راہنما بن سکتا ہے۔وطن کی محبت اگر ہمارے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے ہو تو اُس کا جمالیاتی اظہار بھی فنونِ لطیفہ خاص طور پر شعر و ادب میں دکھائی دیتا ہے۔ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے عمدہ بات کہی تھی کہ اگرچہ چودہ کروڑ آبادی کو جو مملکتِ پاکستان میں بستی ہے ؛ ایک قوم مان لیں تو لازماَہمیں اِس کے لیے ایک ایسے ادب کی ضرورت ہے جو جذبۂ قومیت کا عکاس ہو، جو اُس کی امیدوں اور محرومیوں کا آئینہ دار ہو ۔ جو پاکستان کے استحکام میں معاون ہو اور اِس کی بنیادی اقدار کو قائم کرے‘‘ اپنی معرکہ آرا کتاب ’’جمہوریہ‘‘ میں شاعر اور شاعری کی تمام تر مخالفت کے باوجود افلاطون نے قومی و ملی شاعری کی اہمیت سے انکار نہیں کیا تھا۔وہ چاہتا تھا کہ شعرأ فطرت کی نقالی کرنے کی بجائے اپنی قوم کے بہادروں کے گیت گائیں اور اُن کا حوصلہ بڑھائیں۔
ثمینہ گل نے اگرچہ متنوع موضوعات نہیں اپنائے مگر اُس نے حبِ وطن کے جذبے میں گندھے، فنی خوبصورتیوں سے آراستہ اشعار ضرور کہے ہیں۔وطن سے محبت کے رشتوں کی تہذیب کی ہے ۔قارئین کے دلوں پر اِس بے پایاں محبت کی نقش گری کی ہے، جذبے اور خلوص کی فراوانی ہے۔ اُس کے تخلیقی پیکروں میں وطن اور اہلِ وطن سے پیار کے خدو خال کی نمود خونِ جگر سے کی ہے۔
کہا گُل نے عقیدت سے وطن کی چوم کر مٹی
میں اپنے چاندسے بیٹے تمہارے نام کرتی ہوں
سینچا تھا جس نے خون سے نقشہ زمین پر
اہلِ وطن نے آج وہ تصویر بیچ دی
خورشیدِ وطن کو انہی ہاتھوں سے اُجالا
ہم چاند ستاروں کو بھی تسخیر کریں گے
اقبال کے شاہین ہیں شہباز اُسی کے
دیکھے ہوئے ہر خواب کی تعبیر بنیں گے
۔۔۔
ثمینہ اپنا لہجہ بنانے میں کوشاں ہے۔ اُس کے باطنی ارتعاشات اشعار میں ڈھل چکے۔وہ ہجر ووصال کے موسموں کے ذائقے سے آشنا ہو چکی ہے۔اظہارِ ذات کا مرحلہ اُس نے کامیابی سے طے کر لیا ہے۔وہ مستقبل میں امکانات کے چراغ روشن کرتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ہمیں انتظار ہے ، اُن سعید ساعتوں کا جب وہ اپنی کلاسیکی شعری لطافتوں اور نزاکتوں کو عصر موجود سے ہم آہنگ کر کے نئے شعری پیکر تراشے گی۔اُس نے بنیاد ڈال دی ہے۔وہ سبک رفتاری مگر مستقل مزاجی سے خود آشنائی سے عصری آگہی کی طرف بڑھ رہی ہے۔لہذا ہر با شعور قاری کو اُس سے بہت سی ادبی امیدیں وابستہ ہیں ۔اُس کی طرح قاری بھی امید اور انتظار کے دریچوں سے جھانک کر اُس کی طرف دیکھ رہا ہے کہ وہ اپنی روحِ احساس کا حق ادا کرے گی۔
شاعرہ
samina gul
صاحب مضمون
akramkunjahi
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں