شوزیب کاشرکی کتاب خمیازہ کی تقریب رونمائی اور پڑھے جانے والے مضامین

دو ہزار پندرہ کے تقریبا وسط میں میں راولاکوٹ میں جب تنہائی کاٹ رہا تھاتو نوائے وقت کے ایڈیٹر اور جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کے صدر یہاں تشریف لائے میں نے ان کے اعزاز میں ایک مشاعرہ رکھا وہاں باقی شعرا کے ساتھ ایک گول چہرے والا لڑکا قدرے گورے رنگ کا، ناک پر نظر کی عینک ٹکائے آیا۔قدیہی کوئی ساڑھے 5 فٹ موٹا، لیکن بھلا موٹا یہ نہیں کہ توند نکلی ہوئی تھی۔میں نے نام پکارا کہ شوزیب کاشر اب اپنے کلام سے نوازیں گے تو وہی گول چہرے والا بازو پر کڑے چڑھائے ہوئے اٹھا اور ڈاکو نے دیکھتے دیکھتے مشاعرہ لوٹا، لوگوں نے بصورت_داد شور مچایا۔بطور_ شاعرحسد اور خوشی کی ملی جلی کیفییات سے میں نے بھی اسے داد دی۔پھر مشاعرہ ختم ہوا وہ اپنے گھر میں اپنے۔کوئی دو ماہ بعد کسی اور مشاعرے میں جانا ہوا تو اس گھبرو کو دیکھ کر مجھے پھر لاچاری ہوئی کہ یہ یہاں بھی؟؟؟خیر اس روز اس کی تازہ شاعری سننے کو ملی۔مجھے محسوس ہوا یہ بندا خدا کرب سے لبا لب بھرا پڑا ہے یہ شعر نہیں دکھ درد اگلتا ہے،بیچارے کی جان پر بنی ہوئی ہے سو اس پر رحم آنے لگا پھر محبت ہو گئی۔شوزیب کاشر جتنا اچھا شاعر ہے اتنا اچھا انسان بھی ہے۔درد مند ہے بہت کافر قسم کا مذہبی ہے مثلا دھریوں سے دوستی نہیں رکھتا خاموشی سے قطع تعلق کر لیتا ہے۔کائنات کی فلاسفی آف ایگزسٹنس کو انڈرسٹینڈ کرتا ہے مثلااپنی یا اپنوں کی موت سے ڈرتا نہیں ۔نا واویلا کرتا ہے۔لگتا ہے کہ کسی زمانے میں کار_عشق کیا ہو گا لیکن جارج برناڈ شاہ کی طرح رومینٹک امیجینشن کی بجائےرئیلاسٹک اپروچ دیکھ کر یہ خیال اپنی موت آپ مر جاتا ہے۔لیکن ایسا بھی نہیں کہ یہ نان رومینٹک شاعر ہے۔بعض دفعہ شعر اور شعریت کو رومینٹیسیزم کے اوج پر لے جاتا ہے۔مغربی رومانوی شاعر ولیم وورڈز ورتھ کی خو بھی رکھتا ہے اور شعر کی رگڑائی کرتے دیکھ کر جواں سال مغربی رومانوی شاعر جان کیٹس جس کو کلاسیکل رومانٹسٹ بھی کہا جاتا ہے کا گماں بھی گزرتا ہے۔جس نے ایک بار اپنے سینیر دوست پی بی شیلے کو خط میں لکھا کہcurb your magnanimity and be more of an artist and chissle your phrases.
شوزیب کاشر محض ایک خوبصورت جوان لڑکا نہیں بلکہ یہ کشمیری شعری دبستان کے نوجوان شعرا کا چہرا ہے۔اور اس چمکتے دھمکتے چہرے پر شیر تا بٹیر سب کو فخر ہے۔میں نے اس شخص کو ساری ساری رات جاگتے،محنت کرتے دیکھا ہے۔جھبی آج بطور_نوجوان شاعر میں پوری ذمہ داری اور کھلے دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ شوزیب کاشر نے حرف کی عزت پر آج تک کوئی حرف نہیں دیا۔یہ شاعری کے سارے پروٹوکول اور ڈیکورم سے واقف ہے۔یہ یہ بات جانتا ہے کہ کیا نہیں لکھنا۔as poetry is an art of unsaid .what to keep outside the poem.he plays camouflage technique with his readers.
عموما شعراء کو تخلیق کے عمل میں قافیہ تنگ کرتا ہے لیکن شوزیب بھائی کو میں نے دیکھا ہے کہ یہ قافیہ کو پٹخ پٹخ کر مارتا ہے۔یہ یاروں کا یار ہے۔ہم راولاکوٹ آئیں یا یہ پنڈی ہمارے پاس جائے اس سےطے ہے کہ میزبان بہر حال یہی ہو گا۔المختصرشوزیب کاشر کی دوستی میں فوائد ہی فوائد ہی ہیں۔ایسی دوستی ہے جس کو ضبط تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔میاں محمد بخش نے کہا تھا۔
یار مرے نے تحفہ گلیا کابل دی کستوری
جاں کھولاں تے ہلے آون جد تولاں تے پوری
شوزیب کاشر کے بارے میں یہ فیصلہ کرنا میرے لیے بہرحال مشکل ہے کہ یہ جدید رومانوی شاعر ہے یا روایتی۔لیکن یہ کبھی کبھار روایت اور جدت کا جو امتزاج پیش کرتا وہ دوسرے لکھنے والوں سے 180 کے زاویے پر ڈیوی ایٹ کرتا ہے۔یہ رومانویت کے عمومی رویے کو بعض دفعہ الٹا لٹکاتے ہوئے نظر آتا ہے
مثلا شاعر ساری عمر محبوب سے قرب کا تقاضا کرتے رہتے ہیں جب کہ یہ دھکے دے کر گھر سے باہر نکالتے ہوئے کہتا دکھائی دیتا ہے
ہے کون رکاوٹ جو تجھے روک رہی ہے؟
میں نے تو میری ذات بھی ڈھا دی ہے چلا جا
یوں نہیں کہ یہ کھڑتل مزاج ہے بعض دفعہ نا تجربہ کاروں پر کمال شفقت فرماتے ہوئے یہ بہت نرمی بھی اختیار کرتا ہے۔ قطع تعلق کرنے والوں کو ہاتھ جوڑ کر منت کرتا بھی دکھائی دیتا ہے کہ
ہمیں پتہ ہے جدائی کے بعد کا عالم
بچھڑنے والا اگر دے صدا تو سن لینا
دل محلے میں آنے والوں یا آنے کی خواہش رکھنے والوں کے لیے خطرے کا بورڈآویزاں کیے ہوئے ہے کہ
تو اس کا عادی نہیں ہے سو احتیاط سے چل
ہمارے گاوں کی پتھریلی ہے زمیں میرے دوست
میں اتنا ہی لکھ ،کہہ سکتا تھاباقی قضیے باقی مکالہ نگار نبھیڑتے رہیں گے۔
ہاں ایک بات۔سامعین آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ میں نے اس مضمون کو کوئی نام نہیں دیا۔۔۔میں یہ مضمون لکھ رہا تھا اور عنوان دیا کہ”شوزیب کا شر کی خمیازہ”میری ایک انگلش سپیکر سٹوڈنٹ نے یہ دیکھ کر پوچھا سر یہ خمیازہ آپ کے دوست کی منگیتر ہے یا بیوی؟؟میں نے کی خمیازہ پر اسی وقت پنسل پھیری اور “شوزیب کاشر” رہنے دیا۔اس نے پھر جوڑ بنا بنا کر پڑھا۔۔شوزیب ۔۔۔کا۔۔۔۔شر۔میں نے اس کو بھی کاٹ دیا اور مضمون کو بے نام ہی رہنے دیا۔

محمد صداقت طاہر

===========================

اگر میں حلول کا عقیدہ رکھتا تو کہتا کہ حضرت جون ایلیا کو اردو شاعری سے جوعشق تھا،عدم آباد پہنچ کر بھی اس کی تسکین نہ ہو پائی تو انھوں نے شوزیب کاشر کی صورت میں نیا جنم لیا ہے۔صاحب طرز شاعر جون ایلیا کا نیا ایڈیشن شوزیب کاشر کی صورت میں ہمارے سامنے ہے،میں ان سطور میں ان اشعار کا خمیازہ بھگت رہا ہوں جو میں نے”خمیازہ”میں بڑی وارفتگی سے پڑھے ہیں۔کشمیر کی سرسبز وادیاں ہوں کہ بلند وبالا پہاڑ،بہتے جھرنے ہوں کہ بل کھاتے دریا،ہر صاحب دل کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں۔”خمیازہ”راولاکوٹ آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے نئی نسل کے نمائندہ شاعر شوزیب کاشر کا تازہ شعری مجموعہ ہے جو چند روز قبل منظر عام پر آیا ہے،اس مجموعہ کلام میں سڑسٹھ غزلیات اور کچھ اشعار ہیں۔شوزیب کاشر نے کتاب کا انتساب اپنی والدہ اور بڑے بھائی توصیف ترنل کے نام کیاہے جوکہ بہت اچھی روایت ہے۔کتاب میں قدیم شعراء کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سب سے پہلے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ھدیہ نعت کو رکھا گیا ہے۔کتاب میں شامل سبھی غزلیں معیاری ہیں،گہرے مطالعہ کی بنا پر شوزیب نے لفظوں کے انتخاب میں دقت نظر کا ثبوت دیا ہے،نفسیات کے باب میں شوزیب نے بعض ان حالتوں کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ جہاں بڑے بڑے”صاحبان نظر بھی دھوکا کھا جاتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ شوزیب نے “جون”کا مطالعہ بڑی احتیاط سے کیا ہے،بعض مقامات پر تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر حضرت جون ایلیا آج زندہ ہوتے تو شوزیب کاشر کا ماتھا چوم لیتے ۔میرے پیش نظر یہاں شوزیب کی شاعری کی خصوصیات بیان کرنا نہیں بلکہ ان سطور کے ذریعے اسے مبارک باد پیش کرنا ہے ،سو شوزیب کاشر کو یہ نیا شعری مجموعہ مبارک ہو۔

بشارت تنشیط

===========================

ضدی بچے کا ــ ’’ خمیازہ‘‘
مشتاق بخاری

شوزیب کاشر کے شعری مجموعہ ’’ خمیازہ‘‘ کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا

اگر مشاعرے کے دوران شاعر کو پہلے ہی مصرعے پہ زور دار بلکہ خوف ناک انداز میں ’’واہ واہ‘‘ کی صورت میں داد دیتا ایک نوجوان جسے دنیا شوزیب کاشر کے نام سے جانتی ہے منفرد د انداز میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلاتا ہے۔ اس کی واہ واہ سے پہلے تو شاعر کا دل یک دم دہل جاتا ہے۔ پھر وہ خو ف کی مختلف منازل طے کرتے کرتے داد د ینے والے کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھتا ہے ۔مگر جب شاعر کی نظراس کی دلنشین مسکراہٹ پہ پڑتی ہے تو وہ دوسرا مصرعہ پڑھنے کا حوصلہ پیدا کرہی لیتا ہے اور دھیرے دھیرے خوف ناک داد میں چھپی اپناہیت اسے اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے ۔ کہیں شاعر تو محض اس لیے مشاعرہ پڑھنے نہیں آتے کہ نہیں بھئی شوزیب کی داد سہنے کی ہم میں تاب نہیں۔ مگر کتنے ہی شاعر اس کی داد کے ایسے گرویدہ ہو جاتے ہیں کہ کہیں اور مشاعر ہ پڑھنے جائیں تو پوچھ بیٹھتے ہیں کہ بھئی پہلے یہ بتائیے کہ وہاں شوزیب کی طرح داد دینے والا کوئی ہو گا کہ نہیںاورا یک اندازے کے مطابق اس طرح کے سوالات کرنے میں شاعرات کی تعداداچھی زیادہ ہوتی ہے۔

آخر یہ شخص کون ہے جس کی داد کے انداز کا شہر ہ ہے جو دیکھنے میں ماڈل لگتا ہے، ڈرامے یا فلموں میں ہیرو بھی آسکتا ہے۔ ایک خوبرو نوجوان، رنگ سفید (ایک اضافی نمبردے کر)، ناک پہ چشمہ اٹکائے، عموما سیاہ رنگ کی قمیض پہنے، بھاری آواز، قد درمیانہ، وزن مناسب، انگلیوں میں سیلمانی عقیق کی انگوٹھی سجائے، آستینیں اوپر کیے ہوئے اور ہاں کلائیوں میں بہت سے ’’کڑوں‘‘ کا بھار اٹھائے ( جن کی تعداد کا حتمی تعین ابھی تک نہیںہو سکا ) آپ کو مشاعرے میں موجود سامعین کی دوسری یاتیسری قطار میںبیٹھا ہوا بآسانی نظر آجائے گا کیونکہ وہ خود نمائی کی لت میں مبتلا نہیں ہے اور کبھی اگلی قطاروں میں زبردستی ٹھنس کے بلانے پر بھی نہیں بیٹھتا۔جو سامعین اس سے واقف نہیں ہوتے وہ اس غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں کہ یہ نوجوان بھی ان ہی کی طرح مشاعرے میں بطور سامع ، محظوظ ہونے اور داد دینے آیا ہے۔ مگر جب اسٹیج سے اس کا نام مشاعرہ پڑھنے کے لیے پکارا جاتا ہے تو وہ سامعین کی صفوں سے چپکے سے اٹھ کر فن کی کلیاں بکھیرنا شروع کر دیتا ہے۔اپنے کمال فن سے اکھڑے ہوئے مشاعرے کو بھی اپنے توانا لہجے،، جداگانہ اسلوب، کلام کی پختگی ، نُدرت اور ترنم سے جما نے کا ہنربخوبی آزماتے ہوئے داد و تحسین کے پھول سمیٹنا شروع کر دیتا ہے۔

میں بنجوسہ کی جھیل کنارے سجی وہ خوبصورت شام بھلا کیسے بھول سکتا ہوں۔ جب کچھ سال پہلے پونچھ ادبی سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک مشاعرے میںشرکت کا شرف حاصل ہوا تو شوزیب کاشر سے پہلی بار ملاقات ہوئی۔پھر اس کے بعدملاقاتوں کاسلسہ کسی نہ کسی صورت نکلتا چلا گیا اور اس کی فن اور شخصیت کے پرت کھلتے چلے گئے ہیں۔ حق دوستی تو نہیں بہرحال ایک تعلق ضرور ہے جس کا ’’خمیازہ‘‘ بھگتنے کے لیے بلکہ ’’ برتنے ‘‘ کے لیے ہم سب یہاں موجود ہیں۔

شوزیب کاشرکی خوش قسمتی ہے اس نے جس گھرانے میں آنکھ کھولی وہاں شعر و سخن سے شغف کا چلن پہلے سے ہی موجود تھا ۔جس کا اس نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔اگرچہ اس کو والد صاحب کی طرف سے ستائش کی تمنا رہے ۔دیکھئے کب پوری ہوتی ہے؟ جب بچوں کے کنچے یعنی ’بنٹے ‘ کھیلنے کی عمر ہوتی ہے یا ایک مخصوص گھر کی طرف گیند بار بارپھینکنے اور دوڑ کے واپس لانے کے بہانے بنانا ان کا محبوب مشغلہ ہوتا ہے اس عمر میں ہی وہ مصرعوں کی بنت میںمصروف عمل ہو گیا اورمیٹرک میں ہی اپنا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پہ لا کر اور ایوارڈ جیت کر سب کو حیران کر گیا۔

خا ندان میں سب سے چھوٹا اور ’’گگلو ، گول مٹول‘‘ بچہ ہونے کے ناتے وہ ددھیال اور ننھیال کی آنکھ کا تارا بن گیا۔سیانا ایسا تھا کہ جب اس نے دیکھا کہ بھئی یہ لوگ تو میرے ناز اٹھاتے نہیں تھکتے تووہ ضد اور من مانی کرنے لگا۔اس کی پہلی ضد اپنی مرضی سے پڑھائی کرنا تھی۔ رزمک کالج میں داخلہ ٹھکرا کر ایک دینی مدرسے میں چلے جانا حیرت سے خالی نہیں ہے کیونکہ ہمارے ہاں تو یہ چلن عام ہے کہ دینی مدرسے میں اسی بچے کو بھیجا جاتا ہے جو قدرے ’’نکما ‘‘ ہو جس کا نتیجہ ا مدرسوں سے علماء کی بجائے ملاوٗں کی کثیر تعداد میں ترسیل ہے ۔ مگر شوزیب وہاں سے بھی Typical مُلا بن کے نہیں نکلا بلکہ علم عروض پر پختگی ، خدا کے وجود پہ یقین کامل اور عشق نبی کریم ﷺ کی نعمت سے سرشار ہو کے آیا۔اس کی نعتوں کا مجموعہ اور نعت گوئی میں کمال سخن اس امر کا بہترین ثبوت ہے۔ یہاںیہ زکر بھی کرتا چلوں کہ شوزیب کی کچھ شاعر دوستوں سے اس وجہ سے نہیں بن پائی کہ وہ آج کے مروجہ فیشن کے طور پر خدا کے وجود پہ میم میخ نکالتے تھے جو شوزیب کو کسی طور قابل قبول نہیں تھی سو اس نے تعلق محدود کر لیا ۔

اس کا ضدی مزاج شعر گوئی میں بھی اس کے ساتھ رہتا ہے۔ ایک طرف ہم جیسے شاعر ہیں کہ غزل کے پانچ سے سات اشعار ہو جائیں تو قلم کی سانسوں کے ساتھ اپنی سانسیں بھی پھول جاتی ہیں اور دوسری طرف شوزیب کا کمال فن ہے کہ پچاس ساٹھ اشعارپہ مشتمل غزل یوں کہہ دیتا ہے جیسے اس کے بائیں ہاتھ کاکھیل ہو۔وہ ایسے ایسے قافیے ڈھوند کے لاتا اور ان کو چن چن کے باندھتا ہے کہ قافیے بیچارے چھپتے پھرتے ہیں۔

’’سیاہ رنگ کادلدادہ‘‘ محفل آرائی کا شوقین، اپنی حاضر جوابی، لطیفہ گوئی اور فی البدیع گفتگو کے باعث قوس قزح کے رنگ بکھیر دیتا ہے۔ گفتگو نپی تلی کرتا ہے مگر چند جملوں کی فضول خرچی کا مرتکب پا یا گیا ہے۔ جیسے ’’ مطلب یہ ہے کہ ‘‘ ’’ دیکھیں نا اصل میں ‘‘ ، ’’ بالفرض کیا ‘‘ وٰغیرہ وغیرہ

سیر و سیاحت کا شوقین ہے۔ مشاعروں میں جانا ہو یا گھومنے پھرنے دوستوں کی دی گئی دستک پرفورا حاضر ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ تو گھر والے آٹا لینے مارکیٹ بھیجتے ہیں اور جناب مشاعرہ پڑھنے ’’اکرم آباد‘‘ ( لائن آف کنٹرول کے قریب دور افتادہ گائوں) پہنچ جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کے یاد آتا ہے کہ او ہو گھر والوں نے تو آٹا لینے بھیجا تھاتو ہنستے ہوئے خود کلامی کرتا ہے کہ خیرہے کچھ نہ کچھ بندوبست کر لیں گیــ‘‘۔ دوستوں کے ساتھ ساری رات جاگ کر محفل آرائی کرتا ہے اور دوسرے دن ایسا فریش رہتا ہے کہ دوستوں کو حیرت اورکبھی کبھی جیلسی بھی ہوتی ہے۔ وہ بظاہر شوخ طبعیت کا حامل ہے ۔ مگر اندر سے ہراہل قلم کی طرح حساس ، ہمدرد، درد دل رکھنے والا شخص ہے۔اس کے لیے انتظار کی سولی پہ ٹنگا ایک لمحہ بھی صدیوں پہ بھاری ہوتا ہے۔

بلا کا گوشت خور ہے۔ ایک بار کسی دوست نے پوچھ ہی لیا کہ آپ گوشت کھا کھا کے کبھی بیزار نہیں ہوتے تو جواب دیا ’’ہاں ہوتا ہوں نہ یار‘‘۔ تو پھر کیا کھاتے ہیں ، جواب دیتا ہے ’’پھر گوشت کھاتا ہوں‘‘۔

عموما شادی شدہ شعرا کی شکایت یہ ہوتی ہے کہ بھئی گھر میں ہماری شاعری کی کوئی خاص و قعت نہیںہے اوراکثر مشاعروںمیں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیگم کی طبعیت جو در اصل موڈ کا اچھا نہ ہونا ہوتا ہے بتاتے ہیں مگر شوزیب اس معاملے میں بھی بڑا خوش قسمت واقع ہوتا ہے۔اس کی بیگم علم ریاضی کی ماہر تو ہیں ہی اوپر سے سخن فہم بھی ہیں ۔ان کی طرف سے نہ صرف داد ملتی ہے تنقید ہوتی ہے بلکہ دبی تقریبات اور دوستوں کی محفل میں شرکت کی بلا ’’ ناک چڑھائے ‘‘اجازت بھی دے دیتی ہیں۔ ایک دفعہ شوزیب پہ غزل کی آمد ہو رہی تھی۔ بیگم صاحبہ غورسے دیکھ رہی تھی کہ صاحب صحن یعنی ’’ بہڑے ‘‘ میں ٹہل رہے ہیں۔ زیر لب شاید کوئی ورد بھی کر رہے ہیں۔ سر بھی دھن رہے ہیں۔بیگم نے پوچھا ’’کیا معاملہ ہے‘‘ تو جواب دیا کہ’’ غزل کی آمد ہو رہی ہے۔ چپ رہنا اور مجھے ڈسٹرب نہیں کرنا‘‘۔ بیگم صاحبہ فرماں برداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خاموشی سے بیٹھ جاتی ہیں اور تماشا دیکھنے کے ساتھ ساتھ صاحب کے چکروں کا حساب کتاب بھی کرنے لگتی ہیں، ریاضی دان جو ٹھہری ۔ جب صاحب کے 500 چکر پورے ہو گئے تو بیگم کو خوشخبری سنائی کہ 50 شعر ہو گئے ہیں۔ بیگم نے برجستہ جواب دیا آپ کو ایک شعر کہنے کے لیے 10 چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ اپنی کارکردی بہتر بنائیں تاکہ 5 چکروں میں ایک شعر کہہ سکیں۔ اگر بیگم سخن فہم نہ ہوتی تو شوزیب آج کل مزاحیہ شاعری کر رہا ہوتا اور ساری دنیا کی بیگمات کو کوس رہا ہوتا۔

اگرچہ شوزیب کو کسی بڑی محرومی کا سامنا نہیں رہا مگر حساس ، درد دل رکھنے والوں لوگوں کی طرح اس نے بھی زندگی کی مختلف شعبوں کے لیے خاص معیارات مقرر کر رکھے ہیں۔ ہمارا لکیر کا فقیر معاشرہ ہے لکھنے والوںاور مروجہ معیارات سے بغاوت کواہمیت نہیں دیتا۔ سو اس کی وجہ سے شوزیب کبھی کبھی ڈپریشن کا شکار بھی ہو جاتا ہے مگر جلد ہی اس پہ حاوی ہو جاتا ہے اور اپنی فطرت کے مطابق ہنسنے مسکرانے کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔

شوزیب کاشر ہمارا مان ہے ، فخر ہے،دبستان کشمیر کی پہچان ہے ، حلقہ یاراں کی شان ہے اور سب سے بڑھ کر بہت ہی پیارا انسا ن ہے۔ دست دعا بلند ہیں کہ اس کا مجموعہ ’’ خمیازہ‘‘ ہر عام و خاص ادب میں قبولیت کے اعلی درجے پہ پہنچ جائے۔ اور اس کے کلام میں برکت اور تازگی برقرار رہے۔

اور آخر میں اپنا ایک شعر شوزیب کاشر کی نذر

اب حوالہ بن گئے ہیں اس نگر میں کہ جہاں

خواب آنکھوں میں لیے ہم بے ثمر پھرتے رہے

==========================

کوئی تین چار سال پہلے فیسبک پر عالین زہرہ کے انتخاب میں شوزیب کاشر کا تعارف اور کچھ اشعار پڑھنے کو ملے اور خوش بختی کہ وہیں سے شوزیب کی فیسبک آئی ڈی بھی ملی ۔ شوزیب سے بات کی بےچینی پیدا ہوئی انبکس میں سلام کیا جسکا جواب کوئی چھ ماہ بعد آیا ۔
پھر کچھ دوستوں سے شوزیب کا نام اور اشعار سننے کا اتفاق بڑھتا جا رہا تھا کہ کھوئی رٹہ کے ایک مشاعرہ میں شوزیب سے ملاقات بھی ہوگئی ۔ مشاعرہ کے اختتام پر کھوئی رٹہ سے عباس پور تک کے سفر میں بھرپور نشست ہوئی ۔
پہلی ملاقات کا رس ابھی تازہ ہی تھا کہ صداقت طاہر شوزیب کو لیے مجھے ملنے صدر راولپنڈی آگئے ۔ کھانا کھلانا پڑا چائے پلانی پڑی اور ساتھ شوزیب سے پچاس پچاس شعروں والی غزلیں بھی سننا پڑیں۔
قوتِ برداشت دیکھتے جائیے باتوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ بڑھتے بڑھتے صبح دوپہر شام تک آ گیا اور یوں ہی چل رہا ہے۔
مجھے شوزیب سے کبھی نہ ختم ہونے والی محبت ہے ۔
“خمیازہ ” شوزیب کی شاعری کی بھرپور کتاب ہے ۔ شوزیب بہت محنت اور لگن سے شعر کہتا ہے۔ خمیازہ کا ہر مصرع شوزیب کے ذمہ دار شاعر ہونے کی گواہی دیتا ہے۔
میں شوزیب کو قریب سے جانتا ہوں وہ جب کسی لفظ میں الجھتا ہے تو اسکی نسلیں معلوم کر کے ہی دم لیتا ہے اسکے ہاں الفاظ کا اک بڑا ذخیرہ موجود ہے ۔وسیع مطالعہ اور بقول بشارت تنشیط شوزیب کاشر جون ایلیا کا دوسرا جنم ہے۔

ہم جون کی تلمیذ , ہمارے لیے کاشر
دانتے کوئی منزل ہے نہ نطشے کوئی منزل

ہنسی ہنسی میں رو لیتا ہے اور امید کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتا

زندگی کے خوف سے کاشر میں کر لوں خودکشی
زندگی مشکل تو ہے پر اس قدر مشکل نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اے پیار میں اجڑی ہوئی وادی! کوئی رستہ ؟
اے درد کے مقبوضہ علاقے! کوئی منزل؟
شوزیب کے ہاں ہچکچاہٹ نہیں ہے وہ جو بھی کہتا ہے پورے وثوق سے کہتا ہے عملی اور شعری زندگی میں شوزیب تقریباً ایک جیسا ہے

پیرہن پھاڑ کر میں رقص کروں
عشق وحشت میں مبتلا ہوں کیا؟

ایک ہی فارہہ سے پیار کروں
میں کوئی جون ایلیا ہوں کیا؟

شوزیب کی شاعری کشمیر میں ہریالی کے جیسی ہے اور حالیہ اردو زبان کی خوش قسمتی ہےکہ اسے شوزیب کاشر میسر ہے جو اس کی روایت پر پورے قدم رکھ کر چل رہا ہےاور مہینوں جاگ کر غزل کہتا ہے۔
اڑیں پھریں گے ہواؤں میں ,ساتھ چل میرے
میں لے چلوں تجھے گاؤں میں ساتھ چل میرے
بہشت زاد ہوں کشمیر ہے مرا مسکن
تجھے بھی سیر کراوں میں ,ساتھ چل میرے
ہماری گرد۔سفر کو زمانہ چھو نہ سکے
پہن کے بجلیاں پاوں میں ساتھ چل میرے
پھر ایک دن مجھے ہمزاد مل گیا آخر
کہا,جہاں کہیں جاوں میں ,ساتھ چل میرے
شوزیب کے لیے بہت سی دعائیں اور بہت کچھ بقایا
عاصم سلیم بٹ
FB_IMG_1536231082002

FB_IMG_1536300163563

FB_IMG_1536300173428

FB_IMG_1536300199938 (1)

اپنا تبصرہ بھیجیں