نامحرم محبت (کہانی) محاسن عبداللہ (قسط نمبر 2)

حریم سوچ سوچ کر ہی پریشان ہو رہی تھی
” ضرور کوئی بڑا مسلہ ہوا ہے نہیں تو نابی ضرور مجھے بتاتی پھر یہی سوچ کے کہ خیر جب اس کی طبیعت سنبھلے گی تو خود بتا دے گی کمرے کے اندر داخل ہںوئی اور دونوں کو جوس پکڑا کر واپس چلی آئی…”
اس واقعہ کے بعد ارحم کو پھر یونیورسٹی میں دیکھا ہی نہیں گیا..
اور نابی بے فکری ، سکون اور اطمنان سے آتی جاتی رہی..
—————————————————————————————————————————————–
وقت تیزی سے گزرتا رہا.
انابیہ اور رمیلہ دونوں کا آخری سال تھا.اس دوران رمیلہ کا نکاح بھی اس کے دور پرے کے کزن سے ہوگیا جو کینڈا میں مقیم تھا، رخصتی فائنل اگزامز کے بعد طے پائی تھی.حریم کا رشتہ بھی مولوی صاحب کے ایک دوست کے بیٹے سے طے ہوگیا تھا،حریم کی شادی کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہوگی تھیں انابی یونیورسٹی اور شادی کی تیاریوں میں گھن چکر بنی ہوئی تھی…آج وہ یونیورسٹی سے آکر ابھی پہنچی ہی تھی کے امی نے ساتھ بازار جانے کا پیغام دے دیا،وہ جلدی جلدی نوالے لے رہی تھی تاکہ امی کے ساتھ بازار جاسکے..
کہ اس کی موبائیل کی فیس بک نوٹیفیکیشن ٹون بج اٹھی،اس نے کھول کے دیکھا تو اس کے لائک کیے ہوئے اسلامک پیج پے اس نے صبح ایک اسلامک پوسٹ شئیر کیا تھی اس پہ کسی نے کمنٹ کیا تھا..
” آپکے پوسٹس بڑے جاندار ہوتے ہیں… ”
حالانکہ اس نے کبھی کوئی پوسٹ کیا ہی نہیں تھا پہلا کیا اور اس پے یہ کمنٹ،انابی کو کافی ہنسی آئی اس بات سے،عجیب لوگ ہیں،
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسے انباکس میسج ملا..
” آپ کا نام…؟؟ ”
انابیہ پہلے تو جواب نہیں دینا چاہتی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی فیسبک کی اس فیک دنیا میں کچھ بھی ہو سکتا ہے،لیکن پھر تجسس اور شیطان کے ہاتھوں مجبور ہوکر پوچھ ہی لیا..
” آپ کون…؟”
دوسری طرف تو شاید انابی کے میسج کا ہی انتظار تھا..
جھٹ سے جواب آیا
” بندہ ناچیز کو سعد عبدالرحمان کہتے ہیں…”
ادھر انابی جواب دینے کا سوچ ہی رہی تھی کے عارفہ بیگم کی آواز سنائی دی..
انابیہ بیٹا جلدی کرو لیٹ ہورہے ہیں واپس بھی آنا ہوگا
پھر…
” جی امی آئی…” انابیہ نے کمرے سے ہی ہانک لگائی..
دونوں بازار جانے کے لیے ابھی رکشے میں بیٹھی ہی تھیں کہ دوسرا میسج پھر تیسرا اور اسی طرح ایک سلسلہ شروع ہوگیا..
” بیٹا کون ںے کوئی ضروری بات کرنی ہوگی اٹھالو فون..”
عارفہ بیگم سے رہا نہ گیا تو بول پڑی..
نہیں امی ایویں بس فرینڈز ہیں بعد میں دیکھ لونگی یہ کہہ کر انابیہ نے موبائیل سائلنٹ پر لگا دیا..
بازار سے واپس گھر آنے کے بعد وہ کافی تھکی ہوئی تھی لہذا تمام امور خانہ چھوڑ کر اس نے عشاء کی نماز کے لیے وضو کیا نماز پڑھنے سے پہلے اس نے موبائل کو چارج پر لگانے کی غرض سے اس نے موبائل اٹھایا تو حیران رہ گئی..
سعد کی طرف سے 63 میسجز آئے تھے..
اس نے موبائیل کھولا اور میسجز دیکھنا شروع کردیا..
آپ نے جوب نہیں دیا..
آپ پلیز نام بتائیں نا
کیا ہوا آپ ناراض ہوگئی ہیں
اور اسی طرح کے بےشمار میسجز…
میسجز پڑھتے پڑھتے اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب اس کی آنکھ لگ گئی اور کب وہ نیند کی وادیوں میں کھو گئی،سات سال کی عمر سے لیکر آج تک کہ ان چودہ سالوں میں یہ اسکی پہلی نماز تھی جو اس سے بنا کسی شرعی عذر کے قضا ہوگئی تھی.
صبح جونہی اس کی آنکھ کھلی تو یاد آیا رات کو وہ مسیجز پڑھتے پڑھتے ہی سو گئی تھی اور نماز بھی نہیں پڑھی تھی..
وہ موبائل کو اپنے پاس ادھر ادھر ڈھونڈنے لگی.جونہی اس کی نظر موبائل پر پڑی تو مزید میسجز دیکھ حیران ہوئے بنا نہ رہ سکی اور جلدی سے میسجز دیکھنے لگی..
قران میں اللہ تعالی کا ارشاد ہںے..
ان الصلوۃ تنہی عن الفحشاء والمنکر…
نماذ فحش اور برے کاموں سے روکتی ہے…
جو برے کاموں سے روکنے والا تھا وہ تو ظاھر ہے کل رات ہی نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے چلا گیا تھا،پھر کون اس کو روکتا رات کی نماز قضاء ہوگئی اور صبح کی قضاء ہونے والی تھی لیکن وہ میسجز پڑھنے میں مگن تھی،کہتے ہیں کہ جب خواہشات اپنی جگہ بناتی ہیں تو سب سے پہلےکو نماز کو بھگا دیتی ہیں،کچھ ایسا ہی معاملہ انابی کے ساتھ بھی ہوگیا،اس نے جلدی جلدی صبح کی نماز ادا کی اور یہ سوچ کر کہ اتنے میسجزکے بعد ایک جواب تو دینا ہی چاہیے اور پھر اس نے لکھا
” انابیہ عبید…!! ”
اور پھر سعد کیطرف سے بھی جواب آنے میں دیر نہیں لگی..
” اووووہ شکر ہے آپ ناراض نہیں ہیں،میں تو سمجھا آپ ناراض ہوگئی ہیں شاید..” سعد کا میسیج حاضر تھا
ویسے آپ کا نام بہت خوبصورت ہے،آپ بھی اتنی ہی…..!!
” اتنی کیا…؟؟ ” انابیہ نے تجسس کے مارے پوچھا
” میرا مطلب تھا آپ بھی اتنی ہی خوبصورت ہونگی..”
نابی نے اس کے جواب میں کوئی رپلائی نہیں کیا…
کہ سعد کا دوبارہ میسج آیا…
” کہاں سے ہیں آپ…؟؟ ”
یہ انابی کی سعد سے باقاعدہ پہلی دفعہ تعارف پر مبنی گفتگو تھی،تعارف کے بعد ایک سلسلہ چل نکلا،چند ہی مہینوں میں بات دوستی اور پھر محبت تک پہنچ گئی،نابی دن بدن اللہ تعالی سے دور اور سعد کے قریب ہوتی جارہی تھی..کہتے ہیں کے گناہ پہلی دفعہ کرنا مشکل ہوتا ہے..
بعد میں پھر بندہ گناہ پر گناہ کرنے کا عادی بن جاتا ہے..
انابیہ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا پہلی دفعہ سعد سے بات کرنا تھوڑا مشکل لگا اور بعد میں اس سے بات نہ کرنا اس کے لیے دنیا کا مشکل ترین مرحلہ بن گیا تھا..
وہ لڑکی جو کبھی گھنٹوں اپنے رب سے باتیں کرتی ںوئے اس کی عبادت کرتے ہوئے نہیں تھکتی تھی آج فرض نماز پڑھنے سے بھی تھک جاتی تھی،وہ لڑکی جس کہ دن کا آدھے سے زیادہ حصہ قرآن میں غور وفکر کرنے میں صرف ہوتا تھا، اب میسجز میں کھوئی رہتی تھی اور اسے سعد سے باتیں کرتے ہوئے پورا دن بھی کم لگتا،شیطان نے جب کسی نیک بندے کو راہ حق سے بھٹکانا ہوتا ہے تو سب سے پہلے اس کے لیے دنیا حسین سے حسین تر بناتا ہے،اسے دنیاوی لذتوں سے آشنا کرواتا ہے..
یہی حال انابیہ کا بھی تھا دنیا اسے پہلے کبھی اتنی خوبصورت نہ لگی تھی جتنا سعد سے بات کرتے ہوئے لگنے لگی تھی.حریم انابی میں یہ تبدیلی صاف طور پر نوٹ کررہی تھی،اور آج جب اس کو پھر جلدی جلدی جان خلاصی سے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو خود کو اس سے بات کرنے سے نہیں روک سکی..
” کیا ہے انابی کس بات کی اتنی جلدی ہے نماز کوئی ایسے پڑھتا ہے..” حریم نے انابیہ کو ٹوکا،میں نوٹ کررہی ہوں تم دن بدن اللہ سے غافل ہوتی جارہی ہو،کوئی مسلہ ہے کیا..؟؟
” کیا ہوگیا ہے آپ کو آپی میں بالکل ٹھیک ہوں کوئی مسئلہ نہیں ہے،آپ کو ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ میرے ساتھ کوئی مسئلہ ہے،جب کہ میں اپنی زندگی میں خوشی خوشی مگن ہوں..
اتنے چھوٹے ذہن پے اتنے بوجھ نہ ڈالیے اور آرام سے اپنی شادی کی تیاریاں کریں اور ویسے بھی کافی انتظار کروالیا آپ نے اب مزید انتظار نہ تو آپ کے سسرالی افورڈ کرسکتے ہیں اور نہ ہی ہم کیونکہ ظاھری بات ہے اب ھمارا بھی تو نمبر بنتا ہے نا..” انابیہ کو حریم کا ٹوکنا اچھا نہیں لگا تو بول پڑی تھی..
اور حریم وہ تو بس انابیہ کے طرز تخاطب کو دیکھتی ہی رہ گئی.
شادی کے دن قریب آرہے تھے اور سعد کے ملنے کا اسرار بڑھتا جارہا تھا اور آج تو حد ہی ہو گئی تھی وہ ملنے پر اسرار کررہا تھا اور انابیہ کے شاید نیم مرے ہوئے ضمیر میں تھوڑی بہت سانس باقی تھی جو سعد کے مسلسل اصرار کرنے پر بھی نہیں مان رہی تھی اور یوں سعد ناراض ہوگیا تھا اس کی تو جیسے جاں پر بن گئی تھی..
وہ پچھلے ایک گھنٹے سے کالز پر کالز میسجز پر میسجز کیے جارہی تھی لیکن سعد نے تو شاید انابی کو جیسے اذیت دینے کی ٹھان لی تھی،اور اب تو انابی نے بھی ہار مان لی تھی،وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی تھی یا پھر نفس کے سامنے لاچار کہ اس نے سعد سے ملنے اس کے گھر جانے کا فیصلہ کر لیا..
” آپی میں رمی سے ملنے اس کے گھر جارہی ہوں کافی دن ہوگئے اس سے ملے ہوے آپ پلیز بابا کو بتا دیجئیے گا ٹھیک ہے..”
گھر سے نکلتے ہوئے انابیہ نے حریم سے کہا..
” اس وقت اکیلی کیسے جاؤگی شام ہںونے کو ہںے تھوڑا انتظار کر لو بابا آنے والے ہونگے وہ تمھیں لے جائیں گے یا پھر میں ہی چلی جاتی ہوں تمھارے ساتھ..
حریم کو بہن کا شام کے اس وقت گھر سے باہر جانا ٹھیک نہیں لگا تو بول پڑی..
ایک لمحے کے لیے توانابیہ گڑبھڑا گئی لیکن پھر جلد ہی خود پر قابو پاکر بولی..
نہیں نہیں آپی اب میں بچی تھوڑی ہوں ادھر قریب ہی تو گھر ہے اس کا اور ویسے میں جلدی آجاونگی اب میں بڑی ہوں بغیر کسی سہارے کے اکیلے کہیں بھی آجا سکتی ہوں،میں جارہی ہوں بتا دیجئیے گا بابا کو…
وہ حریم کو حیران و پریشان چھوڑ کر چلی گئی..
وہ شاید یہ بھول گئی تھی کہ اللہ تعالی جو اسے ہر نئے دن کی شروعات میں سنبھلنے کا موقع دے سکتا ہے..وہ نہ سنبھلنے والو کو دنیا ہی میں عذاب بھی دے سکتا ہے،سعد نے ایک دفعہ پہلے اسے اپنے گھر کا ایڈرس دیا تھا،وہ وہی انکے گھر اسی ایڈرس پر جانا چاہتی تھی پر جانے سے پہلے وہ چاہتی تھی کہ ایک دفعہ سعد سے بات تو کر لے اسے بتائے کہ وہ واقعی میں اس سے محبت کرتی ہے..
اسی لیے اس نے رکشہ میں بیٹھنے سے پہلے راستے میں ذرا سائیڈ پہ ہوکر سعد کو میسج میں اپنے آنے سے مطلع کیا..
وہ ابھی سعد کو کال کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ سعد کی کال آئی،وہی اس کی زندگی سے بھرپور مسمرائز کردینے والی ساحرانہ آواز سنائی دی..
دیدار یار کیلیے تڑپ رہے ہیں اک عمر سے مالک*
“وہ آئے دیدار کرائے تو کیا کہنے تیری قدرت کے
کہیں میں کوئی خواب تو نہیں دیکھ رہا،یعنی کہ مس انابیہ عرف نابی میرے دل کی ملکہ خود بنفس نفیس چل کر ہمیں دیدار کرانے کے لیے تشریف لا رہی ہے…
” اگر آپ نے مزید میرا مذاق اڑایا تو میں یہیں سے واپس چلی جاونگی…
پہلے مجھے بتائیں تو سہی میں کیسے آوں آپ کے گھر کافی اکورڈ لگے گا آپکی ماما بھی ںونگی اور… ”
انابیہ اپنی پریشانی کا ذکر کر ہی رہی تھی کہ سعد نے اسے ٹوکا…
” ایک منٹ ایک منٹ کیا ہوگیا ہںے یار یہ سب مڈل کلاسز کی باتیں چھوڑ دو اب،ہمارے یہاں اپر کلاسز میں یہ سب باتیں مائنڈ نہیں کی جاتیں.اور ویسے بھی ابھی تو میں گھر پر نہیں ہںوں،اپنے فارم ہاؤس میں ہوں تم ادھر ہی آجاؤ… ”
” سعد میں ادھر کیسے میرا مطلب فارم ہاؤس میں وہاں کیسے آسکتی ہوں.. ”
انابیہ فارم ہاؤس کا سن کر مزید بوکھلا گئی.
” دیکھو انابیہ تم نے اگر مجھ سے ملنا ہی ہے تو پھر کیا گھر اور کیا فارم ہاؤس ملنا تو تم نے مجھ سے ہی ہے نا کہ گھر یا فارم ہاؤس سے..
تمھیں لگتا ہے مجھ پر ٹرسٹ ہی نہیں ہے اسی لیے بہانوں پے بہانے کیے جارہی ہو یار..
اب کی بار سعد کے لہجے میں بے زاریت تھی تھوڑی پہلے والا جوش مفقود تھا..
ڈیڑھ سال ہونے کو ہے ہمارے رابطہ کو پھر بھی تمھیں مجھ پر اعتبار نہیں ہے اور کتنا وقت چاہئیے تمھیں مجھ پر ٹرسٹ کرنے کے لیے ہوں….؟؟؟
“سعد پلیز میری بات تو سنیں..
سعد…!!! ”
انابیہ کا تو سعد کی ایک مرتبہ پھر ناراضگی کا سوچ کر ہی ہاتھ پاؤں پھول گئے..
اب اگر آنا ہے تو ٹھیک میں ایڈرس سینڈ کررہا ہوں نہیں تو پلیز دوبارہ مجھے میسج ہی نہیں کرنا..
سعد نے کسی قدر غصے سے کہا..
اور پھر یہی بات تھی جسکی وجہ سے انابیہ فارم ہاؤس تک چلی گئ.ایک انسان کی محبت میں وہ حرام و حلال کی تمیز بھول گئی،سعد کے سینڈ کیے ہوئے ایڈرس پر پہنچ کر وہ رکشے سے اتری اور رکشے والے کو پیسے تھمائے..
وہ گیٹ تک پہنچی ہی تھی کے گیٹ مین نے دروازہ کھول لیا…
اور وہ اندر داخل ہوگئی…
جاری ہے
—————————————————————————————————————————————–
قسط نمبر 1 پڑھیں
نامحرم محبت (کہانی) قسط نمبر1، محاسن عبداللہ

اپنا تبصرہ بھیجیں