نامحرم محبت (کہانی) آخری قسط ، محاسن عبداللہ پشاور

اندر جانے کے بعد اس نے ادھر ادھر دیکھا سعد کہیں بھی نظر نہیں آیا..
البتہ ایک بوڑھی عمر کا نوکر اسکی طرف آرہا تھا..
” میم وہ صاحب نے کہا تھا کہ جونہی آپ آئیں تو آپ کو اوپر والے گیسٹ روم میں بٹھا دوں..”
ان کی آنکھوں سے لگ رہا تھا جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،ان کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا جس نے انابیہ کو چونکانے پر مجبور کردیا تھا،جو تاثر ان کی آنکھوں میں تھا جو پیغام وہ آنکھیں دینا چاہتی تھیں شاید ان کی زبان ان کا ساتھ نہیں دے رہی تھی،سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بھی وہ خاموش ہی رہے اور انابیہ وہ سعد سے ملنے کی خوشی میں اتنی مگن تھی کہ اس بوڑھے نوکر کی آنکھوں کی خاموش التجا دیکھ ہی نہ پائی، اس کو جس گیسٹ روم میں بٹھایا گیا وہ تو شاید پورے فارم ہاؤس کی زینت تھا،وہ تو جیسے گیسٹ روم میں کھو ہی گئی قدیم و جدید طرز کے حسین امتزاج کا مرکب وہ گیسٹ روم وہاں کے مکینوں کے اعلیٰ ذوق کی چغلی کھا رہا تھا اور یہ سب ہی انابیہ کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لیے کافی تھا،وہ اٹھ کر گیسٹ روم کی ایک ایک چیز کو غور سے دیکھنے لگی اس سب میں وہ اتنی مگن ہوگئی تھی کہ اپنے یہاں آنے کا مقصد ہی بھول گئی،تھوڑی دیر بعد دروازے پر دستک ہوئی تو وہ جیسے نیند سے جاگی،دیکھا تو وہی بوڑھا نوکر آنکھوں میں وہی تاثرات لیے لوازمات بھری ٹرالی اندر لے کر آیا تھا
” چاچا اس سب کی کیا ضرورت تھی میں نے کونسا یہاں رات گئے تک بیٹھنا ہے میں تو ابھی آدھے گنٹھے تک چلی جاؤنگی.. ”
انابیہ اشیائے خوردونوش سے بھری ٹرالی دیکھ کر بولی اور اس بات پر انہوں نے انابی کو ایسی نظروں سے دیکھا کہ انابی کو وہ نظریں اپنے آر پار محسوس ہونے لگیں..
وہ چلے گئے..
اور انابی ان سے یہ بھی نہ پوچھ سکی کہ یہ سعد کہاں ہے اور ابھی تک آیا کیوں نہیں،
کچھ دیر بعد انابیہ کو سعد کی آواز سنائی دی وہ شاید اسی بوڑھے نوکر کو خان بابا کہہ کر بلا رہا تھا،انابیہ سعد کو دیکھنے ٹیرس پر آگئی..
وہ ادھر ادھر دیکھ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر خان بابا کے ساتھ موجود شخص پر پڑی..
یہ شخص…!!میں نے اسکو کہیں دیکھا ہے پر کہاں،وہ یہ سوچنے لگی اور پھر اچانک اس کے ذہن میں جھماکہ ہوا وہ شخص کوئی اور نہیں ارحم ہی تھا.یہ ارحم یہاں کیا کر رہا ہے سعد کے گھر..؟ یہ سب کیا ہے مجھے تو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا اور پھر سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اسے سعد کی آواز سنائی دی،وہ شاید فون پر کسی سے بات کررہا تھا..
*ہاں یار جلدی بتا تم نے گیسٹ روم میں کیمرے تو فٹ کر لیے تھے نا*
*کوئی نہیں یار میں نے تمام ملازموں کو چٹھی دی ہے ہاں بس صرف خان بابا اور گیٹ مین کو چھوڑ دیا ہے.. دونوں میرے وفادار ملازم ہیں..*
*یونیورسٹی سے نکلتے وقت میں نے اس کو برباد کرنے کی قسم کھا رکی تھی اور آج میرا وہ خواب پورا ہونے جارہا ہے..*
*کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑونگا میں اس کو..*
*ہاں ہاں کیوں نہیں تم بھی آجانا پر ابھی نہیں پہلے ذرا مجھے اس سے نبٹنے تو دو..*
*اب بتاونگا میں اس کو کہ ارحم کیا چیز ہے..*
*اس نے یونیورسٹی میں میرا تماشہ بنایا تھا اب مس انابیہ عبید کا تماشہ پوری دنیا دیکھے گی..*
*بڑی ستی ساوتری بنتی ہے عزت دو کوڑی کی نہ کی تو کہنا.
دو سال سے انابیہ جو آواز سن رہی تھی وہ ارحم ہی کی آواز تھی،اور وہ جان ہی نہ پائی،وہ ابھی مزید بولے جارہا تھا مگر انابیہ تو جیسے بے جان ہوگئی تھی،اُسے ایسے لگ رہا تھا جیسے آج ہی یوم الحساب ہے،آج ہی اسے اس کے کیے کی سزا ملنے والی ہے،دوسری طرف حریم انابیہ کا انتظار کر کرکے تھک گئی تھی،انابیہ حریم کو آدھے گھنٹے کا کہہ کر گئی تھی اور ابھی اسے گئے ہوئے تین گھنٹے ہونے کو تھے..
مولوی صاحب کو صبح جلدی اٹھنا ہوتا تھا اس لیے 9 بجتے ہی وہ باجماعت نماز پڑھا کر سو گئے تھے،عارفہ بیگم بھی طبیعت کی خرابی کے باعث آج جلدی سو گئی تھی،اور حریم بچاری کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے.
اگر بابا کو پتہ چل گیا تو….!!
اللہ نہ کریں انابی کے ساتھ کوئی حادثہ ہوا ہو اور………..وہ مزید اس سے آگے سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی،اور پھر اچانک اسے سائیڈ ٹیبل پر پڑی جہاں انابی کی فون ڈائری موجود تھی جس میں وہ ضروری نمبرز لکھا کرتی تھی،حریم نے جلدی سے ڈائری اٹھائی اور رمیلہ کا نمبر ڈھونڈنے لگی،اللہ اللہ کرکے رمیلہ کا لینڈ لائن نمبر مل ہی گیا اس نے لرزتے دل کے ساتھ نمبر ڈائل کیا..
دوسری طرف شاید رمیلہ کی ماما تھی..
انہوں نے حریم کو ہولڈ کرنے کا کہا..
حریم کو جتنی دعائیں یاد تھیں وہ سب پڑھتی رہی اور غائبانہ انابیہ پر پھونکنے لگی…
” ہیلو حریم آپی..!! ”
خیریت آپ نے اسوقت کال کی..
رمیلہ پریشانی سے پوچھنے لگی..
حریم انابیہ کیلیے دعائیں پڑھنے میں مگن تھی کہ دوسری طرف سے رمیلہ کی آواز سنائی دی..
رمیلہ کے سوال سے کہیں بھی نہیں لگ رہا تھا کہ وہ انابی کے بارے میں کچھ جانتی ہوگی،لیکن پھر بھی حریم نے اپنی تسلی کے لیے اس سے پوچھ ہی لیا…
” ہاں رمیلہ وہ میں نے انابی کے بارے میں پوچھنا تھا وہ ابھی تک گھر واپس نہیں پہنچی کس وقت نکلی تھی وہ تمھارے گھر سے…؟
” کیا مطلب آپی انابی تو ہمارے گھر آج آئی ہی نہیں..” رمیلہ نے تعجب سے پوچھا..
اور حریم اس کے تو وہم وگمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ انابی اسکے ساتھ اتنا بڑا جھوٹ بولے گی،اسے لگا جیسے اس کے سر پر پہاڑ آگرا،موبائیل فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا لیکن اسے اس بات کی پروا نہیں تھی وہ تو بس یہی سوچ رہی تھی کہ اس سے غلطی کہاں ہوئی تھی جو اس کی ماں جائی نے اسے اعتبار کرنے کہ قابل بھی نہیں سمجھا،دوسری طرف فون بند ہونے کے بعد رمیلہ کو بھی کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا،حریم آپی کا اس طرح سے فون کرکے انابی کی بارے میں پوچھنا اور پھر فون کا یکدم بند ہوجانا معمولی بات نہیں تھی،اسی لیے اس نے ماما سے کہہ کر ڈرائیور سے گاڑی نکلوائی اور انابیہ کے گھر کیطرف روانہ ہوئی،دروازہ کھلا ہوا تھا رمیلہ اندر گئی تو عبایا پہنے حریم اسے گیٹ پر ہی ملی وہ شاید انابیہ کو ڈھونڈنے جارہی تھی..
” حریم آپی آپ اس وقت کہیں جارہی ہیں اور انابی کہاں ہیں وہ…؟؟؟آپ اس کا مجھ سے کیوں پوچھ رہی تھیں…؟؟
رمیلہ بنا سانس لیے ہی پوچھنے لگی..
حریم نے روتے ہوئے رمیلہ کو ساری بتادی..
” رمیلہ تم تو اسکی بیسٹ فرینڈ اس نے تمھیں کچھ تو بتایا ہوگا پلیز مجھے بتاؤ وہ کہاں گئی ہے..؟؟
حریم کو پتا نہیں کیوں عجیب سے وہم ستانے لگے تھے
” کیا ہوگیا ہے آپ کو آپی جو آپ سوچ رہی ہیں ویسا کچھ نہیں ہیں میں جانتی ہوں ہماری انابیہ ایسا کچھ نہیں کرسکتی..
” آگر ایسی بات نہیں ہے تو پھر مجھے بتاؤ کہاں ہیں وہ..؟؟
وہ ابھی تک گھر آئی کیوں نہیں..
میرا دم گھٹ رہا ہے رمی پلیز کچھ کرو اسے کہیں سے بھی ڈھونڈ کے لے آؤ..
12 بج گئے ہیں ہمارے پاس صرف دو گھنٹے ہیں دو گھنٹے بعد بابا تہجد کے کیے اٹھیں گے اور پھر قیامت آجائے گی..
بابا کسی کو منہ دیکھانے لائق نہیں رہیں گے جاؤ کچھ کرو رمی پلیز..
حریم تڑپ کر روتے ہوئے بولی..
*************************
انابیہ بلکل سن سی ٹیرس پر کھڑی تھی..
وہ سوچ رہی تھی کہ ان دو سالوں میں کیے گئے گناہوں میں سے یہ آج کا دن کس گناہ کی سزا ہے کہ اس کی عصمت لٹنے والی تھی اور اسے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کرے، اس دہشت کدہ سے کیسے نکلے..
ایک دفعہ پھر بنت آدم کی عزت اس کی بے راہ روی کی وجہ سے لٹنے والی تھی..
آج اسے قرآن میں اللہ تعالی کی بیان کردہ اس آیت *وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ نَسُواْ ٱللَّه فَأَنسَىٰهُمۡ أَنفُسَهُمۡۚ أُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡفَٰسِقُونَ* کا مفہوم سمجھ آیا…
اور (اے مسلمانو دیکھنا ! ) تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یہی لوگ ہیں جو فاسق ہیں،کیا کوئی شخص اپنے آپ کو اس طرح بھول سکتا ہے کہ وہ خوداپنی شخصیت سے ہی واقف نہ رہے..؟
اسی طرح ہی تو ہوا تھا اس کے ساتھ وہ شیطان کے بہکاوے میں آکر اپنی شخصیت کو بھول گئی تھی اللہ کو بھول گئی تھی اور پھر اللہ تعالی نے بھی اسے اپنی یاد سے غافل کر دیا تھا. انسان کی روح خود اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر پھونکی ہے اور اسی کی وجہ سے وہ ” انسان “ کے مرتبے پر فائز ہوا ہے اگر انسان اللہ کو بھلا دے اپنی روح یعنی اپنی اصلیت سے بیگانہ ہو کر محض ایک حیوان بن کر رہ جائے گا۔ اس کے بعد اس کی نظر میں و حرام حلال کی کوئی تمیز نہیں رہتی..
یہی تو ہوا تھا اللہ تعالی نے اسے سعد کی صورت میں اپنی یاد سے غافل کردیا تھا وہ اپنی اصلیت سے بیگانہ ہوگئی تھی حلال حرام کی تمیز تو اس کے اندر جیسے ختم ہوگئی تھی..
اس کی آنکھوں سے اشکوں کا ایک ریلا بہہ رہا تھا اسے رہ رہ کر اپنی اللہ کی کی گئی ایک ایک نافرمانی یاد آرہی تھی،اس نے اپنے اشکوں سے بھری ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھا، میں نے اپنی روح پر بہت ظلم کیا اتنا کہ میری روح چھلنی ہوچکی ہے..
تو تو غفور الرّحیم ہے مالک اب تو ہی مجھے بچالے..*
وہ کہنا چاہتی تھی لیکن اس کے پچھتاؤوں نے اسے یہ بھی کہنے نہیں دیا..
جوں جوں ارحم سیڑھیاں چڑھتا آرہا تھا انابیہ کی سانسیں بند ہوتی جارہی تھیں.
وہ اسی طرح ٹیرس پر کھڑی کوئی راہ فرار ڈھونڈ رہی تھی کیونکہ وہ جانتی تھی سیڑھیوں کی طرف سے جاتے ہوئے ارحم اسے دیکھ سکتا ہے اور وہ گیٹ پر کھڑا گن مین وہ اسے پکڑ لےگا وہ یہاں سے نکلنے کے لیے ادھر ادھر راستہ ڈھونڈ رہی تھی کہ اسکی نظر نیچے گراونڈ کے ایک طرف گھوڑوں کو چارا ڈالتے ہوئے خان بابا پر پڑی اور انابیہ اسے تو جیسے دوسری زندگی کا پیام مل گیا ہو ٹیرس سے نیچے گراونڈ میں کود گئی،ٹیرس کتنی اونچائی پر تھا اس کے پاؤں نیچے کودنے سے کس قدر زخمی ہوچکے ہیں،اسے اس بات کی کوئی فکر نہیں تھی کیونکہ جس کی روح چھلنی ہوچکی ہو جس کا دل کرچی کرچی ہوچکا ہو اسے جسم کے زخموں کی کیا پروا…؟؟
خان بابا نے شاید اسے ٹیرس سے نیچے کودتے ہوئے دیکھ لیا تھا اس لیے گھوڑوں کو چھوڑ کر انابیہ کی طرف بڑھا،ارحم انابیہ کے ردعمل کا سوچتے ہوئے گیسٹ روم کی طرف بڑھ رہا تھا،وہ گیسٹ روم کے اندر گیا…
لوازمات سے بھری ٹرالی انابیہ کا بیگ اس کے جوتے سب کچھ جوں کا توں پڑا تھا پر انابیہ نہیں تھی وہ سمجھا شاید انابیہ واشروم میں ہںے اسی لیے چئیر پر بیٹھ کر اس کے نکلنے کا ویٹ کرتا رہا..

*************************
رمیلہ مختلف ہسپتالوں میں جاکر کسی بھی حادثے کی شکار ہوئی انابیہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گئی تھی لیکن انابیہ کہیں بھی نہیں تھی..
ادھر حریم جائے نماز پر بیٹھے بارگاہ ایزدی میں رو رو کر اپنی بہن کی عصمت کی حفاظت اور اس کی سلامتی کی دعائیں مانگ رہی تھی..

***********************
” خان بابا اللہ کے واسطے مجھے کسی بھی طریقے سے یہاں سے نکالیں نہیں تو میں برباد ہو جاؤنگی ابا کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہیں گے..
اس نے مجھے دھوکہ سے یہاں بلایا اس نے مجھے کہا وہ سعد ہے جب کہ سعد تو شروع سے تھا ہی نہیں وہ وہ مجھ سے اپنا بدلہ لینا چاہتا ہے خان بابا پلیز مجھے یہاں سے جانے کا راستہ بتائیں میں کیسے نکلوں.. ”
انابیہ التجائیہ انداز میں خان بابا کے سامنے ہاتھ پھیلائے سسکتے ہوئے بولتی رہی..
اللہ کو شاید اسکی حالت پر رحم آگیا تھا یا پھر گھر میں سوئے ہوئے مولوی صاحب یا عارفہ بیگم کی عزت پر،حریم کی دعاؤں کا اثر تھا یا رمیلہ جیسی دوست کا رات کہ اس پہر انابیہ کے لیے خوار ہونے کا کہ خان بابا کو اس پر ترس آگیا..
خان بابا رمیلہ کا ہاتھ پکڑ کر فارم ہاؤس کے پیچھے بی راہداری پر لے گئے اور انابیہ کو ایسی نظروں سے گھورا جیسے کہ میں نہ کہتا تھا منع کیا تھا نہ میں نے اور انابیہ اس پر تو شرم کے مارے گھڑوں پانی گرا
پانچ دس منٹ کے انتظار کے بعد بھی جب انابیہ واش روم سے نہیں نکلی تو ارحم کو تشویش ںوئی وہ واش روم کی طرف بڑھا،اس نے واش روم کا لاک گمھایا تو اس نے دیکھا واش روم خالی تھا. ارحم دیوانہ وار سیڑھیوں کیطرف بھاگا..
انابیہ مشکور و ممنون نظروں سے خان بابا کو دیکھتے ہوئے بڑی پھرتی سے راہداری کی دیوار سے نیچھے اتر گئی،اور خان بابا کو لگا جیسے آج اتنے سالوں بعد اس نے اپنا فرض پورا کرلیا..
خان بابا جو 10 سال سے اپنے بھوکے بچوں کے پیٹ بھرنے کی خاطر ارحم کے ملازم تھے ضمیر کے ہزار دفعہ جھنجھوڑنے پر بھی ارحم کی ہر جائز و ناجائز کام میں نہ چاہتے ہوئے شریک رہے آج پتہ نہیں کیوں اس لڑکی کو پہلی دفعہ دیکھ کر ہی انکے دل نے اپنے مالک کے حق میں بغاوت کی انکا دل کسی بھی طور پر اس معصوم لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے پر تیار نہیں تھا..
خان بابا کو لگا جیسے ان دس سالوں میں پہلی مرتبہ ہی نفس کے بجائے ضمیر کی بات مان کر اللہ کے سامنے وہ سرخرو ہوئے..
” خان بابا….؟؟” ارحم دھاڑتے ہوئے نیچے آیا..
“خان بابا ابھی تھوڑی دیر پہلے جو لڑکی آئی تھی کہاں گئی…؟؟”
“میں نے آپکو انھیں گیسٹ روم میں بٹھانے کا کہا تھا کہاں ہے وہ…؟؟”
“صاب میں تو بی بی کو گیسٹ روم میں بٹھاکر ہی نیچے آیا تھا..
میں نہیں جانتا بی بی کہاں گئی ہیں صاب..!! ”
“چوکیدار…!! ” ارحم چیخا….
“جی مالک…”
“جو لڑکی ابھی تھوڑی دیر پہلے آئی تھی کیا تم نے انھیں واپس جاتے ہوئے دیکھا ہے..”
“نہیں مالک…
میں نے تو انھیں دوبارہ نیچے دیکھا ہی نہیں ہے مالک.. ”
“زمین کھا گئی یا آسمان نے نگل لیا ہے اسے… ”
“کہاں گئی وہ لڑکی…”
” ایک منٹ خان بابا انابیہ ایسے کیسے کہی جاسکتی ہے..؟؟؟”
کہیں اسنے میری باتیں تو نہیں سن لی تھی…”
پر کیسے اگر سن بھی لی تھی تو کہاں گئی وہ اور کس راستے سے گئی…؟؟؟
وہ کہی نہیں گئی جاؤ ڈھونڈو اسے یہی کہیں ہے وہ..”

***********************
رات کا دوسرا پہر تھا پوری دنیا سو رہی تھی اور وہ اس سنسان سڑک میں روتے ہوئے اکیلی بھاگی جارہی تھی..
” آج اگر خان بابا نے میرا ساتھ نہ دیا ہوتا تو…”
ابا کی برسوں کی کمائی ہوئی عزت خاک میں مل جاتی اور امی وہ…” وہ تو شاید صدمے سے مر ہی جاتی،اور میری وجہ سے لوگ میری معصوم اور پاکدامن بہن کی زندگی اجیرن کردیتے..
آج اگر اللہ نے بروقت میری مدد نہ کی ہوتی تو میری وجہ سے لوگ قران جیسی عظیم اور مقدس کتاب سے نفرت کرتے…
وہ سسکتی جارہی تھی اس کے پاؤں جگہ جگہ ٹھوکر لگنے سے خون آلود ہوچکے تھے،ایک جگہ گرنے سے اس کا ہونٹ پھٹ گیا تھا…
وہ خود کو مکمل طور پر ڈھانپنے والی لڑکی ایک نامحرم محبت کیوجہ سے آج سر پر چادر لیے بغیر رواں تھی..
کیونکہ اس کی اپنی نظر میں تو اس کی عزت تب لٹ چکی تھی جب اسنے نے پہلی دفعہ ارحم کے بہروپیے سعد سے بات کی تھی،یہ تو اللہ نے شاید اپنے کتاب کلام اللہ کی وجہ سے اسکی تھوڑی بہت عزت رکھ لی تھی،کیونکہ لوگوں کو اگر پتہ چل جاتا تو پھر وہ حافظہ قرآن کو اس نگاہ سے دیکھتے جو آج انابیہ تھی..
” گاڑی روکو پلیز اس طرف وہ دیکھو وہ….”
رمیلہ نے تقریبا چیختے ہںوئے ڈرائیور کو روکا…
رمیلہ تیزی سے گاڑی سے نیچے اتری اور بھاگتے ہوئے انابیہ کے پاس پہنچی..
” نابی….”
رمیلہ نے انابیہ کو روتے ہوئے گلے لگایا …”
تم ٹھیک ہو یہ سب کیسے اور تمھارا ہںونٹ زخمی کیوں ہیں…؟؟
تم آؤ گاڑی میں بیٹھوں اس نے انابیہ کو گاڑی میں بٹھایا کیونکہ اس وقت انابیہ کی حالت ایسی نہیں تھی کہ اس سے کچھ پوچھا جاتا…
” انابی تمھارے جوتے….”
تمھارے پاؤں تو کافی زخمی ہوچکے ہیں…”
اور انابی وہ تو شاید رمیلہ سے نظریں ہی نہیں ملا پارہی تھی…
بس چپ چاپ آنسو بہائے جارہی تھی…

***********************
” صاااب ہم نے پورا فارم ہاؤس دیکھ لیا ہے پر وہ کہیں بھی نہیں ہے…”
“ایسے کیسے نہیں ہے آخر کہاں گئی یہ لڑکی..؟؟؟ ”
“گاڑی نکالو جلدی ”
“خان بابا تم ادھر نظر رکھو میں باہر دیکھتا ہوں ”
ارحم غصے سے پاگل ہورہا تھا،دوسال سے وہ بدلے کی آگ میں جلتا رہا،اس لڑکی کی وجہ سے پوری یونیورسٹی میں اسکی بدنامی ہوئی تھی اسکو بے عزت کرکے یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا.
اور ڈیڈ انہوں نے پہلی دفعہ اس لڑکی کی وجہ سے اس کی انسلٹ کی تھی اسے اس کے لاکھ چیخنے کے باوجود اسکے گرینڈ پیرنٹس کے پاس لندن بزنس اسٹیبلش کروانے بجھوادیا تھا..اس لڑکی کی وجہ سے کتنی اذیت اٹھائی تھی میں نے اور آج وہ دوسالوں کی گئی محنت کے بعد ہاتھ آئی بھی تو…..!!!
وہ یہ سب سوچ رہا تھا کہ ایک دھماکہ ہوا اور اس کی گاڑی ایک گہری کھائی میں گر گئی کب اس کے حواس نے اس کا ساتھ چھوڑا اور کب اس کا ذہن تاریک ہوا اسے پتہ ہی نہیں چلا…
*************************
“نابی…..!! ”
حریم نے جونہی رمیلہ کی گاڑی سے اترتی رمیلہ کے ساتھ انابیہ کو دیکھا وہ بھاگتی ہوئی گیٹ تک آئی…
” آپی…”
میں بہت بری ہوں آپی میں نے اپنے رب کو بہت ناراض کیا تھا اسی لیے دیکھیے میری حالت میں آج خود اپنی ہی نظروں میں خود کو گھرا ہوا دیکھ رہی ہوں..
شاید اللہ کو میرے ہی ہاتھوں میرے ساتھ آپ سب کی رسوائی منظور ہی نہیں تھی اسی لیے وہ خان بابا ہاں اسی لیے ہی تو اللہ تعالی نے خان بابا کو میرے لیے مسخر کیا آج اگر وہ میری مدد نہ کرتا تو پتہ نہیں ارحم میرے ساتھ کیا کچھ کرتا…
“رمیلہ تمھیں پتہ ہے نہ ارحم کا تم جانتی ہو نہ اسے وہ….!!! ”
وہ پاگلوں کی طرح رمیلہ کو جھنجھوڑ رہی تھی…
” انابیہ تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تم ریسٹ کرو پھر آرام سے بات کرینگے رمیلہ نے انابیہ کی حالت کے پیشِ نظر اسے سنبھالنا چاھا تو وہ اسکو ہاتھوں میں ہی جھول کر گر گئی،انابیہ کو کمرے میں لٹانے کے بعد وہ دونوں باہر نکلیں…
“رمیلہ مجھے بتاؤ ارحم کون ہے اور یہ معاملہ کیا ہے مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں اگر ابا اٹھ گئے تو میں انھیں انابیہ کی اس حالت کا کیا جواب دونگی… ”
” ارحم ہمارا کلاس فیلو تھا آپی..
وہ انابیہ کو تنگ کرتا تھا لاسٹ ٹائم بھی اس کو انابیہ سے بدتمیزی کرنے پر یونیورسٹی سے نکال دیا گیا تھا اب میں خود نہیں جانتی کہ ارحم اچانک پھر کہاں سے آیا اور انابیہ کے ساتھ کیا ہوا، آپ نے سنا آپی انابیہ کہہ رہی تھی اس کی عزت محفوظ ہے اللہ تعالی نے اس کو بچا لیا اور یہی بہت ہے،آپ پریشان مت ہوں اللہ تعالی سے بہتر کی امید رکھیں ان شاءاللہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا…..
*********************
مولوی صاحب کو ایسے لگا جیسے کوئی ان کے پاؤں پر سر رکھے رو رہا ہے اور اسکے گرم گرم آنسو اس کے پاؤں پر گر رہے ہیں…
وہ جلدی سے اٹھ بیٹھے،دیکھا تو انابیہ اسی خستہ حال حالت میں انکے پاؤں پر سر رکھے رو رہی تھی..
” انابیہ بچے…”
” ابا مجھے معاف کردیں میں بہت بری ہوں”
انابیہ کے رونے پر عارفہ بیگم ہڑبھڑا کر اٹھ بیٹھی…
” انابیہ میری بچی یہ کیا حالت بنارکھی ہے تم نے کیا ہوگیا ہے…”
امی پلیز آپ بھی مجھے معاف کردیں تاکہ میں اللہ سے معافی مانگھ سکوں مجھے سکون ملے میری بے چین روح کو قرار آجائے…
حریم اور رمیلہ دونوں انابیہ کے رونے کے آواز پر اندر کیطرف بھاگی دیکھا تو انابیہ کمرے میں نہیں تھی..
” رمیلہ نابی ابا کے کمرے میں..”
” او مائی گاڈ آپی… اب کیا ہںوگا… ” رمیلہ نے منہ پر ہاتھ رکھے کہا…
” رمیلہ جلدی چلو ابا کے کمرے میں…”
” بچے کیا بات ہںے…آپ کچھ بتائے تو صحیح…”
مولوئ صاحب کچھ سوچتے ہںوئے پریشانی سے بول اٹھے…
” ابا کچھ نہیں وہ…”
حریم رمیلہ سمیت اندر آتے ہںوئے تیزی سے بولنے لگی کہ مولوی صاحب نے ہاتھ کہ.اشارے سے اسے خاموش کردیا…
” بچے بتاؤ کیا بات ہںے رات کہ اس پہر اپکی یہ حالت اور اپکا رونہ کسی اچھی خبر کی علامت نہیں ہںے… ”
جو بھی بات ہںے مجھے بتائیں..
“کیا ہںونے والا ہںے اب کیا ہںوگا..”
رمیلہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں حریم سے پوچھا..
حریم نے بھی آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے دعا مانگنے کا کہا اور انابیہ کا جواب سننے لگی..
” ابا میں بھٹک گئی تھی اپنے راستے سے…”
یا شاید میں نے خود ہی اپنے.لیے غلط راستے کا انتخاب کیا تھا، دور کہیں صبح آذانیں شروع ہوگئی تھی اور کمرے میں ایک سسکتی ہوئی آواز اپنے گزرنے والے دوسال بیان کررہی تھی،اسکی حالت اس کا تڑپنا وہاں بیٹھے تمام نفوس کو بھی آنسوں بہانے پر مجبور کررہی تھی..
آپکو پتہ ہیں ابا،یہ بعض اوقات ہم کسی سے بے پناہ محبت کرنے کے باوجود آخر میں اسی کے ہاتھوں خوار کیوں ہوتے ہیں…؟؟ نہیں نہ…!!!میں بتاتی ہوں،پتہ ہے کیا….
الله ہمیں نہ محرم سے بات کرنے کے لیے روکتا ہے،اپنی زینت کو پوشیدہ رکھنے کا امر کرتا ہے اور ہمارا دین بھی تو ہمیں یھی کچھ سکھاتا ہے،پھر بھی ہم نہیں مانتے اپنی نااام نہاد محبتوں کی خاطر اللہ میاں کو ٹھکرا دیتے ہیں اپنی محبتوں میں ہمیں گناہ کرنا گناہ ہی نہیں لگتا….
اس ہستی کی محبت بھوول جاتے ہیں جو ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ چاہتا ہے،پھر یہ کیسے ممکن ہے کے اتنی نافرمانیاں کرنے کے باوجود ہمیں ہماری محبتیں مل جائے،ایک انسان کی محبت میں ہم بھول جاتے ہیں کے ایک ذات جو ہمیں اوپر سے دیکھ رہا ہںے وہ کتنی محبت کرتا ہے ہم سے،اسی لیے تو ہم ذلیل و خوار ہںوتے ہیں اسی لیے ہی تو اللہ میاں ہمیں اپنے ہی محبت کے ہاتھوں خوار کرتا ہے کیونکہ جو اللہ کی باات نہیں مانتے وہ ذلیل و خوار ہوجاتے ہیں، اور میں بھی ہوگئی خوار و ذلیل کیا آیا میرے ہاتھ سوائے اذیت کہ..
اپنی منزل سے دور ہںوئی اتنی دور آگئی ہںوں کہ اب واپس پلٹنا محال لگ رہا ہے..
” ابا کیا اللہ مجھے اب بھی معاف کرینگے اتنا سب کچھ ہںوجانے کے باوجود بھی… ”
اور مولوی صاحب انھیں لگا جیسے وہ خواب سے جاگ اٹھے…
” بچے پہلے تو مجھے کافی افسوس ہوا اپنی تربیت پر کیونکہ میں نے ہمیشہ آپ دونوں کو حلال و حرام کی تمیز سکھائی تھی..
اب سوچ رہا ہوں اللہ نے تمھاری عزت بچا کہ مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے اتنا کہ میں جتنا شکر ادا کرو کم ہے..
یہ شاید اس لیے کہ وہ تمھیں ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا تمھارے کسی محب عمل کی وجہ سے آج شاید اللہ تعالی نے ہمیں رسوا ہونے سے بچادیا،تم معصوم تھی گناہ میں مبتلا ہںوگئی اللہ تعالی تو اتنا عظیم ذات ہںے کہ وہ عادتاً گنہگار کو معاف کردیتا ہے اور یہی تمھاری پاکدامنی ہی تمھاری عفو کی علامت ہے تمھاری عزت دغدار ہونے سے بچ گئی شاید یہی تمھاری کسی پیشمانی کے آنسو کا اجر ہے جو اللہ نے دے دیا…
بچے آپ نے پڑھا ہے نہ قران میں اللہ تعالی کیا فرماتے ہیں..

*فقلت استغفروا ربکم انه كان غفارا…*
*پس میں نے ان سے کہا تم اپنے رب سے استغفار کرو یقیناً وہ بہت بخشنے والا ہے..*
یاد ہے آپکو میں نے بچپن میں ایک دفعہ جب آپ نے جھوٹ بولا تھا اور تب آپ رو رہی تھی پھر آپکے رونے پر میں نے کیا کہا تھا…
روئے زمین پر بسنے والا سب سے برا اور فاجر انسان فرعون تھا جس نے تکبر اور غرور کیا تھا اللہ تعالی کی نافرمانی کی تھی خود کو *انا ربکم الاعلی کا خطاب دیا..* تھا..
جب وہ غرق ںونے لگا دریا میں تو جبرائیل امین نے کیا کہا تھا
“حریم آپ کو یاد ہے نا یہ واقعہ…
” جی ابا یاد ہے…” حریم نے چونک کر کہا..
جبرائیل علیہ السلام آئے اور خوف سے انکا منہ کیچڑ سے بھر دیا..
کہ کہیں یہ *لا اله الا الله..* نہ پڑھ لے اور اللہ کو اس پر رحم آجائے..
اور اللہ تعالی نے جبرائیل علیہ السلام سے کیا فرمایا تھا..
کہ اے جبریل *بعزتي وبجلالي*
میرے عزت و جلال کی قسم اگر وہ مجھے پکارتا مجھ سے مدد طلب کرتا تو میں اسکو معاف کردیتا،جب اللہ تعالی ایسے انسان کو بخش سکتا ہے جس نے خود کو رب کہلوایا تو پھر آپکو کیوں نہیں،اگر انسان عاجزی و انکساری کیساتھ اللہ تعالی سے عفو طلب کرتا ہے تو اللہ تعالی اسکے لیے اپنے رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے..
روتے ہوئے توبہ کرتی رہا کرو اللہ سے مغفرت مانگو وہ معاف کردیگا بچے وہ بہت رحیم ہے..
” ابا میں کیسے..”
ابا کیا اللہ تعالی سچ میں مجھے معاف کردینگے..
میں دوسال سے اللہ کی نافرمانیاں کرتی رہی میں کس منہ سے معافی طلب کرونگی ابا..
انابیہ روتے ہوئے بولنے لگی..
بچے ادھر میرے قریب آؤ..
انابیہ اٹھی اور تیزی سے مولوی صاحب کے سینے سے جالگی..
بچے آپکی اطمنان کے لیے ایک اور آیت کے بارے میں بتادیتا ہوں..
آپ نے پڑھا ہے نا..
قران میں اللہ تعالی فرماتے ہیں..
*قل يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لا تقنطو من رحمة الله ان الله يغفر الذنوب جميعا انه هو الغفور الرحيم…*
اے میرے پیغمبر…
میری طرف سے لوگوں کو کہہ دو..
اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر ذیادتی کی ہے..

*لا تقنطوا من رحمة الله..*
اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہںونا..
بیشک اللہ تو تمام گناہوں کو بخش دیتا ہںے..
اور وہی تو ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے..
جاؤ بچے سچے دل سے توبہ کرو اپنے رب کیطرف رجوع کرو اور باقی سب اللہ پر چھوڑ دو…
جاؤ شاباش…
اور انابیہ یہ ایت سن کہ تو اسے جیسے قرار آگیا اور وہ روتے ہوئے مسکرائی..
عارفہ بیگم نے بڑھ کر اپنی معصوم بیٹی کو گلے لگایا..
وہ ماں تھی اندازہ لگا سکتی تھی کہ انکے یہ معصوم بیٹی کل کتنے بڑی اذیت سے گزری ہںوگی..

***********************
آج حریم کی رخصتی تھی..
کافی مہمان آئے ہںوئے تھے ہر طرف گہما گہمی تھی حالانکہ مولوئ صاحب نے اپنی طرف سے کافی کم لوگو کو مدعو کیا تھا پھر بھی کافی لوگ آئے تھے..
انابیہ خوبصورت عریبن کندورہ پہنے ساتھ میں ہم رنگ حجاب (سکارف) لیے بغیر کسی میک اپ کے چہرے پر چھائی معصومیت لیے وہ کافی دلکش لگ رہی تھی..
کافی رونق لگی تھی رمیلہ بھی آئی ہوئی تھی..
خوشی اور دکھ کے ملے جلے تاثرات لیے عارفہ بیگم بھی کافی پرکشش دکھائی دںے رہی تھیں..
کچھ یہی بیگم عارفہ سا حال مولوی صاحب کا بھی تھا بیٹی کے عزت سے اچھا ہم سفر ملنے پر خوش تو بیٹی کی جدائی کا دکھ انہیں مغموم بھی کررہی تھی.
حریم کسی معصوم پری کی صورت لیے محفل پر چھائی تھی..
بابل کو چھوڑنے کا دکھ اسکے بھی آنسوؤں کا سبب تھا..
خان بابا بھی بمع اہل وعیال مدعو تھے..
*************************
اس بھیانک رات کا سحر اپنے ساتھ بہت اجالا لیکر آیا تھا وہ رات جہاں انابیہ اور اسکے گھر والوں پر بھاری تھی اسکا سحر اتنا ہی روشن تھا..
انابیہ نے اپنے رب سے خشوع و خضوع سے عفو مانگی تھی تو کیا اللہ تعالی اسے معاف نہ کرتا..
اس رات کے بعد ایک نئی اور مستحکم انابیہ نے جنم لیا تھا جو اپنے رب کے بہت قریب ہوگئی تھی..
انابیہ مولوی صاحب اور عارفہ بیگم حریم کے سرال سے واپس آرہے تھے کہ راستے میں انابیہ نے خان بابا کو دیکھ لیا تھا..
تب مولوی اور عارفہ بیگم نے بہت خلوص سے انکا شکریہ ادا کیا..
خان بابا اب بھی وہ ہی کام.کرتے تھے..
خان بابا نے بتایا کہ ارحم اس رات اپنے غصے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہوگیا تھا جسکی وجہ سے وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگیا تھا..
اس حادثے نے اسکے ذہن پر کافی برا اثر ڈالا تھا اور وہ نیم پاگل ہںوگیا تھا..

************************

جہاں حریم کی رخصتی بخیروعافیت ہوئی وہی حریم کی ساس نے انابیہ کو بھی اپنے چھوٹے بیٹے حافظ عبدالہادی جو انتہائی شریف خوش اخلاق ملنسار اور پرخلوص کے لیے پسند کرلیا تھا..
دو ماہ بعد سادگی سے نکاح رکھا گیا کیونکہ ہادی ہائیر سٹڈیز کے لیے جاپان جارہا تھا..
جو اللہ کی خوشنودی کے لیے خود کو وقف کردیتے ہیں اللہ تعالی پھر انھیں کبھی ضائع ہونے نہیں دیتا…

**💜*💜*💜*💜*💜*💜**
قسط نمبر 1 بھی پڑھیں
نامحرم محبت (کہانی) قسط نمبر1، محاسن عبداللہ
قسط نمبر 2 بھی پڑھیں
نامحرم محبت (کہانی) محاسن عبداللہ (قسط نمبر 2)

اپنا تبصرہ بھیجیں