اگر بھارت نے لائن آف کنٹرول پر حملہ کیا تو اسے بھرپور جواب دیں گے. وزیر خارجہ کا جنرل اسمبلی میں خطاب

نیویارک (نمائندہ خصوصی) پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اقوام عالم کے ساتھ مل کر نئی جہتوں کی تلاش میں کوشاں رہے۔ انہوں نے اپنا خطاب اردو میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پہلی ترجیح عوام کی فلاح ہے۔ دنیا ایک دوراہے پر کھڑی ہے اور وہ عالمی اصول متزلزل دکھائے دیتے ہیں جن پر اقوام عالم کا اتفاق ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ دنیا میں نئے راستے متعین کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یکطرفہ اقدام اور کاروباری مصلحتیں اقوام عالم کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی کے رستے میں بہت رکاوٹیں ہیں۔ مشرق وسطی کے حالات باعث تشویش ہیں جن کی وجہ سے دراڑوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مسئلہ فلسطین اب بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری کرتا ہے اور سلامتی کونسل کو مزید مضبوط، جمہوری اور شفاف دیکھنا چاہتے ہیں۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ میں بات چیت کا اچھا موقع تھا لیکن مودی حکومت نے تیسری مرتبہ یہ موقع گنوا دیا۔ جنوھی ایشیا میں اس وقت تک امن نہیں ہو سکتا جب تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں کیا جاتا اور کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت نہیں دیا جاتا۔
خطے کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم متحرک سارک کے متمنی ہیں، افغانستان اور پاکستان بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، پاکستان غیرملکی پناہ گزینوں کی سب سے بڑی آماجگاہ ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے بارے رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس کی سفارشات پر جلد عمل درآمد کیا جائے اور مجرموں کا تعین کیا جائے۔
انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر بھارت نے لائن آف کنٹرول پر حملے کی غلطی کی تو اسے پاکستان کی جانب سے بھرپور ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور وہ ہندوستان سے اس دہشت گردی سمیت تمام معاملات پر بات کرنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی بحریہ کا کمانڈر کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہے، اس نے بھارت کے خلاف ثبوت فراہم کئے ہیں۔ مستونگ حملے کے ذمہ داروں کو بھی بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی۔
اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ جس کشمیری بیوہ نے اپنا شوہر کھو دیا، وہ کشمیری بچہ جو پیلٹ گن کی وجہ سے بینائی سے محروم ہو گیا، وہ پناہ گزین جو بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنا سب کچھ گنوا بیٹھا، ان سب کی نگاہیں اس ایوان کو دیکھ رہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں