چوکیدار نکلا چور—فہیم اختر (لندن)

یہ بات عجیب لگتی ہے جب حفاظت کرنے والا ہی لٹیرا بن جائے۔ لیکن حیرانی کی کوئی بات بھی نہیں ہے۔ آپ اپنے ارد گرد اگر نظر دوڑائیں تو ان سب باتوں کا اندازہ بخوبی ہو جائے گا۔ میں نے کئی بار سنا اور دیکھا ہے کہ اپنا ہی کوئی یا تو ما ل ہڑپ لیا یا پھر دھوکہ دے گیا۔گویا دھوکہ دہی اور بد نیتی کا رواج زمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ اب اسے انسانی فطرت اور مجبوری کا نام دیں یا منصوبہ بند پالیسی کا حصہ قرار دیں۔زمانۂ قدیم سے ہی انسان ایسی حرکت وعمل سے معاشرے میں ایک غلط روایت کو فروغ دیتا آیا ہے۔
سیاسی طور پر اس طرح کی روایت ہمیشہ سے رہی ہے۔ایسی حرکت اور فعل سے کم ازکم ہندوستانی معاشرہ یقینی طورپر واقف ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ ضمیر کی کمزوری ہے۔دل کی پژمردگی اس حدتک غالب ہے کہ ان کے دلوں سے خدا کا خوف ختم ہوچکاہے۔میں نے ذاتی طور پر اورمطالعے کے ذریعہ یہی محسوس کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک کے سیاست داں ملک کے خزانوں سے مال ہڑپ لیتے ہیں۔ملک کاخزانہ خالی کر کے ایسے لوگ یا تو ملک سے چوری چھپے فرار ہوجاتے ہیں یا پھر اپنے ملک میں رہ کر عوام کو گمراہ کر کے،اور ان کو تاریکی میں رکھ کر اپنا الو سیدھا کرتے رہتے ہیں۔ گویا ملکی خزانے کا مال ہڑپ لیناسیاست دانوں کی ایک طرح سے ذمّہ داری بن گئی ہے۔اب صورت حال یہ ہے کہ اگر کوئی سیاست داں سرکاری خزانوں سے مال ہڑپ نہیں کر تا ہے تو اسے اوّل درجے کا احمق سمجھا جاتا ہے اوراس کی اہمیت عوام سے لے کر پارٹی تک صفر کے برابر ہوجاتی ہے اور اس کا سیاسی مستقبل زوال پذیر ہونے لگتا ہے۔
ایسا ہی ایک واقعہ ہندوستان میں پیش آیا جب کانگریس پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے پریس کو خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ مودی جی یہ کہتے پھررہے ہیں کہ’ میں ملک کا چوکیدارہوں‘ حالاں کہ وہ چوکیدار کی بجائے ’چور‘ہیں۔ پھر کیا تھا پوری دنیا میں اس بات پر جہاں واہ واہی ہوئی وہیں میڈیا نے راہل گاندھی کی بے باکی کو سراہا۔عموماً ایسا دیکھا گیا ہے کہ راہل گاندھی کی باتوں کا یا تو مذاق اڑایا گیا ہے یا ان کو’ پپّو ‘کہہ کر چُپ کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔لیکن راہل گاندھی کی بات اتنی اثر پذیر ثابت ہوئی کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے سیاست داں وزیر اعظم نریندر مودی کی بچاؤ میں پریس کانفرنس پر پریس کانفرنس کرتے پھر رہے ہیں۔جسے ہندوستانی عوام بہت حد تک سمجھ چکی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہی نہیں بلکہ پوری دال کالی ہے۔
یہ پورا معاملہ اس وقت سامنے آیاجب فرانس کے سابق وزیر اعظم فرانکس ہولانڈے نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کا انکشاف کیا کہ رافیل ڈیل میں ہندوستانی بزنس مین انیل امبانی کی کمپنی کا نام خود بھارتی حکومت نے دیا تھا۔ پھر کیا تھا اپوزیشن نے جب اس معاملے کی چھان بین کی تو معاملہ کافی پیچیدہ نظرآیاجس سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ڈیل کے پس پشت بدعنوانی ضرورہوئی ہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے پردہ فاش ہونے لگا اور انیل امبانی پرلگے الزامات صحیح نظر آنے لگے۔ راہل گاندھی نے صاف لفظوں میں کہا کہ اگر انیل امبانی کی کمپنی ریلائنس گھاٹے میں جارہی تھی تو اس کمپنی کو رافیل ڈیل میں شامل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی بیچ انیل امبانی نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ ان کی کمپنی کا ایک اور جہاز بنانے والی کمپنی کے ساتھ کام کرنے کا معاہدہ ہواہے۔ لیکن انیل امبانی کی بات حلق سے نیچے نہیں اتر رہی ہے ۔ کیونکہ انیل امبانی بھارتی وزیر اعظم کے قریبی مانے جاتے ہیں۔ ایک بار انیل امبانی نے بھارتی وزیر اعظم کو جنم دن کی مبارک باد دیتے ہوئے لکھا کہ ’آپ لیڈروں کے لیڈر اور بادشاہوں کے بادشاہ ہیں‘۔ اس کے علاوہ انیل امبانی پر بھارتی وزیر اعظم سے قربت اور کاروباری لین دین کا بھی الزام ہے۔تاہم رافیل جیٹ کا سودا 2012 میں اس وقت کی ہندوستانی حکومت نے فرانس کے ڈاسلٹ (Dassault)کمپنی کے ساتھ دس بلین امریکی ڈالر میں کیا تھا۔ لیکن اس وقت کے ہندوستانی وزیر دفاع نے یہ بات بھی کہی تھی کہ اس پورے ڈیل کو مکمل ہونے میں کافی وقت بھی لگ سکتا ہے۔اس کے بعد نئے وزیر اعظم نے اس کام کو آگے بڑھانے میں دل چسپی دکھائی اور بھارتی کمپنی ریلائنس کو فرانسیسی کمپنی ڈاسلٹ(Dassault) کے ساتھ ایک سوداطے کروادیا۔ جسے ایک سوچی سمجھی سازش مانی جارہی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014کے عام انتخاب میں اپنی دھواں دھار تقریر سے لوگوں میں یہ امید جتائی تھی کہ اگرمیں وزیر اعظم بنا تو ملک کا چوکیدار بن کر’ نہ کھاؤں گا اور نہ کھانے دوں گا‘ ۔نریندر مودی کی ان باتوں کو سن کر ہندوستانی عوام کے اندر ایک نئی امنگ جاگنے لگی اور وہ اپنے دیش کو ایک ترقّی یافتہ اور مودی کو ایک مسیحا کے طور پر دیکھنے لگی۔لیکن کسے پتا تھا کہ چوکیدار بن کر دیش کی حفاظت کرنے والا خود چور بن جائے گا۔یوں تو اس بات کا پتا لگانا یا اس کا ثبوت پیش کرنا کافی مشکل کام ہوگا۔ کیوں کہ ایسے سودے کسی دلال یا کسی کاروباری کے ذریعہ ہی کیے جاتے ہیں۔ جس سے بیچارہ بیچ کا آدمی ہی مارا جاتا ہے اور سیاست داں اپنا پلّو جھاڑ کر عوام کو اپنی بھولی باتوں سے گمراہ کرتے رہتے ہیں۔
میں راہل گاندھی کے حوصلے کو سراہتاہوں کہ انہوں نے بے باکی دکھاتے ہوئے مودی کو عوام کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے ۔ جہاں وہ ایک مجرم سمجھے جارہے ہیں۔ جس سے ملک کی جمہوریت اور اپوزیشن کی طاقت کا اندازہ لگاپانا زیادہ مشکل نہیں ہے۔اس سے قبل کئی معاملات میں ہندوستانی حکمراں جماعت کے کئی سیاست دانوں کو کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لیکن وہیں کئی شاطر سیاست داں اب بھی ملک کی جمہوریت اور عدلیہ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔
میں نے برطانیہ میں اس بات کو محسوس کیا ہے کہ اگر کوئی سیاست داں کسی معاملے میں ملوث پائے جاتے ہیں تو انہیں فوری طور پر استعفیٰ دینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد معاملہ پولیس کے حوالے کردیاجاتا ہے جہاں پولیس اس بات کی چھان بین کرتی ہے کہ واقعی سیاسی لیڈر یا وزیر نے ایسی حرکت کی ہے ۔ اس کے بعد پولیس سارے معاملات کو عدالت کے سامنے پیش کر کے ملزم کو سزا کے لیے عدالت سے اپیل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت بھی پبلک انکوائری کرواتی ہے اور ایک کم مدت میں اس پبلک انکوائری کا فیصلہ بھی سناتی ہے۔برطانیہ کے کئی قدآور لیڈروں کو سرکاری لین دین میں غلط طور پر ملّوث ہونے کی وجہ سے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑی ہے۔اس کے علاوہ عوام نے بھی ایسے بدنام سیاست دانوں کو نظر انداز کیا ہے۔ان تمام معاملوں میں میڈیا نے اہم رول نبھایا ہے اور تحقیقاتی صحافت کے ذریعہ پورے معاملے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرنے کا کام کیا ہے۔ جس سے کافی حد تک عوام ، حکومت اور پولیس کو کیس حل کرنے میں آسانی ہوئی ہے ۔
رافیل جیٹ سودے میں جس طرح سے ہندوستانی میڈیا نے غیرجانب دارانہ رول نبھایا ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔ تاہم گرتے ہوئے اخلاقی معیار اور بدعنوانی کی وجہ سے عوام تذبذب کے شکار ہے کہ واقعی معاملہ سنجیدہ ہے یا ایک سیاسی چال ہے جس کی آڑ میں اپوزیشن اپنا الّو سیدھا کرنا چاہتی ہے؟جو کہ ایک اہم سوال ہے ۔لیکن رافیل ڈیل میں اب تک جو حقائق ہمارے سامنے ہیں ان سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ چوکیدار نے تو چوری کر ہی لی اور وہ مزید چوری کرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔اب ہندوستانی عوام کی ذمہ داری ہے کہ آنے والے انتخابات میں اپنی دیانتداری اور سمجھ داری سے کام لیتے ہوئے چور بنام چوکیدار کو جیل میں ڈلوائے اور چوکیدار کے جھانسے میں آکراسے دوبارہ کرسی پر نہ بیٹھائے.

اپنا تبصرہ بھیجیں