غربت کے عفریت سے کیسے بچا جائے ؟—مفتی شکیل احمد ظفر

عجب رسم ہے چار گروں کی محفل میں
لگا کے زخم نمک سے مساج کرتے ہیں
غریبِ شہر ترستا ہے ایک نوالے کو
امیرِ شہر کے کتے بھی راج کرتے ہیں

سرورد دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل روزِ قیامت خالقِ کائنات سوال کریں گے کہ ” اے میرے بندے ..! میں بھوکا تھا تونے مجھے کھانا نہ کھلایا ،میں بیمار تھا تونے میری تیمارداری تک نہ کی .یہ سن کر انسان کہے گا کہ ” اے میرے پروردگار …! تو کیسے بیمار ہوسکتا ہے ،تجھے بھوک کہاں لگتی ہے ..؟؟ اس کے جواب میں اللہ پاک فرمائیں گے کہ ..میرے بندے بھوکے مررہے تھے اور تیرے دستر خوان کشادہ تھے مگر تونے میرے بندوں کو کھانا نہیں کھلایا ،میرے غریب و لاچار بندے بیمار ہوتے رہے اور تیرا حال یہ تھا کہ تو ان کی عیادت کے لیے بھی نہ جاسکا۔اب تجھے اس کا حساب چھکانا ہوگا۔
گندم امیر شہر کی ہوتی رہی خراب
بیٹی کسی غریب کی فاقوں سے مرگئی
آج کی اس ترقی یافتہ اور جدید دنیا میں بھی غریب شخص محکومیت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے ،اس کے حقوق کا استحصال کیا جارہا ہے۔یہ امتیازی سلوک کا شکار ہے۔ سماج میں اس کی عزت “بکاؤ مال” کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔اس کی زندگی کا مقصد صرف صبح تا شام مشکل ترین اور پر ازمشقت کام کرنا ہی رہ گیا ہے۔سرمایہ دار طبقہ پسماندہ طبقے کے خون چوسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔اس کے خون پسینے کی کمائی کوبھی ہڑپ کرلیاجاتا ہے۔یہ بے چارہ ظلم در ظلم کی چکی میں پستاہی جارہاہے۔اگر یہ جنس بے مایہ کام پرجانے سے محض اس وجہ سے انکار کرتی ہے کہ انہیں بھاری بھرکام کا پورا معاوضہ نہیں مل پاتا تو اس پر لاٹھی چارج کی جاتی ہے اور اس کی بہن ،بیٹی یا بیوی کو اٹھا لینے کی دھمکی بھی دی جاتی ہے۔ناگفتہ بہ حالات میں گرا یہ ابن آدم اس کشادہ ترین زمین کو نہ” پائے ماندن نہ جائے رفتن “کا مصداق سمجھتاہے۔اس کا نہ توکوئی پرسان حال ہے اور نہ ہی اس کی پریشانیوں کا مداوا ملک پاکستان میں موجود ہے۔ سفاکیت کی انتہا دیکھئیے کہ ۔۔۔لاہور کے علاقہ شاہدرہ کے ایک فیکٹری مالک نے ندیم نامی ایک مزدور کی چھ ماہ تک خون پسینے کی کمائی روکی رکھی۔ندیم صاحب کے مزدوری لینے کے اصرار پر ظالم متکبر نے اس بے چارہ کا بازو بھی کاٹ ڈالا۔
بھوک پھرتی ہے میرے ملک میں ننگے پاؤں
رزق ظالم کی تجوری میں چھپا بیٹھا ہے
کتنے بے بس غریب ،حالات سے تنگ آکر خودکشی جیسی رسواکن موت کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں ..؟؟ کتنے لاچار مسکین لوگ اپنے پورے کنبہ کو آگ لگا چکے ہیں ..؟؟ کتنے زمانے کے ستائے ایسے حضرات بھی ہیں جو اب بھی موت کو زندگی پہ ترجیح دیتے ہیں ..؟؟ کتنے غربت کے مارے وہ والدین بھی ہیں جنہیں اپنے ننھے منھے بچوں کی بھوک، آنسووں کے سمندر بہانے پر مجبور کردیتی ہے …؟؟ کتنے ایسے لا وارث لوگ بھی کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں جنہیں کھلے آسمان کے نیچے سر چھپانے کو جگہ بھی نہیں ملتی ..؟؟ کتنی دکھی مائیں ایسی بھی ہیں جو اپنے معصوم بیٹوں کو صبح سویرے خوبصورت یونیفارم پہنا کے اسکول یا کالج نہیں بلکہ میلے کچیلے کپڑوں میں جوتے پالش کرنے والی دکان یا کیفے ٹیریا میں بھیجتی ہیں …؟؟
آخر …ایسا کیوں ہے ..؟ غربت کیا اتناہی بڑا جرم ہے ..؟ غربت کیا بے بسی کا ہی دوسرا نام ہے ..؟ غربت پریشانیوں ،غموں اور دکھوں سے ہی عبارت ہے ..؟ غربت کیا سر اٹھاکر جینے سے منع کرتی ہے ..؟ غربت صرف استحصال ،ظلم وزیادتی کا ہی سبب ہے ..؟ غربت کا سہارا،صرف ووٹ لینے کے لیے ہی لیاجاتا ہے ..؟ الیکشن کے موقع پر غریب عوام کے ووٹ کا تقدس پامال کرناہی سیاست دان طبقہ کا کام رہ گیا ہے۔
لوگ ووٹ حاصل کرنے کے لیے غربت کے خاتمے کے فلک بوس نعرے لگاتے اور بلند وبانگ دعوے کرتے نہیں تھکتے ..غربت کم کرنے کی بناء پر غریب آدمی کی ہمدردیاں حاصل کرتے ہیں لیکن جب وہی مسیحا تخت شاہی پہ جلوہ افروز ہوتے ہیں تو غریب کا استحصال کرتے ہیں۔اس کو ووٹ دینے کی وحشتناک سزا دیتیہیں ..ایک بیابان ، ویران اور پسماندہ علاقہ میں جانا ہوا۔وہاں ایک گھرانہ ایک جگہ پر آباد اور جبکہ دوسرا خاندان ایک دو میل کے فاصلہ پر رہتا ہے ..میں نے وہاں کے ایک صاحب سے پوچھا کہ خدانخواستہ یہاں اگر چوری ہوجائے تو آپ رات کو کسے مدد کے لیے پکارتے ہیں ..؟ اس نے بڑے اطمینان سے جواب دیا کہ ہمارے ہاں عام دنوں میں چوری کی وارداتیں نہیں ہوتیں۔۔۔ لیکن جب انتخابات قریب آتے ہیں تو وڈیرے لوگ خود چوریاں کراتے ہیں تاکہ عوام ،ان کے پاس اپنے مسائل لیکر جائے اور وہ ووٹ دینے کے وعدہ سے مال واپس کرادیں۔
گذشتہ حکومت سے غربت میں کمی کے حوالہ سے امیدیں ہاتھ پر چاند بنا کر روشنی کی امید رکھنے کے مترادف رہیں . انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی کار آمد سنجیدہ پش رفت نہیں کی. ہاں اگر کبھی کبھار آٹا میں نمک کے برابر دوچار قدم اٹھائے بھی تو وہ بھی صرف اپنے سیاسی قد کاٹھ کو اونچاکرنے کے لیے ..اور کیا ..؟
تو اب کیا کیا جائے کہ غربت جیسے مہلک مرض میں کمی واقع ہو جائے ..؟؟ وہ کون سے راستے ہیں جن پر ہم چل کر اس طبقاتی تقسیم سے نجات حاصل کرسکیں ..؟ وہ کونسے عوامل ہیں کہ جو اس عفریت سے ہمیں بچاسکتے ہیں ..؟ اس بارے عرض ہے کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ ہمارے سرمایہ دار بھائیوں کو اس طرف متوجہ کرے .اور ہمارے اس طبقہ کو اسلام کے عطاء4 کردہ اہم فارمولوں پر عمل بیرا ہونا چاہیے …تاریخ گواہ ہے کہ جن ترقی یافتہ ممالک میں غربت کی دنیا میں حیرت انگیز حدتک کمی واقع ہوئی ہے ان میں ارب پتی اور مال دار طبقہ کی عوام الناس کی فلاح وبہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بڑا دخل ہے۔دین فطرت نے دولت کی گردش کو رواں رکھنے ،اسباب وسائل پر متمول برادری کی اجارہ داری ختم کرنے اور غریبوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کے بڑے اہم اصول بتائے ہیں۔ اگر صاحبِ ثروت طبقہ ان روشن اصولوں پر کاربند ہوجائے تو بہت سے محتاج و مسکین لوگ دستِ سوال دراز کرنے سے بچ سکتے ہیں …اسلام کے نظامِ زکوۃ ،نظامِ خیرات ،نظامِ میراث اور نظامِ اوقاف کو اپنا لینے سے ہمارے بہت سے مفلوک الحال خوشحالی اور اطمینان کی زندگی بسر کرسکتے ہیں..
آخر میں شاعر کی زبانی پڑھیے کہ ..غربت میں کیا ہوتا ہے۔
بھوک میں کوئی بتلائے کیسے لگتا ہے
سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی تحفہ لگتا ہے
یہ تو کھلونے والے کی مجبوری ہے ورنہ
کس کا بچہ رونا اس کو اچھا لگتا ہے
جب سے چھوڑدیا ہے پیسہ دو پیسہ لینا
اب تو بھکاری بھی کچھ عزت والا لگتا ہے
یارو اس کی قبر میں دو روٹی بھی رکھ دینا
مرنے والا جانے کا کب کا بھوکا لگتا ہے
محلوں کے گن گاتا بھی تو کیسے اے اخلاق
تو تو پیارے فٹ پاتھوں کا راجہ لگتا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں