شہبازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر شہباز شریف کو آج لاہور کی احتساب عدالت میں پیش کردیا گیا ہے جب کہ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو عدالت میں داخلے سے منع کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی اہلکاروں نے میڈیا کو جوڈیشل کمپلیکس کے احاطے سے نکال دیا ہے اور ہدایت کی گئی ہے کہ تمام کوریج احاطہ عدالت سے باہر رہ کر کی جائے۔
قومی احتساب بیورو (نیب) نے گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا تھا اور آج صبح گیارہ بجے انہیں احتساب عدالت پیش کیا جائے گا۔ سباق وزیراعلیٰ کے ساتھ ان کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز بھی پیش ہوں گے۔
ذرائع نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ شہباز شریف کو احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا جائے گا اور نیب کی جانب سے ریمانڈ کی درخواست کی جائے گے۔
سابق وزیر اعلی کو بکتر بند گاڑی میں سخت سکیورٹی کے ساتھ پیش کیا جائے گا۔ احتساب عدالت میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ پولیس کی نفری میں تھانہ انار کلی اور تھانہ اسلام پورہ کے جوان تعینات ہیں۔
نیب نے گزشتہ روز سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا تھا۔ شہباز شریف پر کروڑوں روپے کرپشن اور من پسند افراد کو ٹھیکے دینے کا الزام ہے۔
آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سب سے بڑی گرفتاری شہباز شریف کی ہے۔ قبل ازیں نیب نے 21 فروری کو لاہور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو گرفتار کیا تھا۔
24 فروری کو بسم اللہ انجینئرنگ کے چیف ایگزیکٹو شاہد شفیق کو گرفتار کیا گیا تھا جب کہ سابق سی ای او پنجاب لینڈ ڈیپارٹمنٹ امتیاز حیدر، عارف مجید بٹ، اکنامک اسپیشلسٹ بلال قدوائی،اور ایل ڈی اے کے چیف انجینئر اسرار سعید بھی آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار ہیں۔
نیب نے پانچ جولائی 2018 کو سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو بھی اسی کیس میں گرفتار کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں