کرکٹ میں سپاٹ فکسنگ کا ایک اور بڑا سکینڈل، پاکستانی اور آسٹریلین ملوث نکلے

اسلام آباد: کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے الجزیرہ نے ایک بار پھرتہلکہ خیز انکشافات کردیے ہیں۔
قطری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ کرکٹ کے 15 مشہور ترین کھلاڑی اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آسٹریلیا، پاکستان اور انگلینڈ کے کھلاڑیوں کے خلاف کرکٹ کرپشن کے ثبوت ملے ہیں۔
دستاویزی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آسٹریلیا کے کھلاڑی سات میچوں میں، انگلینڈ کے کچھ کھلاڑی پانچ جبکہ چند پاکستانی کھلاڑیوں نے تین میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کی۔ ان فکسنگز میں زیادہ تر بلے باز ملوث ہیں، جن میں سے اکثر بہت مشہور کھلاڑی ہیں۔
رپورٹ کے میں بتایا گیا ہے کہ ان واقعات کے مرکزی کردار بدنام زمانہ بھارتی میچ فکسر انیل منور ہیں۔ رپورٹ میں مبینہ اسپاٹ فکسنگز کے حوالے سے کال ریکارڈنگ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔
الجزیرہ کے مطابق 2011 سے 2012 کے درمیان 15 میچوں میں اسپاٹ فکسنگ کے 26 واقعات سامنے آئے۔ یہ فکسنگز آسٹریلیا بمقابلہ بھارت لارڈز ٹیسٹ، جنوبی افریقہ بمقابلہ آسٹریلیا کیپ ٹاون اور پاکستان بمقابلہ انگلینڈ یو اے ای سیریز میں کی گئیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان اسپاٹ فکسنگز میں زیادہ تر بلے باز ملوث ہیں، جن میں سے اکثر بہت مشہور کھلاڑی ہیں۔
دستاویزی فلم میں مبینہ بکی کے ساتھ پاکستان اور بھارت کے چند کرکٹرز کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
ان تصاویر میں پاکستانی کرکٹرعمراکمل، بھارتی کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما بھی نظر آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ بالاجی، سریش رائنا اور آسٹریلوی کرکٹراینڈی بکل بھی تصاویرمیں موجود ہیں۔ تاہم یہ بات واضح کی گئی ہے کہ ان تصاویر سے مذکورہ کرکٹرز کا فکسنگ میں شامل ہونا ثابت نہیں ہوتا۔
الجزیرہ کی جانب سے نئے شواہد سامنے آنے کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی )کے اینٹی کرپشن یونٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔
اسپاٹ فکسنگ پر اس سے قبل آنے والی الجزیرہ کی رپورٹ کو آئی سی سی کچھ زیادہ اہمیت نہیں دی تھی، تاپم تازہ دستاویزی فلم منظر عام پر آنے کے بعد آئی سی سی نے دفاعی انداز اپنانے پر مجبور ہوگیا ہے۔
بین القوامی کرکٹ امور چلانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ وہ اسپاٹ فکسنگ کے ان الزامات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔
آئی سی سی اینٹی کرپشن یونٹ کے جنرل منیجر الیکس مارشل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘کرکٹ کی ساکھ کو شفاف رکھنے کیلئے آئی سی سی مسلسل کوششیں کررہا ہے، الجزیرہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو نہ صرف سنجیدگی سے دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کی مکمل اور جامع تحقیقات بھی کی جائیں گی’۔
مارشل کا مزید کہنا تھا کہ یہ تاثر ہرگز درست نہیں کہ آئی سی سی کرکٹ میں کرپشن کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں دیکھتا، کھیل کو کرپشن سے پاک رکھنے کے لیے آئی سی سی پہلے سے کہیں زیادہ وسائل بروئے کار لارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں