کراچی میں پھر 600 دکانیں مسمار

کراچی (نمائندہ خصوصی) شہر قائد کے علاقے صدر میں تجاوزات کے خلاف کے ایم سی کا آپریشن جاری ہے۔ آپریشن کے دوران 600 سے زائد دکانوں کو مسمار کیا جاچکا ہے۔
سپریم کورٹ کے حکم پر کراچی میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی جانب سے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف قائم دکانوں کو مسمار کیا گیا جس کے لیے دکانداروں کو پیشگی مطلع کر دیا گیا تھا جب کہ رات گئے پولیس کی بھاری نفری نے دکانوں کو مکمل طور پر خالی کرالیا اس موقع پر رینجرز کی بھی بھاری نفری موجود تھی۔
ایمپریس مارکیٹ کے اطراف گزشتہ روز رات 12 بجے آپریشن کیا جانا تھا تاہم دکانداروں کو اتوار کی صبح تک کا وقت دیا گیا تاکہ وہ اپنی دکانیں خالی کرلیں۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران کے ایم سی کے 15 سو اہلکاروں نے حصہ لیا جب کہ کے ایم سی کی 50 سے زائد ہیوی مشینری کے علاوہ کرائے پر حاصل کی گئی اضافی ہیوی مشینری بھی آپریشن کا حصہ ہے۔
کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹ ٹاسک فورس کی چار ٹیمیں آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔ جس میں 450 اہلکار شامل ہیں۔ آپریشن کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے پولیس کی لٹھ بردار فورس اور واٹر کینن بھی موجود ہے۔
ایمپریس مارکیٹ کے اطراف عمرفاروق مارکیٹ، پرندہ مارکیٹ، کپڑا مارکیٹ کی ایک ہزار سے زائد دکانوں کو مسمار کیا جا رہا ہے۔
ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ سیل بشیر صدیقی نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف 50 سال قبل پارکس تھے جہاں تجاوزات قائم کر دی گئیں۔ ایمپریس مارکیٹ کو دوبارہ اس کی اصل حالت میں بحال کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے اطراف ایک ہزار سے زائد دکانوں کو مسمار کرنے کے بعد اب ملبہ اٹھانے کا کام جاری ہے۔
میئر کراچی وسیم اختر نے ایمپریس مارکیٹ میں جاری آپریشن کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن کے دوران ایک ہزار 44 دکانوں کو مسمار کیا جاچکا ہے۔ ہم اب صدر میں کسی کو تجاوزات کی اجازت نہیں دیں گے، دکان کے اوپر صرف دکان کے بورڈ کی ہی اجازت ہو گی جو 12 انچ تک باہر ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایمپریس مارکیٹ کے چاروں اطراف کی دکانیں تجاوزات تھیں جنہیں مسمار کیا جارہا ہے اور اب شہر کی خوبصورتی کے لیے ایمپریس مارکیٹ کے اطراف پارکس بنائیں گے جب کہ صدر کے فٹ پاتھوں پر قبضہ ہوچکا تھا لیکن اب ہم دوبارہ اس کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کے ایم سی نے 40 سال قبل دکانیں لیز پر دی تھیں لیکن اب یہ معاہدہ ختم کیا جا چکا ہے تاہم جو دکاندار ہمارے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ہم اُن کو متبادل جگہ فراہم کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں