ملازم—پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بیدیاں روڈ لاہور کے وسیع و عریض سو کنال سے زائد رقبے پر پھیلے ہو ئے لگژری فارم ہا ؤس پر شہر کے دولت مند شخص کے پو تے کے عقیقے کا فنکشن اپنے عروج پر تھا میں ہال میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا وہ اپنی دولت کی نمائش کا کو ئی بھی مو قع ہا تھ سے نہیں جانے دے رہا تھا ‘ مہمانوں سے وہ مل کم رہا تھا اپنی امارت کے اشتہار زیادہ چلا رہا تھا وہ بار بار ایک فقرہ دہرائے جا رہا تھا ‘ جناب آج کے فنکشن میں تو فیملیز بھی آئی ہو ئی ہیں آپ کو کسی اور فنکشن میں جب بلائیں گے تو آپ لندن اورپیرس کے فنکشن بھی بھو ل جائیں گے ‘ جناب آپکا یہا ں پر ہی یو رپ بنا دیں گے آپ کے لیے جنت زمین پر اتار لیں گے ‘ شباب ‘کباب ‘ مستی ‘ ناچ ‘ گانا ‘ بلا روک ٹو ک وافر مقدار میں مہیا کیا جائے گا وہ لوگوں کو آنے والی خو بصورت عیاشی سے بھر پور تقریبات کی دعوت دے رہا تھا سینکڑوں با وردی لڑکے لڑکیاں غلاموں کی فوج کی شکل میں ہزاروں مہمانوں کی خدمت مستعدی سے کر رہے تھے میں نسلِ انسانی کی سوچ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ہر دور میں دنیا کے ہر خطے میں جب بھی کسی کے پاس بے پناہ دولت آئی تو اُس شخص نے یہی سمجھا کہ یہ نعمت پہلی بار صرف مجھے ہی ملی ہے اور پھر اِس دولت کو اشتہار اور ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے لوگوں کو مرعوب کر نے کی پو ری کو شش کی اور پھر جب ایسے امیروں پر بڑھاپے کا سایہ پڑتا ہے رگوں میں دوڑتا اچھلتا خون ٹھنڈا ہو نے لگتا ہے تو یہ دولت کے بل بو تے پر دنیا جہاں کے ڈاکٹروں ہسپتالوں لیبارٹریوں پر کروڑوں روپے جوانی کو برقرار رکھنے پر لگا لیتے ہیں لیکن وقت دیمک کی طرح انہیں کھا کر جسم مفلوج کر کے جب بیڈ پر پتھر کے مجسمے کی طرح لیٹا دیتا ہے تو پھر ایک نر س خالی کمرہ اور ڈائیلسسز مشین ہی اِن کی ساتھی ہو تی ہے اور پھر اِن کی عیاش اولاد دولت کو اپنی شاہ خرچیوں پر اڑانا شروع کر دیتی ہے اور یہ خالی کمرے میں قید تنہائی کاٹ کر قبر کی بے رحم تاریکی میں اُتر جا تے ہیں ‘ جہاں زہریلے کیڑے اِن کے نرم و نازک جسم کے ریشوں کو اُدھیڑ ڈالتے ہیں پیٹ پھٹ جاتے ہیں لیکن ابھی تو صاحب بہادر دولت طاقت جوانی کے زور پر فرعون بنے نظر آرہے تھے پھر میزبان نے اپنا آخری پتہ پھینکا مائک پر اعلان کیا گیا کے ساتھ والے حصے میں شاندار کھانا آپ کا انتظار کر رہا ہے ‘ شامیانے کی درمیانی دیوار ہٹا دی گئی اب لوگ برق رفتاری سے ساتھ والے حصے میں داخل ہو نے لگے تو وہاں ایک نیا ہی حیرت کدہ بلکہ لذت کدہ لذیذ خوشبودار اشتہار انگیز کھانوں سویٹ ڈشوں کے ساتھ مہمانوں کا انتظار کر رہا تھا ‘ کھا نے کومزید مزیدارلذیز بنانے کے لیے کھانا وہیں پر تیار اور سرو ہو رہا تھا ،رہو باربی کیو ٹکا ٹک کی دلفریب آوازیں آرہی تھیں گر ما گرم روٹیاں نان تیار کئے جا رہے تھے کھانے کو مزیدمزیدار اور مہمانوں کو متاثر کر نے کے لیے ہزاروں تیتر بٹیروں اور ہرنوں کا بھی اہتمام تھا ‘ ہرنوں کے پیٹوں میں خشک میوہ جات ڈال کر مغلیائی پلاؤ تیار کیا گیا تھا ‘ شیف سارے مہمانوں کو بار بار کہہ رہے تھے کہ یہ ہرن ہیں یہ تیتر بٹیر ہیں ‘ دنیا جہاں کے لذیز کھانے اب ہزاروں لوگوں کے پیٹوں میں جا رہے تھے ساتھ ہی الگ شامیانے میں نو کروں ڈرائیوروں کے لیے سنگل ڈش سروس جاری تھی اِدھر بہشتی لذیذ کھانے اِدھر صرف مرغی چاول اگر کو ئی میزبان سے پو چھے کہ اگر تم اتنے ہی امیر ہوتو اِن کو بھی یہیں کھانا کھانے کی اجازت دو لیکن اُسے تو امیروں کو ہی متاثر کر ناتھا ۔ اِن غلاموں سے اُسے کیا کام تھا نوکروں ڈرائیوروں کی اتنی اوقات کہاں کہ وہ اِن میں شامل ہو سکیں وہ بیچارے حسرت بھری نظروں سے مہمانوں کی جنت دیکھ رہے تھے جہاں پر شہر کے مہذب امیر اعلی طبقے کے لوگ جانوروں کی طرح تیتر بٹیروں ہرنوں کو اُدھیڑ رہے تھے کھانے پر جانوروں کی طرح ٹوٹ پڑے تھے ۔ کھانے کے دوران ہی سویٹ ڈشز بھی سرو کی جا نے لگیں یہاں پر بھی میزبان نے اخیر ہی کر دی دنیا جہاں کی مشرقی مغربی ہندوستانی سویٹ ڈشز کی لمبی قطاریں لگا دی تھیں لوگ جی بھر کر اِن لذیذ میٹھی ڈشوں سے لطف اٹھا رہے تھے میزبان اور اُس کی فوج لوگوں کو اور بھی کھانے کی ترغیب دے رہی تھی ۔ یہ خاص کھانا ہے یہ خاص سویٹ ڈش ہے یہ میں نے فلاں جگہ فلاں شہر سے سفارش کر وا کر منگوائے ہیں یہ مہاراجوں بادشاہوں کے مخصوص کھانے ہیں میزبان کو اپنی امارت اور سمجھ بوجھ کا دورہ پڑا ہوا تھااور وہ اپنے دورے کو مہمانوں پر خوب خوب نکال رہاتھا‘ میٹھے کھانے کے بعد اب چائے کافی اور قہوہ جات کا دور شروع ہو ‘ ا امریکن یورپی کافی کے قصیدے گائے جانے لگے میں نے قہوہ پکڑا اُس میں شہد ڈالا جو چینی کی جگہ سرو کیا گیا تھالیموں نچوڑا اور آکر خالی ٹیبل پر بیٹھ گیا اِسی دوران میزبان میری طرف آتا دکھا ئی دیا ‘ پروفیسر صاحب آپ نے واپس نہیں جانا آپ کو میرا ڈرائیور چھوڑ کر آئے گا اور آپ نے بچے کو تو دیکھا نہیں ‘ میری بہو کتنی دیر سے آپ کا پو چھ رہی ہے کہ آپ بچے کو دیکھ بھی لیں اور دعا بھی دے دیں آپ پلیز میرے ساتھ چل کر بچے کو دعا دیں اب میں سٹیج کی طرف جانے لگا مجھے دیکھ کر بچے کی ماں باپ اور دادی بہت خوش ہوئے ‘ بچہ لایا گیا میں نے دعا دی ‘ دم بھی کر دیا اب میں واپسی کے پر تول رہا تھا شدید بو ریت کے بعد اب میں گھر واپس جانا چاہتا تھا تاکہ دن بھر کی ادھوری تسبیحات پو ری کر سکوں ‘ میں نے اپنی اِس خواہش کا اظہار کیا تو میزبان بولا جناب آپ کے لیے فروٹ کی پیٹیاں اور تحائف گاڑی میں رکھ دئیے ہیں میرا ملازم آپ کو جاکر گھر چھوڑ کر آئے گا کسی دن آپ کے لیے یہاں پر قوالی نائیٹ کا بندوبست کر تے ہیں ‘ آپ خوب انجوائے کریں گے اب وہ مجھے بھی دانہ ڈال رہا تھا ۔میرے ساتھ ایک ملازم جو شاید ڈرائیور تھا لگا دیا گیا میں اُس کے ساتھ کار پارکنگ کی طرف بڑھنے لگا ‘ گاڑی جا کر دیکھی تو پھل فروٹ کے ٹوکروں پیٹیوں کپڑوں اور بے شما ر چیزوں سے بھری ہو ئی تھی ‘ یہاں پر بھی میزبان اپنی امارت شاہانہ دولت کے اظہار سے باز نہیں آیاتھا وہ ایک طرح سے مجھے خرید رہا تھا کہ تم پیسے تو لیتے نہیں لیکن اِن تحائف کے وزن تلے میں تمہیں دبا دوں گا ‘ مجھے لگا گاڑی بچھو سانپوں سے بھری ہوئی ہے جب بھی کو ئی چھچھورا میرے ساتھ ایسی حرکت کرتا ہے تو میں بھی بپھر جاتا ہوں دوبارہ ملنے سے انکار کر دیتا ہوں گاڑی سٹارٹ ہو ئی ہم گھر کی طرف روانہ ہوئے میں نے ہمیشہ کی طرح ڈرائیور سے گفتگو شروع کی بیٹا تمہاری تنخواہ کتنی ہے تو وہ بولا جناب اٹھارہ ہزار روپے جس میں سے دس ہزار مکان کا کرایہ دے دیتا ہوں باقی آٹھ ہزار میں گھر چلتا ہے میری بیوی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے کچھ پیسے اور کما لیتی ہے جس سے بڑی مشکل سے گھر چلتا ہے تو تمہارا مالک تمہار ی مزید مدد نہیں کرتا تو وہ روتا ہوا بولا جناب ہمیں تو فالتو ایک روپیہ نہیں دیتا بلکہ جب سے پوتا ہوا ہے بیگم صاحبہ بہت سارے بڑے نوٹ گاڑی میں رکھ کر گھر سے نکلتی ہے‘ سارے راستے گدا گروں کو نوٹ بانٹ کر گھر آجا تی ہے ‘ یتیم خانوں میں لاکھوں روپے ہسپتالوں میں لاکھوں روپے بانٹتے ہیں ہم گھر کے ملازموں کو صرف تنخواہ اگر کبھی ہم مزید ادھار مانگیں تو ہمیں ندیدہ کہا جا تا ہے ‘ ہماری خوب بے عزتی کی جا تی ہے ۔بر ی علت میں نے بہت سارے دولت مندوں میں دیکھی ہے سارے شہر میں سخاوت کے چرچے لوگوں میں سخاوت کی لمبی داستانیں جبکہ گھریلو ملاز م بھو کے مر تے ہیں انہیں دینے میں مو ت آتی ہے جبکہ خدا کا واضح فرمان ہے کہ سخاوت مدد قریب ترین عزیز ترین لوگوں میں زیادہ لگتی ہے ڈرائیور درد ناک سٹوریاں سنا رہا تھا کہ ہمیں کھانا بھی باسی دیا جاتا ہے ‘ ساری سخاوت باہر کی جا تی ہے جبکہ ہم غریب دیکھتے رہتے ہیں میرا اکثر دل کرتا ہے کہ جب روڈ پر بیگم صاحبہ نو ٹوں کی برسات کر تی ہیں تو میں بھی سڑک کنارے بھکاری بن کر کھڑا ہو جاؤں لیکن اگر میں کھڑا ہو گیا تو مجھے گالیاں پڑیں گی اِن کو کون بتائے ہم غریب دیکھ دیکھ کر تر ستے ہیں یہ ہما ری مدد کی بجائے دوسروں پر لٹا تے ہیں کاش یہ ہمیں بھکاری سمجھ کر ہی دے دیا کریں ‘ میں حیران تھا کہ جو میزبان سارے شہر کو بلا کر اپنی امارت دکھا رہا تھا اُسے یہ خبر نہیں تھی کہ یہ ملازم بھی اشتہار کی طرح اُس کی کنجوسی کی داستان لوگوں میں سنائیں گے اور خدا بھی ناراض ہو گا میں نے اچانک ڈرائیور سے کہا پہلے تم اپنے گھر چلو مجھے وہاں تم سے کو ئی کام ہے وہ حیران ہوا لیکن اپنے گھر کی طر ف چل پڑا ‘ کچی آبادی میں دو مرلے کے کرائے کے گھر کے سامنے گاڑی رکی تو میں نے کہا گاڑی میں سارا سامان اترا کر اپنے گھر رکھ کر آؤ ‘ یہ میری طرف سے تمہیں تحفہ ہے‘ پہلے تو اُس نے انکار کیا لیکن میرے اصرار پر سامان گھر اتار دیا اب میں خالی کار میں اپنے گھر کی طر ف جا رہا تھا ‘ میرے اندر خوشی اطمینان سرشاری کے فوارے پھوٹ رہے تھے کہ جب غریب بچے فروٹ کھا ئیں گے تو خالقِ کائنات کتنا خوش ہو گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں