عالمی سفیر اردو اور مصر کا دورہ—فہیم اختر (لندن)

پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین سے میری پہلی ملاقات 2015 میں استنبول یونیورسٹی کی طرف سے منعقدہ عالمی اردو کانفرنس میں ہوئی تھی۔ لیکن باضابطہ طورپر ان سے میری جان پہچان، دوستی اور قربت استنبول یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو جناب خلیل طوقار کی کلکتہ آمد کے دوران ہوئی تھی۔ خواجہ صاحب کو اللہ نے نفیس طبیعت اوراعلیٰ ذہن کے ساتھ ایک عمدہ انسان بھی بنایا ہے۔خواجہ صاحب میں ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اردو زبان کی ہمہ جہت فروغ اورعالمی سطح پر اردو کی ترویج واشاعت میں میرے ہم خیال ہیں۔ حال ہی میں خواجہ صاحب نے ’ ورلڈ اردو ایسوسی ایشن‘ کی بنیاد رکھی ہے، جس کے بینر تلے آنے والے دنوں میں دنیا بھر میں اردو کے محبّان ایک جگہ جمع ہو کر اپنی رائے اور خیال کا اظہار کریں گے۔ میں اور خواجہ صاحب اب ایک ساتھ اردو کی بقا اور اس کی عالمی پہچان کو عام لوگوں تک پہچانے میں کوشاں ہیں۔ خواجہ صاحب کی اس کوشش کے مد نظر میں انہیں ’عالمی سفیرِ اردو‘ بلاتا ہوں جس سے ہم اور آپ انکار نہیں کر سکتے۔
چند مہینے قبل مصر کی راجدھانی قاہرہ اور دنیا کی موجود قدیم ترین یونیورسٹی جامعہ الازہر سے ایک دعوت نامہ موصول ہوا جس میں ناچیز کو’ اردو زبان اور سوشل میڈیا ‘ کے حوالے سے ایک مضمون پڑھنے کی گزارش کی گئی تھی۔لندن کی بھاگتی اور مصروف زندگی سے کسی کانفرنس کے لیے وقت نکال پانا سچ پوچھئے تو بہت مشکل ہے ۔لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ اس کانفرنس میں خواجہ صاحب بھی شرکت کریں گے تو پھر ناچیز نے اس قیمتی سفر کو ہاتھ سے جانے دینا مناسب نہیں سمجھا اور کانفرنس میں شرکت کی حامی بھرلی۔
جمعہ 9؍ نومبر2018 کو دفتر جانا ضروری تھا اور حسبِ معمول کئی میٹنگ میں شرکت کرنے کے بعد اپنے سیکریٹری کو ہفتے بھر کی روداد بتا کر شام چار بجے ہسپتال کے قریب لندن انڈر گراؤنڈ کے ڈسٹرکٹ لائن پر سوار ہو کر پہلے (Earls Court)ارلس کورٹ پہنچا۔ اس کے بعد (Piccadilly line)پیکیڈلی لائن لے کرrt) (Heathrow Airpoہیتھرو ائیرپورٹ کے ٹرمنل 5کی جانب روانہ ہوگیا۔میرا ذہن ودل کانفرنس میں شرکت اور مصر دیکھنے کی خواہش میں بیقرارتھا۔ سفر نے اس بیقراری میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔ اسی بیقراری کے عالم میں انڈر گراؤنڈ ٹرین نے ہیتھرو ائیرپورٹ پہنچنے کا اعلان کر دیا۔
لندن کا معروف ہیتھرو ائیرپورٹ اپنی بانہیں پھیلائے ہمارا استقبال کر رہا تھا۔ ہم نے اپنا چیک اِن آن لائن کرلیا تھا اس لیے مجھے ائیرپورٹ پہنچ کر مزید وقت ضائع نہ کرنا پڑا۔ تھوڑی دیر بعد برٹش ائیرویز کے جہاز پر سوار ہوگیا اور لند ن کی تیز رفتار زندگی کو بھول کر مصر پہنچنے کا بے صبری سے انتظار کرنے لگا۔
مصر ی وقت کے مطابق صبح 2:30بجے قاہرہ انٹر نیشنل ائیرپورٹ خیر و عافیت سے پہنچ گیا۔ ائیر پورٹ سے جیسے ہی باہر نکلا سامنے سے ایک آواز آئی’ فہیم سر‘۔ ایک نوجوان جس کا نام عبدالعلیم تھا، اپنے دوساتھیوں کے ساتھ میرا انتظار کر رہے تھے۔ ہم قریب جا کر ان سے بغل گیر ہوئے اور ایک اسسٹنٹ پروفیسر کی گاڑی میں سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگیے۔ عبدالعلیم کا تعلق مہاراشٹر سے ہے، ان کی ابتدائی تعلیم بدایوں ،یوپی سے ہوئی ہے اور فی الحال وہ الازہر یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
چند لمحوں کے بعد ہم مدینتہ النصر پہنچ گیے جہاں خواجہ اکرام نے ہمارے قیام کا انتظام کروایا تھا۔میں اپنا سامان لے کر جب کمرے میں داخل ہوا تو وہاں ایک صاحب پہلے سے موجود تھے۔ ان کا نام جناب محمد کاظم تھا۔ دراصل اب محمد کاظم پروفیسر کاظم کہلاتے ہیں اور آپ دلی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ کاظم فوراً بستر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ہم آپس میں ایک دوسرے سے کافی دیر تک بغل گیر ہوتے رہے۔ 30سال بعد کاظم سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ کاظم ایک ہونہار اور ذہین طالب علم تھے ۔جسے میں نے ہمیشہ مولانا آزاد کالج، کلکتہ میں محنت کرتے دیکھا تھا ۔کاظم سے مجھے امید قوی تھی کہ یہ مستقبلِ قریب میں ضرور ایک اعلیٰ مقام حاصل کریں گے اور آج پروفیسر جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ راقم اور کاظم ڈھیر ساری باتوں کی پوٹلی کھول کر یہ بھول ہی گیے کہ ابھی ہمیں آرام کرنے کی ضرورت ہے۔
سنیچر 10؍ نومبر2018 کو کانفرنس میں شرکت کرنی تھی۔تمام احباب تیاریوں میں جٹے ہوئے تھے۔ میں بھی تھوڑی سی نیندلینے کے بعد تیار ہوا اورالا ازہر یونیورسٹی کی منی بس میں سوار ہو کر نکل پڑے۔ ہمارے ساتھ پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر شہاب عنایت ملک(ڈین اورصدرشعبۂ اردو جمّوں یونیورسٹی) پروفیسر محمد کاظم اور کروڑی مل کالج، دہلی یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر محمد محسن بھی سوار تھے۔اس کے علاوہ خواجہ صاحب کے منھ بولے بھائی جناب عطیف قادری بھی موجود تھے جو چند برسوں سے الازہر یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔بھائی عطیف کے ساتھ ان کے ساتھی امیر قادری بھی موجود تھے۔قاہرہ شہر کی سڑکیں کہیں کہیں ہندوستان کی یاد دلا رہی تھیں۔ شہر میں ہر جگہ بھیڑ بھاڑ دِکھ رہی تھی۔ گاڑیاں گردوغبار میں لِپٹی ہوئی تھیں اور ہارن بجنے بجانے کی آواز کانوں کو ناگوار گزر رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے لیے احساس ہواکہ ملک کی معاشی صورت حال بہت بہتر نہیں ہے۔ تھوڑی دیر بعد ہم سب الازہر یونیورسٹی پہنچ گیے۔ کئی لوگوں نے ہمیں خوش آمدید کہااور ہم سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہال میں پہنچے جہاں ہمارا شاندار استقبال کیا گیا۔
باضابطہ کانفرنس کی شروعات سے قبل الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامرنے اپنی تقریرمیں ہم مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔ اس کے بعد کئی اور اعلیٰ عہدے پر فائز لوگوں نے یونیورسٹی کی جانب سے ہم سب کا خیر مقدم کیا۔کانفرنس کو دو سیشن میں بانٹا گیا تھا پہلے سیشن میں پروفیسرخواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر شہاب ملک اور پروفیسر محمد کاظم نے اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔ کانفرنس کی صدارت صدر شعبۂ اردو ابراہیم محمد ابراہیم کر رہے تھے، انھوں نے ہر مقالے کے بعد پاس ہی بیٹھے ایک شخص سے اس کا عربی ترجمہ بھی پڑھوارہے تھے۔
کانفرنس کے دوسرے سیشن میں پاکستان سے تشریف لائیں محترمہ غزل انصاری(جو برطانیہ کے بریڈفورڈمیں بھی رہتی ہیں)، ڈاکٹر محمد محسن اور ناچیز نے اپنا مقالہ پیش کیا۔ زیادہ تر مقالے اردو زبان اور سوشل میڈیا کے حوالے سے پڑھے گیے تاہم راقم نے اپنا مقالہ’ برطانیہ میں اردو زبان اور سوشل میڈیا‘ سے متعلق پیش کیا۔میں اس اہم سیمینار کے ذریعے ہال میں موجود لوگوں کو یہ بتانے کی کوشش کررہا تھا کہ برطانیہ میں اردو زبان کا کیا حالِ زار ہے۔مقالہ پیش کرنے کے لیے صرف دس منٹ کا وقت دیا گیا تھا جو کہ قابل افسوس پہلو ہے۔ جس کی وجہ سے ہم سب اپنی بات مکمل طور پر سامعین کے سامنے نہیں رکھ پائے۔خاص کر خواجہ اکرام الدین کا مقالہ کافی دلچسپ تھا لیکن انہیں بھی بحالتِ مجبوری اپنی بات ادھوری پیش کرنی پڑی۔جس کا ہمیں کافی ملال ہوا۔
کانفرنس کے بعد ہم سب کا تعارف الازہر یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر یوسف عامرصاحب سے کرایا گیا۔ ڈاکٹر یوسف ایک نفیس اور کم گو انسان ہیں۔ اردو زبان میں جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔موصوف نہایت خوبصورت انداز میں اردو بولتے ہیں۔ انہوں نے بھی برملا کہا کہ کانفرنس میں مندوبین کو زیادہ وقت دینا چاہئے تھا۔
شام کو ہم سب تاریخی دریا’دریائے نیل ‘کی سیر کو نکلے۔ دریائے نیل دنیا کا سب سے طویل دریا ہے جو براعظم افریقہ میں واقع ہے۔ یہ دو دریاؤں ’نیل ابیض‘ اور ’نیل ازرق ‘سے مل کر تشکیل پایا ہے۔مصر کا دارالحکومت قاہرہ دریائے نیل کے کنارے واقع ہے۔ کہتے ہیں کہ جب مصر فتح ہوا تو اہلِ مصر نے فاتح مصر حضرت عمر و بن عاص سے کہا کہ ہمارے ملک میں کاشتکاری کا دارومدار دریائے نیل پر ہے۔ ہمارے یہاں یہ دستور ہے کہ ہر سال ایک حسین و جمیل کنواری لڑکی دریا میں ڈالی جاتی ہے۔اگر ایسا نہ کیا جائے تو دریا خشک ہو جاتا ہے اور قحط پڑ نے لگتا ہے۔حضرت عمر و بن عاص نے انہیں اس رسم سے روک دیا۔ جب دریا سوکھنے لگا تو حضرت عمر و بن عاص نے یہ واقعہ خلیفہ وقت امیر المومنین حضرت عمر فاروق کو لکھ بھیجا۔ جواب میں حضرت عمر نے تحریر فرمایا کہ دین اسلام ایسی وحشیانہ و جاہلانہ رسموں کی اجازت نہیں دیتا اور آپ نے ایک خط دریائے نیل کے نام لکھ بھیجا اور اسے دریا میں ڈالنے کی ہدایت کی۔اس خط کا مضمون یہ تھا کہ ’بعد حمد و صلوۃ کے مطلب یہ ہے کہ اگر تو اپنی طرف سے چل رہا ہے تب تو خیر نہ چل اگر اللہ تعالیٰ واحد و قہار تجھے جاری رکھتا ہے تو ہم اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ وہ تجھے رواں کر دے۔‘یہ پرچہ لے کر حضرت امیر عسکر نے دریائے نیل میں ڈال دیا۔ ابھی ایک رات بھی گزرنے نہ پائی تھی جو دریائے نیل میں سولہ ہاتھ گہرا پانی چلنے لگا اور اسی وقت مصر کی خشک سالی تر سالی سے، گرانی ارزانی سے بدل گئی۔ قرآن مجید میں دو دریاؤں کا ذکر آیا ہے جن میں دریائے نیل (سورہ انبیاء) اور دریائے فرات( سورہ فرقان) شامل ہیں۔
مصر کی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیب میں سے ایک ہے۔ یہ وہی مصر ہے جہاں دنیا کی طویل ترین ندی بہتی ہے یعنی دریائے نیل، جس کی خوبصورتی آج بھی قابلِ دید ہے۔ یہ وہی مصر جس کے بازار میں یوسف کی خوبصورتی پر زلیخا نے اپنا سب کچھ وار دیا تھا۔ یہ وہی مصر ہے جہاں فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا اور حضرت موسیٰ کے زمانے میں سمندر میں غرق ہونے کے باوجود نہ تو پانی نے اسے قبول کیا اور نہ ہی مٹی نے اپنے اندر جگہ دی اور عبرت کے لیے آج بھی اس کی لاش موجود ہے۔ اسی مصر میں سکندر اعظم نے برسوں حکومت کی اور ان کے بسائے ہوئے شہر اسکندریا میں آج بھی دنیا کی قدیم ترین لائبریری موجود ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں