قائد کا پاکستان—محمد طیب طاہر چغتائی

تاریخ میں بہت کم افراد ہیں جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا،دنیا کے نقشے پر تبدیلی لے آئے یا ایک قوم کے تصور کو ریاست میں سمو دیا ۔مگر قائدِ اعظم محمد علی جناح ؒ نے حیرت انگیز طور پر یہ تینوں معرکے سر کر کے تاریخ میں اپنا نمایاں مقام بنایا۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے والد محترم پونجا جناح نے انہیں زندگی گذارنے کے دو اصول بتلائے۔ پہلا اصول،” اپنے بزرگوں کی فہم و فراست اور اُن کے علم و تجربے پر بھروسہ کرو، اِن کی ہدایات پر عمل کرو، جیسا وہ کہیں ویسا کرتے چلے جاو۔” اکثر و بیشتر لوگ اور قومیں یہی راستہ اختیار کرتی ہیں۔ چونکہ یہ سب سے آسان راستہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اِس راستہ پر چل کر معاشرہ کی اصلاح تو ہو سکتی ہے، پر کوئی قابل ذکر کارنامہ سرانحام نہیں دیا جا سکتا۔ دوسرا اصول،” اپنی مرضی سے جو چاہو کرو، اپنی غلطیوں سے سیکھو، زندگی کی تلخیوں، سختیوں اور ٹھوکروں سے سبق حاصل کرو۔ یہ راستہ ، طریقہ ، اصول ، مشکل ، پُر خطر اور بنا نشان منزل کے ہوتا ہے۔” جنہوں نے اِس دنیا میں نام بنانا ہوتا ہے وہ یہی گمنام راہ چنتے ہیں۔ وہ خود نشانِ منزل بناتے ہیں۔ بعد میں آنے والی نسلیں انہیں نشانِ منزل سمجھ کر حصول منزل کو آسان بنا لیتی ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے یہی دوسرا راستہ ، طریقہ اور اصول اپنایا۔ یہی وہ رجل عظیم ہیں جنہیں آخری دم تک اپنے مشن کی تکمیل کی فکر رہی۔ آخری وقت بیماری کے ایام میں اپنی بہن سے کہنے لگے،” فاطمہ ،کیا تم نے کبھی کیسی جرنیل کو اُس وقت چھٹی پر جاتے دیکھا ہے، جب اُس کی فوج میدان جنگ میں برسرِپیکار ہو؟ انہوں نے کہا،” آپ کی جان زیادہ قیمتی ہے۔” تو کہنے لگے “مجھے تو اُن دس کروڑ مسلمانانِ ہند کی فکر ستائے جا رہی ہے۔”

مسلمان ہندوستان پر عرصہ دراز سے حکومت کرتے آ رہے تھے۔ پر آپس کی چپقلشوں اور رنجھشوں کی وجہ سے جگہ جگہ آزاد ہندووں راجاوں کا راج زور پکڑ گیا تھا۔ بلآخر ظہیر الدین بابر افغانستان سے حملہ آور ہوا اور پانی پت کی مشہور لڑائی میں اپنے سے کئی گنا بڑی فوج کو شکست دے کر ہندوستان کا خودمختار بادشاہ بن گیا۔ اِس میں دو رائے نہیں ہے۔ مغل بادشاہوں نے تین سو سال بڑے طمطراق سے حکومت کی۔ ہر عروج کو زوال ہے۔ ہر کرن کے بعد اندھیرا ہے۔ ہر طلوع کو غروب ہے۔ ہر جوانی کو بڑھاپا ہے۔ بہادر شاہ ظفر کے پابندِ سلاسل ہو جانے پر اُس بہار پر خزاں آ گئی جس کا تصور بھی کرنا کیسی دور میں محال تھا۔ ہندوستان ساتھ سمندر پار سے آئی قوم کا ماتحت ہو گیا۔ اک آزاد قوم غلام بنا لی گئی۔

ہندوستان میں وقتاً فوقتاً مسلح آزادی کی تحریکیں چلتی رہیں جو عیاری سے کام لے کر ناکام بنا دی گئی۔ ہندوستان میں بسنے والے لوگوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ ہندووں نے اپنی سیاسی جماعت بنائی جس کا نام “کانگریس” رکھا۔ شروع میں قائد اعظم محمد علی جناح بھی اِسی پارٹی کے ممبر رہے۔ 1913ء میں آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور پھر تادم مرگ اک ہی فکر رہی۔ مسلمانوں کو اُن کا الگ سے تشخص دینا۔ ہندوستان میں دو مشہور قومیں آباد تھیں۔ اک مسلمان اور دوسرا ہندو۔ دونوں کی سوچ، رہن سہن، اقدار و روایات میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ یہی چیز دو قومی نظریہ کی بنیاد بنی۔ جس کی بنا پر مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا مطالبہ کیا گیا۔ یہ اِس لیے بھی ضروری تھا تاکہ مسلمان سکون سے اپنی عبادات اور اسلامی قدر و روایات پر عمل پیرا ہو سکیں۔ ایک صحافی نے قائد اعظم سے سوال کیا۔ آپ کس بنیاد پر الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا صرف چار لفظوں کی بنیاد پر،muslim are the nation.

سوال یہ پیدا ہوتا ہے، قائد اعظم کیسا پاکستان چاہتے تھے؟ آپ کی سیاسی و مذہبی بصیرت کیا تھی؟ قیام پاکستان کے بعد ہر جگہ جھنڈا انہیں سے کیوں لہرایا گیا جو مذہبی روایات کے امین تھے ؟

تحریک آزادی پاکستان جب زوروں پر تھی تو اک نعرہ زبانِ زد عام ہو گیا۔ پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الاّ للہ۔ یہ صرف نعرہ نہیں تھا۔ بلکہ ہر اُس دل کی ترجمانی تھی۔ جو اپنی جان، اپنا مال حتی کہ اپنی عزت بھی اِس مقصد کے لیے اِس طرح قربان کرنے کو تیار تھا کہ زبان پر حرفِ شکایت تو دور چہرے پر شکن بھی نا آئے۔ انتقال اقتدار کی تقریب میں ماونٹ بیٹن نے جب آپ کو مشورہ دیا ۔ نئے ملک میں عدل و انصاف اور رواداری کی وہ مثال قائم کریں جو مغل بادشاہ اکبر نے قائم کی تھیں۔ تو آپ نے جواب میں فرمایا،” عدل و انصاف اور رواداری کی مثالیں ہمیں اِس سے بہت پہلے حضرت محمد مصطفی سے مل چکی ہیں۔”

کیسی نے آپ سے سوال کیا۔ پاکستان کا دستور و آئین کیسا ہو گا؟ تو آپ نے برجستہ جواب دیا” پاکستان کا دستور و آئین قرآن و سنت کے مطابق ہو گا۔”

دنیا میں دو ریاستیں ہیں جو نظریاتی سطح پر وجود میں آئیں۔ ایک مدینہ اور دوسری پاکستان۔ اِس کی بنیاد رکھنے والے قائد اعظم ہر طرح کی مذہبی انتہا پسندی، فرقہ واریت اور ہر قسم کے تعصب سے پاک وطن چاہتے تھے۔ وہ ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے۔ جہاں آئین کی حُرمت کو مقدم تصور کیا جائے، جہاں پارلیمان آزادی و خودمختاری سے فیصلے کر سکے، جہاں ہر شہری کو بلاامتیاز رنگ، نسل، قوم، مذہب کے انصاف میسر ہو اور وہ اپنی عبادات اور رسوم کو ادا کر سکے، جہاں درسگاہیں علم و دانش کا گہوارا ہوں ،تعلیم ، روزگار اور صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہو، جہاں عورت کی عزت و توقیر کو مقدم رکھا جائے اور ریاست آدمیت کے احترام کو اول جانے۔

جب آپ نے پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کیا تو اُس میں واضح اور واشگاف الفاظ میں کہا” آپ سب پاکستانی ہیں، آپ کا جو بھی عقیدہ ہے آپ اور اُس پر عمل کیجیے اور اپنی عبادت گاہوں میں جائیں یہ آپ کا نجی معاملہ ہے۔ پاکستان سب کا وطن ہے۔ اِسی تاریخ ساز تقریر میں اِس ملک میں ہر قسم کی معاشرتی یا معاشی بُرائیوں کو پنپنے نا دئیے جانے پر بھی زور دیا گیا۔

یہ بات تو روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ آپ کس طرح کا پاکستان چاہتے تھے۔ اب ضرورت اِس تجدیدِ عہد کی ہے۔ اپنے عزم و حوصلہ کی ہے۔ اِس ملک کی بقا اُسے میں ہے جس پر اِس کی بنیاد رکھی گئی۔ گر سنبھل گئے تو ٹھیک ورنہ نام بھی نا ہو گا زمانے میں.

اپنا تبصرہ بھیجیں