سٹیج ڈرامہ کی بگڑتی حالت، لمحہ فکریہ

اظہراقبال مغل
تھیٹر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔لیکن پاکستان میں ویسے تو ٹھیٹر قیام پاکستان سے پہلے بھی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی تھیٹر کی مختلف اشکال موجود تھیں جن میں علاقائی میلوں میں ہونے والے میوزیکل شو اور ناٹک جو کہ عام طور پر تنز ومزاح پر مبنی ہوتے تھے جس میں پاکستانی ثقافت کو مختلف لوک داستانوں پر پرفامنس کر کے اجاگر کیا جاتا تھا اگر کہیں کوئی میلہ لگتا تو بہت دور دور سے لوگ اس میلہ سے لطف اندوز ہونے آتے تھے کیوں کہ پاکستان میں کوئی انٹرٹنمنٹ کا کوئی خاص انتظام نہ تھا پھر 60 میں جب پاکستان میں ٹی آیا اس نے شہری علاقوں میں اس روائتی تھیٹر کا روز کچھ کم کر دیا پڑھے لکھے لوگوں کا رحجان ٹی وی ڈراموں کی طرف زیادہ ہو گیا ۔80 کی دہائی میں امان اللہ نے تھیٹرکی صنعت کو فروغ دیتے ہوئے تھیٹرکو ایک بار پھر شہرت کی بلندیوں پر لے جانے کی ایک کامیاب کوشش کی،پاکستان میں تھیٹرعوام کے لیئے ایک نیا شاہکار تھا جس میں تنز ومزاح سے پھرپور معاشرتی برائیوں کو سامنے لایا جاتا ہر سٹج ڈرامے میں ایک سبق دیا جاتا پاکستان کلچر کو ان سٹیج ڈراموں میں بہت اجاگر کیا جاتا اس دور میں بہت اچھے اچھے رائٹرز نے کام کیا ایسے اصلاحی سکرپٹ لکھے جس سے تھیٹر کی صنعت کو بہت ہی زیادہ فروغ ملا کیونکہ سینما کے بعد سٹیج ڈرامہ انٹرٹینمنٹ کا بہت ہی سستا اور اچھا ذریعہ ثابت ہوا لوگ انپی فیملیز کے ساتھ سٹیج ڈرمہ جا کر دیکھتے تھے اور بہت لظف اندوز ہوتے ۔ اس دور نے سٹیج نے بہت سارے نئے فنکاروں کو جنم دیا جو کہ آج بھی پی ٹی وی کے ڈراموں میں کام کر رہے ہیں۔ لیکن 90 کی دہائی کے بعد تھیٹرکا زوال تک شروع ہوا جب تھیٹرمیں سکرپٹ کی جگہ ڈانس نے لے لی اور بیہودہ جملوں کا بہت زیادہ استعمال شروع کر دیا فحش ڈانس اور عورت کو تذلیل کرنا تھیٹر کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جانے لگا،اب تھیٹر کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ تھیٹرمیں صرف فحش گوئی ہی رہ گئی ہے،اب سٹیج ڈرامہ ایک بہیودگی کی نہ ختم ہونے والی داستان بن کر رہ گیا ہے جس میں عورت کے تقدس کو پامال کر دیا ہے۔۔ ماں،بہن بیٹی جیسے مقدس رشتوں کو اس میں اس طرح پامال کیا جاتا ہے کوئی بھی شریف انسان سٹیج ڈرامہ دیکھنے سے پنا ہ مانگتا ہے آج کے سٹیج ڈرامہ کی کی شکل اس قدر بگڑ چکی ہیں کہ اس میں سے سکرپٹ غائب ہوگیا ہے ڈانس اور بیہودہ جملوں کو ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے بہت سے نئے آنے والے رائٹر پرڈیوسرز،اور ڈائریکٹرز نے سٹیج ڈرامہ کو کی صنعت کو زوال پذیری کی دلدل میں اس بری طرح دھکیل دیا ہے کہ آج سٹیج اس بے حیائی کی دلدل میں مزید دھنستا ہوا نظر آ رہا ہے۔آج شریف گھرنواں کی کی فیملیز نے تھیٹر کا رخ کرنا صرف اس لیئے چھوڑ دیا ہے کہ سٹیج میں فحاشی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ کوئی بھی شریف انسان اپنی ماں بہن کے ساتھ بیٹھ کر اس طرح کی بیہودہ ڈائیلاگ نہیں سن سکتا جو کہ آج کل کے سٹیج ڈراموں میں بولے جاتے ہیں جس میں ایک عورت کو دل کھول کر ذلیل کیا جاتا ہے آج گالیوں کو تنیزیہ جملوں میں استعمال کیا جاتا اس لیئے آج کل سٹیج کا رخ وہ لو گ کرتے ہیں جو کبھی بازار حسن کا رخ کرتے تھے کیونکہ آج سٹیج پر بے حیائی سے بھرپور اور گندی ترین شاعری سے آلودہ گانوں پر بیہودہ ڈانس پیش کیا جاتا ہے اس لیئے جو لوگ کبھی بازار حسن کا رخ کرتے تھے آج وہ سٹیج ڈرامہ دیکھ کر اپنا دل بہلاتے ہیں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ سٹیج اب بازار حسن کی ہی ایک شاخ بن چکی ہے۔کیونکہ جس قد ر بے حیائی کے مناطر اب سٹیج پر پیش کیے جاتے ہیں شائد سر عام بازار حسن میں بھی نہ پیش کیے جاتے ہوں۔بہت ایسے فنکار جو سٹیج سے وابسہ ہیں کام ن ملنے کی وجہ سے اس گندگی میں ہی کام کرنے پر مجبور ہیں اس گندگی کے ڈھیڑ میں آج بھی ایسے فنکار موجود ہیں جو کہ صر ف اور صر ف اپنے سکرپٹ پر ہی کام کرتے ہیں اور بہت سارے سنیئرفنکاروں نے سٹیج میں تبدیلی لانے کی کوشش کی لیکن جب وہ کامیاب نہیں ہوئے تو انھوں نے سٹیج سے کنارہ کشی کر کے ٹی و ی ڈرامہ کا رخ کیا لیکن بہت سارے فنکار کہیں معقول کام نہ ملنے کی آج بھی اس غلاطت کی بھٹی میں جل رہے ہیں۔ایک دور تھا کہ بہت بڑے بڑے فنکار سٹیج پر کام کرنے میں فخر سمجھتے تھے اور بہت سارے فنکاروں نے سٹیج پر اپنے فن کا لوہا منوایا بھی ہے۔جن میں فخری احمد،سہیل احمد ،وسیم عباس اور بہت سارے مشہور و معروف فنکار قابل ذکر ہیں جنہوں نے سٹیج پر کام کرنے میں فخر محسوس کیا ۔لیکن آج سٹیج کی حالت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ ایسے بڑے بڑے فنکار سٹیج پر کام کرنا تو دور کی بات سٹیج کے نام سے نفرت کرتے ہیں۔جس کی اصل وجہ یہی ہے کہ سٹیج جس نے بہت سارے فنکاروں کو جنم دیا آج گندگی کے اس ڈھیر کی مانند بن چکی ہے جس کی بدبو نے سارے تھیٹر کو ہی لپیٹ میں لے لیا ہے اور سٹیج کا اصل مقصد ہی دفن ہو کر رہ گیا۔ لیکن موجودہ حکومت نے جو ایکشن لیا ہے اس کو دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے اس حکومت کا ایکشن شائد سٹیج کی حالت بدلنے اہم کردار ادا کر سکے اور سٹیج میں وہی رونقیں لوٹ آئیں جو کھبی ہوا کرتی تھیں۔ اگر یہ حکومت اس پر عمل کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس حکومت کی سب سے بڑی فٹح ہوگی،کیونکہ کہ موجودہ تھیٹر سے نہ صرف بے حیائی کو فروغ ملا ہے بلکہ آج کا تھیٹرپس پردہ جرم کی آمجگاہ بن چکا ہے اگر اس بڑھتی ہوئی بے حیائی کو کنٹرول نہ کیا گیا تو پاکستان میں آنے والے وقتوں میں صرف اور صرف بے حیائی کا ہی راج ہو گا،اور شائد اس پر قابو پانا پھر بہت مشکل نہیں ناممکن ہوجائے۔حکومت کی اس کوشش سے بہت سارے لوگوں کو تکلیف ضرور ہو گی لیکن امید ہے کہ آنے والوں میں وقتوں میں صرف سکرپٹ پر ہی کام کیا جائے گا۔ڈانس اور بیحیائی لبریز جملے ہمہشہ کے لیئے دفن کر دئیے جائیں گے سٹیج سے دوبارہ فنکار ہی جنم لیں گے طوائفیں اور تماش بین نہیں
تحریر: اظہراقبال مغل

اپنا تبصرہ بھیجیں