دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا

عبدالصبور شاکر
ماتا ہری بیسویں صدی کی نام ور جاسوسہ تھی۔ پہلی جنگ عظیم کا تذکرہ جب بھی چھڑے، اس کا نام سرفہرست ہوتا ہے۔ جرمن اور اتحادی بیک وقت اسے اپنی ملازمہ سمجھتے تھے۔ اس نے دونوں جانب کے سینکڑوں فوجی اور اتحادیوں کا ایک اہم جاسوس مروایا، نیز جرمنی کی دو اہم آبدوزیںبھی غرق آب کروائیں۔ یہ 1876 ء کو ہالینڈ میں پیدا ہوئی۔ جوان ہوئی تو میکلوڈ نامی ایک سپاہی سے بیاہی گئی۔ سیلانی طبیعت کی وجہ سے شادی ناکام ہوئی تو رقص سیکھنے لگی۔ حسین تو تھی ہی، رقص نے اسے ایک بگولہ بنا دیا، پھر مشرقی رقص کی سان پر چڑھی تو کٹیلا خنجر بن گئی۔ اس کے چرچے اونچے درجے کی بزموں میں ہونے لگے۔ عام آدمی سے لے کر حکمران تک اور تاجر سے پیشہ ور سپاہی تک ہر شخص اس کی تمنا کرنے لگا۔
یہی مقبولیت اسے برلن لے گئی جہاں اس کی ملاقات ایک جرمن پولیس آفیسر سے ہوئی۔ جس نے اس کے حسن و شباب اور طرب و فن کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسے پیسوں کا لالچ دے کر جاسوسی کی صف میں لے آیا، تربیت دی اور ایچ 21 کا کوڈ نام دے کر پیرس بھیج دیا۔ یوں اس کی زندگی کا وہ بھیانک باب شروع ہوا جو اس کی جان کے خاتمے پر ہی بند ہو سکا۔
یہ انتہائی شاطر اور چالباز عورت تھی۔ شرابِ محبت لنڈھا کر بڑے بڑے لوگوں سے راز اگلوانا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ لیکن یہ جاسوسی میں مخلص نہیں تھی۔ اس کا مقصد دولت کمانا تھا، سو اس نے اپنا یہ مقصد پورا کیا۔ سن1904ء میں جب یہ فرانس آئی تو یہاں کے ایک پولیس افسر لاروس پر ڈورے ڈالے اور اسے اپنے جال میں پھنسا لیا۔ لیکن اہداف و مقاصد میں مخلص نہ ہونے اور طبیعت کی غیرسنجیدگی کی وجہ سے آہستہ آہستہ اس کی باتوں میں آ کر ’’ڈبل کراس‘‘ بن بیٹھی۔ دونوں جانب کے ممالک سے پیسہ کمانے کا لالچ اسے بہت مہنگا پڑا۔ کیونکہ دو کشتیوں کا مسافر ایک نہ ایک دن ضرور خمیازہ بھگتتا ہے۔ 1917ء میں اس کی حقیقت کھل گئی۔ یہ کسی وطن کے ساتھ مخلص نہ تھی، جو اس کی زیادہ قیمت لگاتا، یہ اسی کی ہو جاتی ۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام راز اور خفیہ فوجی راز بھی اسی پلڑے میں جا گرتے ۔ چنانچہ 13، اکتوبر 1917ء کی ایک روشن صبح کو اس کی زندگی کا چراغ گل کر دیا گیا۔ اس کا بہترین دوست لاروس ہی اس کی موت کے پروانے پر دستخط کر کے لایا اور اسے گولیوں سے بھون دیا گیا۔ یہ جرمن حکومت اور جان چھڑکنے والے دوستوں کو پکارتی رہی لیکن اس کی حرکات و عادات کی بنا پر سب لوگ شتر مرغ کی مانند ریت میں سر دیے سوتے رہے۔
ماتا ہری کی زندگی آج کے نوجوانوں کے لئے ایک اہم سبق کی حیثیت رکھتی ہے۔ جو لوگ واضح مقاصد و اہداف نہیں رکھتے ان کی حالت بہت بری ہوتی ہے۔ ایسے لوگ اپنی جان جیسی عظیم الشان چیز کی قربانی دے کر بھی کہیں نیک نامی سے یاد نہیں کیے جاتے۔ ناکامی و شکست ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ وہ تاریخ کے گرداب میں پھنس کر یاد ماضی بن جاتے ہیں۔ مال و دولت کی ہوس آری بن کر حسن اخلاق، حب الوطنی اور احساس مروت کو کاٹ ڈالتی ہے۔ دل جمعی کا فقدان اتنی گہری کھائیوں میں دھکیل دیتا ہے، جہاں سے واپس لانا کسی کے بس میں نہیں رہتا۔ وقت ضائع کرنے کے چکر میں انسان خود گھن چکر بن کر رہ جاتا ہے۔ دھوکا، فراڈ اور منافقت ہمدموں کے دل سے ہمدردیاں نوچ ڈالتا ہے۔ اپنے پرائے ہو جاتے ہیں اور قریبی دور رہنا پسند کرتے ہیں۔ کڑی دھوپ میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے، بے گانے تو خیر بے گانے ہوتے ہیں۔
نیا سال ہمیں پیغام دے رہا ہے، اگر تم میرا درست استعمال نہیں کرو گے تو کل تمہیں کوئی اور استعمال کر لے گا۔ کامیابی و کامرانی کی حیثیت سراب سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی۔ ابھی سے چھوٹے چھوٹے اہداف طے کرو، پھر انہیں پانے کے لئے صبح شام، دن رات ایک کر دو۔ ناکامی کا لفظ اپنی ڈکشنری سے نکال دو۔ منزلیں تمہاری انتظار میں ہیں۔ ورنہ ماتا ہری کی طرح کف افسوس ملنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا کیونکہ؎
محنت سے مل گیا جو سفینے کے بیچ تھا
دریائے عطر میرے پسینے کے بیچ تھا
ہمدردی و خلوص کا بیج کاشت کرو گے تو جواباً بھی خلوص و ہمدردی کے پھول ملیں گے۔ ورنہ کانٹوں کے تاجروں کی بوریوں سے گلاب نہیں ملا کرتے۔ سچائی کا ذائقہ کڑوا ہونے کے باوجود صحت افزا ہوتا ہے۔ خوش اخلاقی اہل جہاں کی نظر میں محبوب بنا دیتی ہے۔ خدمت خلق دوسرے دلوں کی دھڑکن بنا دیتی ہے۔ جبکہ خود غرض شخص سے ہر کوئی پناہ مانگتا ہے۔ بے مروت کے دوست کم اور دشمن وافر مقدار میں پیدا ہو جاتے ہیں۔
ماتا ہری نے اپنی جوانی و حسن کو دائمی سمجھ لیا تھا، لیکن جب اس جنس کی شام ہونے لگی،تو قیمت بھی گر گئی۔ اب وہ اہل جہاں کی نظر میں چلے ہوئے کارتوس سے زیادہ اہمیت نہیں رکھیتی تھی۔نیا سال پیغام دے رہا ہے کہ ا اس سے پہلے کہ ہماری طاقت و جوانی ڈھلنے لگے ، ہمیں اپنے سارے کام سمیٹ لینے چاہئیں۔ خواہ ہم دنیا کما نا چاہ رہے ہیں یا آخرت؟ ہر صورت میں ہمیں آج کا کام آج اور ابھی کرنا ہے۔ ورنہ وقت کسی کا نہیں ہوتا۔ کل کو کف افسوس ملنے سے بہتر ہے آج ہم اپنی ہتھیلیاں محنت کے ذریعے گرم رکھیں۔ سچ کہا علامہ مرحوم نے ؎
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اگر اس سال بھی اپنا طرز زندگی، اپنے قول و فعل اور علم و عمل میں تبدیلی نہ لا سکے تو سمجھیں ہم بے مقصد زندگی جی رہے ہیں اور ایسی زندگی کا کیا فائدہ؟؟؟
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں