2019 ایک ملا جلا سال ہو سکتا ہے

فہیم اختر
31 ؍ دسمبر 2018کو پوری دنیا نئے سال کی آمد کی تیاری میں جٹی ہوئی تھی۔لندن سردی میں لپٹا ہوا نئے سال کی آمد کا منتظر تھا اور حسبِ معمول پورے برطانیہ میں نئے سال کی پارٹی کا انعقاد زور و شور سے چل رہا تھا۔لندن کے معروف’ لندن آئی‘ کے قریب نئے سال منانے والوں کا ایک جم غفیر امڈ پڑا تھاکیونکہ ’لندن آئی‘ پر آتش بازی کی عمدہ نمائش کو دیکھنے کے لئے لوگ پورے سال انتظار کرتے ہیں۔ اس با رونق محفل کو سجانے کے لئے لندن کے مئیر صادق خان نئے سال کا استقبال کرنے کے لئے اپنی ٹیم کے ساتھ تیار تھے۔ٹرانسپورٹ سے لے کر اسپتال اور سیکورٹی کا عمدہ بندوبست کیا گیا تھا۔ تاکہ نئے سال کا جشن منانے والوں کو کسی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو۔
میں بھی دفتر جا کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔ لیکن سوشل میڈیا پر نئے سال کی آمد اور ڈھیر ساری نیک تمناؤں کا سلسلہ قبلِ از وقت شروع ہوگیا۔تاہم آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے دوست نیا سال منانے کا جشن اپنے مقامی وقت کے مطابق شروع کر چکے تھے۔ دنیا بھر کی نظر سڈنی اور ہانگ کانگ کی آتش بازی پر ٹکی ہوئی تھی۔میرے ہسپتال کے زیادہ تر اسٹاف اب بھی چھٹیوں کا مزہ لے رہے تھے اور دفتر میں زیادہ تر لوگوں کی کرسیاں خالی دِکھ رہی تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کرسمس اور نئے سال کے درمیان لندن کے لوگ اپنے قریبی رشتہ دار کے پاس چھٹیاں گزارنے چلے جاتے ہیں یا وہ بیرونِ ممالک جا کر چھٹیاں گزارتے ہیں۔
شام کو گھر واپس آکر اپنے کرم فرما نصیر سید صاحب کی دعوت پر (Worester Park)وورسٹر پارک چلا گیا۔ نصیر صاحب کا تعلق ہندوستان کے حیدر آباد سے ہے لیکن پچھلے کئی دہائیوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں۔ان کی محبتوں کی وجہ سے ہم ان کے اصرار پر ایرانی ریسٹورنٹ’ تنور پرشئین کوزین ‘میں 2018 کا آخری ڈنر کرنے ان کے ہمراہ چلا گیا۔ ریسٹورنٹ انگریز گاہکوں سے بھرا ہو اتھا اور زیادہ تر لوگ نئے سال کی آمد کی خوشی میں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ شام کا مزہ لوٹ رہے تھے۔
سچ پوچھیے تو 2018کئی معنوں میں ایک مایوس کن اور پریشان کن سال گزرا ہے۔دنیا کے کئی ممالک میں حالات بد سے بد تر ہوئے ہیں تو وہیں کچھ حکمرانوں نے امن پسند لوگوں کا جینا حرام کر رکھا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پورے سال سوائے زہر اگلنے کے اور کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ یوں تو ڈونلڈ ٹرمپ جب سے امریکہ کے صدر بنے ہیں دنیا خوف و ہراس میں گھری ہوئی ہے۔ان کا جارحانہ رویہ اور غلط پالیسی نے دنیا بھر میں ایک عجیب و غریب ماحول بنا دیا ہے۔وہ اب بھی اس ضد پر اڑے ہوئے ہیں کہ امریکی ممبر آف کانگریس میکسیکو کے قریب اونچی دیوار بنانے کے بجٹ کو پاس کر دے تاکہ آئندہ صدارتی الیکشن سے پہلے یہ کام مکمل ہوجائے۔اس کے علاوہ امریکی صدر اب تک معروف صحافی جمال خشوگی کے قتل کے معاملے میں سعودی عرب کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا ہے۔ جس سے دنیا کے کئی ممالک اور میڈیا سخت ناراض ہیں۔جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف معاشی ناکہ بندی شروع کر دی ہے جسے میں ایک احمقانہ فیصلہ مان رہا ہوں۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے کسی طرح شمالی کوریا سے بات چیت شروع تو کی ہے لیکن اس کا بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ اب تک نہیں دِکھ رہا ہے۔مجھے اس بات سے کوئی حیرانی نہیں ہوگی اگر ڈونلڈ ٹرمپ 2020کے الیکشن میں منھ کے بل گرے۔
2018 برطانیہ کے لئے ایک اعصابی اور سیاسی اتھل پتھل کا سال رہا ہے۔ وزیر اعظم تھریسا مے جہاں اپنے ملک اور یورپ میں مسلسل تنقید کا نشانہ بن رہی ہیں تو وہیں ان کے لیڈر شپ پر کئی بار سوال بھی کئے گئے ہیں۔ کئی وزراء نے تو استعفیٰ تک دے دیا ہے اور آئے دن پارلیمنٹ میں(Brexit) بریکسٹ کے حوالے سے مسلسل ہنگامہ ہو رہاہے۔مارچ 2019کو برطانیہ یوروپین یونین سے علیحدہ ہو رہا ہے اور اب تک عام آدمی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ آخر اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ میںیوروپین یونین سے علیحدہ ہونے کے بعد برطانیہ کی خوشحالی اور معیشت سے پر امیدنہیں ہوں۔لیکن مجھے اس بات کی امید ہے کہ برطانیہ کی حکمت عملی اور ترقی یافتہ ملک ہونے کی وجہ سے اس پر اچانک کوئی اثر بھی نہیں پڑے گا۔
ہندوستان دنیا کا ایک عظیم ملک ہے اور اس کی سیاسی اور سماجی زندگی پر دنیا بھر کی نظر لگی رہتی ہے۔ 2018ہندوستان کا ایک ملا جلا سال رہا ہے کیونکہ پورے سال ملک میں مذہبی بھید بھاؤ کھلے عام طور پر دیکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کی معیشت کبھی خوشی تو کبھی غم جیسا منظر پیش کر رہی تھی۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسی پالیسی سے اب بھی عام آدمی کا جینا حرام ہے۔ لیکن ہندوستانی وزیر اعظم اب بھی عام آدمی کی پرواہ کئے بغیر غیر ممالک کے دورے کا خوب مزہ لوٹ رہے ہیں۔ جسے شاید وزیر اعظم کی سیر سپاٹے کا شوق کہہ لیں یا انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اب وہ دوبارہ وزیر اعظم نہیں بن پائیں گے۔جس کی ایک مثال یہ ہے کہ ان کی پارٹی کو تین اہم صوبوں میں ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جس سے کہیں نہ کہیں اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وزیر اعظم کی من کی بات اب لوگوں کے تن میں چبھنے لگی ہے۔
پہلی جنوری 2019کو ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں وزیر اعظم مودی نے کہا ہے کہ ’ جب ٹرین پٹری بدلتی ہے تو رفتار میں کمی آجاتی ہے‘ میں ان کی اس بات کو سن کر الجھن میں پڑ گیا کہ یہ کون سی ٹرین کی بات کر رہے ہیں؟ کہیں مودی جی کا اشارہ یہ تو نہیں تھا کہ پٹری بدلنے کے بعد’ اب ٹرین کا اللہ ہی حافظ ہے‘۔تاہم 2019میں ہندوستان کے عام چناؤ میں حکمراں بی جے پی کو اپنے حالات اچھے نہیں دِکھ رہے ہیں اور وہ ملک میں مذہبی تعصب اور کشیدگی پھیلا کر اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
2019سے ہر کوئی ایک امید لگائے بیٹھا ہے لیکن وہیں زیادہ تر لوگ اس بات سے بھی مایوس ہیں کہ کیا 2019میں دنیا کے معاشی حالات مزید ناقص ہوں گے؟ یا دنیا ایک بار پھر جنگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ و برباد ہوجائے گی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس طرح چین اور روس دنیا کی معیشت اور طاقت کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے مجھے اس بات کو کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ ان دو ممالک کی برتری سے امریکہ کی داداگری میں کمی آنے لگی ہے۔
میں اوروں کی طرح 2019سے کافی پر امید توہوں لیکن 2019 ایک ملا جلا سال بھی ہوسکتا ہے ۔ میں اس بات سے بھی پریشان اور الجھن میں ہوں کہ پچھلے سال کی طرح پھر ہمیں جنگ کے بادل منڈلاتے نہ دِکھنے لگیں۔ کیونکہ اب بھی دنیا کے کئی ممالک میں امن وامان قائم نہیں ہوپایا۔جس کی وجہ سے دنیا کے زیادہ تر ممالک میں بے روزگاری کافی بڑھ گئی ہے اور سماجی مسائل کافی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔
سال تو جاتے ہیں اور نیا سال آنے کی خوشی میں ہم سب اپنے اپنے طور پر ایک امید اور خواہش کی بنا پر نئے نئے ارادوں کے ساتھ اپنے خیال و جذبات کا اظہار اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے کرتے ہیں۔ ہم کچھ لمحوں کے لئے پرانے سال میں بیتی ہوئی باتوں کو بھول کر ایک نئے عزم اور جذبے کے ساتھ جینے کا حوصلہ لئے اپنی راہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ ہم زندگی کی اُن تمام خوشیوں کو حاصل کرنا چاہتے ہیں جو اللہ نے ہمیں فراہم کی ہیں۔
نئے سال کا جشن مناتے ہوئے ہمیں اپنے اردگرد ان لوگوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے جو بیمار، لاچار، مفلس، پریشانِ حال اور نہ جانے کن کن مصیبتوں میں مبتلا ہیں اور جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ہمیں اِن لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے انہیں بھی اپنی خوشی میں شامل کرناچاہیے۔ میں اللہ سے یہی دعا کروں گا کہ 2019میں دنیا بھر میں امن قائم ہو اور یمن، شام اور فلسطین سمیت ان تمام ممالک میں جہاں لوگ بے حال اور پریشان ہیں ان پر اللہ کا رحم وکرم نازل ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں