بھیڑیئے

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
سر میں موت کی دہلیز پر اپنی آخری سانسیں گن رہا ہوں ‘ میں مو ت کے قدموں کی چاپ سن رہا ہوں کسی بھی وقت موت کے غار میں اُتر جاؤں گا مو ت کاآہنی پنجہ امر بیل کی طرح میر ی نس نس کو اپنی گرفت میں لیتا جا رہا ہے ‘ میں خود ڈاکٹر ہوکر اپنی طرف بڑھتے مو ت کے قدموں کو روک نہیں سکتا ، مجھے پتہ ہے میں مر نے والا ہوں چند دنوں بعد میرا جیتا جاگتا جسم لاش کے روپ میں ڈھل جائے گا پھر وہ قبر کی تاریکی ہو گی ‘ قبر کے کیڑے مکوڑے جو میرے جسم کے ریشوں کو اُدھیڑ کر رکھ دیں گے وہ جس کی میں نے ساری زندگی حفاظت کی جس کی صحت تازگی تندرستی طاقت قائم رکھنے کے لیے میں نے بہت دولت خرچ کی ‘ نئے سے نیا کپڑا جوتے پرفیوم مہنگے ترین لباس جوتے گھڑیاں گلاسز لیکن اب میرے اسی جسم کو پتہ نہیں دو گز لٹھا بھی نصیب ہو گا کہ نہیں ‘ میں جب جوان تندرست طاقتور تھا تو مجھے اپنے اوپر اپنے جسم کے علاوہ کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا میں اِس غلط فہمی کا شکار ہو گیا تھا کہ یہ دھرتی زمین کے پھل پھول زرخیز یاں صرف میر ی ذات کے لیے ہی وقف ہیں ‘ جوانی طاقت دولت کے نشے میں چور میں انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے مسلسل مسلتا آیا تھا کہ میں نے سدا جوان طاقت ور اور دولت مند رہنا ہے میں نے کبھی بھی بیمار نہیں ہو نا میں گناہ ثواب اچھائی برائی روز محشر کا بھی انکاری بلکہ خدائے لازوال کا ہی انکاری تھا ‘ دولت طاقت بااثر لوگوں سے تعلقات خوبصورت جوان جسم زندگی کے خوبصورت رنگ اُن رنگوں سے لطف اٹھا نا یہی میری زندگی تھی اور میری زندگی کے شب و روز تھے میں خدا اور خدا کی کائنات کے انصاف پر مبنی اصولوں کو بھی بھول گیا تھا کہ خدا نے اس دھرتی اور انسانی معاشرے کی بنیاد بھی انصاف کے اصولوں پر رکھی ہے یہاں آپ جو بو ئیں گے وہی کاٹیں گے یہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا آپ چنے بوئیں اور گندم کاانتظار کریں لیکن میری ساری خوش فہمیاں اُس وقت دور ہو گئیں جب میرا جسم ہی میرا نہ رہا دولت طاقت تعلقات اور صحت مند جسم کے بل بو تے پر عیاشیوں کی شاہراہ پر اندھا دھند دوڑا چلا جارہا تھا کہ چالیس سال کی عمر میں ہی میرے جسم کی توانائی کمزوری میں ڈھلنے لگی آنکھوں چہرے کی چمک سرخی تندرستی کی جگہ دھندلاہٹ زردی چھلکنے لگی ‘ طاقت ور جسم لرزنے لگا رگوں میں دوڑتا اچھلتا طاقت ور خون سرد پڑنے لگا ‘ چال میں جوانی کے خمار کی جگہ لرزش کمزوری آنے لگی ‘ چہرے پر کروفر غرور کے تاثرات کی جگہ خوف کمزوری کے تاثرات آنے لگے شروع میں تو میں نے طاقت ور دوائیوں انجیکشنوں کا سہارا لیا ‘ فل آف پروٹین خوراک پھل وغیرہ بڑھا دئیے لیکن دنیا جہاں کی دوائیاں خوارک پھل مٹی کا ڈھیر بنتے چلے گئے جگر معدے اعصاب نے کام کر نا کم کر دیا تو دولت اورتعلقات کے بل بو تے پر سنگا پور چلا گیا وہاں مجھے داخل کر لیا گیا میرے جسم کے بہت سارے ٹیسٹ لئے گئے تو چند دن بعد ہی خوفناک بلکہ دل پھاڑنے والی حقیقت سامنے آئی کہ میرا جسم پراسرار بیماری کا شکا ر ہو چکا ہے جیسے میڈیکل ٹرم میں Autoimmune Disorderکہتے ہیں جب آپ کے جسم کے سیل ہی آپ کے سیل یا جسم کو کھانا شروع کر دیں میرے جسم کا مدافعاتی سسٹم جو مجھے بیماریوں سے بچاتا ہے میرے جسم میں گھسنے والے بیماریوں کے جراثیموں کو مارتا تھا اُس نے میری حفاظت تندرستی کو قائم رکھنے کی بجائے میرے ہی جسم کے خلاف کام شروع کر دیا میراوہ جسم جس کی دیکھ بھال طاقت تندرستی قائم رکھنے کا مجھے جنون کی حد تک شوق تھا وہی جسم اب میری زندگی کے پیچھے پڑھ گیا ہے وہ اپنی بیماری کی بہت ساری تفصیلات بتا رہا تھا‘ ساتھ ہی ہے یہ کہ اِس بیماری کا علاج کر نے کے لیے میں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا خود ڈاکٹر تھا اِس لیے سر توڑ کو ششیں کیں لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ‘ دنیا جہاں کے ہسپتالوں ڈاکٹروں لیبارٹریوں میں علاج اور پیسہ خرچ کر نے کے باوجود میں موت کے اپنی طرف بڑھتے قدموں کو نہیں روک پایا ‘ جب میڈیکل کے سارے دروازے بند ہو تے چلے گئے تو حکیموں ہر بل ڈاکٹروں ہو میو ڈاکٹروں کی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکا لیکن صحت کی دیوی ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مُجھ سے دور ہی ہو تی چلی گئی مو ت کی آہٹ میری بصارت کو اور قریب سنائی دینے لگی تو زندگی میں پہلی بار بابوں روحانی معالجوں کے پاس جانا شروع کیا ‘ گھر میں بے شمار دینی سلامی طالب علموں کو بیٹھا کر خوب پڑھا ئیاں کرائی گئیں لیکن خدا کی ناراضگی بھی دور نہ ہو سکی اِس بھاگ دوڑ میں آج صبح سے آکر آپ کا انتظار کر رہا تھا ‘ آپ آئے تو اب آپ کے سامنے دامن مراد پھیلائے کھڑا ہوں خدا میرے گناہوں کی وجہ سے مُجھ سے ناراض ہے آپ کو ئی وظیفہ چلہ بتائیں تاکہ میں اپنے گناہوں کی سیاہی کو دھو سکوں اور میں آپ کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کر نا چاہتا ہوں ‘ سر میں ماں باپ کی واحد اولاد تھا میرے والد صاحب سر کاری اعلیٰ آفیسر تھے جنہوں نے حلال حرام کی تمیز کئے بنا بہت ساری دولت کما ئی میں بچپن سے ذہین تھا اچھے سکولوں اور ٹیوٹروں کی بدولت ہر امتحان اچھے نمبروں سے پاس کرتا چلا گیا جوانی میں ہی مجھے بہت بُری لت لگ گئی میں جوان ہوا تو گھر میں موجود ملازمہ لڑکیوں کے ساتھ جنسی گندگی کر نے لگا ۔ میں جس گھر میں بھی کو ئی خوبصورت جوان ملازمہ دیکھتا ‘ گھر والوں کو فرمائش کر کے اُسے اپنے گھر لے آتا ‘ شروع میں تو گھر والے میری اِس جنسی برائی سے ناواقف تھے لیکن پھر ایک ملازمہ کے احتجاج پر گھر والوں کو بھی میری سیاہ کاری کا پتہ چل گیا ۔ گھر والوں نے مجھے روکنے کی کو شش کی لیکن میں باز نہ آیا اگر کسی ملازمہ نے میری شکا یت کی بھی تو میں مکر جاتا بلکہ اُس غریب ملازمہ پر کو ئی چوری کا الزام لگا کر اُسے گھرسے نکال دیتا ‘ میں گناہ کی اِس وادی میں ہی ڈاکٹری بھی کر گیا تو میرے گھر والوں نے بہت اچھی لڑکی اور خاندان میں میری شادی کر دی ‘ میرے گھر والوں نے سکھ کا سانس لیا کہ اب میری شادی ہو گئی ہے اب میں بد کاری سے باز آجاؤں گا لیکن یہ تو میرے والدین بیچاروں کی غلط فہمی ہی رہی ‘ چند مہینے تو میں اپنی بیوی کے ساتھ خوشگوار زندگی گزارتا رہا پھر اپنی پرانی جنسی بیماری کا شکا ر ہو کر پرانی ڈگر پر چل پڑا ‘ میری بیوی بھی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھی وہ جب گھر نہ ہو تی میں گھر جا کر ملازمہ سے منہ کالا کر تا اب چونکہ میں خود کفیل ہو گیا تھا اِس لیے اپنی مرضی کی خوبصورت جوان لڑکیاں مہنگے داموں پر لاکر رکھتا جو میر ی برائی میں شریک ہو جاتیں اُن کو میں چھپ کر تنخواہ کے علاوہ بھی پیسے دیتا جو میرے گناہ میں شریک نہ ہو تی اُسے اور پیسوں کا لالچ دے کر یا پھر چوری کا الزام لگا کر تھا نے بند کروا تا پھر اُسے تھانے سے چھڑانے کے لیے اپنی ناپاک شرائط پیش کرتا ‘ میں شیطان اورذہین تھا جس پر میری نظرپڑ جاتی اُسے حاصل کر کے چھوڑتا تھا ‘ میں اپنی نفسیاتی بیماری کا ذکر کر تا چلو ں کے مجھے صرف گھر میں کام کر نے والی لڑکیوں میں ہی دل چسپی تھی ۔ میرے ایک دوست کو میری اِس جنسی نفسیاتی بیماری کا پتہ چلا تو اُس نے بہت سمجھایا کہ اگر تم نے منہ کالا کر نا ہی ہوتا ہے تو ایک اور شادی کر لو یا کال گرل کو بلا لیا کرو لیکن میرا ہدف تو صرف گھر میں ہی کام کر نے والی لڑکیا ں تھیں اِسی دوران ایک معصوم لڑکی میرے جال میں پھنس کر حاملہ ہو گئی تو اُس نے میری بیوی کو سب کچھ بتا کر گھر جا کر خود کشی کر لی ۔ میری بیوی میرے اِس گھناؤنے روپ اور ملازمہ کی خود کشی سے اِس قدر دل برداشتہ ہوئی کہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی اور جا کر خلع لے لی ‘ اِسی دوران میرا باپ بھی وفات پاگیا پھر آخر ی جھٹکا مجھے اُس وقت لگا جب یہ پراسرار بیماری سامنے آئی جب اِس جان لیوا بیماری کا پتہ چلا تو میں نے بیماری سے چھٹکارا پانے کے لیے دربدر بھٹکنا شروع کر دیا ‘ پروفیسر صاحب میرے جیسے بھیڑیے صفت انسان جوانی طاقت پیسے کے نشے میں دھت عیاشی گناہ کی وادی میں اِس قدر بد مست ہو کر دوڑتے ہیں کہ زمانہ صرف ہمارے ساتھ ہی حرکت کر تا ہے ہم ہیں تو زمانہ ہے ہم نہیں تو کچھ نہیں اور پھر جب قدرت کا آہنی ہاتھ مجھ جیسے بھیڑیے پر پڑتا ہے تو اصل اوقات سامنے آجاتی ہے کیونکہ میرے جیسے بھیڑیے جب کسی معصوم کے خون سے یا کسی کی عزت سے کھیلتے ہیں تو پھر قدرت بھی اپنا منہ موڑ لیتی ہے پھر اُس بے رحم انسان نے رونا شروع کر دیا کہ پروفیسر صاحب مجھے ایک بار معافی دلا دیں کبھی دوبارہ گناہ نہیں کروں گا اور میں انسان کی فطرت کے ایک اور گھناؤنے رنگ پر ششد رتھا کہ انسان نیک ہو کر فرشتوں سے بڑھ کر اور حیوانیت پر آئے تو بھیڑیے کی شکل دھار لیتا ہے اوربھیڑیوں کو موت ادھیڑ کر رکھ دیتی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں