مسواک کے روحانی وجسمانی فوائد

تحریر: حافظ کریم اللہ چشتی پائی خیل ضلع میانوالی
آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ذات،سیرت مبارکہ مومنین کے لئے بہترین نمونہ ہے ۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی پاکیزہ سنتوں پرعمل کرنابنی نوع انسانی کے لئے دنیاوآخرت میں فوائدثمرات کاسبب ہے ۔امت مسلمہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے اسوہ حسنہ پرعمل پیراہوکردین ونیامیں کامیاب ہوسکتی ہے ۔آج کے پُرفتن دورمیں مغربی کلچرکی یلغارنے ہمارے نوجوانوں کوفیشن کااس قدردلدادہ بنادیاہے کہ وہ سنتوں سے دورچلے جارہے ہیں۔جس کے نتیجے میں قلبی سکون و اطمینان کی بجاے بے چینی اور بے اطمینانی کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔آج کے پُرفتن دورمیں ضرورت اس امرکی ہے ا اس دور میں امت مسلمہ کے اصلاح فکر و عقائد کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ پرخصوصی توجہ دی جائے۔ تاکہ موجودہ دور میں اسلامی اقدار اور تشخص کو برقرار رکھا جاسکے۔ کیونکہ ہمارے نوجوان اسلامی اخلاق و آداب کوچھوڑکر مغربی عادات و اطوار کو اپنا نے میں اپنافخرمحسوس کرنے لگے ہیں ۔جودنیاوآخرت میں ذلت ورسوائی کاسبب بن گا۔اس لئے فی زمانہ اصلاحِ فکر و عقائد کے ساتھ ساتھ اصلاحِ معاشرہ کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ارشادباری تعالیٰ ہے۔اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ۔ترجمہ’’بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتاہے اورخوب صاف ستھرے رہنے والوں کوپسندفرماتاہے‘‘۔(سورۃ البقرہ۲۲۲)
اسلام دین فطرت ہے ۔فطرت صحیحہ کے سب اصول اورتقاضے اسلام میں موجودہیں۔انسانوں میں اللہ تعالی کو دو طرح کے لوگ بہت پسند ہیں ایک وہ جو گناہ کرتے ہیں شرمندہ ہوتے ہیں اور پھر اللہ کی طرف توبہ کے ساتھ رجوع کرتے ہیں۔دوسراگروہ ان لوگوں کا ہے جو صفائی کا خاص خیال رکھتے ہیں ظاہری اور باطنی دونوں طرح سے گندگی سے پرہیز کرتے ہیں۔اسلام نے صفائی پربہت زوردیاہے۔ظاہری صفائی اورباطنی صفائی دونوں اختیارکرنے کی تعلیم دی ہے۔کیونکہ ظاہرکااصل باطن پرپڑتاہے۔ظاہری صفائی سے جسمانی صحت حاصل ہوتی ہے ۔جس سے باطنی صفائی کاحصول آسان ہوجاتاہے اورجب باطن بھی صاف ہوجائے توانسان روحانی غلاظتوں اورکثافتوں سے پاک ہوکراللہ کابندہ بن جاتاہے۔سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے صفائی کونصف ایمان قراردیاہے۔حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشادفرمایا’’اَلطُّہُوْرُ شَطْرَ الِْایْمَانِ‘‘صفائی ایمان کاحصہ ہے۔(صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ،باب فضل الوضو)
دین اسلام نے ہمیں ہرجگہ ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ دل کی صفائی ،خیالات کی صفائی کی یاددہانی بھی کرائی ہے۔تاکہ ظاہری صفائی کے ساتھ ساتھ باطنی صفائی بھی ہوتی رہے ۔ظاہری صفائی میں بہت سی چیزیں آجاتی ہیں جیسے کپڑوں کا صاف ہونا،بدن کا نظیف ہونا،جگہ اور اردگرد کے ماحول کا غیر آلودہ ہونا وغیرہ۔جہاں تک ظاہری صفائی کاتعلق ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے تفصیلاً ہمیں اس کی تعلیم دی ۔ام المومنین سیدہ عائشۃ الصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ سرکارمدینہ،راحت قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا دس امور فطرت کاحصہ ہیں(یعنی ان کاحکم ہرشریعت میں تھا)مونچھیں کترانا،داڑھی بڑھانا،مسواک کرنا،ناک میں پانی ڈالنا،ناخن تُراشنا،اُنگلیوں کے پورے(جوڑوں) صاف رکھنا،بغل کے بال دورکرنا،موئے زیرناف مونڈنا،استنجاکرنا،کُلّی کرنا۔(صحیح مسلم ،کتاب الطہارۃ،ابن ماجہ شریف)
حضرت عماربن یاسررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایایہ کا م فطرت میں سے ہیں۔کلی کرنا،ناک میں پانی ڈالنا،مسواک کرنا،مونچھوں کاکتروانا،ناخن کاٹنا،بغلوں کے بال صاف کرنا،ناف کے نیچے کے بال صاف کرنا،جوڑوں کامیل صاف کرنا،شلوارپرپانی چھڑکنااورختنہ کرنا۔(ابن ماجہ شریف)
حضرت ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاچارچیزیں انبیاء ورسل علیہ السلام کی سنتوں سے ہیں۔ 1۔شرم(تمام انبیاء حیادارہواکرتے تھے) جبکہ ایک روایت میں ختنہ کاذکر بھی ہے۔2۔عطرملنا(تمام انبیاء عطر استعمال کیاکرتے تھے )3۔مسواک (تمام انبیاء مسواک کیاکرتے تھے) ۔4۔نکاح (تمام انبیاء ازدواجی زندگی گزراتے تھے ۔(ترمذی شریف)
درج بالااحادیث مبارکہ میں ’’فطرت ‘‘کاجولفظ استعمال ہواہے اس کی تھوڑی سے وضاحت کی جاتی ہے۔فطرت کے لغوی معنی ہیں پیدائش ۔اللہ تعالیٰ فرماتا’’فَاطِرِالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ‘‘مگراصطلاح میں ان سنت انبیاء کوفطرت کہاجاتاہے۔جن پرہمارے حضوربھی عامل رہے۔
سنن نبویہ میں بعض سنتیں ایسی بھی ہیں جوبادی النظرمیں بہت معمولی نظرآتی ہیں مگردرحقیت وہ مہتم بالشان اورعظیم ثواب کی حامل ہیں انہیں سنن جمیلہ میں سے ایک’’ مسواک‘‘ بھی ہے ۔جس کی فضیلت واہمیت سے کتب احادیث وفقہ مالامال ہیں ۔ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی ایک سنت مبارکہ کوزندہ کرنے پرسوشہیدوں کاثواب ملتاہے ۔ہم نیکی کے کام تو ویسے کرتے ہی ہیں اگروہی نیکی کے کام ہم اللہ پاک اوراس کے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حصول رضاکی خاطرسنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مطابق کرینگے توثواب کے حقدارٹھہریں گے ۔ہم ہرروزپانی اپنی پیاس بجھانے کے لئے پیتے ہیں اگروہی پانی ہم سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مطا بق پییں توپیاس بھی بھج جائے گی اورسنت کاثواب بھی مل جائے گا۔اسی طرح اگرہم ہرکام سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پرعمل پیراہوکرکریں تونیکیوں کے ڈھیرجمع کرسکتے ہیں۔مسواک شریف کرناسرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت ہے۔اس کے فوائدبے شمارہیں۔ آج ہم اسی پیاری سنت’’ مسواک‘‘ کی فضیلت فرامین مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روشنی میں بیان کرتے ہیں۔ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’مسواک منہ کی صفائی کا سبب ہے، رب کریم کی خوشنودی کا باعث ہے‘‘۔(نسائی شریف،ابن حبان)
علامہ یحیی بن شرف امام نووی شافعی رحمۃ اللہ علیہ القوی فرماتے ہیں کہ ائمہ لغت نے کہاہے کہ لکڑی سے دانتوں کے صاف کرنے کے عمل کو’’سواک ‘‘کہتے ہیں اور’’سواک‘‘اُ س لکڑی کوبھی کہتے ہیں ۔اورعلماء کی اصطلاح میں لکڑی یااس کی مثل کسی چیزسے دانت صاف کرنے کو’’سواک‘‘کہتے ہیں جس سے دانتوں کامیل اورپیلاہٹ زائل ہوجائے ۔(شرح مسلم ،جلداول)مسواک جس درخت کی ہو اس کی تاثیر رکھتی ہے یعنی اگر کیکر کی مسواک ہے تو وہ مغلظ ہوتی ہے اور مسوڑھوں کو مضبوط کرتی ہے،اگر زیتون کی مسواک ہے تو وہ گرم ہوتی ہے،اسی طرح اگر نیم کی مسواک ہے تو وہ جسم سے گرمی نکالنے معدے سے فاسد مادوں کو زائل کرنے کا باعث بنتی ہے وغیرہ۔سیرت حلبی میں ہے کہ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوسب سے زیادہ پِیلوSalvadora Persicaکی مسواک پسندتھی‘‘۔(سیرت حلبی ،جلدسوم،صفحہ496)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’اگرمیری امت پردشوارنہ ہوتاتومیں ان کوہرنمازکے وقت مسواک کرنے کاحکم دیتا‘‘۔(مسلم شریف،کتاب الطہارۃ ،باب السواک)
حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا’’مسواک ضرورکیاکرواس لئے کہ مسواک منہ کوپاک کرتی ہے اوراللہ کوراضی کرنیوالی ہے اورمیرے پاس جب بھی جبرائیل امین علیہ السلام آئے تومجھے مسواک کرنے کی تاکیدکی یہاں تک کہ مجھے ڈر ہواکہ کہیں مجھ پراورمیری امت پرفرض نہ کردی جائے اگرمجھے اپنی امت پردشواری کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پرمسواک کوفرض کردیتا۔میں اسقدرکثرت سے مسواک کرتاہوں کہ مجھے مسوڑے زخمی ہوجانے کاخوف پیداہوجاتاہے ۔(ابن ماجہ شریف)
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے مروی ہے کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نمازسے پہلے مسواک کی فضیلت کے بارے میں ارشادفرمایا’’جس نمازکے وضومیں مسواک کی گئی ہواس کی فضیلت اس نمازپرستردرجہ زیادہ ہے جس کے وضو میں مسواک نہیں کی گئی ۔(شعب الایمان ،ج۳)حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم نے فرمایاکہ’’تمہارے منہ قرآن کے راستے ہیں انہیں مسواک سے صاف کرو‘‘۔(ابن ماجہ شریف)
حضرت سیدنازیدبن خالدجہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے گھرسے کسی بھی نمازکے لئے اس وقت تک باہرتشریف نہ لاتے جب تک مسواک نہ فرمالیتے ۔(المعجم الکبیرللطبرانی)ام المومنین سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس رات کووضوکاپانی اورمسواک رکھی جاتی تھی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم رات میں اُٹھتے توپہلے قضائے حاجت کرتے ۔پھرمسواک فرماتے ۔(ابوداؤدشریف،جلددوم)ام المومنین سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب کبھی رات یادن میں سوکربیدارہوتے تووضوسے پہلے مسواک فرماتے ۔(ابوداؤدشریف)
حضرت شریح بن ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المومنین سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے پوچھا،سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب گھرمیں داخل ہوتے توسب سے پہلے کیاکام کرتے تھے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایاکہ ’’مسواک‘‘۔(مسلم شریف)حضرت شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجتہدین تابعین سے ہیں اورآپ کے والدہانی ابن یزیدصحابی ہیں۔حضرت شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں پیداہوچکے تھے ۔حضورصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہانی سے پوچھاکہ تمہارے کتنے بچے ہیں ؟عرض کیاتین ،شریح ،عبداللہ اورمسلم ۔فرمایاتمہاری کنیت ابوشریح ہے ۔آپ سیدناعلی المرتضیٰ کے مخصوص ساتھی ہیں۔بلکہ آپ قاضی رہے ہیں۔جنگ جمل وصفین میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے۷۸ہجری میں شہیدکیے گئے۔
ام المومنین سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہافرماتی ہیں کہ بوقت وصال ظاہری میں نے دریافت کیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے لئے مسواک لوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سراقدس کے اشارے سے فرمایا’’ہاں‘‘چنانچہ میں نے اپنے سگے بھائی حضرت عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مسواک لیکرآپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کوپیش کی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے استعمال کرناچاہی لیکن مسواک سخت تھی ۔اس لئے میں نے عرض کی ۔نرم کردوں؟ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سرمبارک کے اشارے سے فرمایا’’ہاں‘‘چنانچہ میں نے دانتوں کوچباکرنرم کرکے سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوپیش کردی۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس کودانتوں پرپھیرناشروع کردیا۔(بخاری شریف،جلداوّل)حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم سے مروی ہے کہ سرکارِمدینہ،راحت قلب وسینہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایاکہ’’بندہ جب مسواک کرلیتاہے پھرنمازکوکھڑاہوتاہے توفرشتہ اس کے پیچھے کھڑاہوکرقراء ت سنتاہے پھرا س سے قریب ہوتاہے۔یہاں تک کہ اپنامنہ ا س کے منہ پررکھ دیتاہے ۔(مسندالبزار،مسندعلی بن ابی طالب)حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’کھانے کے بعدمسواک کرنادانتوں کاپیلاپن دورکرتاہے ‘‘(الکامل فی ضعفاء الرجال)حضرت سیدناامام شافعی رحمۃا للہ علیہ فرماتے ہیں ۔چارچیزیں عقل بڑھاتی ہیں۔*فضول باتوں سے پرہیزکرنا*مسواک کااستعمال کرنا*صلحایعنی نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا*اپنے علم پرعمل کرنا۔(حیاۃ الحیان للدمیری،جلددوم)
اعلیٰ حضرت عشق ومحبت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ علیہ ’’ذیل المدعاء لاحسن الوعاء‘‘میں تحریر فرماتے ہیں کہ جب قصددعاہوپہلے مسواک کرے کہ اپنے رب سے مناجات کرے گا۔ایسی حالت میں رائحہ متغیرہ سخت ناپسندہے ۔خصوصاًحقہ پینے والے اورتمباکوکھانے والوں کواس ادب کی رعایت ذکرودعاونمازمیں نہایت اہم ہے ۔اورسرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ مسواک رب کوراضی کرنے والی ہے اورظاہرہے کہ رضائے رب باعث حصول رب ہے ‘‘۔(احسن الوعاء لآداب الدعاء)
حضرت سیدناعبدالوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ہیں کہ ایک بارحضرت سیدناابوبکرشبلی بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کووضوکے وقت مسواک کی ضرورت ہوئی۔تلاش کی مگرنہ ملی لہذاایک دینارمیں مسواک خریدکراستعمال کی ۔بعض لوگوں نے کہاکہ یہ توآپ نے بہت زیادہ خرچ کرڈالا۔کہیں اتنی مہنگی بھی مسواک خریدی جاتی ہے ۔جتنی مہنگی آپ رحمۃ اللہ علیہ القوی نے خریدلی۔آپ رحمۃا للہ علیہ نے جواباًفرمایابیشک یہ دنیااوراس کی تمام چیزیں اللہ رب العزت کے نزدیک مچھر کے پرکے برابربھی حیثیت نہیں رکھتیں ۔اگربروزقیامت اللہ پاک نے مجھ سے یہ پوچھ لیاکہ ’’تونے میرے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سنت مبارکہ(مسواک)کیوں ترک کی ؟جومال ودولت میں نے تجھے دیاتھااس کی حقیت تومیرے نزدیک مچھرکے پرکے برابربھی نہیں تھی ۔ تو آخرایسی حقیردولت اس عظیم سنت (مسواک) کوحاصل کرنے پرخرچ کیوں نہیں کی؟تواس وقت میں کیاجواب دوں گا۔(لواقح الانوار،ص۳۸) مشائخ کرام فرماتے ہیں کہ ’’جوشخص مسواک کاعادی ہومرتے وقت اُسے کلمہ پڑھنانصیب ہوگااورجوافیون کھاتاہومرتے وقت اُسے کلمہ نصیب نہ ہوگا‘‘۔سیدناحضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کھاناکھانے سے پہلے مسواک کرلیاکرتے تھے ۔(مصنف ابی شیبہ)
حضرت علامہ سیداحمدطحطاوی رحمۃ اللہ علیہ حاشیۃ الطحطاوی میں مسواک کے فوائدوفضائل یوں نقل کرتے ہیں۔1۔مسواک شریف کولازم کرواس سے غفلت نہ کرواسے ہمیشہ کرتے رہوکیونکہ اس میں اللہ عزوجل کی خوشنودی ہے ۔2۔ہمیشہ مسواک کرتے رہنے سے روزی میں آسانی اوربرکت رہتی ہے ۔ 3۔دردسرمیں سکون بخشتی ہے اورسرکی رگوں میں سکون ہوجاتاہے یہاں تک کہ کوئی ساکن رگ حرکت نہیں کرتی اورکوئی چلنے والی رگ ساکن نہیں ہوتی۔ 4۔سرکادردبلغم کودورکرتی ہے ۔5۔دانتوں کوقوت اورنظرکوتیزکرتی ہے ۔6۔معدے کودرست رکھتی ہے۔7۔جسم کوتوانائی بخشتی ہے ۔8۔حافظہ (قوت یادداشت)کوتیزکرتی ہے اورعقل کوبڑھاتی ہے۔9۔دل کوپاک کرتی ہے ۔10۔نیکیوں میں اضافہ ہوجاتاہے ۔11۔فرشتے خوش ہوتے ہیں۔ 12۔مسواک شیطان کوناراض کردیتی ہے ۔13۔کھاناہضم کرتی ہے ۔14۔بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوتاہے ۔15۔بڑھاپادیرمیں آتاہے ۔ 16۔پیٹھ کومضبوط کرتی ہے ۔17۔بدن کواللہ عزوجل کی اطاعت کے لئے قوت دیتی ہے ۔18۔نزع میں آسانی اورکلمہ شہادت یاددلاتی ہے ۔ 19۔قیامت میں نامہ اعمال سیدھے ہاتھ میں دلاتی ہے ۔20۔پل صراط سے بجلی کی طرح تیزی سے گزاردے گی ۔21۔حاجات پوری ہونے میں اس کی امدادکی جاتی ہے۔22۔قبرمیں آرام وسکون پاتاہے ۔23۔جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔24۔دنیاسے پاک صاف ہوکررخصت ہوتاہے ۔ 25۔سب سے بڑھ کریہ فائدہ ہے کہ اس میں اللہ پاک کی رضاہے ۔(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(
ضروری مسائل
*مسواک نمازکے لئے سنت نہیں بلکہ وضوکے لئے توجوایک وضوسے چندنمازیں پڑھے اس سے ہرنمازکے لئے مسواک کامطالبہ نہیں۔جب تک تغیررائحہ نہ ہوگیاہوورنہ اس کے دفع کے لئے مستقل سنت ہے البتہ اگروضومیں مسواک نہ کی تھی تواب نمازکے وقت کرلے ۔(درمختار،شامی)*جب مسواک کرنی ہوتواُسے دھولیاجائے۔مسواک کرنے کے بعدبھی دھولی جائے اورزمین پرپڑی نہ چھوڑی جائے بلکہ کھڑی رکھی جائے اورریشہ اوپرکی جانب ہو۔ *دانتوں کی چوڑائی میں مسواک کی جائے لمبائی میں نہیں۔چت لیٹ کرمسواک نہ کی جائے۔(درمختار،شامی)۔*مسواک داہنے ہاتھ سے کیجائے اوراس طرح ہاتھ میں لی جائے کہ چھنگلیامسواک کے نیچے اوربیچ کی تین انگلیاں اوپراورانگوٹھاسرے پرنیچے ہواورمٹھی نہ باندھے۔*کم سے کم تین تین مرتبہ دائیں ،بائیں اوپرنیچے کے دانتوں میں مسواک کی جائے اورہرمرتبہ مسوا ک کودھولیاجائے۔مسواک نہ بہت نرم ہونہ سخت اورپیلویازیتون یانیم وغیرہ کڑوی لکڑی کی ہومیوے یاخوشبودارپھول کے درخت کی نہ ہو۔چھنگلیاکے برابرموٹی اورزیادہ سے زیادہ ایک بالشت لمبی اوراتنی چھوٹی بھی نہ ہوکہ مسواک کرنادشوارہو۔جومسواک ایک بالشت سے زیادہ ہواس پرشیطان بیٹھتاہے ۔مسواک جب قابل استعمال نہ رہے تواسے دفن کردیں یاکسی جگہ احتیاط سے رکھ دیں کہ کسی ناپاک جگہ نہ گرے کہ ایک تووہ آلہ ادائے سنت ہے اس کی تعظیم کی جائے دوسراآب دہن مسلم ناپاک جگہ ڈالنے سے خودمحفوظ رکھناچاہیے اسی لئے پاخانہ میں تھوکنے کوعلماء نے نامناسب لکھاہے۔(درمختار،شامی)
اللہ تعالیٰ ہمیں سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی پاکیزہ سنتوں پرچلنے اورعمل کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم

اپنا تبصرہ بھیجیں